Pinned Tweet
کتنا بھدا جسم ہے اس کا۔ مردوں جیسی مشابہت بس چہرا گورا خوبصورت ہے ۔
پاکستانی بھی عقل سے پیدل ان کو آسمان پہ چڑھا دیتے ہیں۔
تھوڑا سا اللہ نے نوازا اور یہ ننگا ہونا شروع
پس جب ان کافروں سے تمہارے مقابلہ کی نوبت آئے تو ان کی گردنیں اڑاؤ ،
اگر اللہ چاہتا تو وہ خود ہی ان سے انتقام لے لیتا لیکن ( اس نے تم کو یہ حکم اس لئے دیا ) کہ ایک کو دوسرے سے آزمائے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ، اللہ ان کے اعمال ہرگز رائیگاں نہیں کرے گا ۔
جے ڈی وینس کا رونا اچھا لگا۔ نیتن کے دماغ کی پیروی ان کو لے ڈوبی۔
دوسری بات اس کا رونا بے وجہ نہیں۔ اگلے صدارتی الیکشن میں یہ صدر کا امیدوار ہے اور نیتن نے اس کی کشتی میں بھی روڑے ڈال دیے ہیں۔ جیتنے کے چانس 30 فیصد ہیں۔
رونا تو بنتا ہے
One of the things the data analysts on our side obsessed over was "composition"—whether the electorate looked close enough to 2024 for Republicans to win. And despite polls that showed a Democrat blowout, the data kept on telling us the same story: in some states turnout was merely OK, in other states it was downright amazing, and in no state was it catastrophic. There was a genuine sense of optimism on our team: our people were showing up.
So, I asked the smartest data guy I know, does that mean we're going to shock the world? "No," he told me. "We might do better than the polls suggest. But the data is telling us that a lot of Trump/Vance 2024 voters are pissed and planning to vote for the other guys. Our voters are turning out, but they may not vote for us."
Well, that looks prophetic now. Our voters did show up. In Florida, for example, the electorate was 9 points more Republican than Democrat, just a couple points worse than 2024. Undoubtedly there were places we could have done better on turnout. But the main problem is not turnout. The main problem is that many people who voted for Trump/Vance in 2024 voted for Democrats in 2026.
There will be a lot of infighting and arguing over what happened and why that is. One of the pollsters I really respect told me that our economic messaging wasn’t sharp enough down the stretch. I’m sure that’s true.
But the real reason we lost is obvious to almost everyone.
Another pollster—one of the smartest people I know in politics, told me yesterday we’d lose the generic ballot by 13 points. I felt negative going into Tuesday, but even I was shocked by this. In his polling, he saw that a lot of Trump 2024 voters were angry and planning to vote for Democrats. He asked those voters who had abandoned us what would cause them to come back on our team. The top four answers, accounting for nearly all of the responses were:
1) End the war
2) Focus on cost of living/inflation
3) Put America First
4) Change our relationship to Israel
Our voters showed up. And the above four reasons are why many of them voted for Democrats. This is according to a pollster who nailed the results. While many spent Monday attacking Rachel Campos Duffy for calling for a diplomatic resolution to the conflict, it turns out her political advice was sound. (She’s also a great person.)
In the next few months, there's going to be a lot of gaslighting. Expect to hear any number of establishment politicians say the solution to our woes is amnesty. I'm open to the idea that we should change enforcement—by focusing more on businesses that hire illegal labor, for instance. But anyone pushing amnesty is lying to you.
The reason we lost is the war. The president himself said so last night.
If you'd like to argue it was worth it, that losing the Senate for the next 6 years was worth it, then do so. Argue it was a worthwhile cost to pay. Agree or disagree, that's at least honest.
But everyone knows why we lost. And any honest conversation about where we go from here must start there.
I remain hopeful about our country. To the people who are pissed off and want to say, “I told you so”: you’re right, you did tell us so. Take that energy into electing Republicans who share your worldview. To the people who are just pissed at the results, you should be. Let’s take that anger and get back to the work of saving our country.
ٹرمپ ایران میں رجیم چینج جاہتا تھا۔ نیتن رجیم چینج چاہتا تھا۔ دونوں کے رجیم چینج ہو گئے۔ طاقت ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو آپ چاہیں وہی ہو۔ ہوتا وہی ہے جو کائنات کا خالق چاہتا ہے
سوفٹ ویئر جلد اپڈیٹ ہو جائے گا
مولانا نے آخرکار طبل جنگ بجا دیا۔
اس سے زیادہ واضح دھمکی نہیں دی جاسکتی جو مولانا صاحب نے آج دی ہے۔ پچھلے ہفتے بھی ٹوئٹ کیا تھاکہ وزیرداخلہ محسن نقوی نے جو سینٹ میں اپنے تئیں بہت بڑی دھمکی دی تھی وہ دھمکی کم فرینڈلی مشورہ زیادہ تھا جسے مولانا سیریس نہیں لے گا۔
دھمکی اسے کہتے ہیں جو مولانا آج دے رہے ہیں۔ لگتا ہے نیا سوئمبر تیار ہے، دنگل سج رہا ہے۔میدان بھی ہے،گھوڑا اور تلوار بھی۔
@juipakofficial @MoulanaOfficial @KamranM69045926 @AsadMahmoodJUI @MaulanaHaideri
بھائیو مولانا کی باتوں میں نہ آنا۔ انہوں نے زمین پر پاؤں مارنا ہے مولانا نے چھپ جانا ہے۔۔۔
احتیاط کریں سیریس نہ لیں
تمام دنیا نے ایک مظلوم قوم کو بھوک سے تڑپتا دیکھا کسی بھی ملک میں ان کے حق میں احتجاج کی بھی اجازت نہ دی گئی۔ وقت تو ضرور ائے گا جب ہر وہ ملک جو ان کی نسل پہ خاموش رہا یا سپورٹ کرتا رہا اسی طرح بھوک سے تڑپیں گے جیسے وہ تڑپے۔ لکھ لیں امریکہ، انگلینڈ، جرمنی
ابتدا یوکرین سے ہو چکی
بھائی آپ بکواس کر رہے ہیں۔۔۔
۔ اصل سسپنس واشنگٹن میں ہے ۔ کیونکہ وہاں بڑی غیرمعمولی ایکٹویٹیز دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ امریکی سینٹکام کے کمانڈر کل خود وائٹ ہاؤس پہنچے اور انہوں نے صدر ٹرمپ کو ایران پر حملے کیلئے مختلف آپشنز پر بریفنگ دی۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ نے ایک بار پھر اپنے اتحادیوں کو پیغام دے دیا ہے کہ تین نومبر کے الیکشن کے بعد جنگ کیلئے تیار رہیں۔
۔ اسی گرما گرمی کے دوران ایک ایسا بیان آیا ہے جس نے تصویر کا رخ بدل دیا ہے۔ انقرہ میں تعینات امریکی سفیر کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ معاہدے کے قریب ہیں، اور یہ کام دو ہفتے میں ہو سکتا ہے۔ اور اس معاہدے کیلئے انہوں نے ثالثوں میں سب سے پہلے پاکستان کا نام لیا ہے۔ یعنی ایک طرف حملے کی تیاری مکمل ہو رہی ہے، اور دوسری طرف پاکستان جنگ روکنے کی آخری کوشش کر رہا ہے۔ اور مکہ مکرمہ کا نام آنے کے بعد پاکستان کیلئے یہ معاملہ صرف سفارت کاری کا نہیں رہا۔
۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے آپشنز پر بریفنگ دی۔ اخبار کے مطابق کمانڈر خود چل کر وائٹ ہاؤس آئے، جو عام طور پر نہیں ہوتا۔ امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے کئی ملکوں کو مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کیلئے تیار رہنے کا کہا ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس پوری دنیا کو یقین دلا رہے ہیں کہ ایران کیخلاف دوبارہ جنگ چھڑی تو یہ لامحدود نہیں ہوگی ۔ صدر ٹرمپ انتہائی مختصر وقت میں اہداف حاصل کر لیں گے ۔ ایران کے ایشو سے جڑے بیشتر سفارتکار یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے ابھی حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ لیکن تیاری مکمل ہے، اور ایکشن تین نومبر کے بعد ہو گا۔ یعنی وقت بہت کم ہے، اور مقابلہ انتہائی سخت ۔۔۔
۔ اسی سچوئیشن میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہو گیا ہے ۔ اور دنیا پاکستان کے کردار کی تعریف بھی کر رہی ہے ۔ ترکی میں امریکی سفیر ٹام بیرک کو یقین ہے کہ ایران اور امریکہ معاہدے کے قریب ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان، قطر اور دوسرے اتحادی فریقین کو ایک ساتھ بٹھانے کے قریب ہیں، اور ایک دو ہفتوں میں فریم ورک کو حتمی شکل دینے کیلئے بڑے اقدامات ہو سکتے ہیں۔
۔ مگر تہران سے آنے والی آواز کچھ اور کہہ رہی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف نے ہی اعلان کیا ہے کہ مذاکرات میں پیشرفت کا واحد راستہ یہ ہے کہ ایران کی پیش کردہ سات شرطیں تسلیم کر لی جائیں ۔ ان شرطوں میں امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں اسرائیلی جنگ کا خاتمہ شامل ہیں۔
تو کیا پاکستان یہ ڈیل کروا پائے گا؟ جواب یہ ہے کہ اگر کوئی ملک یہ کام کر سکتا ہے تو وہ پاکستان ہے۔ پاکستان کی ایران سے طویل سرحد ہے اور تہران سے براہ راست رابطہ ہے۔ دوسری طرف اس کا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ ہے، اور واشنگٹن بھی اس کی ثالثی پر بھروسہ کر رہا ہے۔ قطر اور ترکی کے پاس یہ تینوں چیزیں ایک ساتھ نہیں۔ لیکن ڈیل کیلئے دونوں فریقوں کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنا پڑے گا، کیونکہ امریکہ پہلے ایٹمی پروگرام پر بات چاہتا ہے اور ایران پہلے اپنی شرطیں منوانا چاہتا ہے۔ اور مکہ کی طرف ڈرون کی خبر نے پاکستان کا کام مزید مشکل بنا دیا ہے۔
پاکستان سعودی عرب کا دفاعی اتحادی ہے، اور مکہ الائنس میں دونوں ایک ساتھ کھڑے ہیں۔ پاکستان کے عوام حرمین شریفین کے تحفظ کو اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔ اس لئے مکہ کا نام آتے ہی حکومت پر عوامی دباؤ بڑھے گا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ کھل کر کھڑی ہو۔ لیکن دوسری طرف پاکستان ثالث بھی ہے، اور ثالث کیلئے ضروری ہے کہ ایران بھی اس پر اعتماد کرے۔ یعنی پاکستان کو ایک ہی وقت میں دو محاذ سنبھالنے ہیں۔ سعودی عرب کو یقین دلانا ہے کہ وہ اس کے ساتھ ہے، اور ایران کو یقین دلانا ہے کہ وہ غیر جانبدار ہے۔اللہ حافظ۔










