Pinned Tweet
بیٹی درماں خان یونیورسٹی آف الینوائے اربانا شیمپین کی 4رکنی ٹیم کا حصہ ہیں جس نے ریاست الینوائے میں پہلی بار آئن کو ٹریپ کیا ہے وہ کوانٹم فزکس میں ڈاکٹریٹ کر رہی ہیں،صرف 25 برس پہلے تک تصور تھا کہ انسان ایٹم کو کبھی نہیں دیکھ سکے گا لیکن اب وہ ٹریپ بھی ہو گیا، پاکستانی ہاتھوں سے
Akram Khan retweeted
سی ڈی اے میں تین ریٹائرڈ بریگیڈیرز کو ڈائریکٹر جنرل تعینات کر دیا گیا
بریگیڈیئر اظہر خان کو ڈائریکٹر جنرل لینڈ اینڈ بحالیات، بریگیڈیئر راشد منصور کو ڈائریکٹر جنرل پلانگ، بریگیڈیئر جاوید اقبال کو ڈائریکٹر جنرل سوک مینجمنٹ تعینات کر دیا گیا
شنید ہے کہ چیئرمین سی ڈی اے کو بھی تبدیل کر کے ایک میجر جنرل صاحب کو تعینات کیا جائے گا
واضع رہے اس سے پہلے ماضی میں مارشل لاء کے دوران اسطرح کی تعیناتیاں کی جاتی رہی ہیں
کوئی ایک اینکر بھی یہ نکتہ نہیں اٹھائے گا کراچی پر ہجرت کے دباو کے سبب اسے وفاقی خصوصی گرانٹ فراہم کی جانی چاہیے
وہ مسائل پر موازنہ کرے گا لیکن وسائل پر نہیں
وفاقی ترقیاتی بجٹ میں کراچی کا حصہ کچھ نہیں، ممبئی بھی کراچی جیسا ہے وہاں انفراسٹرکچر کے تمام بڑے منصوبے وفاقی فنڈڈ ہیں
Akram Khan retweeted
No immediate reduction in petrol taxes!
Planning Minister Ahsan Iqbal on Thursday ruled out the possibility of an immediate reduction in petroleum levy rates under any pressure from Jamaat-e-Islami but said that the government would consider a gradual decrease in rates from the next budget.tribune.com.pk/story/2637689…
Akram Khan retweeted
مریم نواز کا بنایا سی سی ڈی نامی دیتھ اسکواڈ سال 2026 کے پہلے چھ ماہ میں 1 ہزار بندہ قتل کر چکا ہے ۔ اور دو سالوں کے اندر ٹوٹل 2 ہزار بندے قتل کئے جا چکے ہیں ۔!! چئیرمین ہیومن رائٹس کمشن آف پاکستان اسد اقبال کا خوفناک انکشاف
جی ہاں 2 ہزار ماورائے عدالت قتل ۔۔
مریم نواز اپنے تئیں قوم کو فوری انصاف سے نواز رہی ہیں، عدالت پر پہلے وہ حملہ کر چکے ہیں، اسے خرید چکے ہیں اب بند کر رکھا ہے
Akram Khan retweeted
A letter by Allama Muhammad Iqbal arguing that his idea was of a Muslim province within the Indian federation further suggesting that the idea of Pakistan originated in Cambridge and nothing to do with him. Worth researching into this document.
بلند ترین بجلی گیس پانی کے نرخ، ہائی ٹیکس اور شرح سود اور ڈالر کے بدلے انتہائی نیچے روپے کی قدر، پلس کرپشن اور مقابلے کے قابل نہ ہونا
اس صورت حال میں کوئی کاروبار بند تو کیا جا سکتا ہے آغاز اور برقرار نہیں
پاکستان دھندوں کی وجہ سے ہی آزاد نہیں کرایا گیا
یا ہونے نہیں دیا گیا
کوئی نئی بات نہیں۔ یہ سب کچھ ہمیشہ سے پری پلان ہی ہوتا ہے۔ ستائیس دسمبر کو بے نظیر بھٹو کو قتل کرنے کے دن فوجی جرنیل نندی پور پاور پلانٹ سمیت ملکی تاریخ کے مہنگے ترین منصوبے من پسند کو ایوارڈ کر رہے تھے۔ جی ہاں ستائیس دسمبر 2007 کو۔ نندی پور پاور پراجیکٹ اور دیگر سفید ہاتھی منصوبوں کی بنیادی منظوری ستائیس دسمبر دوہزارسات اور اٹھائیس جنوری دوہزارآٹھ کو دی گئی۔ یاد رہے ان تاریخوں کو ملک میں کوئی حکومت نہیں تھی۔ تب فوجیوں کی لائی ہوئی نگران حکومت تھی۔ بے نظیر کو مار دینے کے بعد بھی فوجی جرنیلوں کو رحم نہیں آیا اور انہوں ان دنوں میں لوٹ مار اور تیز کر دی۔
کیا ہم نے آج تک یہ حقیقت خبروں میں پڑھی؟ نہیں۔
مگر رپورٹ یہ بھی کر دیا تھا:-
لنک:۔
thenews.com.pk/print/15771-a…
ان منصوبوں سے کِک بیک اور طے شدہ شدہ کمیشن آج بھی متعلقہ فوجی جرنیلوں کو ملتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کو ستائیس دسمبر ۲۰۰۷ کو کیے گئے ان خوفناک فیصلوں سے آگاہ تھی مگر جرنیلوں کو جانے والی اس مسلسل ناجائز آمدن کو روکنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔
فوج لمبی منصوبہ سازی کرتی ہے۔ فوجی جرنیل ہمیشہ بڑا اور لمبا ہاتھ مارتے ہیں۔ اور زیادہ تر چیزیں طے شدہ منصوبوں کے تحت ہی ہو رہا ہوتا ہے۔
فوجی جرنیل اس طرح کی لوٹ مار اسی طرح کی نگران حکومتوں یا عارضی بندوبست کے تحت لائی گئی حکومتوں کے دوران ہی کرتے ہیں۔ دوہزارتئیس/چوبیس میں جنرل عاصم منیر ایک طرف انتخابات کا عمل آگے کرواتے رہے۔ دوسری طرف خیبرپختونخواہ میں اپنی فیملی کے فرد سید ارشد حسین شاہ کو بطور نگران وزیراعلٰی لے آئے اور خیبر پختونخواہ کی اہم ترین اور مہنگی بلڈنگز کی کیز ایس آئی ایف سی کے تحت بنی کمپنیوں کے نام ٹرانسفر کی۔
لنک:-
storage.googleapis.com/quriu…
یہ سترہ مارچ 2025 کی خبر کا لنک ہے۔ اس کے سید ارشد حسین شاہ کو پہلے مسنگ پرسنز کمیشن کا سربراہ بنایا گیا اور بعد نئی بننے والی وفاقی آئینی عدالت کا جج لگا دیا گیا۔ 🤦♂️
سید ارشد حسین شاہ کی دی ہوئی خیبر پختونخواہ کی سرکاری زمینوں، سرکاری عمارتوں، تفریحی مقامات اور ٹورسٹ ریزورٹس کی لیز کو علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی دونوں کی حکومتوں انتہائی تابعداری سے برقرار رکھا اور ختم نہیں کیا۔ جنرل عاصم منیر نے بالکل اسی طرح بلوچستان اور سندھ کی حکومتوں سے بھی انہی پرائیویٹ کمپنیوں کیلیے کئی کئی دہائیوں کی لیز حاصل کی۔ پنجاب کی نگران حکومت بھی اپنی اہلیہ کی فیملی کے ایک فرد کو دی اور پنجاب میں زمینوں کی لیز اسی طرح ان پرائیویٹ کمپنیوں کو دی گئی۔
اب بارہ اکتوبر کو ہونے والے ان فیصلوں کے “ثمرات” اگلی کئی دہائیوں ان فوجی جرنیلوں کو گھر بیٹھے ملیں گے۔
In the Global Hunger Index 2026, Pakistan ranks 106th out of 122 countries with a score of 25.5, placing it in the "serious" level of hunger.
Pakistan has the 2nd-highest (worst) hunger level in South Asia, surpassed only by Afghanistan (ranked 108th with a score of 28.6)
Akram Khan retweeted
پی ٹی آئی کے دور میں افسران کی بار بار پوسٹنگز بہت بڑا مسئلہ ہوا کرتا تھا، اسے حکومت کی نالائقی سے تشبیہہ دی جاتی تھی۔
شہباز سپیڈ کے دور میں صرف 19 ماہ میں محکمہ صحت کا 9اں سیکرٹری آگیا ہے لیکن کسی کو خبر ہی نہیں، کسی کو فکر بھی نہیں ہے۔۔
وہ انصار عباسی صاحب بھی خاموش ہیں جو ایسے معاملات پر سب سے زیادہ سرگرم ہوا کرتے تھے۔
Akram Khan retweeted
Gang-rape on the rise in Punjab. Disturbing facts revealed by @Riazhaq Punjab has accounted for 89.7 percent of all the registered rape cases across the country. Gang-rape alone makes up 62.8 percent of the total national rape-related data, but Punjab has a share of 99.2 percent of all registered gang-rape cases. In Punjab, gang-rape cases account for 69.4 percent of the total caseload and its 29,555 registered cases are 6.6 times its 4,494 cases of single-perpetrator rape. Every other province shows the inverse pattern. Sindh records 4.3 single-perpetrator rapes for every gang-rape, KP 51 and Balochistan 47. More details 👇
dawn.com/news/2037785
Akram Khan retweeted
ایک وقت تھا جب شہباز شریف کہا کرتے تھے کہ ہم بھی جنرل مشرف کے زیر عتاب رہے اور طالبان بھی مشرف کے زیر عتاب رہے اس لئے طالبان کو پنجاب میں حملے نہیں کرنے چاہئیں نواز شریف بھی طالبان سے مذاکرات کے حامی تھے پھر نوازشریف حکومت میں آ گئے اور حکومت میں آنے کے بعد انکی پالیسی بدل گئی
Akram Khan retweeted
My cover story for Dawn EOS is out. It is a long read that unveils the numbers about sexual violence against women; gang rape; gang rape and rape of minors. It painfully leafs through tedious process the state enacted to help women and lessen the violence and how it is less helpful. THE LINK 👇 dawn.com/news/2037785/the-nu…
Akram Khan retweeted
ہر تردید سچ نہیں ہوتی۔۔۔ 18 اکتوبر 2007 ہونے والے سانحہ کارساز کی تردید طالبان کی جانب سے 10 سال تک کی گئی لیکن پھر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے موجودہ امیر نور ولی محسود سے تحریراً تسلیم کیا کہ خودکش حملہ کرنے والے رحمت محسود اور محسن محسود کا تعلق ٹی ٹی پی سے تھا اور بیت اللہ محسود نے انہیں مولوی عظمت اللہ کے مرکز سے کراچی بھیجا گیا تھا۔ خودکش حملہ آوروں نے بے صبری میں جگہ تبدیل کر کے حملہ کیا، اگر وہ بتائی گئی مخصوص جگہ پر دھماکہ کرتے تو اس ہی دن محترمہ بے نظیر بھٹو دنیا میں نہ ہوتیں۔۔۔
خیبرپختونخواہ میں گورنر راج کے بعد "ریاست" کو کسی بھی صوبے میں کوئی پاپولر مخالف بیانیہ کا پرچار ہی تو کرنا ہے ۔۔۔ بس لگ گیا گورنر راج
کون سی اسمبلی، کیسی قرارداد، کیسی صوبائی خودمختاری، کیسا وزیر اعلٰی کیسی کابینہ، کہاں کا آئین کہاں کی اٹھارہویں ترمیم
سب چھ صفحات پیروں تلے
خیبرپختونخواہ میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی توثیق کی جائے گی، نیئرحسین بخاری
یہ پیپلزپارٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں مطلب گئی آخری بھینس بھی پانی میں
ایک امید تھی نہ رہی
سیکریٹری جنرل پیپلز پارٹی نیئر حسین بخاری کا بیان۔
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاس طلب کئے گئے ہیں، نیئر حسین بخاری
آئین کے مطابق خیبرپختونخواہ میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی توثیق کی جائے گی
، نیئرحسین بخاری
توثیق کے بعد 30 روز میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں معاملہ زیربحث آئے گا،نیئر حسین بخاری
مشترکہ اجلاس میں ایمرجنسی کی معیاد کی منظوری دی جائے گی،
سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی
آئین کے مطابق گورنر راج کی مدت 6 ماہ ہوسکتی ہے، نیئر حسین بخاری
حکومت کے پاس استحقاق یے جب مناسب سمجھے تو ایمرجنسی ختم کی جاسکتی ہے، نیئر حسین بخاری
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں تحریک کے ذریعے بھی ایمرجنسی ختم کی جاسکتی ہے، نیئر حسین بخاری
ایمرجنسی کی مدت صوبے کے حالات پر منحصر ہے، سیکرٹری جنرل پاکستان پیپلز پارٹی
دہشتگردی کے خلاف موثر اقدامات ہوگئے اور حالات نارمل ہوگئے تو ایمرجنسی ختم ہوسکتی ہے، نیئر حسین بخاری
جمہوری جماعتیں خیبرپختونخواہ میں ایمرجنسی کی طوالت نہیں چاہتیں، نیئر حسین بخاری
ایمرجنسی میں توسیع ہو تو صدر کے پاس اختیار ہے گورنر یا کسی اور ایڈمنسٹریٹر کے ذریعے صوبے کے معاملات چلا سکتے ہیں ،نیئر حسین بخاری
سابقہ چیف ایگزیکٹو تو گورننس پر توجہ نہیں دے رہے تھے، سارا فوکس بانی کی رہائی پر تھا،نیئر حسین بخاری
بیڈ گورننس اور صوبائی حکومت کی ناکامی ہی گورنر راج اور ایمرجنسی کا باعث بنے، نیئر حسین بخاری
@NayyarBokhari
جو حال آئین کا ملک میں ہے وہ ہی حال تجزیہ کاروں کے ذہنوں میں بھی ہے آئین بے چارا کہیں نہیں
بلال غوری صاحب، محترم!
آپ نے ہیٹ ٹرک کا ذکر کیا تو میں ایک درجن سے زائد مرتبہ پہلے ہی لکھ چکا ہوں کہ جناب آصف علی زرداری صاحب بطور صدر بھی ہیٹ ٹرک کریں گے۔ لہٰذا آپ تسلی اور تشفی رکھیں۔
صدرِ مملکت نے اپنے دستخط کرکے آئینی ذمہ داری پوری کی، جبکہ اس فیصلے کی سیاسی ذمہ داری مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کا بیک وقت نفاذ ایک الگ آئینی و تاریخی معاملہ ہے۔ ماضی کے واقعات کو موجودہ صورتِ حال کے برابر قرار دینے سے پہلے اس فرق کو سمجھنا اور تاریخی ریکارڈ کی تصدیق کرنا بھی ضروری ہے۔
@BBhuttoZardari






















