Final Words retweeted
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن اور خبر رساں ادارے ایک ایسی ویڈیو نشر کر رہے ہیں جس میں شہریوں کو جوہری حملے کی صورت میں خبردار کیا گیا ہے، اور ساتھ ہی جوہری دھماکے سے نمٹنے کے لیے کئی ہدایات بھی دی گئی ہیں:
–––
🔴 دھماکے کی شدید روشنی کی طرف نہ دیکھیں۔
–––
🔴 اگر آپ باہر ہیں اور فوری طور پر کسی عمارت کے اندر نہیں جا سکتے، تو کسی رکاوٹ کے پیچھے پناہ لیں، زمین پر لیٹ جائیں، اور اپنے سر اور چہرے کو ڈھانپ لیں۔
–––
🔴 دھماکے کی لہر (blast wave) گزر جانے کے بعد، قریبی عمارت کے اندر چلے جائیں؛ وہاں رک کر نظارہ نہ کریں یا تصاویر نہ لیں، اور گاڑی کے اندر پناہ لینے کی کوشش نہ کریں۔
–––
🔴 عمارت کے اندر، تہہ خانے (basement) میں یا عمارت کے درمیانی حصے میں چلے جائیں، جہاں کھڑکیاں اور بیرونی دیواریں نہ ہوں۔
–––
🔴 دروازے اور کھڑکیاں بند کر لیں، اور ایئر کنڈیشنر یا ہوا کا ایسا کوئی بھی نظام (ventilation) بند کر دیں جو باہر سے ہوا اندر کھینچتا ہو۔
–––
🔴 اگر آپ باہر کے ماحول کی زد میں آئے ہیں، تو اپنے بیرونی کپڑے اتار لیں (انہیں جھٹکیں نہیں)، اور انہیں لوگوں سے دور کسی بند تھیلے میں رکھ دیں؛ تاہم، انہیں باہر پھینکنے کے لیے خود باہر نہ جائیں۔
–––
🔴 نیم گرم پانی اور صابن سے نہائیں، اور کنڈیشنر کے بغیر عام شیمپو استعمال کریں؛ اگر نہانا ممکن نہ ہو، تو اپنے چہرے، ہاتھوں اور جسم کے کھلے حصوں کو پانی یا 'ویٹ وائپس' (wet wipes) سے صاف کر لیں۔
–––
🔴 بوتل بند پانی اور پیک شدہ خوراک کا استعمال کریں، اور کم از کم 24 گھنٹے تک پناہ گاہ میں رہنے کے لیے تیار رہیں۔
–––
🔴 یہ نہ سمجھیں کہ 24 گھنٹے گزرنے کے بعد ماحول محفوظ ہو گیا ہے؛ محفوظ راستے سے باہر نکلنے کے لیے سرکاری اعلانات اور ہنگامی ہدایات پر عمل کریں۔
–––
🔴 اگر عمارت میں آگ لگ جائے یا اس کے گرنے کا خدشہ ہو، تو کسی زیادہ محفوظ جگہ پر منتقل ہو جائیں۔
–––
🔴 نقصان کو کم سے کم کرنے کے لیے، ان ہدایات پر پہلے سے ہی اپنے اہل خانہ کے ساتھ بات چیت کر لیں اور انہیں سمجھ لیں۔
youtube.com/shorts/siVbTLyvM…
حامد میر صاحب پی ٹی ائی پارٹی عمران خان صاحب کو تو اب بھی سمجھ نہیں ارہی کہ صحافت ہوتی کیا ہے صحافت یہ نہیں ہوتی کہ اپنے حامی صحافیوں کو ارشد شریف کی طرح شہید کروا دو یا ملک بدر کرا دو ملک کے اندر اور باہر پاکستان اور قومی اداروں خاص طور پہ افواج کے 👇
خلاف جاؤ جب تک پی ٹی ائی پارٹی عمران خان صاحب کے پارٹی عہدے داران حکومتی عہدے داران خود سے سامنے ا کر اپنے مد مقابل کا سیاست سے مقابلہ نہیں کرتے بہترین نہیں ا سکتی اچھا ہوا پی ٹی ائی پارٹی نے عمران خان کی تصویر لگا کر غلاظت بکنے والوں کو مسترد کر دیا 👇
Final Words retweeted
پاکستان میں سیاسی بیانیہ X کیوں بناتا ہے، حالانکہ فیس بک اور ٹک ٹاک کے صارفین اس سے آٹھ گنا زیادہ ہیں؟
حالیہ Pew Research کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً ایک کروڑ پاکستانی X استعمال کرتے ہیں، جبکہ ٹک ٹاک اور فیس بک کے صارفین کی تعداد تقریباً آٹھ آٹھ کروڑ، سنیپ چیٹ کے چار کروڑ تیس لاکھ اور انسٹاگرام کے دو کروڑ ستر لاکھ بنتی ہے
سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے فرق کے باوجود پاکستان میں سیاسی بیانیے کی جنگ کا سب سے اہم میدان X کیوں ہے؟ DGISPR کی پریس کانفرنسوں میں بار بار یوٹیوبرز اور X پر موجود اکاؤنٹس کو ہی کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے؟ پاکستان میں سیاسی بیانیے کو کنٹرول کرنے کی کوششوں کے دوران X پر پابندی لگانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟
اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر صارفین کی تعداد اور سیاسی بیانیہ بنانے کی طاقت دو بالکل مختلف چیزیں ہیں X پر موجود پاکستانی صارفین کا ایک اہم حصہ وہ طبقہ ہے جو سیاست میں گہری دلچسپی رکھتا ہے، وہ صرف خبریں نہیں پڑھتا بلکہ مختلف سیاسی شخصیات، صحافیوں اور تجزیہ کاروں ک موقف کا موازنہ کرتا ہے، سوال اٹھاتا ہے، بحث کرتا ہے اور پھر اپنی سیاسی رائے قائم کرتا ہے
یہ وہ طبقہ ہے جس کا ایک بڑا حصہ کبھی جیو نیوز ARY نیوز اور دنیا نیوز جیسے بڑے چینلز سے خبریں حاصل کرتا تھا، ٹیلی ویژن پر بیٹھے اینکرز اور تجزیہ کار اس کی سیاسی سوچ پر اثرانداز ہوتے تھے، لیکن اب اس طبقے کے لیے X ایک اہم متبادل ذریعہ بن چکا ہے
بڑے یوٹیوبرز، ٹی وی چینلز اور سیاسی تجزیہ کاروں کے اپنے ذرائع اور زمین پر موجود صحافی ضرور ہوتے ہیں، لیکن بہت سی ایسی خبریں اور معلومات بھی X پر سامنے آتی ہیں جن تک روایتی میڈیا کی براہِ راست رسائی نہیں ہوتی، یوں X صرف خبر پہنچانے کا ذریعہ نہیں بلکہ خبروں کی تلاش، ان کی جانچ پڑتال اور سیاسی مباحثے کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے
تاہم اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ فیس بک کی سیاسی اہمیت کم ہو گئی ہے
پاکستان میں یونین کونسل، گاؤں، محلے، تحصیل اور ضلعی سطح پر فیس بک آج بھی مقامی سیاست کا ایک انتہائی طاقتور پلیٹ فارم ہے۔ مقامی فیس بک پیجز اپنے علاقوں کی سیاست، شخصیات، مسائل اور واقعات کو عوام تک پہنچاتے ہیں، کئی علاقوں میں یہیں پیجز مقامی سیاسی رائے بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں
لیکن جیسے ہی کوئی مقامی خبر قومی اہمیت اختیار کرتی ہے، وہ X پر پہنچ کر ملک گیر بحث کا حصہ بن سکتی ہے وہاں صحافی، سیاسی رہنما اور بڑے اکاؤنٹس اسے اٹھاتے ہیں اور پھر وہی خبر قومی سطح پر سیاسی بیانیے کا حصہ بن جاتی ہے
اس پوری جنگ کا ایک اور انتہائی اہم پہلو مختصر ویڈیو کلپس ہیں
آج سیاسی بیانیہ صرف لمبی تقریروں، ٹاک شوز یا اخباری کالموں سے نہیں بنتا، کبھی تیس سیکنڈ کا ایک کلپ گھنٹوں کی پریس کانفرنس پر بھاری پڑ جاتا ہے، اور اس کلپ کی اہمیت صرف اس میں کہے گئے الفاظ سے نہیں بلکہ یہ بھی طے ہوتی ہے کہ وہ الفاظ کہنے والا کون ہے
مثلاً شہباز گل، عمران ریاض خان یا معید پیرزادہ کی کسی بات کو ان کے سامعین ایک عام نامعلوم شخص کے بیان کے مقابلے میں زیادہ توجہ سے سنتے ہیں، ان شخصیات کی پہچان، ساکھ اور ان کے ساتھ جڑے لوگ ان کے پیغام کو مزید طاقت دیتے ہیں
یہاں ٹک ٹاک اور فیس بک کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے، X پر شروع ہونے والی بحث جب کسی معروف شخصیت کے مختصر ویڈیو کلپ کی شکل میں ان پلیٹ فارمز تک پہنچتی ہے تو اس کی رسائی کئی گنا بڑھ سکتی ہے
یوں X سیاسی بیانیہ بنانے اور اسے سمت دینے کا ایک اہم میدان ہے، جبکہ فیس بک، ٹک ٹاک اور یوٹیوب اس بیانیے کو وسیع عوامی حلقوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں
یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی طاقت کے مراکز کے لیے X کی اہمیت اس کے صارفین کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے، یہاں کسی خبر کو دبانا، کسی بیانیے کو مسلط کرنا یا کسی سیاسی شخصیت کے خلاف یک طرفہ مہم چلانا اس لیے مشکل ہو سکتا ہے کہ اس کا جواب فوری طور پر سامنے آ جاتا ہے
ماضی میں ایک ٹی وی چینل پر بیٹھا اینکر لاکھوں لوگوں تک اپنی بات پہنچا سکتا تھا جبکہ اس کی بات کو چیلنج کرنے والے کے پاس اتنا بڑا پلیٹ فارم نہیں ہوتا تھا، آج ایک عام X صارف بھی کسی بڑے اینکر، وزیر یا طاقتور عہدیدار کے بیان کو ثبوت اور دلیل کے ساتھ چیلنج کر سکتا ہے، اور اگر اس کی بات میں وزن ہو تو وہ لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے
پاکستان میں سیاسی بیانیے کی جنگ اب صرف اس بات کی نہیں رہی کہ کس کے پاس کتنے بڑے چینلز ہیں، بلکہ اس بات کی بھی ہے کہ کس کی بات پر لوگ اعتبار کرتے ہیں، کون سوال اٹھاتا ہے اور کون عوام کو اپنی بات کا قائل کر سکتا ہے
اور سیز میں بیٹھے غیر ملکی غیر مسلم عمران خان کی تصویر لگا کر پاکستان اور اس کے قومی اداروں کے خلاف جھوٹے بیانیے بناتے ہیں جب ان کو جواب دو تو یہ بلاک کر کے بھاگ جاتے ہیں پاکستانی عوام کو ایسے جھوٹے اکاؤنٹس کو بلاک کر دینا چاہیے 👇
youtube.com/shorts/LDkTMFzhC…
حامد میر بہادر اور سچائی کے علم بردار صحافی ہیں وہ پاکستان میں رہ کر بیلنس کے ساتھ صحافت کرتے ہیں جس کو بھی ائینہ دکھاتے ہیں وہ برا مان جاتا ہے 👇
پی ٹی ائی پارٹی کے دو حصے ہیں پہلا حصہ جمہوری سسٹم کے تحت اگے بڑھنا چاہتا ہے دوسرا حقیقی ازادی کے نام پر انقلاب لانا چاہتا ہے اور سیز میں بیٹھے عمران خان کی تصویر لگا کر ڈیجیٹل میڈیا پر پاکستان اس کے اداروں اور عوام کے خلاف توہین امیزہ رویہ رکھتے ہیں👇
teapaw.org/Waqarkhan/status/21153…
بیرسٹر گوہر صاحب فضول لوگوں کی فضول باتوں کا جواب دیں گے تو وہ اور سوال کریں گے اگر اپ ان کو نظر انداز کر دیں گے تو ان کی فضولیات سے بچے رہیں گے اپ پی ٹی ائی پارٹی کے چیئرمین ہیں اپ پارلیمانی اجلاس میں سب کے ساتھ مشورے کے بعد فیصلہ کن ڈائریکشن دیں👇
جب کبھی بھی عمران خان صاحب اور پی ٹی ائی پارٹی کے لوگوں کی انڈرسٹینڈنگ سے کوئی بہتر صورتحال پیدا ہوئی تو سوشل میڈیا کے لوگوں نے اس کو خراب کر دیا عمران خان صاحب کی تصویر کے پیچھے کون پاکستانی ہے یا کون غیر پاکستانی ہےکون مسلم ہے یا کون غیر مسلم ہے پہچان اس کے بولنے سے ہوتی ہے 👇
Final Words retweeted
“موت سے ڈرتا نہیں ہوں، زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، میں ہارٹ اٹیک سے بھی مرسکتا ہوں۔ بنیادی لڑائی کیا ہے کہ پاکستان کے فیصلے پاکستانی قوم کرے گی، باہر سے بیٹھ کر کوئی ڈکٹیٹ نہیں کرسکتا”۔ شہید ارشد شریف
#شہید_ارشد_شریف
Final Words retweeted
ارشد شریف شہید — جرات، بہادری اور حق گوئی کی علامت 🇵🇰
ارشد شریف صرف ایک صحافی نہیں، بلکہ حق گوئی، بے باکی، اصول پسندی اور غیر معمولی جرات کی پہچان تھے۔ سچ کے لیے آواز اٹھانا، دباؤ کے سامنے ثابت قدم رہنا اور اپنے قلم و ضمیر سے وفا کرنا اُن کی شخصیت کی پہچان ہیں , اللہ تعالیٰ ارشد شریف شہید کے درجات بلند فرمائے ، آمین 🤲













