Mera Naam, Meri Pehchaan, Meri Izzat, Mera Wajood, Mera #Pakistan | Jinnah Ka Sipahi |BBM: MShak3

London, England
Joined December 2011
So who own Flat no 12a Avenfield in Park Lane? Flagship Investment Ltd owned by Hassan Nawaz Sharif Bought 20 Jan 04
53
629
17
596
بلاول زرداری! @BBhuttoZardari ماں کی محبت اور آنسوؤں کا یہ سستا ڈرامہ بیچنے سے پہلے اپنے ہی خاندان کی تاریخی حقیقتیں بھی پڑھ لیا کریں۔ وہی بیگم نصرت بھٹو، جن کی مظلومیت پر آپ آج مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں، انہوں نے اپنی ہی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کے بارے میں واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا: “میری یہ بیٹی بہت جھوٹ بولتی ہے” "She tells a lot of lies, this daughter of mine" یہی نہیں، انہوں نے بے نظیر کی حکومت کو "آمر کے دور سے بھی زیادہ ظالم اور بے دردی" (worse than the days of the dictator) قرار دیا تھا۔ جب تمھارے گھر کے اندر کا سچ یہ تھا کہ اقتدار اور سیاست کی خاطر ماں اور بیٹی ایک دوسرے کو جھوٹا اور ظالم کہتی تھیں، تو آج عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے یہ خاندانی ٹریجڈی کا ناٹک بند کریں۔ تم مظلومیت کے وارث نہیں، بلکہ اسی کرپٹ اور ظالم نظام کے سب سے بڑے ناسور ہو جو آج فارم-47 کی کٹھ پتلی حکومت کے ساتھ مل کر اس ملک اور عوام کا خون چوس رہا ہے نارسیسسٹک اور خاندانی سیاستدانوں کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ تاریخ کے صرف ان حصوں کو چنتے ہیں (Cherry-picking) جو ان کے موجودہ سیاسی مفاد اور مظلومیت کے بیانیے میں فٹ بیٹھتے ہیں۔ بلاول نے بیگم نصرت بھٹو کی قربانی کا تذکرہ تو کیا، لیکن اس تاریخی حقیقت کو مکمل طور پر فراموش (Repression) کر دیا کہ اسی خاندان کے اندر اقتدار کی جنگ کتنی تلخ اور بے رحم تھی، جہاں ماں نے اپنی بیٹی کو "جھوٹی" اور حکومت کو "آمر سے بدتر" کہا تھا۔ جب کوئی سیاسی شخصیت پبلک سپورٹ کھو رہی ہو اور عوام میں شدید غصہ پایا جا رہا ہو (کیونکہ وہ موجودہ جابر حکومت کے اتحادی ہیں)، تو لاشعوری طور پر ان کا دفاعی نظام "مفروضہ قربانی" (Vicarious Martyrdom) کا سہارا لیتا ہے۔ بلاول اپنے ذاتی سیاسی بحران کو چھپانے کے لیے اپنی نانی (بیگم نصرت بھٹو) کے چہرے کے خون اور پرانے زخموں کو بطورِ ڈھال استعمال کر رہا ہے۔ یہ نفسیاتی طور پر ایک جذباتی استحصال (Emotional Parasitism) ہے—یعنی اپنے آباؤ اجداد کی لاشوں اور آپسی چپقلش کے تضادات کو چھپا کر پبلک کے جذبات سے کھیلنا۔ خاندانی سیاست کے علمبرداروں کے اندر شدید نوعیت کا ذہنیاور فکری تضاد (Cognitive Dissonance) پایا جاتا ہے۔ ایک طرف یہ "یونٹی اور خاندانی عظمیٰ" کا ڈھونگ رچاتے ہیں، جبکہ دوسری طرف تاریخ گواہ ہے کہ بھٹو خاندان کا اندرونی آشکار ہمیشہ اقتدار کی ہوس، باہمی الزامات (جیسا کہ نصرت بھٹو کا بے نظیر کو جھوٹا کہنا، زرداری کا بےنظیر کا قتل، اور بے نظیر کا مرتضیٰ بھٹو کا قتل) اور تخت کے لیے جنگ سے بھرا پڑا ہے۔ @BBhuttoZardari کا یہ ٹویٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے خاندانی انتشار کے تاریخی سچ سے فرار حاصل کرنے کے لیے ایک جعلی، بناوٹی اور مکارانہ "ہمدردی کا بت" تراش رہا ہے تاکہ عوام اس کی موجودہ لوٹ مار اور سیاسی غداری کو بھول جائیں washingtonpost.com/archive/p…
بلاول زرداری کا نصرت بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کے نام پر یہ مگرمچھ کے آنسو بہانا اور مظلومیت کا کارڈ کھیلنا اس سیاسی خاندان کی سب سے بڑی منافقت ہے۔ جو شخص خود آج ایک نااہل، فارم-47 کی کٹھ پتلی اور فسطائی ریاست کی گود میں بیٹھ کر خیبر پختونخوا اور پورے ملک کے عوام پر ہونے والے ریاستی ظلم اور دہشت گردی میں برابر کا شریک ہو، اسے اپنے خاندانی ماضی کی تلیفوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اس “بے غیرت” کو ڈوب مرنا چاہیے۔ جب یہ شاہی خاندان مظلومیت کا ڈھول پیٹتا ہے تو یہ کوئی نہیں بتاتا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے مرنے کے بعد ان کے لاڈلے بیٹوں مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو نے ملک میں خون خرابے اور دہشت گردی کے لیے "الذوالفقار" (Al-Zulfikar Organisation - AZO) نامی ایک خونی اور دہشت گرد تنظیم کی بنیاد رکھی تھی۔ یہ وہی دہشت گرد تنظیم تھی جس نے پاکستان میں طیارہ اغوا کیا، معصوم شہریوں اور فوجیوں کو نشانہ بنایا، اور ملک میں بزدلانہ کارروائیاں کیں۔ اور ان کا دوسرا لاڈلا شہزادہ شاہنواز بھٹو کوئی سیاسی شہید نہیں تھا، بلکہ فرانسیسی انٹیلی جنس اور سفارتی دستاویزات (جیسے جمشید مارکر کے انکشافات) کے مطابق وہ فرانس میں منشیات کی خطرناک اوورڈوز (Drug Overdose) کی وجہ سے ہلاک ہوا تھا! ان عیاش اور دہشت گرد کرداروں کو "جمہوریت کے ہیرو" بنا کر بیچنا اس قوم کے ساتھ سب سے بڑا مذاق ہے۔ سندھ آج جو ایک کھنڈر بن چکا ہے، جہاں بچے بھوک اور پیاس سے مر رہے ہیں، جہاں کچے کے ڈاکوؤں اور وڈیروں کا راج ہے، وہ اسی Zardari-Bhutto کارٹیل کی لوٹ مار کا نتیجہ ہے۔ سویس بینکوں کے وہ کالے اکاؤنٹس جن میں لوٹا ہوا پیسہ چھپایا گیا، بینینزیر کے نام پر کروڑوں کے ہیروں کے ہاروں (Necklaces) کے اسکینڈلز، فرانس اور لندن میں خریدی گئی سُرّے پیلس (Surrey Palace) کی عیاشیاں، اور آصف علی زرداری، جو "مسٹر 10 پرسنٹ" سے ترقی کر کے "مسٹر 100 پرسنٹ" بن گئے، اور جنہوں نے کراچی میں بلاول ہاؤس کے اردگرد اربوں روپے کی قیمتی زمینوں پر غاصبانہ قبضے کیے کیا یہ سب بھٹو صاحب کی "جمہوریت" تھی یا اس خاندانی مافیا کی لوٹ مار؟ بے غیرت
12
17
460
بلاول زرداری کا بار بار یہ "مظلومیت کا کارڈ" کھیلنا اور اپنے آباؤ اجداد کی لاشوں یا جیلوں کو سیاست کے لیے استعمال کرنا ایک گہری نفسیاتی بیماری کا نتیجہ ہے جسے سائنس میں "Victimhood Narcissism" (مظلومیت پر مبنی نرگسیت) اور "Pathological Grandiose Martyrdom" کہا جاتا ہے۔ جب کسی سیاسی وارث کے پاس اپنی کوئی کارکردگی, کوئی اقتصادی ترقی، یا عوام کی فلاح کا ایک بھی کام دکھانے کے لیے نہ ہو (جیسے سندھ کی تباہی)، تو اس کا لاشعور اسے دفاعی پوزیشن پر لے جاتا ہے۔ ایسے لوگ اپنی ذاتی نااہلی اور کرپشن کو چھپانے کے لیے خاندانی المیوں (Family Tragedies) کو ایک ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں تاکہ کوئی ان سے ان کی موجودہ چوری کا حساب نہ مانگ سکے۔ بلاول اندر سے جانتا ہے کہ وہ خود اس نظام کا حصہ ہے جو آج پاکستان کے آئین اور عوام کو روند رہا ہے۔ وہ فارم-47 کی غاصب حکومت کا اتحادی ہے۔ اس اندرونی کگنیٹو ڈسیسونس (Cognitive Dissonance - ذہنی تضاد) سے بچنے کے لیے اس کا دماغ اسے یہ فریب دیتا ہے کہ "چونکہ میرے خاندان پر ظلم ہوا تھا، اس لیے مجھے ہر قسم کے ظلم اور کرپشن کا لائسنس حاصل ہے"۔ یہ مظلوم بن کر دراصل وہ خود ظالم کا سب سے بڑا ساتھی بن چکا ہے۔ اس قسم کا تضاد جب پیدا ہوتا ہے، تو اپنا بیانیہ اپنے اقدامات کا جواز فراہم کرنے کے لیے Rationalization (عذر تراشی) کا سہارا لیتا ہے، مثلاً "ملک کو بچانے کے لیے"، “قومی سلامتی کے لیے” "جمہوریت کی تسلسل کے لیے"، یا "بڑے شر سے بچنے کے لیے"۔ یہ نفسیاتی طور پر ایک جذباتی پرجیوی (Emotional Parasite) کی طرح عمل کرتا ہے جو زندہ انسانوں کی توقعات اور درد پر جینے کے بجائے اپنی ہی فیملی کی پرانی لاشوں اور ماضی کے دکھوں کی بھیک مانگ کر عوام کے جذبات کو سگنیچر بلیک میلنگ (Signature Black Mailing) کے ذریعے یرغمال بناتا ہے۔ جب بھی حکومت کی نااہلی یا کرپشن بے نقاب ہوتی ہے، یہ ایک جذباتی پوسٹ پھینک کر پبلک کی ہمدردی سمیٹنے کی گھٹیا نفسیاتی چال چلتا ہے۔ بے غیرت
مادرِ جمہوریت بیگم نصرت بھٹو کی برسی پر قذافی اسٹیڈیم میں ان کے لہولہان چہرے کی تصویر آنکھوں کے سامنے ہے، میرے لیے اس تصویر کو دیکھنا کبھی آسان نہیں رہا۔ میرے لئے یہ تصور بھی کبھی آسان نہیں رہا کہ بیگم نصرت بھٹو راولپنڈی جیل کی سلاخوں کے پیچھے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو الوداع کہہ رہی تھیں اور جب عدالتی قتل کے بعد قائدعوام سپردِ خاک ہوئے تو ان کی شریک حیات کو تدفین میں شرکت کی اجازت تک نہیں ملی، اسی غم کے ساتھ انہوں نے بکھری ہوئی پارٹی کو سنبھالا اور آمریت کے خلاف تحریکِ بحالیٔ جمہوریت کو ایک بڑی تحریک بنادیا، انہوں نے بیٹی اور بیٹوں کی جدائی بھی سہی اور پھر بھی عام آدمی کے دکھ بانٹتی رہیں۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو جب حوصلے کی مثال دینا ہوتی تو وہ اپنی والدہ کا ذکر کرتی تھیں، آج بیگم نصرت بھٹو کو یاد کرتے ہوئے محسوس کررہا ہوں کہ جس ماں کی ہمت پر مجھے ناز ہے، اس کی ہمت کے پیچھے بھی ایک ماں تھی۔
2
7
164
بلاول زرداری کا نصرت بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کے نام پر یہ مگرمچھ کے آنسو بہانا اور مظلومیت کا کارڈ کھیلنا اس سیاسی خاندان کی سب سے بڑی منافقت ہے۔ جو شخص خود آج ایک نااہل، فارم-47 کی کٹھ پتلی اور فسطائی ریاست کی گود میں بیٹھ کر خیبر پختونخوا اور پورے ملک کے عوام پر ہونے والے ریاستی ظلم اور دہشت گردی میں برابر کا شریک ہو، اسے اپنے خاندانی ماضی کی تلیفوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اس “بے غیرت” کو ڈوب مرنا چاہیے۔ جب یہ شاہی خاندان مظلومیت کا ڈھول پیٹتا ہے تو یہ کوئی نہیں بتاتا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے مرنے کے بعد ان کے لاڈلے بیٹوں مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو نے ملک میں خون خرابے اور دہشت گردی کے لیے "الذوالفقار" (Al-Zulfikar Organisation - AZO) نامی ایک خونی اور دہشت گرد تنظیم کی بنیاد رکھی تھی۔ یہ وہی دہشت گرد تنظیم تھی جس نے پاکستان میں طیارہ اغوا کیا، معصوم شہریوں اور فوجیوں کو نشانہ بنایا، اور ملک میں بزدلانہ کارروائیاں کیں۔ اور ان کا دوسرا لاڈلا شہزادہ شاہنواز بھٹو کوئی سیاسی شہید نہیں تھا، بلکہ فرانسیسی انٹیلی جنس اور سفارتی دستاویزات (جیسے جمشید مارکر کے انکشافات) کے مطابق وہ فرانس میں منشیات کی خطرناک اوورڈوز (Drug Overdose) کی وجہ سے ہلاک ہوا تھا! ان عیاش اور دہشت گرد کرداروں کو "جمہوریت کے ہیرو" بنا کر بیچنا اس قوم کے ساتھ سب سے بڑا مذاق ہے۔ سندھ آج جو ایک کھنڈر بن چکا ہے، جہاں بچے بھوک اور پیاس سے مر رہے ہیں، جہاں کچے کے ڈاکوؤں اور وڈیروں کا راج ہے، وہ اسی Zardari-Bhutto کارٹیل کی لوٹ مار کا نتیجہ ہے۔ سویس بینکوں کے وہ کالے اکاؤنٹس جن میں لوٹا ہوا پیسہ چھپایا گیا، بینینزیر کے نام پر کروڑوں کے ہیروں کے ہاروں (Necklaces) کے اسکینڈلز، فرانس اور لندن میں خریدی گئی سُرّے پیلس (Surrey Palace) کی عیاشیاں، اور آصف علی زرداری، جو "مسٹر 10 پرسنٹ" سے ترقی کر کے "مسٹر 100 پرسنٹ" بن گئے، اور جنہوں نے کراچی میں بلاول ہاؤس کے اردگرد اربوں روپے کی قیمتی زمینوں پر غاصبانہ قبضے کیے کیا یہ سب بھٹو صاحب کی "جمہوریت" تھی یا اس خاندانی مافیا کی لوٹ مار؟ بے غیرت
مادرِ جمہوریت بیگم نصرت بھٹو کی برسی پر قذافی اسٹیڈیم میں ان کے لہولہان چہرے کی تصویر آنکھوں کے سامنے ہے، میرے لیے اس تصویر کو دیکھنا کبھی آسان نہیں رہا۔ میرے لئے یہ تصور بھی کبھی آسان نہیں رہا کہ بیگم نصرت بھٹو راولپنڈی جیل کی سلاخوں کے پیچھے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو الوداع کہہ رہی تھیں اور جب عدالتی قتل کے بعد قائدعوام سپردِ خاک ہوئے تو ان کی شریک حیات کو تدفین میں شرکت کی اجازت تک نہیں ملی، اسی غم کے ساتھ انہوں نے بکھری ہوئی پارٹی کو سنبھالا اور آمریت کے خلاف تحریکِ بحالیٔ جمہوریت کو ایک بڑی تحریک بنادیا، انہوں نے بیٹی اور بیٹوں کی جدائی بھی سہی اور پھر بھی عام آدمی کے دکھ بانٹتی رہیں۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو جب حوصلے کی مثال دینا ہوتی تو وہ اپنی والدہ کا ذکر کرتی تھیں، آج بیگم نصرت بھٹو کو یاد کرتے ہوئے محسوس کررہا ہوں کہ جس ماں کی ہمت پر مجھے ناز ہے، اس کی ہمت کے پیچھے بھی ایک ماں تھی۔
8
1
13
629
نصرت جاوید @javeednusrat کی صحافتی قحبہ گری اور "نفسیاتی دہشت گردی" کا بھیانک چہرہ ہے۔ جو شخص اپنے قلم کو طاقت کے ایوانوں، غاصبوں اور فسطائیت کے قدموں میں بیچ چکا ہو، اس سے حیا، غیرت اور حق گوئی کی توقع رکھنا صحافت کی توہین ہے۔ خود اپنے قلم کی آزادی اغوا کرنے والوں کے حوالے کرچکا ہے ("ادارەی بقا کے لیے مجبور ہوں")، اور اب وہ قاری کو بھی یہی درس دے رہا ہے کہ وہ بھی اپنے قاتلوں اور غاصبوں سے محبت کرنا سیکھ لے۔ یہ کلاسک اسٹاک ہوم سنڈروم (Stockholm Syndrome) کی تشہیر ہے۔ بزدلی اور غلامی کو "دانشمندی" اور "حقیقت پسندانہ رویہ" کا نام دے کر معاشرے کی اخلاقیات کو مسخ کرنا۔ یعنی جس قلم کو حق کی ڈھال بننا تھا، اسے اس نے پیٹ کی آگر اور بوٹ پالشی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ یہ زرد صحافت کا وہ گند ہے جو قوم کو یہ سمجھانے پر تلا ہے کہ جبر کے سامنے سر جھکا دینا ہی "دانشمندی" ہے۔ @javeednusrat کے حالیہ کالم محض سیاسی تجزیے نہیں بلکہ قوم کو بزدلی، غلامی اور مصلحت پسندی کے اندھیروں میں دھکیلنے کی ایک باقاعدہ "نفسیاتی دہشت گردی" (Psychological Terrorism) ہیں۔ یہ زرد صحافی اپنے کالموں میں کبھی 1993ء کا رونا روتا ہے تو کبھی 1999ء کی مثالیں دے کر پاکستانی عوام کو یہ زہر پلانے کی ناپاک کوشش کرتا ہے کہ "مزاحمت بے سود ہے، غاصبوں کے آگے جھک جاؤ، اور اپنے آئینی و جمہوری حق کو بھول کر 100 دن کی بحالی کی بھیگ مانگ لو!" 1993ء اور 1999ء کی مثالیں دے کر عوام کو طعنے دیتا ہے کہ "سہیل آفریدی کی اسلام آباد آمد کاوشِ کارِ بے سود ثابت ہوگی" تاکہ لوگ اپنے آئینی حق کے لیے نکلنا چھوڑ دیں۔ یہ شخص تجزیہ نگاری کا برقع اوڑھ کر حقیقت میں "سیکھی ہوئی بے بسی" (Learned Helplessness) کی وبا پھیلا رہا ہے نفسیات میں اسے Learned Helplessness کہتے ہیں، یعنی قاری کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی جائے کہ "تم چاہ کر بھی کچھ نہیں بدل سکتے، اس لیے مزاحمت چھوڑ دو اور ظلم کو قبول کر لو"۔ تاکہ پاکستان کی غیرت مند عوام اور تحریک انصاف کے کارکنان اپنے رب کی دی ہوئی عزت اور آئینی حق کے لیے کھڑے ہونے کے بجائے غلامی کا طوق گلے میں ڈال لیں۔ ایک طرف عوام کا مینڈیٹ چھینا جا رہا ہے، اور دوسری طرف مصنف اس ظلم کو جمہوریت کی "ارتقائی غلطی" کہہ کر مظلوم کو ہی قصوروار ٹھہراتا ہے۔ یہ کلاسک گیس لائٹنگ ہے جس کا مقصد شکار کو یہ یقین دلانا ہے کہ اس کی اپنی نااہلی کی وجہ سے اس کے ساتھ یہ سب ہو رہا ہے۔ کے پی اسمبلی کی معطلی پر لکھتا ہے کہ ارکان "سہیل آفریدی @SohailAfridiISF کے بجائے کسی اور 'ذمہ دار' کو منتخب کرنے پر متفق ہو جائیں..." تاکہ 90 دن بعد اسمبلی بحال ہو سکے، یعنی کھلم کھلا @ImranKhanPTI عمران خان سے غداری اور اسٹیبلشمنٹ کی دلالی کی ترغیب دے رہا ہے! بار بار یہ فقرہ دہرانا کہ "تمہارے اپنے ساتھی ہی تمہیں بیچنے کی تیاری کر رہے ہیں"، پارٹی کے اندر گہرا عدم اعتماد اور شک پیدا کرتا ہے۔ مقصد صرف صفِ اول اور کارکنوں کے درمیان باہمی اعتماد کو تباہ کرنا تاکہ اندرونی پھوٹ سے تحریک خود بخود دم توڑ جائے۔ @javeednusrat جیسے بے غیرت، کوفی صفت اور مصلحت پسند قلم کار یہ بھول چکے ہیں کہ لا إله إلا الله کا نعرہ لگانے والا سچا مسلمان اور مومن کبھی کسی فرعون، یزید یا وقت کے جابر کے آگے سر نہیں جھکاتا! قرآن و سنت کا واضح پیغام ہے کہ ظلم کے سامنے تسلیم ہو جانا اور باطل کو قبول کرنا منافقت کی نشانی ہے، مومن کی صفت نہیں۔ قرآن مجید مومن کو بزدلی، خوف اور جبر کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے روکتا اور نڈر ہو کر حق پر ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ نصرت جیسے زرد صحافیوں کے یہ مضامین اور تحریریں دراصل قوم کو ظالم اور غاصب نظام کی بندگی پر مجبور کرنے کا ایک گہرا ملٹری-میڈیا برین واشنگ ڈرامہ ہیں۔ لیکن جو لوگ لا إله إلا الله پر سچا ایمان رکھتے ہیں، وہ ان سطور کے درمیان چھپی ہوئی غداری، کوفی فکر اور منافقت کو لمحوں میں پہچان لیتے ہیں۔ إله إلا الله پر ایمان رکھنے والا مومن کبھی وقت کے فرعونوں کے آگے سر نہیں جھکاتا! باطل کے سامنے گھٹنے ٹیکنا اور مصلحت پسندی اپنانا منافقوں کا کام ہے۔
4
33
3
95
3,738
سلمان اکرم راجہ صاحب، آپ کا یہ کہنا اپنی جگہ درست ہے کہ کسی سازشی بیانیے پر اندھا اعتماد نہیں کرنا چاہیے، لیکن ہمیں "سطور کے درمیان" (Read between the lines) چھپی ہوئی اس بھیانک حقیقت کو بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ محض افواہیں نہیں بلکہ باقاعدہ ایک منظم سازش ہے! جب خیبر پختونخوا کے 4 کروڑ عوام کا مینڈیٹ سلب کیا جا رہا ہو، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو غیر آئینی طریقے سے ہٹایا جا رہا ہو، اور پارٹی کے اندر بیٹھے ہوئے یہی "سانپ اور سنپولے" فسطائی ریاست اور بوٹ نواز مافیا کے ساتھ مل کر اندر خانے ڈیلیں کر رہے ہوں، تو صرف دعاؤں اور صبر سے کام نہیں چلے گا۔ اصلی اور کھری بات یہ ہے کہ پارٹی کے اندر موجود یہی غدار اور بکاؤ عناصر غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھ کی کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں، جو عمران خان @ImranKhanPTI کی پیٹھ میں چھرا گھونپ رہے ہیں۔ اگر وقت پر ان چہروں کو بے نقاب کر کے پارٹی کی صفوں کو صاف نہ کیا گیا، تو یہ اندرونی دلال تحریک کو اندر سے کھوکھلا کر دیں گے۔ اب مصلحت اور نرمی کا وقت نہیں، ان سازشی چہروں کا احتساب ناگزیر ہے
پی ٹی آئی کے اندرونی اتفاق پر اسوقت غیر جمہوری فیصلہ سازوں کا حملہ ہے۔ بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے 68 ارکان ایک گروپ کے طور پر عمران خان صاحب اور پارٹی کی پولیٹیکل کمیٹی کی اجازت کے بغیر صوبائی صدر اور آئندہ وزیر اعلی کے امیدوار کا اعلان کرنے والے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اسی گروپ نے آخری دنوں میں وزیر اعلی سہیل آفریدی اور انکی ٹیم سے رابطہ منقطع کر کے سرکاری جبر، ایمرجنسی اور گورنر راج کی راہ ہموار کی۔ کسی سازشی بیانیے پر یقین نہ کیا جائے جب تک تحقیقات مکمل نہ کر لی جائیں۔ جنید اکبر صاحب خیبر پختونخواہ میں پارٹی کے بدستور صدر ہیں۔ انکا تقرر عمران خان صاحب نے خود کیا ہے۔ انکی غیر موجودگی میں صوبے کے جنرل سیکریٹری علی اصغر خان صاحب قائم مقام صدر ہیں۔ سہیل آفریدی قانون اور آئین کی رو سے آج بھی وزیر اعلی ہیں۔ وسوسہ پھیلانے والے سانپوں اور سنپولیوں کو شکست ہو گی۔ اللہ تعالی کی پناہ مانگتا ہوں انکے شر سے۔
1
12
1
21
573
سچ چھپانے اور آڈٹ رپورٹس کا جھوٹا چورن بیچنے والے اس بوٹ نواز لفافے @NasrullahMalik1 کی منافقت کا مکمل پوسٹ مارٹم۔ ایک تو یہ بے غیرت ہیں دوسرا پڑھے لکھے نہیں اور کوشش بھی نہیں کرتے۔ 😂 1. جن آڈٹ پاراز کو یہ کرپشن بنا کر بیچ رہا ہے، ان میں 75 کروڑ کا سب سے بڑا نادہندہ "کوہاٹ سیمنٹ" (Kohat Cement) ہے، کوہاٹ سیمنٹ کا مائننگ لائسنس 1986ء (جنرل ضیاء کے دور) میں جاری ہوا تھا! (ا) کوہاٹ سیمنٹ لمیٹڈ (KCCL) - سب سے بڑا واحد نادہندہ (75.04 کروڑ روپے)  لیز کا عنوان اور اجرا کی تاریخ: MDW/KT/ML-Limestone (17)/1986  اجرا کی تاریخ: 1986ء (جنرل ضیاء الحق / جونیجو دورِ حکومت، پی ٹی آئی کے خیبر پختونخوا میں اقتدار میں آنے سے 27 سال پہلے)  ملکیت اور انتظام: اے این ایس کیپٹل (پرائیویٹ) لمیٹڈ (اے این ایس شیخ فیملی، لاہور) کی ملکیت اور کنٹرول میں ہے۔ چیئرمین: اعزاز منصور شیخ سی ای او: ندیم عطا شیخ کارپوریٹ اور ملٹری بینکاری تعلقات: سرکاری مالیاتی دستاویزات میں درج بنیادی بینکاری اور کریڈٹ سہولیات کے شرکاء میں عسکری بینک لمیٹڈ (فوجی فاؤنڈیشن / آرمی ویلفیئر ٹرسٹ) شامل ہے۔ (ب) میسرز لکی سیمنٹ فیکٹری (M/S Lucky Cement Factory)  لیز کا عنوان اور اجرا کی تاریخ: MDW/BU/ML-Limestone (47)/1993  اجرا کی تاریخ: 1993ء (وفاقی مسلم لیگ ن / پیپلز پارٹی کا دورِ حکومت۔ پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے سے 20 سال پہلے ملکیت: وائی بی جی (یونس برادرز گروپ / طبہ فیملی) (پ) میسرز میٹریکون - پی ایچ اے ٹھیکیدار (M/S MATRACON - PHA Contractor)  سرکاری بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کے منصوبوں کے لیے معمولی معدنیات کی کھدائی کی ذمہ داری دی گئی۔  کلائنٹ / اتھارٹی: پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی (PHA) / وفاقی ٹھیکیداروں کے تحت نیشنل ہائی وے اور انفراسٹرکچر کے منصوبے۔  اجرا کی تاریخ اور حیثیت: 2018ء سے پہلے کی وفاقی بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی الاٹمنٹس۔ 2. مالی سال 2022–23 اور 2023–24 میں PTI کی نہیں بلکہ تمہاری لائی ہوئی غیر آئینی نگراں حکومتیں (Caretaker Regimes) اور اب گورنر کا راج مسلط کیا گیا۔ 3. غیر قانونی مائننگ پر کارروائی - آڈٹ رپورٹ کا پیرا 22.4.1 بتاتا ہے کہ یہ 1.17 ارب کی رقم PTI کے قائم کردہ "مانیٹرنگ اینڈ سرویلنس یونٹ" نے خود غیر قانونی کان کنوں پر 6,668 کارروائیاں اور 3,921 ایف آئی آرز (FIRs) درج کر کے برآمد کی! 4. سراسر جھوٹ۔ سمال ڈیمز اور شاہراہوں کا 53 کروڑ روپیہ PHA کے سرکاری ٹھیکیداروں (MATRACON) کا بقایا ہے، کوئی چوری نہیں۔ حرام کا مال کھا کر آڈٹ رپورٹوں کا آدھا سچ بیچنا بند کرو! کے پی کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ تمہاری اس بوٹ پالشی اور جھوٹ کا اصل مقصد خیبر پختونخوا کے ٹریلینز ڈالرز کے معدنی ذخائر پر غاصبانہ قبضہ اور غیر قانونی گورنر راج کو جواز فراہم کرنا ہے
1
12
1
15
497
ایک ہائی پروفائل، کثیر الجہتی نیٹو (NATO) طرز کے دفاعی معاہدے پر دستخط کرنا اس غیر آئینی اور ملٹری کی قائم کردہ کٹھ پتلی حکومت ("فارم 47 حکومت") کو بین الاقوامی سفارتی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ریاست کو ایک مستقل، سہ فریقی حکمتِ عملی کے بلاک (سعودی عرب–ترکی–پاکستان) میں جکڑ کر، یہ رجیم بیرونِ ملک تو یہ تاثر دیتی ہے کہ ملک مستحکم ہے، جبکہ اندرونِ ملک جمہوری حقوق کو بے دردی سے کچلا جا رہا ہے۔ آرٹیکل 5 کی شق "ہر قسم کی دہشت گردی کا خاتمہ" اور آرٹیکل 4 کی "اہم مفادات کی مشترکہ تشخیص" مل کر ایک ایسا قانونی چور راستہ بناتی ہیں جس کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ رجیم خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیاسی مزاحمت، صوبائی خودمختاری کی تحریکوں، اور قومی وسائل پر قبضے کے خلاف اٹھنے والے عوامی احتجاج کو اکثر "قومی سلامتی کے لیے خطرہ" قرار دیتی ہے۔ اس فریم ورک کو ہتھیار بنا کر بین الاقوامی سیکیورٹی کے معاہدو اور بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف آئین کی آڑ میں اندرونی فوجی پیش قدمی، گورنر راج، اور کے پی کے نایاب زمینی عناصر (REEs/سونا/تانبا) اور بلوچستان کے ریکوڈک جیسے وسائل کی لوٹ مار کو قانونی جواز فراہم کیا جا سکتا ہے۔ آرٹیکل 7 اور آرٹیکل 10 دفاعی صنعتی پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور لاجسٹک سپلائی چینز پر زور دیتے ہیں۔ پاکستان میں دفاعی صنعت کا شعبہ مکمل طور پر ملٹری کارپوریٹ اداروں (FWO, NLC, ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا, اور پاکستان آرڈیننس فیکٹریز) کے کنٹرول میں ہے۔ عوامی خزانے یا مقامی معیشت کو فائدہ پہنچانے کے بجائے، اس معاہدے کے تحت آنے والے اربوں ڈالرز کے جوائنٹ وینچرز، سپلائی کنٹریکٹس اور ٹیکنالوجی کے معاہدو کو صوبائی نگرانی اور پارلیمانی احتساب کو بائی پاس کرتے ہوئے براہِ راست عسکری اداروں اور SIFC جیسے فریم ورکس میں منتقل کر دیا جائے گا۔ آرٹیکل 2 اور آرٹیکل 10 قانونی طور پر پاکستان کی مسلح افواج کو غیر ملکی سرزمین کا غیر معینہ مدت کے لیے (10 سالہ لازمی پابندی کے ساتھ) دفاع کرنے پر پابند کرتے ہیں۔ جہاں حکمران طبقہ خلیجی اور ترکی اتحادیوں سے سیاسی رعایتیں، مالیاتی بیلاؤٹ اور ادارہ جاتی کک بیکس حاصل کر رہا ہے، وہاں کے پی، پنجاب اور بلوچستان کے غریب اور محنت کش خاندانوں کے وہ عام پاکستانی سپاہی ہوں گے جنہیں مشرقِ وسطیٰ اور علاقائی جنگوں میں "تھوپ کا چارہ" (Cannon Fodder) بنا کر جھونکا جائے گا۔ مگر فکر نہیں کریں کسی جنرل کا بیٹا جا کر نہیں لڑے گا۔ فرنٹ لائن پر صرف عام عوام کے بچے ہی مرے نگے۔ آرٹیکل 16 پاکستان کو کسی بھی حقیقی عوامی یا پارلیمانی مینڈیٹ کے بغیر 10 سالہ پابند عسکری معاہدے میں جکڑ دیتا ہے۔ عوامی مینڈیٹ سے محروم ایک غیر قانونی حکومت نے آنے والی منتخب پارلیمانوں کے ہاتھ مؤثر طریقے سے باندھ دیے ہیں، جس سے پاکستانی عوام کا اپنی خارجہ اور دفاعی پالیسی طے کرنے کا جمہوری حق چھین لیا گیا ہے۔
2
8
16
471
فرانس، اٹلی اور سپین کے نعرے مارنے والی اس عسکری کٹھ پتلی اور فارم 47 کے بوٹ پالشیے، جن ملکوں کی تم مثالیں دے رہی ہو، وہاں سڑکوں پر نکلنے والے شہریوں پر تمہارے آقاؤں کی طرح براہِ راست گولی، شیلنگ، اور بکتر بند گاڑیاں نہیں چڑھائی جاتیں! جبری گمشدگیاں نہیں کی جاتی۔ وہاں کے قاضی دلالت نہیں کرتے۔ تمھاری طرح حرام نہیں کھاتے۔ وہاں کے نوجوانوں کو اپنے بنیادی آئینی حقوق مانگنے پر گمنام ڈبے اٹھا کر غائب نہیں کرتے، نہ ہی ان کے گھروں کی چادر اور چار دیواری کو پامال کیا جاتا ہے۔ تم جیسے "پالتو صحافی" اور کوفی صفت لٹیرے جو سالوں سے فسطائیت کے بوٹ چاٹ کر اپنے لیے مراعات سمیٹ رہے ہیں، اب مظلوم قوم پر طنز کر رہے ہیں؟ بے غیرت۔ پاکستان کا نوجوان ستو پی کر نہیں سو رہا، بلکہ تمہارے ان بوٹ نواز آقاؤں، محسن نقویوں، اور جعلی عدالتوں کے اس یزیدی و زیادی نظام کو ننگا کر رہا ہے۔ جب یہی خون اور عوامی غصہ سڑکوں پر امڈ کر آئے گا، تو تمہارے یہ زرد صحافت کے اڈے اور بوٹ پالش کے کارخانے تاریخ کے کوڑے دان میں دفن ہوں گے۔ شرم تم کو مگر نہیں آتی!
7
9
275
کوفہ کے قاضی شریح نے بھی ابنِ زیاد کے خوف اور مراعات کی خاطر ظالم کے حق میں فیصلہ دے کر تاریخ میں ابدی ذلت کمائی تھی! آج پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس ارشد علی اور جسٹس فرح جمشید نے بھی 4 کروڑ عوام کے منقطع و مغوی چیف ایگزیکٹو (وزیر اعلیٰ کے پی@SohailAfridiISF ) اور اسپیکر کے پی اسمبلی کے خلاف آئین اور اپنے حلف کی دھجیاں اڑا کر 10 دن کی لمبی تاریخ دے کر عملاً ثابت کر دیا کہ وہ انصاف کے پاسبان نہیں بلکہ فطرتِ کوفہ کا جدید روپ ہیں۔ جس وقت عوام کے منتخب نمائندے اپنے لوگوں کے حقوق اور معدنی وسائل کی چوکیداری کی پاداش میں جبری حراست اور حبسِ بے جا میں ہیں، وہاں عدل کے ایوانوں کا یوں غاصبوں اور یزیدی نظام کی سہولت کاری کرنا بدترین جرم ہے۔ تمہاری یہ 10 دن کی تاریخ انصاف کا قتل اور آئین سے غداری ہے Justice Farah Jamshed Justice Arshad Ali Justice Ijaz Anwar Justice Muhammad Faheem Wali
تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے، اور جب کوئی قوم حق و سچ کا ساتھ دینے کا دعویٰ کر کے خوف، لالچ، اور ذاتی مفادات کے تحت مصلحت پسندی اختیار کر لے، تو اس کا انجام کوفہ جیسا ہی ہوتا ہے۔ آج پاکستان کی موجودہ صورتِ حال کا اگر کربلا کے تاریخی پس منظر سے موازنہ کیا جائے، تو طاقت کے مظاہر، اداروں کی بیوفائی، اور عوام کی خاموشی کے خدوخال حیرت انگیز طور پر کوفہ کے اس دور سے جا ملتے ہیں۔ یزید کا اقتدار عوامی مینڈیٹ کے بجائے جبر، ناانصافی، اور طاقت کے بے جا استعمال پر قائم تھا۔ بالکل اسی طرح، آج کے غیر آئینی اور فسطائی نظام کی باگ ڈور اور اصلی طاقت جس کے پاس ہے، وہ آئین اور عوامی رائے کو پامال کر کے اپنے اقتدار کی طوالت اور وسائل پر قبضے کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔ یزید نے کوفہ کے لوگوں پر خوف، تشدد اور خوفناک سنسرشپ مسلط کرنے کے لیے عبیداللہ بن زیاد جیسے بے رحم اور ظالم شخص کو گورنر بنا کر بھیجا تھا۔ ابنِ زیاد نے کوفہ میں مخبری کا نظام قائم کیا، پرامن لوگوں کو قتل کروایا، اور ڈرا دھمکا کر نظام کو مفلوج کیا۔آج کے دور میں محسن نقوی کا کردار بالکل اسی ابنِ زیاد کا پرتو ہے، جس نے ریاستی دہشت گردی کی آڑ میں نہتے، پرامن اور اپنے حقوق کا تقاضا کرنے والے شہریوں، احتجاجیوں اور سیاسی کارکنان پر درندوں کی طرح تشدد کروایا، لاٹھیاں برسائیں، اور گولیاں چلوائیں۔ کوفہ کسی ایک نظریہ یا ایک قوم کا شہر نہیں تھا، بلکہ مختلف قبائل، مفاد پرستوں، اور ابن الوقت طبقوں کا مجموعہ تھا، جہاں ہر شخص اپنی نسل، قبیلے اور ذاتی مفاد کے لیے سوچتا تھا۔ کوئی ایک اجتماعی مقصد یا غیرتِ قومی نہیں تھی۔ آج کے پاکستان میں یہی "کوفی قبائل" ہمیں درج ذیل شکلوں میں نظر آتے ہیں: کوفہ کے قاضی شریح کی طرح، جنہوں نے حاکمِ وقت کے ڈر اور لالچ میں آ کر حق کے خلاف اور ظلم کے حق میں فتویٰ دیا اور خاموشی اختیار کی۔ آج کے جج بھی آئین، قانون اور انصاف کی بالادستی پر دستخط کرنے کے بجائے فسطائیت کے سامنے گھٹنے ٹیک چکے ہیں۔ کوفہ کے ان باشعور لوگوں کی طرح جو گھروں میں بیٹھ کر خط تو لکھتے تھے مگر جب میدان میں حق کے لیے کھڑے ہونے کا وقت آیا تو خاموش تماشائی بن گئے۔ آج وہی کوفہ مزاج ٹویٹ کرتے ہیں، بلکل میری طرح۔ ابنِ زیاد کے وہ لٹھ بردار اور فوج جس نے چند درہموں اور نوکری کی بقا کی خاطر اپنے ہی بھائیوں پر تیر اور تلواریں چلائیں۔ آج کی پولیس بھی چند روپے کی تنخواہ اور عہدوں کے لیے اپنے ہی نہتے شہریوں کا خون بہا رہی ہے۔ کوفہ کے لوگوں کا سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ وہ سوشل میڈیا یا خطوط کی حد تک تو بڑے جذباتی اور نعرے باز تھے ("ہمارے دل آپ کے ساتھ ہیں، عمران ہماری ریڈ لائین ہے۔ وغیرہ وغیرہ")، لیکن جیسے ہی ابنِ زیاد کا کوڑا، تلوار اور لالچ سامنے آیا، ان کی تلواریں اور قدم ڈگمگا گئے ("لیکن ہماری تلواریں آپ کے خلاف ہیں")۔ آج کی قوم کا حال بھی وہی ہے: لوگ پرائیویٹ گفتگو اور سوشل میڈیا پر تو انقلاب کی باتیں کرتے ہیں، لیکن جب سڑکوں پر نکل کر آئین، آزادی اور اپنے وسائل کے تحفظ کی بات آتی ہے، تو خوف اور مصلحت کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ تھوڑے سے خوف یا نوکری، چند ٹکے، پلاٹ، مراعات اور عہدوں کے لالچ میں آ کر سچائی کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ کوفہ صرف ایک شہر کا نام نہیں تھا، بلکہ ایک سوچ اور رویے کا نام تھا۔ ایک ایسا رویہ جہاں ظلم کو دیکھا جائے، باطل کو پہچانا جائے، لیکن خوف اور لالچ کی وجہ سے خاموشی اختیار کر لی جائے۔ اگر آج بھی وکلاء، جج، صحافی طوائفیں، پولیس، اور سول سوسائٹی اس یزیدی و زیادی نظام کے سامنے خاموش رہے اور اپنے ہی نہتے لوگوں کا سودا ہوتے دیکھتے رہے، تو تاریخ کا فیصلہ ان کے لیے بھی وہی ہوگا جو قومِ کوفہ کے لیے ہوا تھا: ابد تک کی رسوائی، پچھتاوا اور ذلت مگر توابین جیسی تحریک چلانے سے پہلے ہی اجتماعی خود خوشیاں کر کے مر چکے ہونگے۔ کوفہ کی قوم کو آج کوفہ مزاج بنے 1171 دن ہو گئے ہیں۔ قوم کوفہ سے گزارش ہے کہ اس پیغام کو مت پھلایئں۔
9
8
319
آج مزاج کوفہ میں ہم کو 1172 دن ہو گئے ہیں۔ سوچ کوفہ اس تحریر کو پڑھنے سے گریز کریں۔ اور اس کو نہ پھیلائیں۔ تاریخ کا یہ المیہ آج کے دور میں بالکل ویسے ہی دہرایا جا رہا ہے جیسے کوفہ کے لوگ حسین ابنِ علی رضی اللہ عنہ کو خطوط لکھ کر بلاتے تھے، لیکن جب آزمائش کا وقت آیا تو خوف، مصلحت اور ذاتی مفادات کی وجہ سے میدانِ جنگ میں اکیلا چھوڑ گئے اور ابنِ زیاد کے جبر کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ کوفہ والوں نے امام حسین کو ہزاروں خطوط لکھے کہ آپ آئیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں، لیکن جب یزید اور ابنِ زیاد کا دباؤ آیا تو وہی لوگ گھروں میں بیٹھ گئے یا ظالم کے خوف سے تلواریں سونت لیں۔ پی ٹی آئی @PTIofficial کے وہ ایم این ایز، ایم پی ایز اور کور کمیٹی کے اراکین جو سوشل میڈیا پر تو بڑے بڑے انقلابی دعوے کرتے تھے، لیکن جب خیبر پختونخوا @SohailAfridiISF کا مینڈیٹ چھینا گیا، گورنر راج نافذ ہوا اور سڑکوں پر نکلنے کا وقت آیا، تو وہ غائب ہو گئے۔ پنجاب کا کوئی بھی نمائندہ صوابی یا احتجاجی میدان میں نظر نہیں آیا، بلکہ وہ صرف اندرونِ خانہ سمجھوتوں، سرنڈر اور "ان ہاؤس چینج" کی بھیک مانگتے رہے۔ حرام پور سے لے کر گنڈا پور تک، یہ چلاک لومڑیاں اپنے آپ کو کوفہ کے لوگوں سے بھی زیادہ چلاک سمجھتے ہیں۔ مشکل وقت میں کوفہ کے سرداروں اور قبیلوں کے عمائدین نے اپنی جان اور مال بچانے کے لیے ابنِ زیاد کے سامنے سر تسلیم خم کر لیا اور حق کا ساتھ چھوڑ دیا۔ کور کمیٹی کے اجلاسوں میں 90 فیصد لوگ مزاحمت کی بات کرنے کے بجائے خوف پھیلا رہے ہیں۔ وہ یہ بحث کر رہے ہیں کہ سڑکوں پر لوگ نہیں نکلتے، لہذا حکومت سے بات چیت کی جائے، منت ترلے کیے جائیں، اور اسپیکر ایاز صادق یا دیگر حکومتی کارندوں کے پاس جا کر تصویریں بنوائی جائیں۔ ان کا مقصد صرف اپنے عہدے اور مراعات بچانا ہے۔ اپنے ہی حامیوں اور سفیر (مسلم بن عقیل) کو تنہا چھوڑ دینا اور وقت آنے پر غداری کرنا کوفہ کی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ آج کے رہنما، جن سب نے @ImranKhanPTI کے نام ہر ووٹ لیا، مشکل کی اس گھڑی میں جب عمران خان قیدِ تنہائی میں ہیں، ان کی بہنیں آواز اٹھا رہی ہیں، اور کے پی کے عوام کا حق غصب کیا جا رہا ہے، تو یہ نام نہاد رہنما عمران خان کی حقیقی مزاحمتی آواز کو دبانے اور اپنے ہی ساتھیوں (جیسے سہیل آفریدی @SohailAfridiISF یا دیگر غیور @MuradSaeedPTI کارکنان) کو غدار ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ پنجاب کے ہزاروں عہدے داروں اور ایم این ایز/ایم پی ایز نے عملاً ثابت کر دیا کہ ان کے لیے ذاتی کرسیاں اور مراعات عزیز ہیں، قوم کا درد نہیں۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ نظام اپنے بوجھ اور فسطائیت سے خود گرتا ہے؛ یہ غدار اور خوف کے پجاری عناصر چاہے جتنے جال بچھا لیں، غیور عوام اور بیدار نوجوان اس ظالم نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے۔ آئینِ جوانمردی اور بے باکی غلامی میں ضمیر کا بدل جانا خودی اور عزتِ نفس کی پکار @salmanAraja @BarristerGohar @JunaidAkbarMNA @AsadQaiserPTI
تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے، اور جب کوئی قوم حق و سچ کا ساتھ دینے کا دعویٰ کر کے خوف، لالچ، اور ذاتی مفادات کے تحت مصلحت پسندی اختیار کر لے، تو اس کا انجام کوفہ جیسا ہی ہوتا ہے۔ آج پاکستان کی موجودہ صورتِ حال کا اگر کربلا کے تاریخی پس منظر سے موازنہ کیا جائے، تو طاقت کے مظاہر، اداروں کی بیوفائی، اور عوام کی خاموشی کے خدوخال حیرت انگیز طور پر کوفہ کے اس دور سے جا ملتے ہیں۔ یزید کا اقتدار عوامی مینڈیٹ کے بجائے جبر، ناانصافی، اور طاقت کے بے جا استعمال پر قائم تھا۔ بالکل اسی طرح، آج کے غیر آئینی اور فسطائی نظام کی باگ ڈور اور اصلی طاقت جس کے پاس ہے، وہ آئین اور عوامی رائے کو پامال کر کے اپنے اقتدار کی طوالت اور وسائل پر قبضے کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔ یزید نے کوفہ کے لوگوں پر خوف، تشدد اور خوفناک سنسرشپ مسلط کرنے کے لیے عبیداللہ بن زیاد جیسے بے رحم اور ظالم شخص کو گورنر بنا کر بھیجا تھا۔ ابنِ زیاد نے کوفہ میں مخبری کا نظام قائم کیا، پرامن لوگوں کو قتل کروایا، اور ڈرا دھمکا کر نظام کو مفلوج کیا۔آج کے دور میں محسن نقوی کا کردار بالکل اسی ابنِ زیاد کا پرتو ہے، جس نے ریاستی دہشت گردی کی آڑ میں نہتے، پرامن اور اپنے حقوق کا تقاضا کرنے والے شہریوں، احتجاجیوں اور سیاسی کارکنان پر درندوں کی طرح تشدد کروایا، لاٹھیاں برسائیں، اور گولیاں چلوائیں۔ کوفہ کسی ایک نظریہ یا ایک قوم کا شہر نہیں تھا، بلکہ مختلف قبائل، مفاد پرستوں، اور ابن الوقت طبقوں کا مجموعہ تھا، جہاں ہر شخص اپنی نسل، قبیلے اور ذاتی مفاد کے لیے سوچتا تھا۔ کوئی ایک اجتماعی مقصد یا غیرتِ قومی نہیں تھی۔ آج کے پاکستان میں یہی "کوفی قبائل" ہمیں درج ذیل شکلوں میں نظر آتے ہیں: کوفہ کے قاضی شریح کی طرح، جنہوں نے حاکمِ وقت کے ڈر اور لالچ میں آ کر حق کے خلاف اور ظلم کے حق میں فتویٰ دیا اور خاموشی اختیار کی۔ آج کے جج بھی آئین، قانون اور انصاف کی بالادستی پر دستخط کرنے کے بجائے فسطائیت کے سامنے گھٹنے ٹیک چکے ہیں۔ کوفہ کے ان باشعور لوگوں کی طرح جو گھروں میں بیٹھ کر خط تو لکھتے تھے مگر جب میدان میں حق کے لیے کھڑے ہونے کا وقت آیا تو خاموش تماشائی بن گئے۔ آج وہی کوفہ مزاج ٹویٹ کرتے ہیں، بلکل میری طرح۔ ابنِ زیاد کے وہ لٹھ بردار اور فوج جس نے چند درہموں اور نوکری کی بقا کی خاطر اپنے ہی بھائیوں پر تیر اور تلواریں چلائیں۔ آج کی پولیس بھی چند روپے کی تنخواہ اور عہدوں کے لیے اپنے ہی نہتے شہریوں کا خون بہا رہی ہے۔ کوفہ کے لوگوں کا سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ وہ سوشل میڈیا یا خطوط کی حد تک تو بڑے جذباتی اور نعرے باز تھے ("ہمارے دل آپ کے ساتھ ہیں، عمران ہماری ریڈ لائین ہے۔ وغیرہ وغیرہ")، لیکن جیسے ہی ابنِ زیاد کا کوڑا، تلوار اور لالچ سامنے آیا، ان کی تلواریں اور قدم ڈگمگا گئے ("لیکن ہماری تلواریں آپ کے خلاف ہیں")۔ آج کی قوم کا حال بھی وہی ہے: لوگ پرائیویٹ گفتگو اور سوشل میڈیا پر تو انقلاب کی باتیں کرتے ہیں، لیکن جب سڑکوں پر نکل کر آئین، آزادی اور اپنے وسائل کے تحفظ کی بات آتی ہے، تو خوف اور مصلحت کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ تھوڑے سے خوف یا نوکری، چند ٹکے، پلاٹ، مراعات اور عہدوں کے لالچ میں آ کر سچائی کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ کوفہ صرف ایک شہر کا نام نہیں تھا، بلکہ ایک سوچ اور رویے کا نام تھا۔ ایک ایسا رویہ جہاں ظلم کو دیکھا جائے، باطل کو پہچانا جائے، لیکن خوف اور لالچ کی وجہ سے خاموشی اختیار کر لی جائے۔ اگر آج بھی وکلاء، جج، صحافی طوائفیں، پولیس، اور سول سوسائٹی اس یزیدی و زیادی نظام کے سامنے خاموش رہے اور اپنے ہی نہتے لوگوں کا سودا ہوتے دیکھتے رہے، تو تاریخ کا فیصلہ ان کے لیے بھی وہی ہوگا جو قومِ کوفہ کے لیے ہوا تھا: ابد تک کی رسوائی، پچھتاوا اور ذلت مگر توابین جیسی تحریک چلانے سے پہلے ہی اجتماعی خود خوشیاں کر کے مر چکے ہونگے۔ کوفہ کی قوم کو آج کوفہ مزاج بنے 1171 دن ہو گئے ہیں۔ قوم کوفہ سے گزارش ہے کہ اس پیغام کو مت پھلایئں۔
4
3
165
تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے، اور جب کوئی قوم حق و سچ کا ساتھ دینے کا دعویٰ کر کے خوف، لالچ، اور ذاتی مفادات کے تحت مصلحت پسندی اختیار کر لے، تو اس کا انجام کوفہ جیسا ہی ہوتا ہے۔ آج پاکستان کی موجودہ صورتِ حال کا اگر کربلا کے تاریخی پس منظر سے موازنہ کیا جائے، تو طاقت کے مظاہر، اداروں کی بیوفائی، اور عوام کی خاموشی کے خدوخال حیرت انگیز طور پر کوفہ کے اس دور سے جا ملتے ہیں۔ یزید کا اقتدار عوامی مینڈیٹ کے بجائے جبر، ناانصافی، اور طاقت کے بے جا استعمال پر قائم تھا۔ بالکل اسی طرح، آج کے غیر آئینی اور فسطائی نظام کی باگ ڈور اور اصلی طاقت جس کے پاس ہے، وہ آئین اور عوامی رائے کو پامال کر کے اپنے اقتدار کی طوالت اور وسائل پر قبضے کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔ یزید نے کوفہ کے لوگوں پر خوف، تشدد اور خوفناک سنسرشپ مسلط کرنے کے لیے عبیداللہ بن زیاد جیسے بے رحم اور ظالم شخص کو گورنر بنا کر بھیجا تھا۔ ابنِ زیاد نے کوفہ میں مخبری کا نظام قائم کیا، پرامن لوگوں کو قتل کروایا، اور ڈرا دھمکا کر نظام کو مفلوج کیا۔آج کے دور میں محسن نقوی کا کردار بالکل اسی ابنِ زیاد کا پرتو ہے، جس نے ریاستی دہشت گردی کی آڑ میں نہتے، پرامن اور اپنے حقوق کا تقاضا کرنے والے شہریوں، احتجاجیوں اور سیاسی کارکنان پر درندوں کی طرح تشدد کروایا، لاٹھیاں برسائیں، اور گولیاں چلوائیں۔ کوفہ کسی ایک نظریہ یا ایک قوم کا شہر نہیں تھا، بلکہ مختلف قبائل، مفاد پرستوں، اور ابن الوقت طبقوں کا مجموعہ تھا، جہاں ہر شخص اپنی نسل، قبیلے اور ذاتی مفاد کے لیے سوچتا تھا۔ کوئی ایک اجتماعی مقصد یا غیرتِ قومی نہیں تھی۔ آج کے پاکستان میں یہی "کوفی قبائل" ہمیں درج ذیل شکلوں میں نظر آتے ہیں: کوفہ کے قاضی شریح کی طرح، جنہوں نے حاکمِ وقت کے ڈر اور لالچ میں آ کر حق کے خلاف اور ظلم کے حق میں فتویٰ دیا اور خاموشی اختیار کی۔ آج کے جج بھی آئین، قانون اور انصاف کی بالادستی پر دستخط کرنے کے بجائے فسطائیت کے سامنے گھٹنے ٹیک چکے ہیں۔ کوفہ کے ان باشعور لوگوں کی طرح جو گھروں میں بیٹھ کر خط تو لکھتے تھے مگر جب میدان میں حق کے لیے کھڑے ہونے کا وقت آیا تو خاموش تماشائی بن گئے۔ آج وہی کوفہ مزاج ٹویٹ کرتے ہیں، بلکل میری طرح۔ ابنِ زیاد کے وہ لٹھ بردار اور فوج جس نے چند درہموں اور نوکری کی بقا کی خاطر اپنے ہی بھائیوں پر تیر اور تلواریں چلائیں۔ آج کی پولیس بھی چند روپے کی تنخواہ اور عہدوں کے لیے اپنے ہی نہتے شہریوں کا خون بہا رہی ہے۔ کوفہ کے لوگوں کا سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ وہ سوشل میڈیا یا خطوط کی حد تک تو بڑے جذباتی اور نعرے باز تھے ("ہمارے دل آپ کے ساتھ ہیں، عمران ہماری ریڈ لائین ہے۔ وغیرہ وغیرہ")، لیکن جیسے ہی ابنِ زیاد کا کوڑا، تلوار اور لالچ سامنے آیا، ان کی تلواریں اور قدم ڈگمگا گئے ("لیکن ہماری تلواریں آپ کے خلاف ہیں")۔ آج کی قوم کا حال بھی وہی ہے: لوگ پرائیویٹ گفتگو اور سوشل میڈیا پر تو انقلاب کی باتیں کرتے ہیں، لیکن جب سڑکوں پر نکل کر آئین، آزادی اور اپنے وسائل کے تحفظ کی بات آتی ہے، تو خوف اور مصلحت کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ تھوڑے سے خوف یا نوکری، چند ٹکے، پلاٹ، مراعات اور عہدوں کے لالچ میں آ کر سچائی کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ کوفہ صرف ایک شہر کا نام نہیں تھا، بلکہ ایک سوچ اور رویے کا نام تھا۔ ایک ایسا رویہ جہاں ظلم کو دیکھا جائے، باطل کو پہچانا جائے، لیکن خوف اور لالچ کی وجہ سے خاموشی اختیار کر لی جائے۔ اگر آج بھی وکلاء، جج، صحافی طوائفیں، پولیس، اور سول سوسائٹی اس یزیدی و زیادی نظام کے سامنے خاموش رہے اور اپنے ہی نہتے لوگوں کا سودا ہوتے دیکھتے رہے، تو تاریخ کا فیصلہ ان کے لیے بھی وہی ہوگا جو قومِ کوفہ کے لیے ہوا تھا: ابد تک کی رسوائی، پچھتاوا اور ذلت مگر توابین جیسی تحریک چلانے سے پہلے ہی اجتماعی خود خوشیاں کر کے مر چکے ہونگے۔ کوفہ کی قوم کو آج کوفہ مزاج بنے 1171 دن ہو گئے ہیں۔ قوم کوفہ سے گزارش ہے کہ اس پیغام کو مت پھلایئں۔
🤖 Made with AI
1
6
2
12
831
فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے رپورٹ میں واضح طور پر کہا کہ کینیا کی پولیس کا "غلط فہمی میں فائرنگ" (Mistaken Identity) کا دعویٰ بالکل جھوٹا اور من گھڑت ہے۔ ارشد شریف کا قتل ایک سوچی سمجھی اور منصوبہ بند ٹارگٹڈ اسیسینیشن (Targeted Murder) کا نتیجہ تھا۔ بندوق اور زخم کی حقیقت (Close-Range Shooting): رپورٹ کے مطابق جس زاویئے اور فاصلے سے ارشد شریف کو گولی ماری گئی (کمر کے اوپری حصے سے داخل ہو کر سینے سے نکلی) وہ کسی چلتی گاڑی یا فاصلے سے کی گئی فائرنگ کا نتیجہ نہیں لگتا، بلکہ انتہائی قریب سے یا مخصوص جگہ پر روکے جانے کے بعد ماری گئی گولی کی نشاندہی کرتا ہے۔ رپورٹ کے باب نمبر 30 میں ان تمام عوامل کا تفصیل سے ذکر ہے جن کی وجہ سے ارشد شریف کو پاکستان چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ پاکستان بھر کے مختلف تھانوں (کراچی، اسلام آباد وغیرہ) میں ارشد شریف کے خلاف بیک وقت درجنوں غداری اور توہین کے مقدمات درج کروائے گئے تھے۔ فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے انکشاف کیا کہ ریاستی اداروں اور ایجنسیوں کے اہلکار پولیس اسٹیشنز میں خود بیٹھ کر ارشد شریف کے خلاف یہ پرچیاں اور مقدمات بنواتے رہے۔ 592 صفحات پر مشتمل اس پورٹل کی پوری تحقیقاتی رپورٹ میں مراد سعید، عمران خان یا پاکستان تحریکِ انصاف کا دور دور تک کوئی نام یا منفی کردار ثابت نہیں ہوتا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ارشد شریف کا یو اے ای (دبئی) کا ویزا ابھی ختم نہیں ہوا تھا، لیکن ان پر شدید سفارتی و سیکیورٹی دباؤ ڈال کر 20 اگست 2022ء کو اچانک دبئی چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ دبئی سے فوری بے دخلی کے باعث جہاں بغیر ویزا آن ارائیول (On-Arrival) سہولت میسر تھی، ارشد شریف کو مجبوری میں کینیا منتقل ہونا پڑا۔ بیان: گاڑی چلانے والے خرم اور اس کے بھائی وقار احمد کے بیانات میں شدید تضادات پائے گئے۔ انہوں نے سی سی ٹی وی (CCTV) فوٹیج اور موبائل فون ڈیٹا پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کو دینے سے صاف انکار کر دیا۔ کینین پولیس نے پاکستانی تحقیقاتی ٹیم سے اہم گواہوں (جیسے زخمی پولیس اہلکار گلیبورو) کے انٹرویو چھپائے اور شواہد ضائع کرنے کی کوشش کی۔ جولائی 2024ء میں کینیا کی کاجیادو کاؤنٹی ہائی کورٹ (Kajiado County High Court) نے تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ کینین پولیس نے ارشد شریف کو غیر قانونی اور ماورائے عدالت قتل کیا، اور کینین حکومت کو ارشد شریف کے خاندان کو 10 million KES تاوان دینے کا حکم دیا۔ ستمبر 2024ء میں اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ ارشد شریف کا قتل ایک ٹارگٹڈ اسٹیٹ انوالومنٹ کا واقعہ تھا اور مکمل شفافیت کا مطالبہ کیا۔ فارم 47 رجیم کے ٹاؤٹس کا مراد سعید کے بارے میں ارشد شریف کیس کا بیانیہ محض عوام کا دھیان ہٹانے کا ایک اور گھٹیا اور جھوٹا ڈرامہ ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کے ترجمان اور ٹاؤٹس یہ جھوٹا بیانیہ پھیلا رہے ہیں کہ مراد سعید @MuradSaeedPTI کی روپوشی کی اصل وجہ ارشد شریف @arsched قتل کیس ہے خود مسلم لیگ ن کی وزارتِ داخلہ اور وفاق کی بنائی گئی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی (2022ء) کی رپورٹ میں پی ٹی آئی یا مراد سعید پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا! بلکہ اس رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا کہ ایک طاقتور ایجنسی کے اہلکار ارشد شریف کے خلاف جعلی مقدمات درج کروانے میں ملوث تھے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر بننے والی اسپیشل جے آئی ٹی (JIT) یا کسی بھی تحقیقات میں عمران خان یا مراد سعید کے ملوث ہونے کا ایک ذرہ برابر بھی ثبوت سامنے نہیں آ سکا۔ عمران خان خود واضح کر چکے ہیں کہ مراد سعید ان کے انتہائی وفادار ساتھی ہیں اور انہی کی ہدایات پر روپوش ہیں۔ یہ تمام الزامات صرف سیاسی انتقام اور گھٹیا پروپیگنڈا ہیں۔ رجیم ہر سطح پر ناکامی کے بعد اب "مائنس عمران خان، مائنس مراد سعید، اور مائنس سہیل افریدی" @SohailAfridiISF کا ناٹک رچا رہی ہے۔ پی ٹی آئی @PTIofficial کو اندرونی طور پر توڑنے کے لیے وہی پرانا فارمولا استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو ماضی میں ایم کیو ایم (London/Pakistan) کے لیے کیا گیا تھا۔ لیکن کے پی کے عوام اور بیدار نوجوان اس سازش کو بھی ناکام بنا رہے ہیں۔
13
22
695
اسٹیبلشمنٹ کے ترجمان اور ٹاؤٹس یہ جھوٹا بیانیہ پھیلا رہے ہیں کہ مراد سعید @MuradSaeedPTI کی روپوشی کی اصل وجہ ارشد شریف @arsched قتل کیس ہے خود مسلم لیگ ن کی وزارتِ داخلہ اور وفاق کی بنائی گئی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی (2022ء) کی رپورٹ میں پی ٹی آئی یا مراد سعید پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا! بلکہ اس رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا کہ ایک طاقتور ایجنسی کے اہلکار ارشد شریف کے خلاف جعلی مقدمات درج کروانے میں ملوث تھے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر بننے والی اسپیشل جے آئی ٹی (JIT) یا کسی بھی تحقیقات میں عمران خان یا مراد سعید کے ملوث ہونے کا ایک ذرہ برابر بھی ثبوت سامنے نہیں آ سکا۔ عمران خان خود واضح کر چکے ہیں کہ مراد سعید ان کے انتہائی وفادار ساتھی ہیں اور انہی کی ہدایات پر روپوش ہیں۔ یہ تمام الزامات صرف سیاسی انتقام اور گھٹیا پروپیگنڈا ہیں۔ رجیم ہر سطح پر ناکامی کے بعد اب "مائنس عمران خان، مائنس مراد سعید، اور مائنس سہیل افریدی" @SohailAfridiISF کا ناٹک رچا رہی ہے۔ پی ٹی آئی @PTIofficial کو اندرونی طور پر توڑنے کے لیے وہی پرانا فارمولا استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو ماضی میں ایم کیو ایم (London/Pakistan) کے لیے کیا گیا تھا۔ لیکن کے پی کے عوام اور بیدار نوجوان اس سازش کو بھی ناکام بنا رہے ہیں۔
6
1
13
1,241