Pinned Tweet
حفاظت باغ کی جب باغ کے مالی نہیں کرتے
تو پھر موسم بہاروں کے بھی ہریالی نہیں کرتے
خدا حافظ تمہارا اے دوستوں اس چور نگری میں
یہاں کے پالتو کتے بھی ، رکھوالی نہیں کرتے
™دانش_گرد retweeted
جیسے ہی عمران خان روس پہنچے بریگیڈئیر شفیق عرف گنجے شیطان نے صحافیوں کو کال کرکے عمران خان کے دورہ روس کی مذمت کرنے کا کہا ، مرزا شہزاد اکبر
کس کس تبصرہ پاڑ نے عمران خان کے دورہ روس کی مذمت کی تھی؟
™دانش_گرد retweeted
آج ہونے والے اسرائیل کے انتخابات میں اگر سابق جنرل گادی آئزن کوٹ اور اتحادی جیت جاتے ہیں ' جس کا خاصا امکان ہے' تو یہ اسرائیلی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہو گی کیونکہ جب جب آرمی سے متعلقہ لوگ اسرائیلی سربراہ بنے تو دفاعی معاملات کے مسائل سمجھنے کے باعث انہوں نے جنگوں سے بچنے کی کوشش کی
اس وقت کوئی بھی پارٹی اکیلے اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ۔ نیتن یاہو کی مقبولیت میں کرپشن کیسز اور جنگی جنون کی وجہ سے نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کی لیکوڈ پارٹی کنیسیٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) میں صرف 35/40 سیٹوں تک ہی محدود رہ سکتی ہے۔
اس کے برعکس، اسرائیلی فوج کے سابق چیف آف جنرل اسٹاف گادی آئزن کوٹ ایک بڑے سیاسی اتحاد کی قیادت کرتے ہوئے 65 سیٹوں کی واضح اکثریت حاصل کر سکتے ہیں۔
اگر سابق جنرل کا یہ دھڑا حکومت کی باگ ڈور سنبھالتا ہے، تو ان کی متوقع حکمتِ عملی میں امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج کا انتظار کرنا، ایران کے ساتھ سفارتی بات چیت کو آگے بڑھانا، اور پڑوسی عرب ممالک کے ساتھ زیادہ لچکدار اور مفاہمتی رویہ شامل ہوگا جس سے علاقے میں جاری کشیدگی میں کمی ہو گی
™دانش_گرد retweeted
تہران میں سعودی اتحاد اکٹھے ہو کر ایران کس لئے پہنچا تھا ؟ کیونکہ ایران اور سعودی عرب تو آمنے سامنے تھے
اور یہ بھی اظہر من الشمس ہے کہ سعودی اتحاد امریکی اتحادی ہے یوں بالواسطہ طور پر اسرائیل کیلئے بھی ایران کے مقابلے میں نرم گوشہ رکھتا ہے
یہ سوال اس لئے ضروری ہے کہ یہ ملاقات سعودی اتحاد میں شامل ممالک سعودیہ ' ترکی اور پاکستان کی ایران کے ساتھ اپنے ممالک کے تعلقات کیلئے کوئی انفرادی ملاقات نہیں تھی ۔ بلکہ اس کا مقصد امریکہ ' اسرائیل اور ایران جنگ میں سعودیہ کے متاثر ہونے کا معاملہ تھا ۔
سعودیہ جس کا دفاع بنیادی طور پر امریکی اتحاد سے منسلک ہے اس امریکی رضامندی کے بغیر اس ملاقات میں شامل نہیں ہو سکتا تھا ۔ بلکہ شاید تینوں ممالک میں سے کوئی امریکی رضامندی کے بغیر اس ملاقاتی ٹیبل پر بیٹھنے کی جرات نہیں رکھتا تھا
اس سے واضح ہے کہ یہ اتحاد کسی امریکی فرمائش کو پورا کرنے کیلئے وہاں پہنچا تھا جس کا جواب انہیں" نہ" میں ملا ہے . اور ایران کی نہ کا مطلب نہ ہی ہوتا ہے
™دانش_گرد retweeted
3 ایم پی او کے تحت قید میں مزید 30 دن کی توسیع ۔ یہ سلسلہ تب تک جاری رہے گا جب تک PTI کی نئی کمپرومائزڈ سیٹنگ اپنا ٹارگٹ مکمل نہیں کر لیتی ۔
یہ ثبوت ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو PTI قیادت سے نہیں صرف تین بہنوں سے خطرہ ہے ۔ جنہیں بال بچے قید کر کے بھی جھکایا نہیں جا سکا ۔
™دانش_گرد retweeted
کربلا میں جب مد مقابل لشکر کو پتا نہیں چل رہا تھا کہ امام حسین زندہ ہیں یا شہید ہو گئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ عورتوں کے خیموں کا رخ کرو، پتا چل جائے گا، اگر وہ زندہ ہوئے تو شدید زخمی ہونے کے باوجود مقابلے کے لیے سامنے آئیں گے، جب عورتوں کے خیموں کی طرف رخ کیا گیا تو زخمی امام حسین کھڑے ہوئے اور یزید کے لشکر سے کہا کہ تمہارے اندر دین نہیں بھی ہے تو کم از کم مردوں کے طور پر اتنی تو غیرت رکھو کہ عورتوں سے تو نہ لڑو، مرد عورتوں پر حملہ آور نہیں ہوتے، کوئی غیر مسلم بھی اگر غیرتمند ہو تو اپنے مخالف کی عورتوں پر ہاتھ نہیں ڈالتا، جنگ کے دوران بھی عورتوں پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں ہے، روایات میں کہا گیا ہے کہ دوران جنگ اگر مخالفین کی خواتین تمہیں برا بھلا بھی کہیں تو اسے سنو، برداشت کرو لیکن ہاتھ نہ اٹھانا، بچوں اور بوڑھوں کو کچھ نہ کہنا، تم نے اگر ان کے مردوں کو مارا ہے تو وہ تمہیں برا بھلا بھی نہ کہیں؟
آپ عمران خان کو ناحق قید رکھیں، جھوٹے کیسز بنائیں، گولیاں ماریں اور ان کی بہنیں بات بھی نہ کریں؟آپ کو ان کی آواز تک برداشت نہیں؟
علامہ راجا ناصر عباس
™دانش_گرد retweeted
حامد مئیر صاحب، مجھے اندازہ نہیں تھا کہ آپ جیسا مشہور و معروف صحافی اتنی ڈھٹائی سے اپنی مرضی کا جھوٹ بول سکتا ہے! جس ۲۰۱۸/۱۹ کی میٹنگ کا آپ ذکر کر رہے ہیں، اس میں اندازہ چالیس صحافی موجود تھے! میں نے International Relations میں دلچسپی کی وجہ سے عمران خان سے صرف اتنا پوچھا تھا کہ پاکستان کو سپورٹ کرنے والے عرب ممالک بہت تیزی سے ایک Abrahamic Accord کی طرف بڑھ رہے ہیں، اور کیا آپکی حکومت اسے غور سے دیکھ رہی ہے؟ اسرائیل کے ساتھ دوستی یاتسلیم کرنے یا نہ کرنے کی کوئی بات میں نے نہیں کی تھی، اس سے پہلے کہ عمران خان کوئی جواب دیتے آپ نے بڑے غصے سے - جو بدتمیزی کے زمرے میں آتا ہے - فرمایا کہ اسرائیل کے بارے میں قائد اعظم کا موقف بڑا سخت تھا، اور اگر عمران حکومت نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوشش کی تو آپ اسکی بڑی سخت مخالفت کریں گے! آپ کی یہ جعلی قسم کی منافقت پہ مبنی بہادری دیکھ کے میں نے مزید کوئی بات نہیں کی! عمران خان نے جواب میں اسرائیل کے ظلم وستم کے حوالے سے کچھ کمنٹ کئے اور بات ختم ہو گئی!
اب اگلی بات: صحافی کی خوبی بہادری نہیں بلکہ understanding ہونی چاہیے! اور مشرق وسطی کے حالات جس سمت جا رہے ہیں، اور اگر ایران کی حکومت collapse ہو گئی اور سعودی عرب نے Abrahamic Accord کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا تو کیا آپ پاکستانی جرنیلوں کو قائد اعظم کے فرمان یاد کرائیں گے؟
عمران کی حکومت گرنے کے بعد آپ نے جنرل عاصم منیر کی حکومت کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی کی کتنی مخالفت کی ہے؟ کتنی DG ISPR کی بریفنگ میں آپ نے اس قسم کی بدتمیزی کی جیسی آپ عمران خان کے ساتھ کرتے تھے؟
شہید ارشد شریف کے قتل کے بعد آپ نے کمپنی کی مشہوری کے لئے، روایتی منافقت کے تحت ایک عدالتی مقدمہ بھی دائر کیا تھا، اسکا کیا ہوا؟ کیا آپ جیسے بہادر آدمی نے باقی دلیر صحافیوں کے ساتھ مل کے ارشد قتل کیس کی investigations کے لئے فوجی حکومت کے خلاف کوئی مہم چلائی؟ یا پھر صابن کی جھاگ کی طرح بیٹھ گئے؟
عمران خان کی حکومت میں آپ بہت تیزوتند کالم لکھا کرتے تھے؟ کیا اب لکھ رہے ہیں؟ کیا آپنے اسلاماد نومبر ۲۰۲۴ قتل عام پہ کوئی تحقیقاتی کام لکھا؟ کم از کم اس شہر کی عزت کی لاج رکھ لیتے؟
آپ ہمیشہ سے ایک بی جمالو کی طرح کا کردار تھے! اور آپکی بہت سے لوگوں سے میرے خلاف کی گئی باتیں مجھے پتہ چلتی رہیں مگر میرے لئے اسکی کوئی اہمیت نہیں ہے! تاہم ریکارڈ کے لئے کہنا ضروری ہے، کہ کسیDG ISPR نے آپکے پروگرام کی مجھے سے کبھی کوئی بات نہیں کی!
مجھے یہ بھی نہیں پتہ کہ آپکا پروگرام فوج نے بند کیا ہوا تھا یا عمران خان نے! مگر آپکا، طلعت حسین اور رؤف کلاسرا کے پروگرام بند کرنا غلط فیصلے تھے! اور کلاسرا کا پروگرام عمران خان کے دباؤ میں بند کیا گیا تھا - جو خان صاحب کا ایک غلط فیصلہ تھا!
اور یاد رکھیں صحافی سپاہی نہیں ہوتے! آپ سے ایک Honest Analysis کی ضرورت ہوتی ہے- جو بدقسمتی سے آپکے پاس نہیں ہے! خدا آپکو محفؤظ رکھے! ہمیں اس خطرناک ملک میں آپکی مجبوریاں کا اندازہ ہے!
حامد میر کو صرف اسکی مجبوریاں نقصان نہیں پہنچاتیں بلکہ آپ جیسے مہربان بھی پیچھے نہیں رہتے یاد کریں پرائم منسٹر آفس کی وہ محفل جس میں آپ نے عمران خان کو اسرائیل سے دوستی کا مشورہ دیا اور میں نے مخالفت کی پھر جب اسی دور میں مجھ پر پابندی لگ گئی تو آپ ڈی جی آئی ایس پی آر کے پاس گئے اور انہیں کہا اب حامد میر جیسے ملک دشمن کو کبھی ٹی وی سکرین پر واپس نہیں آنا چاہئیے اس تمام عرصے میں آپ نے مجھ پر پابندی کی جگہ جگہ حمایت کی جب وہ حکومت ختم ہوئی تو آپ پاکستان سے بھاگ گئے ہم کسی مجبوری کے باعث پاکستان میں نہیں بیٹھے بلکہ تین قاتلانہ حملوں اور کئی جھوٹے مقدمات کے باوجود اپنی مرضی سے یہاں بیٹھے ہیں کیونکہ آپکی طرح خفیہ اداروں سے کروڑوں کے فائدے حاصل نہیں کئے آج بھی جیل جانے کے لیے تیار ہیں آپ کے الزامات کا سامنا بھی کرتے ہیں اور موجودہ حکومت کے ٹرولز کی گالی گلوچ بھی برداشت کرتے ہیں جس گفتگو کو آپ اپنی مرضی کا رنگ دے رہے ہیں وہ پوری سن لیں وہاں اس زمانے کا ذکر ہے جب عمران خان اچانک کسی پاشا صاحب کا اثاثہ بن گئے تھے اگر وہ پاشا اور معید پیرزادہ کے مشوروں پر چلتے تو کبھی لیجنڈ نہ بنتے
™دانش_گرد retweeted
26 اکتوبر کو تہران میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی کی میٹنگ
*نتیجہ صفر نکلا؟*
کچھ بھی نہیں 3 گھنٹے میٹنگ، کوئی معاہدہ نہیں، ہرمز بند کا بند، غزہ پر ایک لفظ نہیں۔
جس اجلاس کا کوئی نتیجہ نہ ہو، اسے سفارتکاری نہیں،*ٹوپی ڈرامہ* کہتے ہیں۔
اور یہ ڈرامہ مڈٹرم تک چلے گا۔ اس کے بعد وہی میزائل، وہی جنگ، لیکن تیل 150 ڈالر پر۔
کیونکہ ترکی نیٹو میں بھی رھنا چاھتا ھے اور مسلم ممالک پر بھی سربراہی چاھتا ھے ،
ایران بھی چاھتا ھے کچھ ٹائم آبنائے ہرمز بند ہو تاکہ دنیا پر دباؤ بڑھے جنگ تھوڑا عرصہ روکے تاکہ ایٹم بم بنا سکے،
سعودی عرب بھی چاھتا ھے کہ حوثی حملے روکیں اور وہ تیل بیچے، جس پر امریکہ فوج بیٹھی ھے،
پاکستان چاھتا ھے ہمارا کیا ھے ،
ہم۔ثالثی پارٹی ہیں، ہمیں آئی ایم۔ایف،پیٹرول، گیس چاھیے
چاروں کے مفادات امریکہ کے ساتھ جوڑیں گئے تو اجلاس بے مقصد ھی ہوگا
™دانش_گرد retweeted
خود دس سال کی سزا، خود پر زندگی کی سخت آزمائشیں، مگر فکر اپنے ساتھیوں کی رہائی کی! 💔
چند روز قبل عادل راجہ صاحب @soldierspeaks کو انٹرویو دیتے ہوئے میں نے کہا تھا کہ نو مئی کے مقدمات میں چار سال سے مفت وکالت کرتے کرتے اب میرے لیے یہ جدوجہد جاری رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔ میں خود ایک مڈل کلاس خاندان سے تعلق رکھتا ہوں اور ان مقدمات کے اخراجات بھی اپنی جیب سے برداشت کرتا رہا ہوں۔
آج میرے چیمبر میں ایک نوجوان آیا، جو نو مئی کے مقدمے میں دس سال سزا یافتہ اور ان دنوں اشتہاری ہے۔ اس نے میرا انٹرویو سنا تھا۔ اپنی زندگی کی شدید مشکلات کے باوجود اس نے دس ہزار روپے نکال کر مجھے دیے اور کہا:
’’ملک صاحب! یہ میری طرف سے ورکرز کے مقدمات کے لیے رکھ لیں، لیکن وعدہ کریں کہ آپ ان ورکرز کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے اور ان کے مقدمات لڑتے رہیں گے۔‘‘
یہ الفاظ سن کر میرا دل بھر آیا۔ ایک ایسا شخص جو خود مصیبتوں میں گھرا ہوا ہے، جس کی اپنی زندگی آزمائش بن چکی ہے، وہ بھی اپنے ساتھیوں کو بچانے کے لیے فکر مند ہے!
میں نے رقم واپس کرتے ہوئے اسے یقین دلایا کہ ان شاء اللہ، میں آخری دم تک ورکرز کے مقدمات لڑوں گا۔ لیکن جاتے ہوئے وہ رقم میرے چیمبر میں چھوڑ گیا اور کہا:
’’ملک صاحب! یہ رکھ لیں، یہ آپ کا مجھ پر بہت بڑا احسان ہوگا۔‘‘
سوچیے! عمران خان سے محبت کا یہ کیسا جذبہ ہے کہ ایک شخص خود شدید مشکلات میں ہونے کے باوجود اپنے ساتھیوں کی رہائی کے لیے اپنا آخری سہارا بھی پیش کر رہا ہے۔
یہ صرف دس ہزار روپے نہیں، یہ اعتماد، وفا اور قربانی کی وہ امانت ہے جس نے مجھے ایک بار پھر عزم دیا ہے کہ اپنے ورکرز کو تنہا نہیں چھوڑوں گا۔ ان شاء اللہ، ان کے حق اور انصاف کی جنگ آخری دم تک لڑوں گا۔
اُموی
™دانش_گرد retweeted
اس وقت پی ٹی آئی قیادت عمران خان کے فیصلوں سے دور ہو کر خود فیصلے کرنے کی کوشش میں ہے۔ آج تک سوشل میڈیا اس میں بہت بڑی رکاوٹ تھا۔ لیکن اب لگتا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کو بھی نظر انداز کرنے کا رسک لینے پر تل گئے ہیں۔
انہیں کچھ سنگھا دیا گیا ھے یا دکھا دیا گیا ہے
™دانش_گرد retweeted
وزیر اعظم عمران خان کے سامنے آرمی چیف اور ان کی ٹیم طالبان کی آبادکاری کا پلان لے کر آئے تو ان کی شرائط میں فاٹا مرجر کی واپسی کے ساتھ ساتھ یہ توہین آمیز شرط بھی شامل تھی کہ ریاست ان کے لیے مکانات تعمیر کرے گی اور یا تو ان کو سیکیوریٹی فراہم کی جائیگی یا ان کو اسلحہ سمیت آنے دیا جائیگا۔ میں نے سوال پوچھا کہ اول تو اس آبادکاری کا اُن ۷۰۰۰ سیکیوریٹی فورسز کے شہدا کے لواحقین کو کیا جواز فراہم کیا جائیگا جن کے عیال کے سروں سے فٹ بال کھیلے گئے، جن کے گلے کاٹے گئے؟ اے پی ایس کے معصوم بچوں کے لواحقین کو کیا جواب دیں گے جنہیں بے دردی سے شہید کیا گیا؟ اُن کے ٹیکس کے پیسوں سے آپ اب اُن کے قاتلوں کی آبادکاری کریں گے؟ جن کے گھروں کو آپ نے باقاعدہ مسجدوں میں یہ اعلانات کر کرکے مسمار کیا کہ یہ وطن دشمن اور قوم کے بیٹوں کے قاتل ہیں ان کے گھر آپ کس منہ سے خود تعمیر کریں گے؟ آرمی چیف اور اُن کی ٹیم کے پاس لفظوں میں ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا مگر اُن کی شکست خوردہ باڈی لینگیوج اُن کا وہ جواب تھا جس سے میں نے بہت عرصہ نظریں کترائیں۔ میرے ملک کی فوج کے سربراہ ایک ملیشیا کے ہاتھوں اتنے بے بس تھے یا ہمیشہ کی طرح ڈالری جنگ کی خواہش کے نشے میں اتنے مست تھے کہ اپنے جوانوں کے سر کاٹنے والوں کو ناصرف بنا کسی اکاونٹبلٹی واپسی کا راستہ دینے کی منصوبہ بندی کررہے تھے بلکہ ان کی لاشوں پر ان قاتلوں کے مسکن تعمیر کررہے تھے۔
میرے حوالے سے ان کے اقدامات نئے نہیں۔ گذشتہ کئی سالوں میں میرے خاندان دوستوں اور ساتھیوں کو اغوا، لاپتہ، تشدد کرنے سے گرفتار کرنے، گھر توڑنے کے متعدد واقعات ہوچکے ہیں۔ کل رات ان جرنیلوں کے مسلط کردہ ٹٹو کا بیان سُنا کے ایک ”مفرور” کے گھر کی خواتین سے دست درازی کرنا جائز ہے۔ میں اس تفصیل میں تو جاتا ہی نہیں کہ اِس ”مفرور“ کا اصل جرم کیا ہے مگر کل پہلی مرتبہ اپنی قوم کی زندگیوں کا سوال کرنے والوں سے ”آہنی ہاتھوں سے نبٹنے والی“ فوج کے آرمی چیف اور ان کی ٹیم کا شکست خوردہ انداز یاد کرکے ہنسی آئی۔ سیاسی مخالفین کے گھر توڑنے والوں، نہتی عورتوں پر ہاتھ ڈالنے والوں کا سامنا بندوقوں والوں سے ہوتا ہے تو اپنے اُن جوانوں کے خون کا بھی سودا کر آتے ہیں جن کی قربانیاں قوم کو ازبر کرا کرا کر اپنے ناجائز قبضے کا جواز ڈھونڈتے ہیں۔ خُدا کسی کو بے غیرت دشمن نہ دے۔
™دانش_گرد retweeted
عمران خان نے دو کام تقسیم کئے تھے
1. احتجاج PTI کے ذمہ تھا
2. بات چیت محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس
پی ٹی آئی اپنے ذمے کام احتجاج کو صحیح مینیج نہ کر کے ناکام ہوئی اور اب محمود اچکزئی اور علامہ ناصر کو ہٹا کر بات چیت بھی خود کرنا چاہتی ہے ۔
دونوں کاموں کیلئے ان میں will ہے نا ویژن
™دانش_گرد retweeted
واشنگٹن میں ووٹ پڑتے ہیں، اسلام آباد /راولپنڈی میں دھڑکنیں کیوں تیز ہو جاتی ہیں؟
3 نومبر کے امریکی مڈٹرم انتخابات صرف امریکہ کی سیاست کا امتحان نہیں، ہمارے حکمرانوں کی خودمختاری کے دعووں کا امتحان بھی ہیں۔
اگر واشنگٹن میں اقتدار کا توازن بدلنے سے ہماری پالیسیوں پر اثر پڑتا ہے، تو سوال امریکہ کا نہیں، ہماری اپنی کمزوری کا ہے۔
جو ملک معاشی طور پر دوسروں کا محتاج ہو، اس کے قومی فیصلے بھی کب تک آزاد رہ سکتے ہیں؟
خودمختاری نعروں سے نہیں، معاشی خودکفالت اور قومی مفاد پر ڈٹ جانے سے حاصل ہوتی ہے۔
™دانش_گرد retweeted
احتجاج ہو یا مذاکرات
آپ رہائی کا مطالبہ کریں نہ رسائی کا نہ دوائی کا
صرف ایک مطالبہ یا ٹارگٹ رکھیں
"عمران خان کا جیل نہیں بلکہ اوپن کورٹ ٹرائل"
رسائی بھی ہو جائیگی دوائی بھی۔ اور رہائی کا تو پھر ایشو ہی نہیں رہے گا
™دانش_گرد retweeted
لانگ مارچ ناکامی کی وجہ ۔۔ اصل حقائق
ابھی تک اس ناکامی کا سارا ملبہ سہیل آفریدی پر ہے لیکن کیا یہی حقیقت ہے؟ یہ مکمل سچ نہیں۔
لانگ مارچ کیلئے سہیل آفریدی کو
1. خیبرپختونخواہ اسمبلی کے صرف 20 % ممبران کی سپورٹ میسر تھی باقی 80% کے چہرے چند دنوں میں سب کو نظر آ جائیں گے
2۔ مرکزی قیادت ' پنجاب ' سندھ اور بلوچستان کی قیادت سے انہیں عملاً صفر سپورٹ ملی
3. آئی ایس ایف ' انصاف لائرز فورم ' شیخ وقاص کی زیر کمان کسان ونگ ' خواتین ونگ وغیرہ سے بھی انہیں خاص سپورٹ نہیں ملی
3. انہیں واضح سپورٹ صرف خالد خورشید خان کی زیر کمان انصاف یوتھ ونگ سے ملی جس کے جوان بلوچستان اور وزیرستان سے آئے اور ڈٹے رہے
سہیل آفریدی یہ باتیں قبل از وقت جانتے تھے۔ اس لئے انہیں علم تھا کہ پلان B ' C کچھ نہیں پلان A بھی کہیں نہیں تھا۔ انہوں نے توقع لگا رکھی تھی کہ لوگ خود ہی آ جائیں گے۔ مگر اس کیلئے انہوں نے ٹرانسپورٹ کا کوئی انتظام کیا تھا نہ کیمپوں کا مناسب انتظام تھا ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ان حالات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے لانگ مارچ کو لٹکانا شروع کر دیا اور آخری دن پنجاب سے ممبران اسمبلی اور عہدیداروں کو صوابی پہنچنے کی کال دی جو بہت بعد از وقت تھی ۔
اس بکھری ہوئی صورتحال کو دیکھ کر مارچ کی پہلی تاریخ 27 ستمبر کو شدید گھبراہٹ کا شکار اسٹیبلشمنٹ اب سنبھل چکی تھی اور پر اعتماد تھی۔ ان کے پاس دو آپشن تھے ۔ کہ وہ لانگ مارچ کو اپنی موت آپ مرنے دیں یا انکی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر کے پی اسمبلی کا کانٹا ہی نکال دیں۔
اصل چیز یہ ہے کہ آپ نے اپنے قلعے کے شگاف کھلے اور فصیلوں کی کمزوری خود ظاہر کر دی تھی ۔ پھر مارچ یا احتجاج کیا کامیاب ہوتا ۔ دوسری قوتوں کو آرام سے اندر آنے کا موقع مل گیا ۔
اب آپ جتنے مرضی جواز ڈھونڈتے رہیں۔ مگر سچ یہی رہے گا کہ ہر درجے کی قیادت اور عہدیداروں کی بزدلی اور کچھ نہ کرنے سے آپ اس نہج پر پہنچ گئے کہ آپ کو اپنی منزل کیلئے فوری طور پر پیدل چلنے کا راستہ بھی نہیں سوجھ رہا
™دانش_گرد retweeted
لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد عمران خان کی رہائی اور علاج کا موضوع ترجیحات سے ہٹ سا گیا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا اختلافی موضوعات پر پروگرام کر کے توجہ ہٹانے کی کوشش میں ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر کسی حد تک تھکن اور سست روی پیدا ہوئی ہے۔
یوں عوامی و سیاسی دباؤ کم ہونے سے نہ صرف عمران خان کی رہائی کے لیے اخلاقی اور سیاسی دباؤ کم ہوا ہے، بلکہ جیل میں ان کی صحت کے متعلق شفاف معلومات اور آزادانہ علاج کے مطالبے کی شدت بھی کمزور ہوئی ہے، جس کا اثر عام عوام پر ان کہی مایوسی کی شکل میں نظر آتا ہے۔
عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی مقامی میڈیا کی رپورٹس سے اشارے لیتی ہیں۔ مقامی سطح پر خاموشی سے بین الاقوامی آوازیں بھی مدہم پڑ جاتی ہیں۔
اس لیے اسے دوبارہ قومی اور بین الاقوامی میڈیا کی ترجیح بنانے کے لیے سیاسی، قانونی اور ابلاغی سطح پر نئی حکمتِ عملی کے تحت ضروری ہے کہ:
عمران خان کی صحت اور طبی سہولیات کے معاملے کو صرف سیاسی نعرہ بنانے کے بجائے انسانی حقوق اور بین الاقوامی طبی تنظیموں کے سامنے قانونی و اخلاقی بنیادوں پر اٹھایا جائے۔
جذباتی بیانیے کے بجائے حقائق کا سہارا لیا جائے۔ "رہائی" کے عمومی مطالبات کے بجائے ان کی صحت کے مصدقہ میڈیکل چارٹس، ڈاکٹروں کی سفارشات اور جیل کے اندر میسر سہولیات کے حوالے سے حقائق پر مبنی رپورٹنگ جاری رکھی جائے۔
پریس کانفرنسوں پر انحصار کم کر کے پوڈکاسٹس، ڈیجیٹل اسپیسز، ریسرچ آرٹیکلز اور معلوماتی اینیمیشنز یا انفوگرافکس کے ذریعے نئے انداز میں بات میڈیا کے سامنے لائی جائے۔
اعلیٰ عدالتوں میں خان کے ذاتی معالجین اور آزادانہ میڈیکل بورڈز کی تشکیل کے لیے متواتر درخواستیں دائر کی جائیں تاکہ ہر سماعت میڈیا کے لیے ایک تازہ خبر بنے، جسے میڈیا کے ٹاک شوز میں اور سوشل میڈیا فورمز پر ساتھ ساتھ ہائی لائٹ کیا جائے۔
قومی اسمبلی اور سینیٹ میں عمران خان کی صحت اور علاج کو ایجنڈے کا مستقل حصہ بنایا جائے اور ہر موقع پر اسے بنیادی شرط کے طور پر سامنے رکھا جائے۔
عمران خان کے مسئلے کو صرف ایک جماعت کا مسئلہ بنانے کے بجائے "آئین، بنیادی انسانی حقوق اور قیدیوں کے حقوق" کے وسیع تر فریم ورک میں پیش کیا جائے تاکہ سول سوسائٹی اور قانونی ماہرین بھی اس کا حصہ بن سکیں۔
دراصل پی ٹی آئی لیگل ٹیم اور ڈیجیٹل میڈیا سیل کو مربوط، منظم اور جدید حکمتِ عملی کے تحت کام کرنے کی ضرورت ہے۔
قانونی محاذ کا بنیادی مقصد صرف سماعتوں تک محدود رہنا نہیں، بلکہ ایسے قانونی اقدامات اٹھانا ہے جو میڈیا اور عالمی اداروں کے لیے مسلسل خبرساز واقعات پیش کر سکیں۔
لیگل ٹیم میڈیا سیل کو ہر پٹیشن کی قانونی باریکیاں اور میڈیکل رپورٹس فراہم کرے تاکہ وہ اسے عام فہم اردو اور انگریزی انفوگرافکس اور پریس ریلیز میں تبدیل کریں۔ ہر اہم سماعت سے ایک دن قبل میڈیا کو بریف کیا جائے، اور سوشل میڈیا پر حقائق پر مبنی ٹرینڈز اور شارٹ ویڈیوز کے ذریعے عوامی بیداری پیدا کی جائے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کے وکلا سے رابطہ کیا جائے اور بین الاقوامی صحافیوں اور اوورسیز کمیونٹی کے ساتھ ڈوزیئر شیئر کیا جائے۔
عدالتی احکامات پر عمل نہ ہو رہا ہو تو توہینِ عدالت اور تعمیلِ حکم کی متواتر اور نئی درخواستیں دائر کر کے اس پر میڈیا سیل سے مہم چلائی جائے۔ خان صاحب کی غیر قانونی حراست اور طبی سہولیات کی عدم فراہمی سے متعلق اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے نمائندوں کو تمام نئی دستاویزات اور میڈیکل رپورٹس کا باقاعدہ ڈوزیئر بھیجا جائے۔
انٹرنیشنل بار ایسوسی ایشن اور کامن ویلتھ ہیومن رائٹس انیشی ایٹو کو پاکستان میں قیدیوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر قانونی خطوط ارسال کیے جائیں۔ خان صاحب کو جیل سہولیات، صحت کی حقیقی صورتِ حال اور قانونی کیسز کی کمزوریوں پر اردو اور انگریزی میں مختصر اور مستند فیکٹ شیٹس تیار کی جائیں۔
اوورسیز میڈیا سیلز کے ذریعے عالمی نشریاتی اداروں اور صحافیوں کو بریفنگز دی جائیں۔ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور یورپ میں مقیم پاکستانی اپنے مقامی ارکانِ پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کے نمائندوں کو انسانی بنیادوں پر خطوط بھیجنے کی مہم شروع کریں۔
صرف مقامی ٹرینڈز پر انحصار کرنے کے بجائے ایکس (X) پر بین الاقوامی اہمیت کے ہیش ٹیگز کے تحت ہفتہ وار عالمی اسپیسز اور ویبینار منعقد کیے جائیں جن میں عالمی صحافیوں کو دعوت دی جائے۔ ساٹھ سیکنڈ کی شارٹ ویڈیوز اور ریز سے یہ مواد انگریزی، اردو اور عربی میں مسلسل بنایا جائے اور اسے آفیشل پلیٹ فارمز سے بھی لانچ کیا جائے۔
مطلب یہ کہ جب سب جانتے ہیں کہ یہ جنگ طول کھینچ سکتی ہے تو محاذ کو ٹھنڈا ہونے کا موقع دے کر مخالفین کو آرام کرنے کا موقع کیوں دیا جائے؟
™دانش_گرد retweeted
سلمان اکرم راجہ نے اپنے ٹویٹ میں لکھ رکھا ہے کہ یہ بیانیہ غیر جمہوری فیصلہ سازوں یعنی فوج کی جانب سے پھیلایا جارہا ہے کہ تحریک انصاف کے اندر کوئی گروپ بنا ہوا ہے اور یہ جھوٹا اور شرانگیز بیانیہ ہے۔
لیکن اچانک ہی علی امین گنڈاپور اس بیانیے کو جھوٹا کہنے پر غصے میں آگئے ہیں اور اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز طور پر کچھ ایم پی ایز بھی غصہ کررہے ہیں۔
خیر سانوں کی ۔ لڑو لڑو شاباش۔ زیادہ شدت سے لڑو۔ ایک دوسرے کے کپڑے پھاڑو شاباش۔
™دانش_گرد retweeted
عمران خان 2019 میں سعودیہ اور ایران کے درمیان ثالثی کیلئے پہنچے تو تمام ایران کابینہ، تمام سینئر آفیشلز، عسکری عہدیدار عمران خان کے استقبال کیلئے جمع ہوئے
عمران خان کی نشست کے پیچھے پاکستان کا عظیم پرچم رکھا گیا ، یہ سب عزت اس وجہ سے تھی کیونکہ عمران خان وہاں خودمختاری پاکستان کی نمائندگی کررہے تھے امریکہ کے نمائندے بن کر نہیں گئے تھے
™دانش_گرد retweeted
اب خیبرپختونخواہ میں پی ٹی آئی کی حکومت نہیں ۔ پھر بھی شیخ وقاص اکرم وہاں محفوظ ہیں
کرامات
™دانش_گرد retweeted
یہ تو آپ نے میری بات کی تردید نہیں حمایت کی ہے، میں یہیں تو کہہ رہا ہوں کہ آپ میاں بیوی نواز شریف کے گھریلو صحافی ہو، آپ کو ایمرجنسی مارشل لاء سے کوئی مسئلہ نہیں ہاں البتہ اگر وہ ایمرجنسی یا مارشل لاء آپ کے منہ بولے باپ نواز شریف کے خلاف نہ لگا ہو
آپ کہہ رہے ہو آپ کی زوجہ مشرف کے خلاف احتجاج بھی کر رہی تھیں بین بھی تھیں گلی گلی رو بھی رہی تھیں، وہ صرف اس لیے کیونکہ وہ مارشل لاء ان کے منہ بولے باپ نواز شریف کے خلاف تھا
آج یہ بین کیوں نہیں کر رہی آج یہ احتجاج کیوں نہیں کر رہی، آج یہ گلی گلی سیاپا کیوں نہیں ڈال رہی، کونسا ایسا ظلم ہے جو عاصم منیر نے نہیں کیا اور مشرف نے کیا ہو بلکہ عاصم منیر نے ایک سیاسی پارٹی اور پاکستان پر جو مظالم ڈھاۓ ہیں اس کی پاکستان کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی
لیکن آج عاصمہ شیرازی خاموش ہے کیونکہ یہ ظلم اس کے منہ بولے باپ کے خلاف نہیں بلکہ اس کی ایما پر ہو رہے ہیں آج وہ ایمرجنسی اور گورنر راج پر ماتم نہیں کر رہی کیونکہ اس کے منہ بولے باپ نے بھی اس کی حمایت کی ہے آپ لوگ نہ جمہوری ہو اور ہی آمریت کے حامی ہو آپ شریف خاندان کے اشاروں پر ناچنے والے مداری ہو
باقی آپ ٹرولر بننے کی کوشش نہ کیا کریں شودے لگتے ہیں، ٹرولنگ آپ سے ہوتی نہیں ممی ڈیڈی بچے ہیں
کرنی ٹرولنگ کھانے کھیرے
اس بیچارے "شہباز گل کے جمہورے" کو یہ بھی نہیں پتا کہ جنرل مشرف نے جب ملک میں ایمرجنسی لگائی تھی تو عاصمہ شیرازی سمیت پانچ اینکرز کو بین کر دیا تھا، عاصمہ شیرازی ان میں واحد خاتون صحافی تھیں، تین ماہ تک پریس کلبز کے باہر اور چوک چوراہوں پر پانچوں اینکرز پروگرام کرتے رہے جہاں عوامی مجمع ہوتا تھا، ایجنسیاں پیچھا کرتی تھیں، دھمکیاں دی جاتی تھیں، فون رکارڈ ہوتے تھے، تب آپ کسی جنرل باجوہ کی گود کا انتظار فرما رہے تھے، اس وقت کی ایک تصویر آپ کی آنکھیں کھولنے کے لیے لگائی ہے، دیکھ لیں۔۔ آپ ابھی تازہ تازہ جمہوری ہوئے ہیں پاکستان سے متعلق ککھ نئیں پتا۔۔ بس ڈالر کمانے کے لیے امریکا میں بیٹھ کر جیسا شہباز گل کہے ٹویٹ کیے جاؤ۔ @Waqarkhan
















