ذاتی مصروفیت کے باعث غیر معینہ درانیے کے لئے logoff کر رہا ہوں۔
اسی دوران
#حرفِ_راشد کے عنوان تلے آپ کو میری سینکڑوں تحاریر و اشعار پڑھنے کو مل جائیں گے جو میری ذات کی اکتا دینے والی یکسانیت کے برعکس ، کہیں زیادہ عمیق و دلفریب ہیں۔
سو میں آپ احباب کو خود سے بہتر صحبت میں سونپ کے جارہا ہوں۔
مکمن میرا نہ ہونا ، ہونے سے بہتر نتائج کا باعث بنے۔
“ادائے خاص سے غالبؔ ہوا ہے نکتہ سرا
صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے”
سلامت رہیے 🌺۔
سارے جہان کو دیکھنے والی آنکھیں
خود کو دیکھنے کے لیے
آئینے کی محتاج ہوتی ہیں
#حرفِ_راشد
3 نومبر 2022
انسان پہ احسان سدا آقاﷺ کا
اسلام ہو قرآن، دِیا آقاﷺ کا
الکوثر و فردوس، وفا آقاﷺ کی
اللہ کا فرمان، کہا آقاﷺ کا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
#نعتیہ_رباعی #حرفِ_راشد #رباعیءِ_راشد #رباعیات
یاد رکھئیے !!!
کہ
“علم ہے اِبن الکتاب، عشق ہے اُمّ الکتاب”
کتابیں انسان ہی اپنے گیان و وجدان کے بل بوتے پر لکھتے ہیں۔ سارے کا سارا علم کتابوں میں نہیں اور کتابوں سے علم اخذ کرنے میں مدد کے حصول کے لئے بھی کسی انسان ہی کے پاس جانا پڑےگا۔
حتی کہ کلامِ الٰہی یعنی قرآنِ پاک بھی انسانیت کی معراج اور ہمارے آقاﷺ ہی کی زبانی اور پھر مختلف انسانوں کے روشن سینوں سے ہوتا ہوا ہم تک پہنچا۔ قرآن پاک پڑھتے، پڑھاتے ، سیکھتے سکھاتے، سنتے سناتے وقت ، صاحبِ قرآن ذات ﷺکے خیال و یاد و احسان کو ایک لمحہ کے لئے بھی قلب و شعور سے محو نہ ہونے دیں تبھی یہ کماحقہ یہ ہمارے شعور و وجدان کو جِلا بخشے گا
علاوہ ازیں اگر کسی کو سچے علم کی حقیقی پیاس نے ستایا ہو تو وہ اس علم کی پیاس بجھانے والے چشمہ نما انسان کو تلاش لے گا۔
اور استاد کے انسانی قالب سے طالب،اس علم کی خوشبو ایسے سونگھ لے گا جیسے پیاسا اونٹ صحرا میں نحلستان کی بُو پالیتا ہے۔
استاد کے علم کے خزانے کا تالا دو چابیوں سے کھلتا ہے۔
پہلی ملاقات میں بہترین سوال کی چابی اور اگر قسمت یاوری کرے تو باقی تمام عرصہ ادب واحترام کی چابی کام کرے گی۔
تمسخر اڑانے والے اور بے ادب لوگ اپنی ہلاکت اپنی جہالت میں ہی پا لیتے ہیں ۔
#حرفِ_راشد
3 نومبر 2023
امکان کی حد کیا ہے کوئی کہہ نہیں سکتا
انسان کے مٹ جانے کے آثار بہت ہیں
#حرفِ_راشد
باقی سب موضوعات کی مانند ، جوہری ہتھیاروں کے متعلق بھی میرا ذاتی اور منفرد نقطۂِ نظر ہے۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ انسان (بحیثیت مجموعی ) کے خسارے کی انتہائی شکل ہے۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی سماوی اور بیرون از زمین خطرے اور آفت سے نپٹنے کا ایک لاشعوری انسانی انتظام۔
ایک چھوٹے سے ایٹمی حادثے کی تاب کاریوں کی باقیات اور تباہ کاریوں کی روداد👇🏽
بیلاروس کی سیاحت کے آخری دن ہم چرنوبل (جو اب یوکرین کا حصہ ہے ) کے حادثے سے متاثرہ بیلاروس کا علاقہ دیکھنے گئے جو یوکرین کی سرحد بلکل ساتھ ہے۔
یہ علاقہ کبھی نہائت خوبصورت ہنستا بستا زرخیز زرعی خطہ تھا جس میں متعدد گاؤں اور قصبے تھے جو اب اجڑا دیار اور جائے عبرت ہے۔
جہاں قریباً چالیس سال پہلے عجلت میں خالی کئے گئے گھر جن میں بچوں کے کھلونوں اور جوتوں سے لیکر خاندانی تصاویر ، ہسپتال جن میں دوائیاں اور ٹوٹا پھوٹا سازوں سامان، زرعی فارمز میں آہستہ گلتی مشینری، سکول اور ان میں بچوں کے بستے اور کتابیں، دیواروں پر آویزاں چارٹ، کھاس اور جنگلی پودوں تلے دبی سڑکیں، اور انسانی زندگی کی ناپائیداری اور اس کے منصوبوں اور خوابوں کی بے وقعتی آنکھوں کے سامنے عین عیاں و عریاں ہے۔
چرنوبل کا حادثہ تاریخ کے بدترین جوہری حادثات میں سے ایک ہے، جو 26 اپریل 1986 کو اُس وقت کے سوویت یونین (موجودہ یوکرین) میں واقع چرنوبل نیوکلیئر پاور پلانٹ کے ری ایکٹر نمبر 4 میں پیش آیا۔ یہ حادثہ ری ایکٹر کے ناقص ڈیزائن اور آپریٹرز کی سنگین غلطیوں کے مجموعی نتیجے میں ہوا، جس کے باعث ایک دھماکا ہوا اور بڑی مقدار میں تابکار (radioactive) مواد فضا میں خارج ہو گیا۔
حادثے کے اثرات
یہ تابکار مواد ہوا کے ذریعے یوکرین، بیلاروس، روس اور شمالی و وسطی یورپ کے کئی دوسرے علاقوں تک پھیل گیا۔
بیلاروس اور یوکرین پر اثرات:
فوری اموات: حادثے کے فوری بعد 31 افراد ہلاک ہوئے، جن میں پلانٹ کے عملے اور فائر فائٹرز شامل تھے۔ طویل مدتی اثرات میں ہزاروں افراد کینسر (خاص طور پر تھائیرائیڈ کینسر) اور دیگر مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوئے اور بہت سے لوگ جان کی بازی ہار گئے۔
چرنوبل اور اس کے آس پاس کے 30 کلومیٹر کے علاقے کو فوری طور پر خالی کرا لیا گیا، جو آج بھی ایک ویران "بھوتوں کا شہر" ہے۔
تابکاری نے وسیع رقبے پر پھیلی زمین، پانی، جنگلات اور زرعی اجناس کو شدید آلودہ کر دیا۔
یوکرین، بیلاروس اور روس میں تقریباً 4400 مربع کلومیٹر (10 لاکھ ایکڑ سے زائد) رقبہ براہ راست آلودگی کا شکار ہوا۔
تابکاری کے اثرات آج بھی ان علاقوں میں موجود ہیں اور سائنسدان اب بھی اس کے ماحولیاتی اثرات کا مطالعہ کر رہے ہیں۔
مجموعی طور پر، اس حادثے نے دونوں ممالک کی آبادی اور ماحول پر گہرے اور دیرپا منفی اثرات چھوڑے ہیں، جن سے نمٹنے کی کوششیں کئی دہائیوں سے جاری ہیں۔
چرنوبل حادثے کے دوران 100 سے زائد اقسام کے تابکار مادے فضا میں خارج ہوئے۔ ان میں سے زیادہ تر کی ہاف لائف (half-life) کم تھی اور وہ تیزی سے ختم ہو گئے، لیکن کچھ اہم اور خطرناک مادے ایسے تھے جو طویل عرصے تک ماحول اور انسانی صحت کے لیے خطرہ بنے رہے، ہیں اور طویل عرصہ تک رہیں گے۔
آیوڈین-131(Iodine-131)
تقریباً 8 دن
اس کی ہاف لائف کم ہے، لیکن حادثے کے فوری بعد یہ سب سے بڑا خطرہ تھا کیونکہ یہ دودھ اور سبزیوں کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو کر تھائیرائیڈ گلینڈ (thyroid gland) میں جمع ہو جاتا ہے اور کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔
سیزیم-137(Caesium-137)
تقریباً 30 سال
یہ سب سے زیادہ دور تک سفر کرنے والا اور دیرپا رہنے والا عنصر تھا۔ یہ آج بھی چرنوبل کے آس پاس کے علاقوں میں تابکاری کی اہم وجہ ہے اور کئی دہائیوں تک ماحول میں موجود رہے گا۔
سٹراونٹیئم-90(Strontium-90)
تقریباً 29 سال
یہ کیمیائی طور پر کیلشیم سے مشابہت رکھتا ہے، اس لیے یہ ہڈیوں اور دانتوں میں جمع ہو سکتا ہے، جس سے لیوکیمیا (خون کا کینسر) جیسی بیماریاں ہو سکتی ہیں۔
پلوٹونیئم(Plutonium) اور دیگر ایکٹنائیڈز
ہزاروں سال
پلوٹونیئم-239 کی ہاف لائف تقریباً 24,000 سال ہے۔ یہ مادے بنیادی طور پر حادثے کے مقام کے قریب ہی جمع ہوئے اور انتہائی طویل عرصے تک خطرناک رہیں گے، تاہم ان کی مقدار سیزیم اور سٹراونٹیئم کے مقابلے میں کم تھی۔
امریشیم-241 (Americium-241) کی ہاف لائف تقریباً 432.2 سال ہے۔ اس طویل ہاف لائف کا مطلب ہے کہ یہ مادہ ماحول میں سینکڑوں سال تک برقرار رہے گا۔
امریشیم 241 , حادثے کے دوران ری ایکٹر سے پلوٹونیئم کے مختلف آئسوٹوپس (جیسے پلوٹونیئم-241) کے ساتھ ساتھ کچھ مقدار میں امریشیم-241 بھی براہ راست ماحول میں خارج ہوا۔
امریشیم-241 کا ایک بڑا حصہ براہ راست خارج نہیں ہوا تھا، بلکہ یہ حادثے کے کئی سالوں بعد پلوٹونیئم-241 (جس کی ہاف لائف تقریباً 14 سال ہے) کے تابکار زوال اور ٹوٹ پھوٹ (radioactive decay) کے نتیجے میں خود بخود بنتا گیا۔
چرنوبل کے تباہ شدہ ری ایکٹر نمبر 4 کے اوپر ایک بڑا حفاظتی ڈوم (گنبد) بنایا گیا ہے تاکہ باقی ماندہ تابکاری کو ماحول میں خارج ہونے سے روکا جا سکے۔
#حرفِ_راشد
لوگ کہتے ہیں کہ تھا اُن ﷺ کا زمانہ بہتر
کاش ہم بھی اُسی عرصے میں اٹھائے جاتے
میں یہ کہتا ہُوں، نہیں اُنﷺ کی نظر سے اوجھل
سارے لمحات جو گَردُوں کی ڈگر سے گزرے
اُن ﷺ کے قدمین کی ٹھوکر ہے ثریا کی لکیر
منتظر اُنﷺ کے اشارے کا ہی رضوان رہے
#حرفِ_راشد
3 نومبر 2025
This time last year
رات بیلا روس سے لتھووینیا میں واپسی ہوئی۔ سیگریٹ سمگلرز کی غیرنصابی سرگرمیوں کی وجہ سے (کم از سطح پر تو یہی وجہ بتائی گئی ہے کیونکہ دونوں ملکوں میں روس اور یوکرائین کی وجہ سے چپقلش معمولی بات ہے ) بارڈر بند ہوچکا تھا اور صرف پولینڈ یا لیٹویا کے راستے واپس جایا جا سکتا تھا لیکن ہماری واپسی کی فلائیٹ لےلتھوینیا سے تھی۔ الحمدللّٰہ ہم بفضلِ خدا آسانی سے بارڈر پار کر آئے جوکہ ایک علیحدہ ایڈونچر تھا۔
بیلاروس کے متعلق ان شاء اللّٰہ تفصیل سے تحاریر و تصاویر آپ احباب سے اگلے چند دنوں میں شئر کروں گا۔ 🌺
#حرفِ_راشد
اور پھر حُسن کے بھی تو
ہزار رنگ ہیں
شرار رنگ ہیں
خمار رنگ ہیں
نکھار رنگ ہیں
سنگھار رنگ ہیں
قطار اندر قطار
رنگ ہیں 🍂
#حرفِ_راشد
شافع محشر ﷺ:
الاماں! وہ سماں قیامت کا
قہر و رنج و فغاں قیامت کا
نفسی نفسی پکارتا ہوگا
ہر کوئی دُھول میں اٹا ہوگا
نظریں اپنوں سے سب چرائیں گے
“ کوئی نیکی نہ مانگے” سوچیں گے
ماں سے بیٹا کہ چھپ رہا ہوگا
ماں نہ پوچھے گی حال بیٹے کا
بھائی بھائی سے بھاگتا ہوگا
باپ دھتکارے گا سگا بیٹا
کام اپنے نہ کوئی آئیں گے
انبیا تک پناہ مانگیں گے
سب کے اعضا سبھی دغا دیں گے
ہر گواہی وہ برملا دیں گے
حق تو یہ ہے کہ بے وفا ہوگا
پیارا دنیا میں جو رہا ہوگا
ایک ہی خوف ڈس رہا ہوگا
آج انجام جانے کیا ہوگا
ہاں مگر ایک آسرا ہوگا
جو کہ محشر میں باوفا ہوگا
بن کے برسے گا ابر رحمت کا
دُور کردے گا خوف اُمّت کا
سید المرسلین ﷺ ہونگے وہ
رحمتِ عالمین ﷺ ہوں گے وہ
#حرفِ_راشد #کُشتہۂِ_خاکِ_حجاز
(نومبر 2024, مدینہ منوّرہ)
جھونکے ہو تم تو دل کے بھی آنگن سے ہو چلو
آنسو کی طرح آنکھوں سے، دامن سے ہو چلو
حرف و سخن مرا ہے مرے دل کا آئینہ
لفظوں کو پڑھ کے درد کے درپن سے ہو چلو
آساں نہیں ہجوم میں تنہائی کا سفر
چلتے چلو کہ خار کے گلشن سے ہو چلو
پہنچو گے یوں نہ یار کے دامن تلک کبھی
چلتے ہو اُس کے گھر کو تو تن من سے ہو چلو
میرے جنوں کا بوجھ اٹھا پاؤ گے نہ تم
مجھ سے ملے بغیر ہی خِرمن سے ہو چلو
جاتے ہو مجھ سے دُور تو رہ جاؤ بن کے یاد
آتے ہو میرے پاس تو دھڑکن سے ہو چلو
#حرفِ_راشد
2 نومبر 2022
راشد ڈوگر retweeted
Replying to @DO3GAR
شاید اسی لئے کسی شاعر نے اپنی شرح خود نہیں کی۔ غالب نے کچھ اشعار کو الگ سے خطوط میں ذاتی سطع پر سمجھایا۔
ہر شعر اپنے پڑھنے والے پر الگ اثر رکھتا ہے۔ شاعر کا خیال الگ رہا پڑھنے والے نے اسے کس نظر سے سمجھا یہ دو الگ باتیں ہوتی ہیں۔
لیکن مسلہ یہ ہے سر ۔۔۔ آپ خود شاعر ہیں اور ہر قاری شاعر سا تخیل نہیں رکھتا۔ اس لئے ہم جیسوں کم عقل رکھنے والو کو شعر کبھی کبھی کھول کر دیکھنا پڑتا ہے۔
راشد ڈوگر retweeted
Replying to @DO3GAR
❤️
جب بھی دنیا نے میری راہ بھری کانٹوں سے
اک مسیحا نے میرے زخم سیئے پھولوں سے
نہایت خوبصورت ❣️
بچے پھول ہوتے ہیں ۔۔بس جیسے ہی مجھے بچوں نے یہ ہینڈ میڈ ڈائری کا تحفہ دیا تو آغاز ہی اس شعر سے کیا ☺️
راشد ڈوگر retweeted
جیسے تو ہے پاس میرے،تیرے پاس میں
جیسے شاموں کے سویرے تیرے پاس میں
A gift of love from my little niece
❤️
#Handmadediary
بدنصیب ترین ہے وہ انسان ،
جو دنیا کے مصائب و امراض ، اندوہ و الم ، حزن و ملال اور تنگدستی و غربت کے نتیجے میں اپنے ایمان کو ترک کردے۔
یہ
“نہ خدا ہی مِلا ، نہ وصالِ صنم “
کی بدترین مثال ہوگی۔
#حرفِ_راشد
مجھے شروع ہی سے شعر و ادب کی تشریحات سے جانے کیوں چِڑ سی ہے۔
جیسے کسی خوبصورت لباس کے بخیے ادھیڑنے سے سوائے دھاگوں کے کچھ ہاتھ نہیں آتا،
اخوبصورت چہرے چرم و دم اور لحم و استخوان ہی کا مرکب ہوتے ہیں،
پھولوں کو پتّی پتّی کروں تو خس و خاشاک میں بدل جاتے ہیں،
اور تتلیوں کے پر ، پرکھنے پر رنگوں کا سفوف ثابت ہوتے ہیں،
ایسے ہی میری ناقص رائے میں،
شعر و ادب کو پڑھتے وقت کا تاثر ہی اس کا اصل حُسن ہوتا ہے۔ تشریح و تنقید کے نتیجے میں بس اجزائے ترکیبی ہی بکھرے نظر آتے ہیں۔
#حرفِ_راشد
(Communications) مواصلات و ترسیل
فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا (النّمل)
پھر (سلیمان علیہ السلام) اس (چیونٹی ) کی بات پر مزاحاً متبسم ہوئے
بلاشبہ فی زمانہ مواصلات نے حیرت انگیز طور پر ترقی کرلی ھے. ہر طبقے، جنس اور عمر کا انسان اس کے حصار میں ھے، زمینی فاصلے اب کوئی معنی نہیں رکھتے۔ پیغام رسانی اب سانس کی طرع ہماری زندگیوں کاحصہ ھے۔ مگر ھم برقی آلات کے بغیر اس کا تصور نہیں کرسکتے۔ کسی بھی point پر system faluire ہمیں معذور کرسکتا ھے اور کرتا رہتا ھے۔
اس ساری چکا چوند میں ھم نے اپنے پْرکھوں کا آزمودہ اور آلات اور ان کے نقائص سے مبرا نظام کہیں کھو دیا۔
ساتھیو میرا دھیان رہ رہ کر ان واقعات کی طرف چلا جاتا ھے جب ایک شیر خوار بچے نے یوسف علیہ السلام کی معصومیت کی گواہی دی، جب چیونٹی اور ہدہد نے اللہ جانے کونسی زبان میں سلیمان علیہ السلام سے گفتگو کی، جب ملکہ سبا کا تخت پلک جھپکنے میں دور دراز کے ملک سے حاضر کردیا گیا۔ جب کھجور کا خشک تنا دھاڑیں مار کر رویا اور جب ایک اونٹنی نے رحمت اللعامین صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کا فیصلہ کیا۔ جب عمر فارق رضی اللہ عنہ نے مدینہ طیبہ سے اپنے سپہ سالار کو ہدایات جاری کیں، جب ایک خط کے ڈالنے سے دریائے نیل جاری و ساری ہوگیا اور اب تک ھے۔
خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو
سکوت لالہ و گل سے کلام پیدا کر
#حرفِ_راشد
یکم نومبر 2019
ثریا باجی:
ثریا باجی اس کے بہن بھائیوں اور کزنوں میں پہلوٹھی کا بچہ تھیں۔ اس سے کافی بڑی تھیں اس لئے وہ ان کی گود میں کھیلنے والوں میں سے ایک تھا۔ ثریا باجی اس کے بچپن کی دھندلی اور خوشگوار یادوں میں سے ایک تھیں، جیسے کیمرے کی ایجاد کے شروع شروع کی تصاویر ہوں لیکن رنگوں سمیت۔
قرآن پاک اور ثریا باجی لازم و ملزوم تھے۔ وہ قرآن کی حافظہ تھیں اور اس نے ہمیشہ ان کے گھر بچوں کو قرآن پاک پڑھتے دیکھا۔
اس کے ددھیال کے بہت بڑے گاؤں کی قریب قریب ساری بچیاں ثریا باجی کی شاگرد تھیں اکثر ناظرہ اور کچھ حفظِ قرآن کی شاگرد۔
ثریا باجی حُسنِ صورت اور حُسنِ سیرت کا نہایت حسِین امتزاج تھیں۔
سرخ و سفید خوبصورت چہرہ اور لمبے سیاہ کالے بال، عقل و دانش کا جاگتا پیکر۔
ان کی شادی کے وقت وہ کچھ بڑا ہوچکا تھا
غالباً چوتھی جماعت کا طالب علم. ان کی شادی ایک بڑے زمیندار گھرانے میں طے پائی۔ برات سے ایک رات پہلے ماہر کھانا پکانے والے آچکے تھے اور ساری رات مزے کے پکوان تیار ہوتے ریے۔ کچھ چیزیں تو اس کے لئے بالکل نئی اور حیران کن تھیں، جیسے سلاد میں چقندر اور میٹھے چاولوں میں رس گلے۔
دلہا ایک خوبرو، وجیہ اور پڑھا لکھا جوان تھا۔
چونکہ ثریا باجی قرآن کی حافظہ تھیں اس لئے سسرال والے ان کے لئے روایتی زیورات کے ساتھ ساتھ سونے کا ایک تاج بھی لائے تھے۔
دن مہینے سال گزرتے گئے اور بچپن نے لڑکپن اور جوانی کا لبادہ اوڑھ لیا۔ ثریا باجی، بچپن کے تہوار کی طرح خوشگوار یاد بن کر رہ گئیں۔
کئی سال بعد وہ کرہءِ ارض کے ایک گوشے میں باہر کی چکاچوند سے گھبرا کر اچانک اندر کے اندھیروں میں داخل ہوگیا۔ جیسے کسی بڑے شہر کی روشن سڑک پر کسی خطرے کے تعاقب سے خوفزدہ ہوکر انسان کسی اندھیری گلی میں مڑ جائے۔
اس گلی میں داخل ہوتے ہی وہ ایک اور دنیا کے بہت بڑے پھاٹک پر جا پہنچا۔ جہاں نہ باہر کی دنیا کا شور تھا، نہ خوف، نہ قدر، نہ قیمت۔
اسی کیفیت کے زیر اثر وہ واپس گھر پلٹ آیا تو اسے پتہ چلا کہ ثریا باجی بیمار ہیں۔
وہ ان سے ملنے گیا تو دنیا سے اپنی لاتعلقی کے باوجود دھک سے رہ گیا۔
گرمیوں کی دوپہر میں وہ چارپائی پر بغیر پنکھے کے نہ پوری طرح بیٹھی تھیں نہ ہی لیٹی کہ حالت ہی ایسی تھی کہ ان سے پنکھے کی ہوا تک برداشت نہ ہوتی تھی۔ نہ لیٹا جاتا تھا نہ بیٹھا۔
لمبے سیاہ بال جھڑ چکے تھے، خوبصورت چہرے کی جگہ مرجھایا ہوا پھول تھا۔
ان کے چار پانچ بچے تھے۔ سب سے چھوٹا بیٹا دو سال سے کچھ اوپر تھا اور ثریا باجی اتنے ہی عرصے سے سینے کے سرطان میں مبتلا تھیں۔
وہ بیٹے کو ایک دن بھی گود میں نہ کھلا پائی تھیں۔
ثریا باجی نے دوپٹہ سینے سے ہٹاکر اس سے کہا،
" لے دیکھ لے ویرے"
سرخ رنگ کا ایک غار جیسا گہرا زخم تھا جس کی اندھے کنوئیں کی طرح کوئی انتہا نظر نہیں آرہی تھی۔
الفاظ گونگے ہو چکے تھے اور ان کی جگہ آنسووں کی بارش نے لے لی تھی۔
وہ کچھ دیر وہاں بیٹھا پھر دل ہی دل میں ثریا باجی کی مشکل آسان ہونے کی دعا کرکے اٹھ آیا۔
ایک دن ثریا باجی کی حالت ایسی ہوگئی کہ سب نے سمجھا کہ بس آخری وقت آپہنچا اور سورہ یسین پڑھنا شروع کردی۔ کچھ دیر بعد انھیں ہوش آگیا اور کہنے لگیں کہ ابھی میرا وقت نہیں آیا۔ جب آیا تو خود بتا دوں گی۔
پھر ایک صبح انھوں نے کہا کہ آج میرے جانے کا دن ہے۔ مجھے نہلا کر نئے کپڑے پہنا دو۔ صاف ستھری ہوکر سب کو قرآن پڑھنے کا کہا۔ سب قرآن پاک پڑھنے لگے۔ خود بھی پڑھتی گئیں۔ پھر سب کو کلمہ پڑھنے کا کہا۔
کچھ وقت سب کے ساتھ کلمہ شہادت کا ورد کرنے کے بعد ہاتھ کے اشارے سے خاموش ہونے کو کہا سب خاموش ہوگئے تو خود سرگوشی میں کلمہ پڑھتی ہوئی رخصت ہوگئیں۔۔۔۔
—————————————————
#حرف_راشد
تفرقہ اور تقسیم
وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْ
یہ ایک المیہ ھے کہ انسان کے اندر تقسیم اور تفریق کی جبلت بہت گہری ھے۔ ہم بحیثیت انسان گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں جو کہ ایک قدرتی عمل ھے۔ لیکن بہت سی صورتوں میں اختلاف، استحصال اور تشدد کا باعث بنتا ھے،
رنگ،نسل،مذہب، لسانی اور اقتصادی بنیاد پر تفریق اور تشدد کی مثالیں عام ہیں
تقسیم ہند کے موقع پر پنجاب میں ایک ہی زبان بولنے والوں نے مذہبی اختلاف پر ایک دوسرے کا قتل عام کیا۔ یورپی عیسائیوں نے اپنے ہی ہم مذہب افریقی عیسائیوں کو رنگ کے فرق کی وجہ سے کم تر جانا۔ آئرلینڈ میں ایک ہی نسل اور مذہب کے لوگوں نے عیسائیت کے دو فرقے بنا کر ایک دوسرے کا خون بہایا۔
خود اسلامی دنیا ان گنت بنیادوں پر منقسم اور منتشر ہوچکی ھے۔
ضرورت اس امر کی ھے کہ دوبارہ پیچھے مڑ کر دیکھا جائے اور سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری خطبہ پر عمل کیا جائے۔ اسی میں ہمارے تیرہ و تار معاشرے کی نجات ہے۔
مفاسد کا زیر و زبر کرنے والا
قبائل کو شیر و شکر کرنے والا
صلی اللہ علی سیدنا و مولنا محمد و آلہ و واصحابہ وبارک وسلم
#حرفِ_راشد
31 اکتوبر 2019
(پرانے ٹوٹر کے پہلے دن کی تحاریر میں سے ایک)
بسم اللّٰہ الرحمن الرحيم
حمد و ثنا اس ذات وحدہ لا شریک کے لئے جس کے ایک لفظ کُن سے ہزاروں کہکشائیں وجود میں آگئیں لیکن انسان کو اس نے اپنے ہاتھ سے بنایا۔ کروڑوں سجود شکر اس مالک الملک کے حضور کہ جس نے بن مانگے اپنے محبوب کی امت میں پیدا فرمایا۔ قربان اس کی صناعی کے کہ جو گوبر ملی مٹی سے خوبصورت، خوشبودار اور رنگ برنگے گلاب پیدا فرماتا ھے۔
کائنات کے ہر ذرے کے ہزار گنا درود و سلام اس عالی شان نبی کریم پر کہ جن کو تمام مخلوقات کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔ جن کے مبارک نعلین پر لگی خاک کے ذروں پر ساری کہکشائیں فدا، لیکن آپ نے ان نعلین کو اپنے نورانی ہاتھوں سے مرمت فرمانا پسند فرمایا۔ کہ جس ذات نے اپنی امت کو بھیک مانگنے کی بجائے کلہاڑی اور رسی خریدنے کی ترغیب فرمائی۔
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
صلی اللّٰہ علی سیدنا و مولنا محمد و آلہ و واصحابہ وبارک وسلم
#حرفِ_راشد #کُشتۂِ_خاکِ_حجاز
31 اکتوبر 2019
(ٹوٹر پر خاکسار کی اولین تحریر جو الحمدللّٰہ اب پہلی کتاب کا پیش لفظ ہے )

















