وہ بھی ملتا جو گلے سے تو خوشی عید کی تھی
کوئی رہ رہ کے نصیر آج بہت یاد آیا
سیّد نصیر الدّین نصیرؔ گیلانیؒ🖋️
"آج کسی انسان کو بے لوث محبت، ہمدردی، خلوص اور وفاداری دے کر دیکھ لیں ، وہ شخص خود اپنے عمل سے آپ کو یہ بتائے گا کہ وہ آپ کے ان بیش قیمت جذبات کا قطعی حقدار نہیں ہے."
😥😥😥😥
AWJ IHRM retweeted
یا الہی دکھا دے جمالِ نبی ﷺ ورنہ ہم ان کی فرقت میں مر جائیں گے
شاملِ حال تیرا اگر ہے کرم، پھر تو دُنیا میں دیدار کر جائیں گے
خالقِ نعمت دو جہاں ہے خدا، بانٹتے ہیں انہیں خلق میں مصطفے ﷺ
کر لیا اُن ﷺ کو تسلیم قاسم اگر پھر تو دامن مُرادوں سے بھر جائیں گے
قبر کی وہ گھٹا توپ تاریکیاں جن کو سُن کر لرزتے ہیں پہلوؤں میں دل
مصطفے ﷺ کے قدم اس میں جب آئیں گے، نور ہی نور ہر سمت کر جائیں گے
پلصراط ایسی دُشوار ہے رہ گزر، پُر خطر جس میں ممکن نہیں ہے گزر
ربّ سلم جو ہو گی ندائے نبی ﷺ پھر بہ لُطفِ الہی گزر جائیں گے
دل ہے سیلاب محشر سے خائف اگر، رحمت مصطفے' ﷺ پر مگر ہے نظر
اُن ﷺ کی جب بھی نگاہ کرم ہو گئی ساحلِ عافیت پر اُتر جائیں گے
عشق سے اُن ﷺ کے کھلتے ہیں راز حیات عشق سے اُنکے ہوتا ہے عرفان ذات
عشق اُن ﷺ کا جو اپنا بنا رہنما پھر تو اپنے مقدر سنور جائیں گے
اک دفعہ تو در پاک پر حاضری، ربّ اکبر کے لطف و عطا سے ہوئی
آس اب بھی ہے اُن ﷺ کے کرم پر لگی ہے یہ امید بار دگر جائیں گے
ہو جو طیبہ میں رہنا ریاضِ حزیں عالم آخرت کی طرف بالیقیں!
سرزمین مدینہ سے ہم زندگی اُن ﷺ کے قدموں میں کر کے بسر جائیں گے
کلام ۔۔پیر سید ریاض الدین سہروردی رحمۃ اللّٰه علیہ
Eid mubarak Pakistan wali
میں یہ دیکھ اور سیکھ چُکا ہوں،
کہ عورت کو ہمیشہ وہ مرد چاہیے جو اسے دکھاوے کا پیار کرے،
روکنے ٹوکنے،
اچھا بُرا سمجھانے والا مرد ہمیشہ اس کو زہر لگتا ہے ........!
> عید کا دن خوشیوں کا دن ہے
مگر اس دن ہر کوئی خوش ہو یہ ممکن ہی نہیں.
ہر انسان کسی نا کسی درد کی کیفیت میں مبتلا رہتا ہے اس کا اظہار وہ کرے یا نہ کرے.
رمضان رخصت ہوا عید کا دن ہے اللہ کی دی ہوئی توفیق سے کچھ عبادت اور روزے رکھے.
نجانے کتنی زندگی باقی ہو کوشش کرنی چاہیے کہ رشتہ بچائے جائیں.
یاد رکھیں کچھ رشتے بچانے کے لیے انسان اپنے آپ کو خود محتاج بنا کر رکھتا ہے.
اگر محتاجی ختم ہو جائے تو کسی کو کسی بھی رشتے کی ضرورت نا رہے.
مرنے والے کو جو دنیا چھوڑ جاتا ہے دنیا کی محتاجی رہتی ہے اور شدید محتاجی.
چار کاندھے..
کوئی کتنا ہی غرور کرے کہ وہ محتاج نہیں
محتاج ہے..
بس فرق اتنا ہے کہ محتاجی آج اس کی ہے تو کل کسی اور کی ہو گی. تو جس کی اس وقت ہے اسی کی محتاجی پر خوش رہنے کی کوشش کریں تاکہ رشتے بچائے جائیں ناکہ روز. روز نئے بنائے جائیں
اللہ کی ذات گرامی ہے جو کسی کی محتاج نہیں اور ہم اللہ نہیں ہیں ہم تو اتنے محتاج ہیں کہ ہماری زندگی الف سے لے کر یے تک محتاجی ہی محتاجی ہے.
عید مبارک، 31 مارچ 2025
AWJ IHRM retweeted
ہم وقت اور حالات سے لَڑ لَڑ کر بَچ تو جاتے ہیں
مگر اِس دوران ہمارے اندر بہت کُچھ مَر جاتا ہے
چاند رات صرف خریداری اور جشن کا نام نہیں بلکہ محبت، خلوص اور بھائی چارے کو فروغ دینے کا وقت بھی ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں، غریبوں اور مساکین کو یاد رکھیں اور انہیں اپنی خوشیوں میں شریک کریں۔














