کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں
غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں
اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں
بے وجہ نہ جانے کیوں ضد ہے ان کو شب فرقت والوں سے
وہ رات بڑھا دینے کے لیے گیسو کو سنوارا کرتے ہیں
پونچھو نہ عرق رخساروں سے رنگینئ حسن کو بڑھنے دو
سنتے ہیں کہ شبنم کے قطرے پھولوں کو نکھارا کرتے ہیں
تاروں کی بہاروں میں بھی قمرؔ تم افسردہ سے رہتے ہو
پھولوں کو تو دیکھو کانٹوں میں ہنس ہنس کے گزارا کرتے ہیں
قمر جلالوی
#اردو
ان گنت خونی مسائل کی ہوا ایسی چلی
رنج و غم کی گرد میں لپٹا ہر اک چہرہ ملا
ساجد خیرآبادی
#قومی_زبان
اب آپ کس لئے اتنے ملول ہوتے ہیں
دیا تھا رنج تو کچھ سوچ کر دیا ہوتا
عبد الحمید عدم
#اردو_زبان
شعور نو عمر ہوں نہ مجھ کو متاع رنج و ملال دینا
کہ مجھ کو آتا نہیں غموں کو خوشی کے سانچوں میں ڈھال دینا
احتشام الحق صدیقی
#اردو_زبان
قفس سے چھٹ کے وطن کا سراغ بھی نہ ملا
وہ رنگ لالہ و گل تھا کہ باغ بھی نہ ملا
فراق گورکھپوری
#قومی_زبان
سروں کو کاٹتی پھرتی ہے سرپھری پاگل
یہ کس نے تیغ تھما دی ہوا کے ہاتھوں میں
ہاشم رضا جلالپوری
#قومی_زبان
سر خامشی یہ سجاوٹیں اسی رنگ و بو کی مثال ہیں
جو مہک ہو قبر کے پھول میں جو چمک ہو شمع مزار میں
رازی ابوذر
#اردو_زبان
غم حیات و غم دوست کی کشاکش میں
ہم ایسے لوگ تو رنج و ملال سے بھی گئے
عزیز حامد مدنی
#اردو_زبان
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے
رہے دل میں ہمارے یہ رنج و الم نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے
نامعلوم
#اردو_زبان
افسوس عمر کٹ گئی رنج و ملال میں
دیکھا نہ خواب میں بھی جو کچھ تھا خیال میں
امداد امام اثر
#اردو_زبان
اسلام علیکم !
محترم احباب #اردو_زبان
@urdu_zuban
ہمارا مقصد اردو ادب کا فروغ ہے اس ضمن میں آج کا موضوع سخن ہے
#رنج #ملال #افسوس
آپ سے التماس ہے کہ قیمتی لمحات میں کچھ وقت خدمتِ اردو کے لیے وقف فرمائیں اور بمطابق موضوع ادبی اصناف کو پیج کی زینت بنائیں.
کب قیس کے مرنے سے کوئی فرق پڑا ہے
آتے ہی رہے دشت میں پاگل متواتر
کل خواب میں دیکھے تھے دھنک رنگ فلک پر
یاد آتا ہے مجھ کو ترا آنچل متواتر
سلمان گیلانی
#قومی_زبان
میخانے کا در کیوں ہے مقفل متواتر
رہتی ہے طبیعت مری بوجھل متواتر
کرتا ہے وہ کیا تیغ کو صیقل متواتر
اک برق ہے رقصاں سر مقتل متواتر
وہ کل بھی کبھی آئے گی جس کل کو تو آئے
سنتا ہی رہوں یا تری کل کل متواتر
سلمان گیلانی
#قومی_زبان
مہتاب رخ اترا ہے کوئی اس میں یقیناً
ہے قلزم دل میں جو یہ ہلچل متواتر
سلمانؔ کو دیکھو کہ ہے مقتل میں وہ رقصاں
لب پر ہے ترا ذکر مسلسل متواتر
سلمان گیلانی
#قومی_زبان
مرے جنوں سے حریفوں کے پاؤں اکھڑتے ہوئے
میں جان دینے کے چکر میں جاں بچاتا ہوا
مرے خلاف سبھی سازشیں رچیں جس نے
وہ رو رہا ہے مری داستاں سناتا ہوا
ارشاد خان سکندر
#قومی_زبان



