پہلے بھی یہ صرف عمران خان کا نام لے کر جیت گیا ورنہ اوقات اسکی تب بھی نہیں تھی جیتنے کی
بیرسٹر گوہر آج حقیقی معنوں میں نظروں سے گر گیا
یہ بےشرم لوگ اسمبلیوں میں بیٹھے لاکھوں کی تنخواہیں بٹور رہے ہیں
یہ سب بھی حکومتی پارٹیوں کی طرح حرامخور ہیں
بس ایک ہمارے خان صاحب ان آستین کے سانپوں کو پالتے رہے، کاش خان صاحب کو کوئی پیغام پہنچا دیں کہ یہ قوم آپکو ڈیزرو نہیں کرتی
🤣😂🤣😂🤣😂
چلیں
اسکا ایک فائدہ ہوا
تمکنت باجی نے ان ڈائریکٹ اپنے شوہر کی حالت و زار بیان کر دی اور اینکیڈو بھائی نے اپنی بیوی کے موٹاپے کا رونا رو لیا
یہی بات اپنے اپنے گھروں میں اپنے اپنے پارٹنرز کو خود کہہ لیتے
🤣😂🤣
کسی کو برا لگا ہو تو معذرت
تمکنت باجی نے پیارے پیارے سے مردوں کےلیے بہت اچھی ویڈیو بنائی ہے۔ سبھی مسائل کی بھی بہت ٹھیک ٹھیک نشاندہی کی ہے۔ کہاں محدود سی کپیسٹی والے مرد کہاں لامتناہی سی عورتیں۔ ملک کے کونے کونے میں مردانہ کمزوری کے اشتہار الگ مردوں کا منہ چڑاتے ہیں۔ شادیاں بھی چھوٹی عمر کی لڑکیوں سے کرتے ہیں اور اپنی صحت کا بھی خیال نہیں رکھتے پھر تایا تایا بھی لگتے ہیں۔ بغلوں سے بدبو بھی آتی ہے اور منہ بھی بڑے دابڑے جتنا ہوجاتا ہے درست درست سب درست۔
ہمارا کام دوسری طرف کا مقدمہ بھی بیان کرنا ہے۔ تو ایک سائیڈ سے شروع کرلیتے ہیں۔ خواتین میں فرٹیلٹی عموما پینتیس کے بعد تیزی سے گرنا شروع ہوجاتی ہے۔ پنتالیس کے بعد خشکا لاحق ہوجاتا ہے اور بقول ایک دوست کے چنگاڑے نکلتے ہیں رگڑیں لگتی ہیں۔ مرد حضرات ساٹھے سترے بھی کہیں نا کہیں منہ کالا کرواتے پکڑے جاتے ہیں اپنے پرویز رشید کی ہی مثال لے لیں۔ لمبی منزلوں کے مسافروں کو بہرحال اپنی پیس برقرار رکھنا ہوتی ہے۔مردوں نے ستر سٹاپ کرنے ہیں چالیسویں سٹاپ پر ہینڈ بریک نہیں کھینچ دینی۔ اب اگر ذکر آہی گیا ہے تو یہ بھی سہی ، خواتین ایک متفقہ قرار داد منظور کرتے ہوئے یہ اعلان کردیں کہ چالیس پنتالیس گزرتے ہی وہ دوسری شادی پر سبھی اعتراضات اور ٹیبوز اپنے ہاتھ سے ختم کریں گی اور اپنے سر تاج کے سر پر ایک بار پھر سہرے بھی اپنے نازک نازک پیارے پیارے ہاتھوں سے سجائیں گی۔
وہ خواتین جو ڈرامے دیکھ دیکھ کر دیگر مردوں کی صحت و جسامت سے متاثر ہوتی ہیں انہیں چاہیے کہ وہ وقت ڈرامے دیکھنے کی بجائے کہیں چہل قدمی کرتے ہوئے ، کسی جم وغیرہ میں گزاریں ، گھر میں ایکسرسائز کریں اور ڈراموں کی بجائے یوٹیوب سے ہیلتھ ، فٹنس ، بچوں کی تعلیم ، فوڈ سائنسز اور وغیرہ وغیرہ کی تربیت لیں کیونکہ موٹاپا جتنا مردانہ مسئلہ ہے اس سے کہیں زیادہ زنانہ مسئلہ ہے۔ چھیڈکے جوان اکثر تیز دوڑتے ہیں اور گوشت پوست کا پہاڑ جس نے اپنی جگہ سے نا ہلنا نا جلنا اس کا کوئی کچھ بگاڑ بھی کیا سکتا ہے؟ یہاں بھی ایک دوست کا قول موجود ہے جو ڈی ایم سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ نیز جب خواتین کو ڈراموں کی بجائے ڈائٹ کا علم ہوگا تو وہ بہتر کھانے بنا کر اپنا اور اپنے مرد کا وزن کم رکھ سکتی ہیں۔
چلیں زرا سی دیر کو میک اپ ، نیل پالش ، مینی کیور ، پیڈی کیور کو اگنور بھی کردیں تو عام زنانہ سوٹ آٹھ دس ہزار روپے کا ہے ، شادیوں والا زنانہ سوٹ تیس چالیس ہزار سے شروع ہوتا ہے اور لاکھوں تک جاتا ہے۔ خواتین مردوں کی طرح تین ہزار کا سوٹ خریدیں پندرہ سو سلائی دیں اور گھر میں آرام سے نیچے تین سو کی مغزی اور مکیش لگائیں۔ ہزاروں کے سوٹ سے جو پیسے بچیں ان سے مہنگا سا پرفیوم خریدیں ، ٹام فورڈ یا اچھا سا سیویج چالیس پچاس ہزار کا آئے گا وہ مرد کی بغلوں میں چھ مہینے تک چھڑکیں اور خوشبوئیں لیں۔ واہ واہ ٹھنڈی خوشبودار ہوائیں۔ کچھ رہ تو نہیں گیا جی؟ ہاں جی گرتے ہوئے بال رہ گئے جی۔ دیکھیں جی قدرت کے کاموں میں نہ ہمارا دخل نہ آپ کا دخل۔ ہم چتکبری سنڈیوں جیسے پیٹ برداشت کرتے ہیں آپ تھوڑا یہ گنجا پن برداشت کریں کیا ہی فرق پڑ جاتا ہے۔
نوٹ ؛ یہ مڈل و اپر مڈل کلاس اور اس سے اوپر کے مسائل ہیں۔ پاکستان کی نصف آبادی بنیادی ضروریات زندگی کی جنگ لڑ رہی ہے۔ انکے لیے یہ ترجیحات بہت دور کی بات ہیں۔ کسی شخص کی دل آزاری ہوئی تو معذرت ، اچھی صحت ، بہتر ہائی جین اور سیلف کئیر کامیاب اور خوشگوار زندگی کی کنجیاں ہیں۔ تمکنت باجی نے شاندار جاندار اور ہمت والا کام کیا ہے۔
پتا ہے لوگ جھوٹ پکڑلیتے ہیں تو ساتھ مینشن کرتی ہےکہ جھوٹ نہیں کہہ رہی کیونکہ جانتی ہےکہ لوگ یقین نہیں کرتے
سائیکو عورت اپنے منہ سے اپنی پاپولیریٹی کے جھوٹے قصے سنا سنا خود کو تسلیاں دیتی ہیں کہ جی میں بڑی پاپولر ہوں
ہنہ
ایڈی پاپولر ہوندی تے جیت کےسی ایم بنتی،سیٹ ناچراتی،چورنی
میں نے تو اس جاہل عوام پہ اُسی دن لعنت بھیج دی تھی جب پیٹرول کی قیمت بڑھنے سے پہلے یہ موٹر سائکل کی ٹینکی بھروانے رات کے 12 بجے لائن میں لگی ہوتے تھے.
مسٹر پتلو جیسے فراڈئے اس جاہل عوام کی نفسیات کو خوب جانتے ہیں. یہ مہنگائی پہ خود کُشی کرلیں گے ساتھ اپنے بچوں کو بھی مار دیں گے. لیکن کبھی اپنے حق کے لیے نہی نکلیں گے.
ورنہ پاکستان کے قرب و جوار میں ہر جگہ عوام نے چوروں کا بھگا دیا. واحد پاکستان ہے جہاں ہر طرح کی لوٹ مار، ظلم وستم کے باوجود چوروں اور انکے ہنڈلرز کی حکومت قائم و دائم ہے
ہمارے خان صاحب کو رہا کرو بزدلو
کتنے ہی گھر ایسے ہیں جہاں خوشیاں لوٹنے کا انتظار ہے، کتنی مائیں اپنے بچوں کی واپسی کی دعائیں مانگ رہی ہیں۔ ان کے صبر کا امتحان ختم کرو، بے قصوروں کو آزادی دو۔
#بےقصور_اسیران_رہا_کرو
مسٹر پتلو کی تقریب، ن لیگی تشہیر اور غرور کا منظرنامہ!
صرف چار دن پہلے ٹک ٹاکر مسٹر پتلو بڑی رعونیت اور تکبر کے ساتھ کالے شیشوں والی بڑی عینک لگا کر گفتگو کر رہا تھا۔ ن لیگ کا سوشل میڈیا تو اسے بھرپور کوریج دے ہی رہا تھا، پاکستان کے نیشنل میڈیا تک پر اس کی تشہیر ہو رہی تھی۔
ن لیگی پتلو کو بہنوئی اور اپنا اثاثہ قرار دے رہے تھے۔ مریم نواز کے ترجمان راشد نصراللہ صاحب مسٹر پتلو کو بلا کر یوتھیوں کو جلانے کا سامان فراہم کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر عطاء تارڑ صاحب اس سے تحائف وصول کر رہے تھے۔ گویا مسٹر پتلو کے ساتھ ملاقاتیں کر کے لیگی حلقے ملک فتح کرنے اور اپنی مقبولیت کے ڈھول پیٹنے میں مصروف تھے۔
مہندی کی تقریب میں انعامات تقسیم کرنے کا آئیڈیا بھی مبینہ طور پر پنجاب حکومت کے ترجمان راشد نصراللہ صاحب کا تھا، تاکہ عوام کا ایک جم غفیر اکٹھا ہو، پھر اس اجتماع کو سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے بڑا مجمع قرار دے کر یہ بیانیہ بنایا جائے کہ پی ٹی آئی ختم ہو چکی ہے۔
حادثے سے کچھ دیر پہلے ہی ن لیگی سوشل میڈیا پر ویڈیوز اپ لوڈ کی جا رہی تھیں کہ دیکھو! مسٹر پتلو کی تقریب میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے بھی بڑا اجتماع ہے۔
پنجاب حکومت کے ترجمانوں اور لیگی سوشل میڈیا کے لیے یہ تقریب سیاسی تشہیر کا ذریعہ بن چکی تھی۔ اس پورے منظرنامے میں غرور اور سیاسی برتری کا اظہار نمایاں تھا۔
























