
Organiser of @BalochYakjehtiC | Named in @TIME 100 Emerging Leaders 2024 | Named in @BBC100Women 2024. | [email protected]
Quetta, Balochistan
Joined March 2018
- Tweets7K
- Following723
- Followers33K
- Likes5.2K
Pinned Tweet
یکم جولائی 2011 میرے سیاسی استاد اور میرے والد عبدالغفار لانگو کو 2 سال جبری گمشدہ کرنے کے بعد انکی مسخ شدہ لاش ریاست نے ہمیں تحفے میں دی۔اپنے مہروان والد کے خون آلود چہرے کو دیکھتے انکے تابوت کے پاس بیٹھے ہم پانچ بہنوں اور ہمارے اکلوتے بھائی کی زندگیاں یکسر بدل گئی۔
پاکستان کی ایک کینگرو کورٹ نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سیاسی رہنما گلزادی بلوچ کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ میں اس فیصلے کو صرف ایک سزا کے طور پر نہیں دیکھتی، بلکہ اسے بلوچستان میں انصاف کے ساتھ ہونے والے مسلسل مذاق اور پُرامن سیاسی آوازوں کو دبانے کے جاری عمل کی ایک اور مثال سمجھتی ہوں۔
جس مقدمے میں دفاع کے وکیل کی غیر موجودگی میں گواہ پر جرح کی جائے، جہاں دفاع کو اپنی بات مؤثر طور پر رکھنے کا مکمل موقع نہ دیا جائے، اور جہاں جج ملزم اور اس کے وکلاء کی عدم موجودگی میں طے شدہ احکامات کی تکمیل کرے، وہاں عدالت کے طرزِ عمل، دباؤ اور غیر جانب داری پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ ایسے حالات میں ہمیں یہ پوچھنے کا پورا حق ہے کہ یہ عدالتوں کا یہ طرز عمل انصاف کے زمرے میں آتا ہے ؟
گلزادی بلوچ کوئی نامعلوم چہرہ نہیں، وہ ہماری ساتھی اور ہماری جدوجہد کا ایک حصہ ہے۔ اسے خاموش کرنے کے لیے عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے، مگر اس کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف ہماری آواز کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ گلزادی کی سزا اس بات کا ثبوت ہے کہ آج بلوچستان میں پُرامن سیاسی جدوجہد کو کس قدر دباؤ اور جبر کا سامنا ہے۔
ہمارے ساتھیوں پر جبر صرف قید اور مقدمات تک محدود نہیں۔ ہماری تنظیم کے سرگرم کارکن نذر مری بلوچ کو بھی گزشتہ ایک سال سے جبری طور پر لاپتہ رکھا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پُرامن سیاسی کارکنوں کو قید اور لاپتہ کرکے بلوچستان کے سیاسی مسئلے کو کیسے حل کیا جا سکتا ہے؟
ہمیں مذاکرات کا درس دینے والوں سے میرا سوال ہے: جب ایک طرف ہمارے ساتھی جیلوں میں قید ہوں، دوسری طرف ان کے دفاع اور قانونی حقوق محدود کیے جائیں، اور سیاسی جدوجہد سے دستبرداری کے لیے دباؤ ڈالا جائے، تو پھر مذاکرات کس بنیاد پر ہوں گے؟ گلے پر چھری رکھ کر مذاکرات نہیں ہوتے، یہ صرف جبری خاموشی مسلط کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔
آج بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ساتھ روا رکھا جانے والا یہ مجرمانہ طرزِ عمل بلوچستان میں پُرامن جدوجہد پر ریاستی اداروں کے جاری جبر کی ایک سفاک مثال ہے۔ نام نہاد مذاکراتی عمل کے دوران، بلوچستان میں جاری خونریزی اور مسلسل جبر کے باوجود، معاملہ فہمی، سنجیدگی اور نیک نیتی کے بجائے دباؤ، ہٹ دھرمی اور دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا گیا۔
مذاکرات کے نام پر مسلسل ہم پر دباؤ ڈالا گیا کہ ہم اپنی پُرامن سیاسی جدوجہد سے دستبردار ہو جائیں۔ ہمیں کہا گیا کہ تمام ججز ہمارے ہاتھ میں ہیں اور آپ کی دی ہوئی کوئی بھی درخواست کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ہم نے ان تمام حالات کے باوجود دلیل اور سیاسی جرات کا راستہ اختیار کیا، جو ہماری بنیادی سیاسی تربیت کا حصہ ہے۔ ہم بلوچستان کے عوام کے بنیادی حقوق کی جدوجہد کرنے والی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنے عوام کے حقوق کے لیے ہم نے کبھی بھی مکالمے اور مذاکرات سے انکار نہیں کیا۔
اس جبر کے دورانیے میں بھی ہماری تنظیم لاپتہ افراد کی سالانہ رپورٹ محکمہ داخلہ بلوچستان میں جمع کرائی، جو ہمارے زمہدار تنظیم ہونے کا واضح ثبوت ہے۔
مگر ہم نے مذاکرات کے نام پر کسی بھی سیاسی انجینئرنگ کو نہ پہلے قبول کیا ہے اور نہ آئندہ کریں گے۔ بی وائی سی بلوچ عوام کی نمائندہ جماعت اور ان کی امانت ہے۔ ہماری جدوجہد کسی فرد یا عہدے کے لیے نہیں بلکہ اپنے عوام کے بنیادی حقوق اور انصاف کے لیے ہے۔
ہمارے انکار کے بعد چار رکنی عسکری مذاکراتی ٹیم نے ہمیں کہا کہ فیصلہ یہ ہے کہ جب تک آپ ہماری باتیں نہیں مانیں گے، آپ جیل میں رہیں گے۔ ہمیں یہ بھی کہا گیا کہ جج کو بھی یہی حکم دیا گیا ہے۔ ہمیں یہ پیشکش بھی کی گئی کہ اگر ہم ان کی بات مان لیتے ہیں تو ہم میں سے ایک شخص کو رہا کر دیا جائے گا؛ وہ باہر جا کر ان کی باتوں پر عمل کرے گا تو باقی لوگوں کو بھی رہا کر دیا جائے گا۔ہمیں دو، تین سال کے لیے یورپ میں آباد ہو جانے کی پیشکش بھی کی گئی۔ ہم نے ان سمیت تمام ایسی پیشکشوں کو مسترد کیا، کیونکہ ہماری جدوجہد کسی وقتی رعایت، مراعات یا ذاتی مفاد کے لیے نہیں ہے۔
ہم نے واضح کیا کہ ہم کسی سلیکٹڈ پارلیمنٹ کا حصہ نہیں بنیں گے، جو عوام کے بجائے عسکری قوتوں کے ترجمانی کریں نہ کبھی بلوچستان کو چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں پناہ لیں گے۔ ہمارا انتخاب بلوچستان کی عوام ہیں، اور ہمارا راستہ اپنے عوام کے بنیادی جمہوری حقوق کی جدوجہد ہے۔ اگر اس جدوجہد کی قیمت قید ہے تو ہم یہ قیمت ادا کریں گے، اور جیل سے بھی اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
ہم ان تمام اداروں کو یہ واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ طاقت کے بل پر آپ بلوچستان کے سیاسی مسئلے کو حل نہیں کرسکتے۔ آپ نے بی وائی سی کے رہنماؤں کو قید کرنے اور کارکنوں کو لاپتہ کرنے کے باوجود بلوچستان میں امن قائم نہیں کیا-
آپ کی کینگرو عدالتوں سے ملنے والی سزاؤں کو ہم اپنے اور اپنی تنظیم کے لیے اعزاز سمجھتے ہیں، کیونکہ تمام تر وسائل، مقدمات، قید اور پروپیگنڈے کے باوجود آپ ہمارے ساتھیوں کے جدوجہد کے حوصلے کو نہیں توڑ سکے۔ ہم اپنی قوم کے اعتماد کا سودا نہیں کریں گے ہمارے لیے قومی نظریے، سیاسی اصول اور اپنے عوام کے ساتھ وفاداری کسی بھی ذاتی فائدے سے زیادہ اہم ہیں۔
ہماری سزائیں اور قید ہمارے قوم کے حوصلے کو نہیں توڑ سکتے، جس دن بھی اس قید سے رہائی ہوئی، اس دن آپ ہمیں لاپتہ افراد کے لواحقین، اپنے قومی شہیدوں کے خاندانوں اور بلوچستان کے ان تمام مظلوم عوام کے ساتھ انصاف کی جدوجہد میں کھڑا پائیں گے، جنہوں نے اپنے حقوق کے لیے قربانیاں دی ہیں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
ہدہ جیل کوئٹہ
22ستمبر 2026
بلوچستان میں عدلیہ مکمل طور پر اپنا اثر اور عوام کا اعتماد کھو چکی ہے۔ جس عدلیہ کی ذمہ داری عوام کو انصاف فراہم کرنا تھی، وہ آج ریاستی اداروں کی معاون بن کر انصاف کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔
چیف جسٹس بلوچستان کامران ملاخیل بی وائی سی کے تمام مقدمات کی خود پیروی کر رہے ہیں، جبکہ ان کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مبین، جسٹس قادر شاہ بخاری سمیت پورے بلوچستان میں بی وائی سی کے مقدمات سننے والے ججز کو ریاستی ایما پر فیصلے دینے کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔ ایسے حالات میں عدلیہ کی غیرجانبداری اور آزادی ختم ہوچکی ہے ۔
گلزادی بلوچ کا مقدمہ اس عدالتی رویے کی ایک واضح مثال ہے۔ متعدد مواقع پر متعلقہ جج کی جانب سے یہ کہنا کہ وہ دباؤ میں ہیں اور انہیں کیس میں سزا سنانے کی ہدایات دی گئی ہے، عدالتی آزادی اور غیرجانبداری پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ 7 ستمبر کو عدالت میں ہڑتال اور وکیلِ صفائی کی عدم موجودگی کے باوجود گلزادی بلوچ کے مقدمے کی کارروائی جاری رکھی گئی اور دفاع کے وکیل کی غیرموجودگی میں گواہ پر جرح کی گئی۔ یہ دفاع کے بنیادی حق اور منصفانہ ٹرائل کے اصول پر سنگین سوال اٹھاتا ہے۔
اسی طرح ہمارے مقدمات میں بھی ہماری اجازت کے بغیر تعینات کیے گئے سرکاری وکلاء کو مختلف مراعات دے کر اسلام آباد تک پہنچایا گیا، جبکہ ہمیں اپنے دفاع کے بنیادی حق سے محروم رکھا گیا۔ کیا یہی اسلامی جمہوریہ پاکستان کا انصاف ہے، جہاں عدالتیں آزادانہ فیصلوں کے بجائے ریاستی اداروں کے طے کردہ فیصلے سنانے کا کردار ادا کر رہی ہیں۔
ہمیں عمر قید کی سنائی گئی سزاؤں کے خلاف اپیل کا آئینی و قانونی حق حاصل ہے، مگر ہماری اپیل کی سماعت کے لیے بھی ایک طویل تاریخ، اکتوبر تک کی، مقرر کر دی گئی ہے۔ جسٹس کامران ملاخیل کی سربراہی میں اس طرح کی مسلسل تاخیر ہمارے بنیادی حقِ اپیل اور فوری انصاف کے حق کو متاثر کر رہی ہے۔ جب ایک شخص پہلے ہی قید میں ہو تو اس کی اپیل کو غیرضروری طور پر طویل عرصے تک مؤخر کرنا دراصل قید کو ہی سزا میں تبدیل کرنے کے مترادف ہے۔
13 جون سے آج تک فیس لیس ٹرائل کے خلاف بی وائی سی نے 20 پیشیوں کا بائیکاٹ کیا ہے۔ اس حوالے سے ہماری پٹیشن بلوچستان ہائی کورٹ میں جمع ہو چکی ہے، مگر چیف جسٹس کامران ملاخیل کی سربراہی میں عدالت ہماری پٹیشن سننے اور ہمارے دفاع کے بنیادی حق کا تحفظ کرنے کے بجائے مسلسل اس معاملے کو تاخیر کا شکار کر رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل عدلیہ کی غیرجانبداری پر ایک واضح سوال ہے۔
دوسری جانب چیف جسٹس ملاخیل کی جانب سے گزشتہ چھ ماہ سے ہماری ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کرنے کے بجائے بار بار مقدمات کو ڈی لسٹ کیا جا رہا ہے۔ کسی شخص کو عدالتی عمل کے ذریعے ہی سزا کا شکار بنانا اور ضمانت کے معاملے میں مسلسل تاخیر کرنا انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
چیف جسٹس بلوچستان کو کسی فریق کا کردار ادا کرنے کے بجائے اپنے آئینی منصب کے تقاضوں کے مطابق غیرجانبدارانہ اور انصاف پر مبنی فیصلے کرنے چاہئیں۔ عدلیہ کا کام ریاستی اداروں کے فیصلوں کو قانونی جواز فراہم کرنا نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی حقوق، دفاع کے حق، اور انصاف تک بروقت رسائی کا تحفظ کرنا ہے۔
ہم سپریم کورٹ آف پاکستان اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بی وائی سی کے مقدمات میں عدالتی جانبداری، دفاع کے حق سے انکار اور انصاف کے تاخیر کا فوری نوٹس لے کر شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنائیں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
10 ستمبر 2026
ہدہ جیل کوئٹہ
پاکستان گزشتہ سات دہائیوں سے بلوچ عوام پر حکمرانی کر رہا ہے۔ ریاست نے بلوچ عوام کو مسلسل جبر کے سائے تلے رکھ کر بلوچستان پر اپنی حکمرانی قائم رکھنے کی کوشش کی ہے، مگر حکمرانی کا یہ پرتشدد ماڈل اب ناکام ہو چکا ہے، اور اس ناکامی کی قیمت ایک بار پھر عام بلوچ آبادی سے وصول کی جا رہی ہے۔
بلوچ نسل کشی محض بلوچستان کا داخلی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی انسانی المیہ ہے۔ جب تک اس نسل کشی اور اس کے بنیادی اسباب کا ازالہ نہیں کیا جاتا، امن کی ہر بات محض لفاظی اور حقیقت سے فرار ہے۔
گزشتہ چند ماہ سے سیکیورٹی کے نام پر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کرفیو، فوجی آپریشن، جبری گمشدگیاں اور قتلِ عام معمول بنتے جا رہے ہیں۔
ان واقعات کی بڑی تعداد ریاستی میڈیا کے بیانیے میں جگہ نہیں پاتی، مگر بلوچ عوام ہر روز ان حالات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور اپنی زندگیوں میں بھگت رہے ہیں۔ ہم ایسی ہر ریاستی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں جس میں بلوچ بچوں، عورتوں اور عام شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ان کی ہلاکتوں کو محض collateral damage کہہ کر نظر انداز کر دیا جائے۔
سوراب میں گزشتہ رات پاکستانی جنگی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں 27 افراد قتل اور زخمی ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔
اگر ایک ریاست عام شہریوں کے گھروں اور آبادیوں پر بمباری کے نتیجے میں بچوں سمیت درجنوں شہریوں کے قتلِ عام کو معمول کی کارروائی سمجھتی ہے، تو یہ ایک فوجی آپریشن نہیں بلکہ نسل کشی ہے۔
سوراب کے عوام کی جانب سے اس وحشیانہ اور جابرانہ حملے کے خلاف سڑک بند کرکے احتجاج کرنا اس بات کا اظہار ہے کہ لوگ اپنی جان و مال کے تحفظ اور اس قتلِ عام کے خلاف خاموش نہیں رہیں گے۔
میں بلوچستان کے عوام سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ سوراب واقعے کے خلاف اپنے گھروں سے نکلیں اور اپنے قتل پر ماتم کرنے کے بجائے مزاحمت کریں۔
مزاحمت میں ہی ہماری بقا ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
13 اگست 2026
ہدہ جیل کوئٹہ
Mahrang Baloch retweeted
𝗖𝗮𝗹𝗹 𝗳𝗼𝗿 𝗦𝘂𝗯𝗺𝗶𝘀𝘀𝗶𝗼𝗻𝘀: 𝗧𝗵𝗲 𝗣𝗲𝗼𝗽𝗹𝗲’𝘀 𝗔𝗿𝗰𝗵𝗶𝘃𝗲
The state relies on silence and erasure. Preserving memories and resisting erasure is an act of resistance. We urge every participant and supporter to contribute to the Baloch Raaji Muchi Permanent Digital Archive. Please share the following with us:
•Timeline of Events: Detailed written or recorded accounts mapping your journey, the blockades you encountered, and the precise times and locations of state interference.
•Eyewitness Testimonies: First-hand accounts from individuals who participated in the gathering or were halted at blockades, detailing the aggression faced by state forces.
•Verified Photographs: Previously unpublished, high-resolution images capturing the massive crowds in Gwadar, the peaceful sit-ins, and the solidarity among the people.
•News Coverage: Cuttings, links, and video clips from local, national, or international media that covered the gathering and the subsequent internet and mobile shutdowns.
•Human Rights Reports: Any documentation or independent reports published by human rights organizations detailing the excessive use of force and human rights violations during the event.
•Official Inquiries or Court Findings: Copies of FIRs, court orders, bail pleas, or official documents related to the unlawful detention of protesters and BYC organizers.
•Personal Stories of Affected Families: Narratives from families who lost loved ones or whose family members were injured, arrested, or forcibly disappeared during the crackdown.
•Footage of Crackdown on the Way to Raaji Muchi: Raw video clips showing tear gas shelling, firing, baton charges, or paramilitary blockades that prevented convoys from reaching Gwadar or returning home safely.
•Artistic Expressions: Any poster, digital artwork, sketch, painting, or design you have created that portrays the spirit of the Baloch Raaji Muchi, the state’s violence, or the perilous return journey of the caravans.
Share anything that can contribute to this digital archive through our social media channels, and share your submissions on your own social media accounts as well.
بلوچستان میں سابقہ افغان فوجی اہلکاروں کی بلوچ نسل کشی میں براہ راست شمولیت اک تشویشناک امر ہے۔
ڈاکٹرماہ رنگ بلوچ
10 جولائی 2026
ہدہ جیل کوئٹہ
Before being sentenced to life imprisonment, Dr. Mahrang Baloch spoke from solitary confinement about resistance, human rights, and the future of Balochistan.
Read her recent interview:
indexoncensorship.org/2026/0…
آج جیل میں ہمارے دھرنے کا آٹھواں دن ہے۔ اس دھرنے میں بیبرگ بلوچ، بیبو بلوچ، گلزادی بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ شامل ہیں۔ جیل کے اندر یہ ہمارا پانچواں دھرنا ہے، تاہم یہ پہلا دھرنا ہے جو 192 گھنٹوں سے جاری ہے۔
13 جون کو جب ہمیں پیشی کے لیے جیل سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں لے جایا گیا تو وہاں ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارے مقدمات کو فیس لیس ٹرائل میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف ہم نے فوری طور پر احتجاج کیا اور اپنے بیرکوں میں واپس جانے سے انکار کر دیا۔ تب سے ہم جیل کے احاطے میں اپنا پرامن دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اس دھرنے نے ہماری مزاحمتی جدوجہد کی بے شمار یادوں کو تازہ کر دیا ہے۔ سردی ہو یا گرمی، ریاستی تشدد ہو یا پابندیاں، ہم نے ہر مشکل گھڑی میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کی کوشش کی ہے۔ وہ تمام چہرے، جو جبری گمشدگیوں، قتل و جبر اور مسلسل ریاستی تشدد کے باوجود ثابت قدم رہے، آج بھی ہماری یادوں میں زندہ ہیں۔ ہم نے اماں حوری، لمہ زرگل ، ادی مہر جان اور ان تمام ماؤں کو یاد کیا جنہوں نے اپنے پیاروں کی جدائی کے باوجود ہمت اور استقامت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔
اسی طرح راجی مچی اور 22 مارچ کوئٹہ دھرنے کے وہ تمام مناظر بھی ہمارے سامنے آگئے، جب پرامن مظاہرین پر طاقت کا استعمال کیا گیا۔ یہ تمام یادیں محض ماضی کے واقعات نہیں بلکہ ہماری اجتماعی مزاحمتی یادداشت کا حصہ ہیں۔ یہی یادداشتیں ہماری اصل وراثت ہیں، ایک ایسی وراثت جسے کوئی ریاست، کوئی جبر اور کوئی قید ہم سے چھین نہیں سکتی۔
ہمارے دھرنے کے دو بنیادی مطالبات ہیں: اول، ہمارے مقدمات کی سماعت اوپن کورٹ میں کی جائے؛ دوم، انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج محمد علی مبین کا تبادلہ کیا جائے۔
ہمیں ابتدا میں 3MPO کے تحت حراست میں لیا گیا، اس کے بعد اٹھہتر دن تک ریمانڈ پر رکھا گیا۔ 11 اکتوبر سے ہمارے جیل ٹرائل کا آغاز ہوا، اور اب 12 جون کو چیف سیکریٹری کے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ہمارے مقدمات کو فیس لیس ٹرائل میں منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایسے حالات میں یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ کیا اب بھی یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ اس ملک میں قانون جمہوری اصولوں کے مطابق چل رہا ہے؟ کیا بلوچ کو واقعی اپنے دفاع کا حق حاصل ہے؟ جب مقدمات کی شفاف سماعت کے بجائے ایسے طریقہ کار اختیار کیے جائیں جو ملزمان اور ان کے وکلاء کو مزید محدود کر دیں، تو انصاف کی فراہمی کے دعوے اپنی معنی کھو دیتے ہیں۔انسدادِ دہشت گردی کے قانون میں حالیہ ترامیم نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔ بلوچستان اسمبلی کی جانب سے منظور کی گئی تبدیلیوں کے تحت محض شک کی بنیاد پر کسی بھی فرد کو طویل مدت تک قید رکھا جا سکتا ہے۔ انہی قوانین کے تحت نام نہاد انٹرنمنٹ یا ڈیٹنشن مراکز میں میرے کزن سیف اللہ سمیت سینکڑوں بلوچ نوجوانوں اور خواتین کو قید رکھا گیا ہے۔ ایسے حالات میں یہ سوال پہلے سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ قانون کا مقصد شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہے یا ریاستی طاقت کو مزید وسعت دینا؟
ہمارے مقدمات کے دوران عدالتی عمل کے کئی ایسے پہلو سامنے آئے جنہوں نے ہمارے خدشات کو مزید گہرا کیا۔ ایک پیشی کے دوران بلوچستان کے پراسیکیوٹر جنرل خود کمرۂ عدالت میں موجود تھے اور جج پر زور دے رہے تھے کہ مقدمات کو تیزی سے چلایا جائے اور روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے تاکہ جلد از جلد فیصلے سنائے جا سکیں۔ اس موقع پر جج نے انہیں جواب دیا کہ مقدمات کا فیصلہ ان کے نہیں بلکہ ریاست کے ہاتھ میں ہے۔
اس سے قبل انہی نوعیت کے متعدد مقدمات میں ہمیں ضمانتیں دی جا چکی تھیں، مگر 16 نومبر کو جج محمد علی مبین نے مختلف مقدمات میں ہماری ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ایک ہی مقدمے میں میری ضمانت منظور کی گئی جبکہ اسی مقدمے میں بیبو بلوچ اور گلزادی بلوچ کی ضمانتیں مسترد کر دی گئیں۔ اس طرح تمام کیسیز پر میریٹ پر فیصلہ کرنے کے بجائے ضمانت کے کیسیز کو بیلینس کیا گیا جس سے ہمیں قید بھی رکھا جاسکے اور عدالت کے غیر منصفانہ کاروائی پر پردہ بھی ڈالا جاہیں ۔دورانِ سماعت ہمیں بارہا کہا گیا کہ ’’جا کر اپنا مسئلہ کہیں اور حل کریں، میں کچھ نہیں کر سکتا۔‘‘ ہمارا جواب ہمیشہ یہی تھا کہ آپ کے سامنے قانون موجود ہے، آپ قانون اور انصاف کے مطابق فیصلہ کریں۔
گزشتہ آٹھ روز سے ہم جیل کے اندر احتجاجی دھرنے پر بیٹھے ہیں اور بطور احتجاج فیس لیس عدالتوں میں پیش ہونے سے بھی انکار کر رہے ہیں۔ مگر اس کے باوجود ہمارے لیے سرکاری وکلا مقرر کر دیے گئے ہیں، حالانکہ ہمیں بلوچستان کے بہترین وکلاء کی ٹیم دفاع کر رہی ہے اور ہم کسی سرکاری وکیل کی طلب نہیں کیں اور نہ ہی اس کی اجازت دی۔ آج تک ہمیں اپنے وکلا، سید سلطان شاہ، نعیم کُکلاچی، بلال محسن، اقبال شاہ، مختیار احمد، اور اکبر شاہ، سے ملاقات تک نہیں ہوئی ، لیکن وہ عدالت میں ہمارے نمائندوں کے طور پر پیش کیے جا رہے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف ہمارے قانونی حقِ دفاع کی نفی ہے بلکہ پورے عدالتی عمل پر ایک سنگین سوال بھی اٹھاتا ہے۔گوادر راجی مچی کے دوران بلوچ عوام پر جس بے رحمی سے تشدد کیا گیا، جس کے نتیجے میں تین مظاہرین کو شہید کیا گیا ، اس کے باوجود بلوچ یکجہتی کمیٹی نے مذاکرات کے ذریعے دھرنے کے خاتمے کا راستہ اختیار کیا۔ یہ حقیقت ہماری تحریک کے پُرامن اور سیاسی کردار کا واضح ثبوت ہے۔ لیکن اس کے باوجود آج ہمارے خلاف مقدمات اس انداز میں چلائے جا رہے ہیں کہ صرف ایک ہفتے کے دوران گوادر کیس میں چار ایف سی اہلکاروں کے بیانات ہمارے اور ہمارے وکلا کی غیر موجودگی میں ریکارڈ کیے گئے، اور 22 جون کو فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
جس طرح مقدمے کے دوران قانونی تقاضوں اور منصفانہ سماعت کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کیا گیا ہے، اس کے بعد ہمیں اس فیصلے کے بارے میں کسی خوش فہمی میں رہنے کی ضرورت نہیں۔ مگر شاید یہی ہماری جدوجہد کی کامیابی بھی ہے۔ ہماری گرفتاریوں، ہماری طویل قید، اور ہماری تنظیم کے خلاف وسیع کریک ڈاؤن کے باوجود ریاستی ادارے اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکے۔ اسی لیے اب عدالتی عمل کو بھی عسکری قوتوں کے غیر قانونی مقاصد کے تابع بنا دیا گیا تاکہ وہ نتائج حاصل کیے جا سکیں جو سیاسی میدان میں حاصل نہیں کیے جا سکے۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا چند سیاسی کارکنوں کو قید کر دینے سے بلوچ قومی تحریک کو ختم کیا جا سکتا ہے؟ کیا جیلوں کی دیواریں ایک قوم کی اجتماعی یادداشت، اس کے دکھوں اور اس کی جدوجہد کو قید کر سکتی ہیں؟ اور اس طرزِ حکمرانی کے ذریعے بلوچستان کے لوگوں کو آخر کیا پیغام دیا جا رہا ہے
ایک طرف بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف مسلسل میڈیا ٹرائل جاری ہے، اسے بلوچستان کی سب سے منظم عوامی تحریک ہونے کے باوجود دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور دوسری طرف ریاستی ادارے خود فئیر ٹرائل کے اصولوں اور اپنے قانونی تقاضوں سے انحراف کرتے ہوئے ہمیں ہمارے بنیادی حقِ دفاع سے محروم کر رہے ہیں۔ ہماری چودہ ماہ پر محیط قید، مقدمات کا غیر معمولی طریقۂ کار اور عدالتی عمل میں مسلسل رکاوٹیں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ عدالتی نظام کو پرامن سیاسی کارکنوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔
ہمارے وکلاء کو مقدمات چھوڑنے پر مجبور کرنے کے لیے ہراساں کیا گیا، انہیں دھمکیاں دی گئیں، جبری گمشدگی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، اور بعض مواقع پر عدالتوں کے احاطے میں پولیس اور سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اس کے باوجود ہمارے وکلاء نے پیشہ ورانہ ذمہ داری، اور اصولی مؤقف کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہماری قانونی نمائندگی جاری رکھی، جس کے لیے ہم ان کے ممنون ہیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا کسی جمہوری معاشرے میں عدلیہ کا کردار ایسا ہوتا ہے؟ جمہوری نظام میں عدلیہ ریاست کے بنیادی ستونوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔ اس کا مقصد قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا، شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا اور ریاستی اداروں کو آئین اور قانون کی حدود کے اندر رکھنا ہوتا ہے۔ ایک جج سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سیاسی، سماجی اور انتظامی دباؤ سے بالاتر ہو کر صرف قانون، انصاف اور آئین کی روشنی میں فیصلے کرے۔ عدلیہ کی آزادی اسی لیے جمہوری معاشروں کی بنیادی شرط سمجھی جاتی ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ کا کردار ہمیشہ متنازع رہا ہے۔ بارہا ایسا ہوا کہ عدالتوں نے مارشل لا، آئین کی معطلی اور غیر جمہوری اقدامات کو ’’ریاستی ضرورت‘‘ اور ’’قومی سلامتی‘‘ کے نام پر قانونی جواز فراہم کیا۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان میں بھی عدلیہ اور پارلیمنٹ دونوں کو ریاستی پالیسیوں کے معاون اداروں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
(3)
جب ہم ریاست کا ذکر کرتے ہیں تو اس سے مراد صرف عسکری اسٹیبلشمنٹ نہیں ہوتی، بلکہ وہ تمام ادارے بھی شامل ہوتے ہیں جو آئینی حدود اور اپنی قانونی ذمہ داریوں سے ہٹ کر طاقت کے غیر جوابدہ ڈھانچے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ پارلیمنٹ، جس کا بنیادی فرض شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہے، سیاسی انجینئرنگ اور غیر نمائندہ انتخابی عمل کے نتیجے میں عوامی نمائندگی کے بجائے ریاستی اداروں کی ترجمان بنتی چلی گئی ہے۔بلوچستان اسمبلی کی موجودہ ساخت اس بحران کی ایک مثال ہے، جہاں عوامی نمائندوں کے بجائے ایسے عناصر موجود ہیں جو عوامی مفادات سے زیادہ اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کے محافظ دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کے عوام کی جان، مال اور وقار کے تحفظ میں یہ ادارے مسلسل ناکام رہے ہیں۔ بلوچ قومی رہنما خیر بخش مری نے بھی اسمبلی کا حصہ بننے کے بعد اسے غیر مؤثر قرار دیا تھا، کیونکہ ان کے نزدیک یہ ادارہ قومی حقوق کے تحفظ کے بجائے طاقتور حلقوں کی پالیسیوں کو قانونی شکل دینے کا ذریعہ بن چکا تھا۔اسی طرح بیوروکریسی بھی ان پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ یوں طاقت، قانون اور انتظامیہ کا ایک ایسا ڈھانچہ وجود میں آتا ہے جو انصاف کے بجائے جبر کو دوام بخشتا ہے۔
جیل کے اندر ہمارا یہ احتجاج صرف ہماری ذات یا ہماری رہائی کے لیے نہیں، بلکہ بلوچستان کے عوام کے بنیادی حقوق کے دفاع کے لیے ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنان اپنے خلاف قائم تمام مقدمات اور مسلسل جبر کے باوجود اپنے سیاسی مؤقف سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے۔ ہم اپنے قومی اور انسانی حقوق کے لیے ہر جمہوری اور سیاسی راستہ اختیار کرتے رہیں گے۔
ہم ہر اس قانون، پالیسی اور عدالتی عمل پر سوال اٹھائیں گے جو بلوچ عوام کے خلاف ناانصافی اور جبر کو قانونی جواز فراہم کرتا ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی پر عوام کے اعتماد کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ اس نے بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، ریاستی اداروں کی نااہلی اور جانبداری کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا ہے۔
آج ہمارا فیس لیس ٹرائل بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی بیانیے اور زمینی حقائق کے درمیان کتنا بڑا تضاد موجود ہے۔ ہمارے مقدمات کو روزانہ کی بنیاد پر چلانے اور غیر معمولی رفتار سے آگے بڑھانے کا مقصد بظاہر انصاف کی فراہمی نہیں بلکہ ہمیں سزا کی طرف دھکیلنا محسوس ہوتا ہے۔
لیکن تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ قید، جبر اور تشدد کبھی بھی مظلوم کے سوال کو ختم نہیں کر سکتے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنان نے عدالت کو صرف اپنے دفاع کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ اسے ایک سیاسی پلیٹ فارم میں تبدیل کیا ہے۔ جو سوال ہم جلسوں، احتجاجوں اور عوامی اجتماعات میں اٹھاتے تھے، آج وہی سوال ہم عدالت کے اندر اٹھا رہے ہیں۔
ہمارے مقدمات کی غیر منصفانہ کارروائیاں صرف ہماری ذات کے خلاف نہیں بلکہ پورے عدالتی نظام کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہیں۔ اگر انصاف واقعی موجود ہے تو اسے کھلے اور شفاف طریقے سے سامنے آنا چاہیے۔ اور اگر انصاف سے انکار کیا جاتا ہے تو یہی انکار عوام کے سامنے اس نظام کی اصل حقیقت کو آشکار کر دے گا۔
یہ دھرنا، یہ قید، اور یہ مزاحمت ہماری سیاسی جدوجہد کا تسلسل ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حق اور انصاف کی جدوجہد کبھی عدالتوں، جیلوں یا طاقت کے مراکز میں ختم نہیں ہوتی؛ بلکہ وہ ہر اس دل میں زندہ رہتی ہے جو ظلم کے سامنے سر جھکانے سے انکار کرتا ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
20 جون 2026
ہدہ جیل کوئٹہ
میں کشمیری عوام کے پُرامن مظاہرین پر ہونے والے ریاستی تشدد کی شدید مذمت کرتی ہوں اور ان کی اپنے حقوق، وقار اور انصاف کے لیے جاری جدوجہد کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہوں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) پر عائد کی گئی پابندی محض ایک تنظیم پر پابندی نہیں، بلکہ یہ اظہارِ رائے، سیاسی آزادی اور پاکستان میں آباد محکوم قوموں کے بنیادی حقوق کی جدوجہد کے خلاف ریاست کے مسلسل جابرانہ رویّے کی عکاسی کرتی ہے۔ جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے کا جواب پابندیوں، گرفتاریوں اور تشدد سے نہیں بلکہ مکالمے، انصاف اور سیاسی عمل کے ذریعے دیا جاتا ہے۔ افسوس کہ پاکستان میں عوامی تحریکوں اور جمہوری مطالبات کا جواب اکثر طاقت، جبر اور قدغنوں کی صورت میں دیا گیا ہے۔
آج اس قید خانے کی خاموشی میں میرا دل سب سے پہلے کشمیر کے ان مظاہرین، زخمیوں، سوگوار خاندانوں اور انصاف کا مطالبہ کرنے والے عوام کے ساتھ دھڑکتا ہے جو اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلے اور جنہیں جبر، تشدد اور طاقت کا سامنا کرنا پڑا۔ بلوچستان سے کشمیر تک فاصلے ہزاروں کلومیٹر کے سہی، مگر دکھ ایک جیسے ہیں، زخم ایک جیسے ہیں اور انصاف کی خواہش بھی ایک جیسی ہے۔ میں کشمیری عوام کی استقامت، حوصلے اور جدوجہد کو سلام پیش کرتی ہوں۔
جیل کی یہ دیواریں بلند ضرور ہیں، مگر اتنی بلند نہیں کہ وہ قوموں کے دکھ، ماؤں کی آہیں اور انصاف کی پکار کو اپنے اندر قید کر سکیں۔ سلاخوں کے پیچھے بیٹھ کر بھی میں بلوچستان، پختونخواہ، سندھ، گلگت بلتستان اور کشمیر سے اٹھنے والی ان آوازوں کو سن سکتی ہوں جو اپنے بنیادی حقوق، عزت، شناخت اور انصاف کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
ریاستی جبر کا ایک پرانا طریقۂ کار ہے۔ پہلے عوام کی آواز کو نظر انداز کیا جاتا ہے، پھر اسے بدنام کیا جاتا ہے، اس کے بعد اس پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، اور آخرکار طاقت کے ذریعے اسے خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بلوچستان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی پُرامن تحریک کو جس ریاستی جبر کا سامنا ہے، وہ اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ یہاں محکوم قوموں کی سیاسی جدوجہد کو بارہا طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی ہے۔ آج کشمیر میں رونما ہونے والے واقعات بھی اسی جابرانہ سوچ اور پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔
طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ پابندیاں، گرفتاریاں اور تشدد قوموں کی یادداشت کو مٹا سکتے ہیں۔ لیکن ظلم کبھی استحکام پیدا نہیں کرتا۔ ظلم صرف زخم پیدا کرتا ہے، اور زخم ایک دن سوال بن جاتے ہیں۔ جب یہی سوال پورے معاشرے کے سوال بن جائیں تو پھر کوئی دیوار، کوئی جیل اور کوئی پابندی ان کا راستہ نہیں روک سکتی۔
بلوچستان میں جب مائیں اپنے جبری لاپتہ پیاروں کی تصاویر اٹھائے سڑکوں پر نکلیں تو انہیں خاموش کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کے بیٹوں اور بیٹیوں کو، جن کی گمشدگیوں کے بارے میں وہ انصاف مانگ رہی تھیں، دہشت گرد قرار دے کر ان کے درد کو مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی۔ پختونخواہ میں جب عوام نے اپنے حقوق کی بات کی تو ان کی آواز کو دبانے اور بدنام کرنے کی کوشش ہوئی۔ آج کشمیر میں بھی عوامی مطالبات کا جواب طاقت سے دیا جا رہا ہے۔ مگر تاریخ کا سبق یہی ہے کہ ظلم وقتی طور پر خوف پیدا کر سکتا ہے، خاموشی نہیں۔
عوام جب اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں تو انہیں دشمن سمجھ لیا جاتا ہے۔ سیاسی مطالبات کا جواب مکالمے کے بجائے طاقت سے دیا جاتا ہے۔ احتجاج کو جرم اور مزاحمت کو دہشت گردی قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ سچائی کو قید کیا جا سکتا ہے، اسے شکست نہیں دی جا سکتی۔
میں ان تمام خاندانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتی ہوں جنہوں نے اپنے پیارے کھوئے، جو خوف اور غیر یقینی کی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں، یا جو انصاف کے انتظار میں دروازوں پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔ چاہے وہ بلوچستان کی مائیں ہوں، پختونخواہ کے خاندان ہوں، سندھ اور گلگت بلتستان کے کارکن ہوں یا کشمیر کے مظاہرین، ان کا درد ایک دوسرے سے مختلف نہیں۔
ہماری جدوجہد نفرت کے لیے نہیں بلکہ انصاف، انسانی وقار، برابری اور قومی حقوق کے لیے ہے۔ ہم اس دن کا خواب دیکھتے ہیں جب کسی ماں کو اپنے لاپتہ بیٹے کی تصویر اٹھا کر سڑکوں پر نہ نکلنا پڑے، جب کسی طالب علم کو اپنے سیاسی نظریات کی قیمت آزادی سے محرومی کی صورت میں نہ چکانی پڑے، جب کسی انسان کو اپنی شناخت اور اپنے حقوق کے مطالبے کی پاداش میں قتل، قید یا لاپتہ نہ کیا جائے، اور جب عوامی مطالبات کا جواب گولی، پابندی اور جبر نہیں بلکہ انصاف، مکالمہ اور جمہوری عمل ہو۔
اگر سچ بولنا جرم ہے تو تاریخ کے ہر باوقار انسان نے یہ جرم کیا ہے۔ اور اگر انصاف کا مطالبہ بغاوت ہے تو یہ بغاوت انسان کے ضمیر سے جنم لیتی ہے، کسی سازش سے نہیں۔
بعض ریاستی نمائندے اور بلوچستان اسمبلی کے چند اراکین کی جانب سے میرے، میرے ساتھیوں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے خلاف لگائے گئے حالیہ الزامات نہ صرف بے بنیاد ہیں بلکہ بلوچستان میں پرامن سیاسی جدوجہد کو بدنام کرنے کی ایک واضح اور منظم کوشش کا حصہ ہیں۔ یہ الزامات ایسی فضا پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں جہاں سیاسی اختلاف کو جرم اور انسانی حقوق کے مطالبے کو ریاست دشمنی قرار دیا جائے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک عوامی، غیر مسلح اور پرامن پلیٹ فارم ہے جو قیام سے اب تک بلوچ عوام کے بنیادی حقوق، انصاف اور انسانی وقار کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہے۔ ہمارے مطالبات واضح ہیں: جبری گمشدگیاں ختم ہوں، ماورائے قانون گرفتاریوں کا خاتمہ ہو، اظہارِ رائے کی آزادی یقینی ہو، بلوچستان کے وسائل پر بلوچ عوام کے حق کو تسلیم کیا جائے ،اور بلوچستان کے عوام کو ان کے آئینی اور تاریخی حقوق دیے جائیں۔
بدقسمتی سے ریاستی عناصر ان مطالبات کا جواب دینے کے بجائے جھوٹے الزامات، کردار کشی اور پروپیگنڈے کے ذریعے عوامی تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ الزامات نہ صرف میرے اور میرے ساتھیوں کی ساکھ کو متاثر کرنے کے لیے ہیں بلکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پرامن جدوجہد کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔گزشتہ ایک سال سے بلوچ یکجہتی کمیٹی مرکزی رہنماؤں ڈاکٹر صبیحہ بلوچ ، سمی بلوچ، لالا وہاب اور دیگر ورکران نے انتہائی مشکل حالات میں بھی تنظیم زمہداریوں کو پورا کیا ، بی وائی سی بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کے پامالیوں کے زمہ دارانہ رپورٹنگ کر رہی ہے ،بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچ عوام کے نمائندہ تنظیم ہے ، عوامی تحریک کو بزور طاقت کچلنے سے بلوچستان کے عوام کو یہ پیغام دیا گیا ہے اس ریاست میں پر امن جدوجہد کیلئے کوئی جگہ نہیں ، جنگی منافع خوروں کیلئے بلوچ قوم کے زندگیوں کی کوئی قیمت نہیں ۔
یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ بلوچ سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والوں کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے، جبکہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کے لیے کوئی قابلِ اعتماد شواہد موجود نہیں ہیں۔بلوچستان میں مسلح تنظیموں کے کاروائی کے بعد ریاستی ادارے اپنے نہ اہلی کو چھپانے کے ناکام کوشش میں بی وائی سی کے خلاف ایک نیا جھوٹا پروپیگنڈہ تیار کرتے ہے، اور پھر بلوچ عوام کے وسائل کا استعمال کر کے اس پروپیگنڈے کو پرنٹ اور سوشل میڈیا میں شائع کیا جاتی ہے ، ہم سوال کرتے ہے کہ کیا اس پروپیگنڈے سے آپ بلوچ قوم کے دلوں میں محفوظ ریاستی جبر کے داستانوں کو مٹا سکتے ہے ؟ کیا آپ جبراً پریس کانفرنس کروا کر بلوچ ماں کے دل سے اس کے بیٹے کے وجود کو ختم کر سکتے ہے ؟ بلوچستان میں ریاستی جبر بلوچ قومی شناخت کے جدوجہد میں کے سب سے بڑا catalyst ثابت ہوا ہے یہ تحریک جسے آپ بزور طاقت اور اپنے hard State کے زریعے کچھلنا چاہتے ہے، یہ بلوچ قوم کے خلوص ، قربانی اور اپنے وطن سے بے پناہ محبت کے احساس اور ہمارے شہیدوں کے قربانی کی وجہ سے یہاں تک پہنچا ہے ، ہم اپنے شہیدوں کے قربانی اور اپنے باوقار قوم کے طویل مسافت کو کبھی ضائع نہیں ہونے دینگے ، یہ اس سفر کے شروعات ہے جس کا خواب ہمارے شہیدوں نے دیکھا تھا ، کہ کبھی بلوچ علاقے ، قبیلے، زبان کے تفریق سے بالاتر ہوکر اپنے وسیع تر قومی مفادات کیلئے متحد ہونگے اور جو عوامی سیلاب آپ نی راجی مچی اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں دیکھا تھا ، وہی بلوچ قوم کے اجتماعی قومی شعور ہے ،بلوچ عوام آج بھی بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سیاسی موقف کے بھر پور ہمایت کرتی ہے ، جس کی وجہ سے ریاست کی جانب سے ہر وقت ایک نیا پروپیگنڈہ اور نیا بیانیہ بنانے کے کوشش کی جاتی ہے ، مگر ان تمام حربوں کے باوجود بلوچ عوام کے پرامن جدوجہد کو دبایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی بلوچ دانشور اور سیاسی کارکن اپنی بنیادی حقوق کے جدوجہد سے پیچھے ہٹیں گے۔
میں انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں اور انصاف پسند حلقوں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس منظم بیانیے کے پیچھے موجود حقائق کو بغور دیکھیں اور بلوچستان کی زمینی صورتحال کا آزادانہ جائزہ لیں۔ بلوچ سیاسی کارکنوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور BYC کی پرامن جدوجہد کو جھوٹے الزامات اور پروپیگنڈے سے بدنام کرنے کی کسی بھی کوشش کو ہم قبول نہیں کریں گے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قلم، علم اور پرامن سیاسی جدوجہد کو دبانے کی کوشش کی گئی، حقیقت اور مزاحمت مزید مضبوط ہوئی۔ میں ایک بار پھر واضح کرتی ہوں کہ یہ الزامات ہمیں نہیں روک سکتے کیونکہ ہماری قومی مزاحمت ہی ہماری زندگی کا مقصد بن چکا ہے اور بلوچ عوام کے حقوق اور انسانی وقار کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
ہدہ جیل کوئٹہ
3 جون 2026
پروفیسر غمخوار حیات کی قربانی بلوچ قوم کے شعور، زبان اور ثقافت کی بقا کے لیے ایک مقدس علامت بن چکی ہے۔
پروفیسر غمخوار حیات کا نوشکی میں دن دہاڑے بہیمانہ قتل صرف ایک فرد کی جان لینے کا واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ بلوچ ادب، فکری شعور اور قومی شناخت پر براہِ راست حملہ ہے۔ ان کی ادبی جگہ، “راسکوه ادبی دیوان”، جو شاعری، مکالمے اور علمی گفتگو کا مرکز تھی، مسمار کی گئی، انہیں ہراساں کیا گیا، اور ان کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کر کے سبی منتقل کیا گیا، تاکہ ان کی علمی آواز کو خاموش کیا جا سکے۔ آخرکار ریاستی حمایت یافتہ قاتلانہ دستوں (جو ڈیتھ سکواڈ کے نام سے جانے جاتے ہے) نے انہیں شہید کر دیا۔
یہ قتل بلوچستان میں جاری ایک وسیع اور منظم حکمت عملی کا حصہ ہے جسے علمی و فکری نسل کشی کہتے ہیں۔ طاقتور ادارے اور قبضہ مافیا اس وقت سب سے زیادہ خوفزدہ ہوتے ہیں جب پرامن استاد، شاعر اور دانشور نوجوان نسل کو قومی شعور، مادری زبان اور تاریخی حقیقت کی تعلیم دیتے ہیں۔ ایسے افراد نہ صرف موجودہ جبر کے لیے خطرہ ہوتے ہیں بلکہ وہ ایک روشن فکری مزاحمت کی بنیاد بھی رکھتے ہیں۔
بلوچستان میں جاری یہ منظم علمی نسل کشی محض جسمانی قتل تک محدود نہیں۔ اس کا مقصد بلوچ زبان، ادب، تاریخ اور ثقافتی ورثے کو جڑ سے اکھاڑنا اور قوم کو فکری طور پر مفلوج کرنا ہے۔ ریاستی مشینری اور پروکسی ملیشیاؤں کے ذریعے اہل علم، شاعر اور ادیب دن دہاڑے نشانہ بنائے جاتے ہیں، تاکہ نوجوان نسل خوفزدہ ہو کر قلم و کتاب سے دور ہو جائے اور قومی و فکری مزاحمت کی کوئی بنیاد باقی نہ رہے۔
پروفیسر غمخوار حیات کے قتل سے واضح ہوتا ہے کہ بلوچ دانشور اور شاعروں کو صرف ان کے قلم اور خیالات کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ الگ الگ سانحات نہیں بلکہ بلوچستان میں علمی نسل کشی کے طویل اور منظم تسلسل کی کڑیاں ہیں، جس میں پروفیسر صبا دشتیاری، پروفیسر رزاق، استاد سر زاہد آسکانی، رفیق اومان اور عبدالرؤف سمیت کئی نامور شخصیات کو نشانہ بنایا گیا۔یہ حکمت عملی محض تشدد نہیں بلکہ ایک نفسیاتی اور فکری حربہ ہے، جس کا مقصد معاشرے کے مورال کو توڑنا اور تعلیمی اداروں کو خوف کا آماجگاہ بنانا ہے۔ بالادست قوتیں یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ خون کی بہاؤ سے نظریات نہیں مرتے بلکہ شہید دانشور کی فکر اور قلم کی سیاہی اور بھی مضبوط ہو جاتی ہے۔
پروفیسر غمخوار حیات کے قتل کی شدید مذمت کرتی ہوں ،اور اس واقعے کی شفاف، آزادانہ اور فوری تحقیقات کی جائیں۔ بلوچستان میں جاری علمی نسل کشی کے تمام پہلوؤں پر عالمی توجہ دینے کی ضرورت ہے، تاکہ دنیا اس منظم اور خوفناک مظالم سے آگاہ ہو۔ مزید برآں، ریاستی اداروں کی جانب سے فکری اور ادبی مزاحمت کو دبانے کی منظم پالیسی کا خاتمہ ضروری ہے، تاکہ بلوچ دانشور آزادانہ طور پر علم اور ادب کی خدمت کر سکیں۔
تاریخ نے واضح کر دیا ہے کہ قلم، علم اور فکری مزاحمت کو کبھی گولی یا خوف سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ پروفیسر غمخوار حیات کی قربانی بلوچ قوم کے شعور، زبان اور ثقافت کی بقا کے لیے ایک مقدس علامت بن چکی ہے، اور یہ قربانی ہر آنے والی نسل کے لیے مزاحمت، تعلیم اور قومی شناخت کے دفاع کی مثال قائم کرتی رہے گی۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
18مئی2026
ہدہ جیل کوئٹہ
The recent wave of enforced disappearances, extrajudicial killings, and forced press conferences in Balochistan is deeply alarming. The space for peaceful political expression and human rights advocacy is shrinking day by day, while those demanding justice are continuously being silenced through intimidation and fear.
Every human being has the right to raise their voice against injustice and human rights violations. But when peaceful platforms are targeted by the Pakistani state, what options are left for the people? Where should families go when the judicial system and state institutions fail to protect the oppressed, and instead remain silent over the suffering of the Baloch people?
Nizar Marri Baloch, a human rights defender and member of BYC, was forcibly disappeared, and to this day there is no information about his whereabouts.
Zeeshan Zaheer Baloch, whose father, Zaheer Ahmed, has been forcibly disappeared since April 13, 2015, grew up carrying the burden of enforced disappearance within his own family. Instead of receiving justice, Zeeshan himself was killed on June 29, 2025. His family, already shattered by years of suffering, continues to face harassment and pressure. Recently, his sister, Adeeba Baloch, was forced into a press conference to publicly distance herself from the BYC. Such actions reflect the extent to which families are being targeted and psychologically tortured.
Fozia Baloch, an active member of the BYC who has consistently stood against injustice, is also being targeted repeatedly. Her brother, writer Daad Shah, was forcibly taken by state agencies on April 21, 2026, from their home. When Fozia demanded justice and raised her voice for her brother, she and her family were dragged, detained, and later released. The message being sent is clear: even demanding basic human rights has become dangerous in Balochistan.
These new tactics of harassing the families of BYC members, disappearing peaceful activists, and killing people in broad daylight expose the harsh reality in Balochistan today. Peaceful activism is being criminalized, while those responsible continue to operate without accountability. The state itself is creating narratives to suppress dissent and silence every voice demanding justice.
We want to make it absolutely clear: BYC was peaceful, BYC is peaceful, and BYC will continue to peacefully raise its voice against oppression, enforced disappearances, and human rights violations in Balochistan.
I urge all human rights organizations and international institutions to take serious notice of the ongoing situation in Balochistan and hold Pakistan accountable for the continued targeting of peaceful activists and the ongoing human rights crisis in Balochistan.
Dr Mahrang Baloch
Hudda jail
13 May 2026
A state that claims to believe in democracy should never be frightened by peaceful political participation. But in Pakistan, the reality is the opposite. Today, even attending a peaceful public gathering as a supporter of Baloch rights is being treated as a crime.
The recent conditions attached to Aurat March Karachi clearly expose the mindset of the authorities. The issue is no longer about maintaining law and order; it is about controlling narratives and isolating every voice that speaks about Balochistan. The state wants platforms, protests, and public spaces to exist only under silence and obedience.
The constitutional rights to freedom of speech and peaceful protest in Pakistan are increasingly being reduced to mere words on paper. Instead of protecting these rights, the state has imposed restrictive conditions that make organizing protests difficult and, in many cases, impossible. This not only undermines fundamental freedoms but also reflects a broader pattern of controlling and silencing human rights voices. When individuals or groups fail to comply with these restrictive conditions, they are often subjected to arrests, harassment, surveillance, and intimidation.
For years, the Baloch people have been subjected to enforced disappearances, extrajudicial killings, arbitrary detentions, media censorship, and collective punishment. Families searching for their loved ones are harassed instead of being heard. Women demanding justice are threatened instead of protected. Students, activists, writers, and political workers are constantly profiled as enemies simply for speaking about human rights.
What is happening today against BYC is part of the same larger policy. Peaceful activism is deliberately being criminalized because the movement has exposed realities that the state wants hidden. From fabricated cases and forced press conferences to surveillance and intimidation, every tactic is being used to break the morale of activists and disconnect them from public spaces.
The decision to label organizations such as the Baloch Yakjehti Committee (BYC) and Jeay Sindh Qaumi Mahaz (JSQM) as proscribed is therefore deeply questionable. BYC is a peaceful political and human rights movement that has consistently raised its voice against enforced disappearances, human rights violations, and state repression in Balochistan through political and constitutional means. Yet, despite the absence of any transparent legal process proving BYC to be an anti-state organization, its leadership has faced imprisonment under fabricated FIRs, while activists and members have been subjected to enforced disappearances, harassment, and extrajudicial violence.
No court of law has publicly established BYC as a violent or anti-state organization. Despite this, peaceful political activism and demands for justice are increasingly being treated as threats rather than democratic rights. The attempts to ban, isolate, and criminalize Organization like BYC reflect a broader fear of organized political consciousness, public mobilization, and collective resistance among oppressed nations.
The state continues to fail in understanding one thing: movements built on the pain, memory, and resistance of people cannot be erased through notifications, restrictions, bans, or threats. Every attempt to suppress peaceful voices only strengthens public awareness about the injustices taking place in Balochistan and other marginalized regions.
The fear shown towards BYC today is itself an acknowledgment that the movement has become impossible to ignore. A peaceful movement demanding dignity, justice, constitutional rights, and an end to enforced disappearances should not threaten any democratic state. The fact that it does reveals the depth of the crisis itself.
These actions are ultimately attempts to silence political awareness, suppress dissent, and weaken the collective voice of oppressed nations. However
history repeatedly shows that when democratic spaces are systematically closed and peaceful political participation is criminalized, repression only deepens public consciousness and strengthens collective resistance.
Despite continuous repression, harassment, surveillance, and targeting of activists and their families, BYC remains committed to peaceful resistance. We will continue to speak against oppression and stand with every family searching for justice in Balochistan.
Dr Mahrang Baloch
Hudda Jail
11- May- 2026
We Thank the UN Committee Against Torture for Highlighting Ongoing Rights Violations
The UN Committee against Torture (CAT) raises concerns about the detention of Dr. Mahrang Baloch, along with former Prime Minister Imran Khan, Bushra Bibi, Idris Khattak, and Ali Wazir.
The Committee also expressed concern over the denial of medical care to detained rights activists and political figures. The UN Committee against Torture (CAT) on May 1st issued its findings on Pakistan after reviewing the States Parties in its latest session.
The Committee’s findings confirmed what we have long said: arbitrary detention, reprisals, and abuse against dissenting voices must end.
The Committee further highlighted reports of torture, enforced disappearances, and retaliation against human rights defenders, journalists, and critics of the government.
We join CAT in calling on the Government of Pakistan to end these violations, review the cases of all those detained or imprisoned on political grounds or in retaliation for their work, ensure access to adequate medical care in detention, and guarantee fair trials.
ungeneva.org/en/news-media/m…
جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور غیر قانونی ہتھکنڈوں کے خلاف ہم جیل کے اندر بھی دھرنا دیتے رہیں گے۔
آج ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی جیل کے اندر پیشی تھی، تاہم انہوں نے عدالتی کارروائی کا حصہ بننے کے بجائے جیل کے احاطے میں ہی دھرنا دیا۔ اس احتجاج کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ بی وائی سی (BYC) کے رہنماؤں کے ساتھ مقدمات میں نامزد دیگر کئی افراد جن میں میٹرک و یونیورسٹی کے طلبہ، مزدور، برسرِ روزگار افراد اور خواتین شامل ہیں بھی ان مقدمات میں نامزد ہیں۔ یہ تمام افراد گزشتہ چھ سے سات ماہ سے باقاعدگی سے عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں مسلسل ریاستی جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ایسے ہی ایک نوجوان، معراج بلوچ ولد اللہ بخش، جو بی وائی سی کی قید قیادت کے ساتھ کئی مقدمات میں نامزد تھا اور باقاعدگی سے ہر ہفتے عدالت میں پیش ہو رہا تھا، کو 12 اپریل کو کوئٹہ کے گرین پلازہ سے سی ٹی ڈی (CTD) نے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔ اس سنگین واقعے پر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبرگ شاہ، جی بیبو اور گلزادی نے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت (ATC) کے جج محمد علی مبین سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور متعلقہ اداروں کو جوابدہ ٹھہرا کر معراج بلوچ کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنائیں۔
اسی طرح دو دن قبل ایک اور شخص، غفار کیازئی ولد رسول بخش، جو انہی مقدمات میں نامزد تھا اور باقاعدگی سے عدالت میں پیش ہو رہا تھا، کو کرخسہ پکنک پوائنٹ سے ایف سی اہلکاروں نے حراست میں لے کر مبینہ طور پر لاپتہ کر دیا۔ غفار بلوچ کی عمر 50سے 60 سال کے درمیان ہے۔ وہ ایک معذور شخص ہیں، لیکن اپنی اس خستہ حالی کے باوجود ہر پیشی پر باقاعدگی سے حاضر ہوتے رہے ہیں۔
احتجاج کے دوران ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے جج محمد علی مبین کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا:
“اس وقت ان تمام مقدمات میں نامزد افراد آپ کی تحویل (Custody) میں ہیں اور یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ ان اداروں کو کٹہرے میں لائیں۔ ہم گزشتہ ایک سال سے تمام تر قانونی طریقہ کار پر من و عن عمل کر رہے ہیں یہاں تک کہ ہم نے جیل ٹرائل جیسے غیر معمولی اور کٹھن عمل کو بھی برداشت کیا ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے وکلا کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے اور ان مقدمات میں نامزد افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا جا رہا ہے۔”
انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی ملزم قانون کا احترام کرتے ہوئے باقاعدگی سے عدالت میں پیش ہو رہا ہو اور اسے پھر بھی جبری طور پر لاپتہ کر دیا جائے، تو یہ محض ایک فرد کے خلاف جبر نہیں بلکہ براہِ راست عدالت کی اتھارٹی اور قانون کی عملداری پر حملہ ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے جج سے سوال کیا کہ جب ہمارے ساتھ مقدمات میں نامزد افراد، جو باقاعدگی سے عدالت میں پیش ہو رہے ہیں، کو بھی جبری طور پر لاپتہ کیا جا سکتا ہے تو اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ کل ہمیں عدالت یا جیل کے احاطے سے لاپتہ نہیں کیا جائے گا؟
اس احتجاج کے ذریعے درج ذیل بنیادی مطالبات پیش کیے گئے ہیں:
1. معراج بلوچ اور غفار بلوچ کو فی الفور منظرِ عام پر لا کر رہا کیا جائے۔
2. مقدمات کی پیروی کرنے والے وکلا کو ہراساں کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔
#ReleaseBYCLeaders
#EndEnforcedDissapearences






















