سیمی retweeted
اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَما صَلَّيتَ عَلٰی اِبْراھِيمَ وَعَلٰی آلِ اِبْراھِيمَ اِنَّكَ حَمِيدُ مَّجِيدُُ
اَللَّھُمَّ بَارِك عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارکتَ عَلٰی اِبراھِيمَ وَعَلٰی آلِ اِبراھيمَ اِنَّك حَمِيدُ مَّجِيدُ
دنیا کی باتوں سے لگتا ہے کہ جیسے دین زندگی سے الگ کوئی چیز ہے
حالانکہ زندگی کا اصل سکون دین پہ عمل کرنے میں ہی ہے
یہ بات بھی کتنی تکلیف دہ ہے کہ آپ کسی کے مرجھا جانے کی وجہ سے اپنی ذات کے رنگ بھی اس میں بھر دیں
اور بدلے میں وہ آپکی چمک نگل کر آپکو بے رنگ کر دے
لاہور والے کہتے ہیں کہ
ساڈا لہور اے
ملتان والے کہتے ہیں کہ
ساڈا ملتان اے
تو قصور والے کیوں نہیں کہتے ہیں کہ
ساڈا قصور اے🤔
سیمی retweeted
مولانا کارکن مروانے کے لئے نہیں ہوتے !
جی ہاں مولانا، آپ اب 74 برس کے ہونے کو آئے اب اصل سیاسی طور پر میچور بھی ہو جائیں۔ آپ نے دھمکی دی کہ ہاتھ لگا کر دکھائیں تو دیکھیں کہ ہمارا کارکن کہاں تک جاتا ہے، اس سے پہلے ابھی یہی دھمکی پی ٹی آئی نے دی تھی اس کے کتنے ہی کارکن دس دس برس کے لئے جیل میں چلے گئے اور جن کو آپ کی طرح کے زعم تھے اب ان کے پیارے بھی ان سے ملنے کو ترستے ہیں۔
مولانا! مائیں اپنے بچے علمائے دیوبند کے مدرسوں میں اس لئے نہیں دیتیں کہ آپ اپنے اقتدار کی ہوس میں اور ناجائز قبضوں کو بچانے کے لئے انہیں سیکورٹی فورسز کے سامنے پھینک دیں۔ یہ زعم سعد رضوی کو بھی تھا اور الطاف حسین کو بھی۔ اول الذکر کا ایڈریس معلوم ہو تو بتانا۔ اس طرح کی باتیں کرنے والی ماہرنگ بلوچ اور شوکت نواز میر کا ایڈریس میں بتا دیتا ہوں۔ عمران خان کی جیل اور قیدی نمبر تو آپ کو علم ہی ہے۔
مولانا آپ عمران خان سے بڑی سیاسی قوت نہیں ہیں۔ آپ کے کارکن نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے ارینج کئے ہوئے لانگ مارچ کیے ہیں سو انہیں آزمائش میں مت ڈالیں۔ آپ مدارس کے جن بچوں پر بھروسہ کر رہے ہیں کیا وہ آپ کے بیٹوں اور پوتوں کی طرح نہیں ہیں؟ کیا آپ اپنے بیٹوں کو بھی مروائیں گے؟ کارکن تو بچوں کی طرح ہوتے ہیں۔ معصوم ہوتے ہیں، بھولے ہوتے ہیں۔ بھلا کوئی اپنے بچوں کو مروانے کی دھمکی بھی دیتا ہے؟ آپ کے لہجے کا غرور ایک مومن کی شان نہیں ہے۔
مولانا! آپ نے درست کہا اب یہ ہتھکنڈے بوسیدہ ہو چکے۔ اب آپ کارکنوں کی دھمکی نہ ہی دیں تو بہتر ہے۔ آپ کو عزت راس نہیں آئی تو اس میں بچارے کارکنوں اور ان کی ماؤں کا کیا قصور ہے کہ وہ انہیں یاد کر کے روتی رہیں۔ سمجھنے کی کوشش کریں کہ اب ریاست کو آپکی افغانستان اور طالبان سے برولری کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ سودا جو آپ ضیا دور سے بیچ رہے تھے اس کی خریداری بند ہو چکی ہے۔ اس دوران جو آپ نے معلوم ذرائع آمدن کے بغیر کما لیا اسے انجوائے کریں، لوگوں کے بچے مروا کے آپ کیا کما لیں گے؟ صبر کریں نوکریاں ختم بھی ہو جاتی ہیں، بندے ریٹائر بھی ہو جاتے ہیں، اس پر اتنا غصہ کیوں؟
پہلے شہدا کی توہین اور پھر ریاست پر تھوکنا، آپ اقتدار سے دور ہو کے تبدیل نہیں ہوئے صرف بے نقاب ہوئے ہیں۔ جتنی دیر آپ اقتدار کے دسترخوان پر رہے آپ کا منہ کھانے میں مصروف رہا اور جیسے ہی دسترخوان سے ہٹے تو ۔۔۔ بہرحال اگر آپ تہتر کے آئین کے راستے پر آ جائیں گے تو خوش آمدید اور تالیاں ورنہ آپ بھی اپنے بازو آزما کے دیکھ لیں، اپنے کارکن مروا کے دیکھ لیں ۔۔ ہم آپ کو یاد کیا کریں گے کہ کبھی ایک مولانا فضل الرحمان بھی ہوا کرتے تھے عمران خان، الطاف حسین، سعد رضوی اور ماہ رنگ بلوچ کی طرح !
مخلصانہ مشورہ ہے سجدہ سہو کر لیں !!!
#Pakistan #PakistanPolitics #agitation #JUI #FazalurRehman #students #Madrasa #imran #Altaf_Hussain #NajamWaliKhan














