یہ ہڈی بوٹی پر پلنے والے اِن سے کیوں نہیں پوچھتے، جنہوں نے یہ معاہدے سائن کر کے اُن پر عمل کرنے کے بجائے ہمارے 100 سے زیادہ نوجوانوں ، بچوں کو شہید کر دیا ؟
پانچھ مہینے ہو چکے ہیں آئے روز کشمیریوں کو اغوا کرکے شہید کر رہے ہیں اور ان کی لاشیں دریاؤں میں پھینکی جا رہی ہیں ۔💔
مقبول بٹ صاحب نے کہا تھا جس دن آپ پاکستان کہ حکمرانوں کا اصل چہرہ دیکھوں گے ہندوستان کو بھول جاؤں گے اور آج حقیقت میں وہ سب کچھ ہو رہا ہے،
تو شاکر،آپ سیانا ایں
ساڈا چہرہ پڑھ،حالات نہ پچھ.
مسلط شدہ وزیراعظم افتخار گیلانی خفیہ دورۂ راولاکوٹ، کل اعلان شدہ دورہ ملتوی،اور آج خفیہ آمد🤭
برصغیر کا سب سے بڑا دھرنا جس کو 151 روز مکمل ہو گئے ہیں۔
راولکوٹ میں بدستور جاری و ساری ہے۔
#RightsMovementAJK
#VoicesFromPOJK
تھوڑی دیر بعد پاکستانی میڈیا اور ٹاؤٹ صحافیوں کی طرف سے خبر کچھ یوں آئے گی۔راولاکوٹ میں خراب موسم، شدید آندھی، بارش اور برف باری کے باعث وزیراعظم کا دورہ راولاکوٹ ملتوی ہو گیا ہے۔
کوآرڈنیٹر کشمیر کمیٹی راجہ عرفان کیانی صاحب سے مبینہ طور پر 5 کلو ہیروئن برآمد، پولیس نے گرفتار کرلیا۔
ان کا کہنا ہے میں یہ پینے کہ بعد گہرائی سے مسلہ کشمیر پر سوچتا ہوں
ایک قلم فروش صحافی،ایک جسم فروش طوائف سے زیادہ بدکردار ہوتا ہے یہ جملہ گالی نہیں یہ چیر پھاڑ ہےمنٹو نے یہ جملہ طوائف کو ذلیل کرنے نہیں صحافی کو آئینہ دکھانے لکھا تھا۔
کیونکہ وہ جانتا تھا،اس معاشرے میں طوائف سے زیادہ سچی کوئی عورت نہیں
وہ مجبوری میں بیچتی ہے، یہ لالچ میں بیچتا ہے
میں کل رات سے میراثی مسٹرپتلو کی مہندی تقریب ۔ یقین کریں اس قوم پر اللہ نے جو حکمراں مسلط کیے ہیں بلکل درست ہیں ۔ بلکہ ان سے بھی زیادہ ظالم جاہل بدتمیز حکمران ہونے چاہیے تھے جو ایسے ہجوم و بھیڑ کو روزانہ کی بنیاد پر جوتے مارتے
بھوک وہ واحد مذہب ہے جو شیعوں کی نیاز، سنیوں کا عُرس، وہابیوں کی خیرات، ہندوؤں کا پرساد اور صُوفیوں کا لنگر سب کو حلال کر دیتا ہے۔۔
وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی اور اسپیکر کا کل بروز پیر ہیلی کاپٹر کے ذریعے دورہ راولاکوٹ۔پولیس لائن میں تقریب منعقد کرکے میڈیا پر راولاکوٹ کے حالات پُرامن دکھانے کی کوشش کی جائے گی تاہم ایکشن کمیٹی سے بات چیت کا کوئی امکان نہیں۔
آزاد پتن انٹری پوائنٹ پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گی۔ پاکستانی قابض فورسز نے انٹری پوائنٹ بند کر رکھے ہوا ہے۔
وہ ایسے نقوش چھوڑ کر گئے ہیں جو کشمیر کی فضاؤں میں ہمیشہ گونجتے رہیں گے...لگائے ہوئے نعرے صرف چند الفاظ نہیں بلکہ ایک ایسی یادگار آواز ہیں جو بچے بچے کی زبان پر رہی ہے اور آنے والی نسلوں تک بھی پہنچتی رہے گی




