حکومت تبدیلی ہو چکی ہے! لیکن ایران میں نہیں.... بلکہ امریہکہ میں! 🔥
HEY TRUMPH, YOU ARE FIRED!!!! ✊
@realDonaldTrump
یہ داڑھی والے جناب شیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ ہیں
یہ دنیا کے بچوں کو سمجھاتے رہے کہ دنیاوی تعلیم کافروں کی ہیں
اپنے بچوں کو دینی تعلیم حاصل کرواؤں ، بچوں کو ہمارے مدرسوں میں بھیجوں
۔
لیکن اپنے بچوں کو شیخ صاحب نے اعلی تعلیم حاصل کروا کر پائلٹ بنوا دیا
بولو سبحان اللہ
ایک درویش کے پاکیزہ خون نے سپر پاورز کو دنیا میں ذلیل کر کے رکھ دیا۔ رجیم چینج کرنے والے کا اپنا بوریا بستر گول ہو گیا۔
سدا بادشاہی صرف سوہنڑے رب کی ہے 🙏
میں جب بھی سورہ یوسف سے گزرتا ہوں مجھے لگتا ہے کہ ہر خواب پورا ہو سکتا ہے،
ہر بچھڑا مل سکتا ہے، ہر دعا پوری ہو سکتی ہے،
ہر منزل پائی جا سکتی ہے،
میں امیدوں کی ڈور سے جو خواب باندھ رہا ہوں،
مجھے یقین ہے کہ اللہ مجھے میرے خوابوں کی تعبیر دیکھا دے گا، کیونکہ وہ ملانے والا ہے 🌹
انشاء اللہ ❤️ 🌹 😘
#انصاراللہ
آج کی نسل شاید محبت کرنا تو جانتی ہے، مگر اکثر محبت کو نبھانے کے طویل سفر کی قیمت نہیں سمجھتی۔ ہمسفر چننا صرف کسی کو پسند کر لینے یا چند خوبصورت لمحے ساتھ گزارنے کا نام نہیں؛ یہ دراصل کسی دوسرے انسان کی خاموشیوں، کمزوریوں، تھکن، غصے اور اُن زخموں کی ذمہ داری قبول کرنا ہے
جو شاید اس نے کبھی لفظوں میں بیان بھی نہ کیے ہوں۔
پرانی نسلوں میں رشتے ہمیشہ کامل نہیں تھے، مگر ان میں برداشت، انتظار اور ایک دوسرے کے مشکل وقت کو سہنے کا حوصلہ نسبتاً زیادہ دکھائی دیتا تھا—آج ہم بہت جلد انسان چُن لیتے ہیں اور شاید اُس سے بھی جلد اُس سے مایوس ہو جاتے ہیں،
پتہ ہے وہ مجھ سے بے پناہ محبت کرتی تھی
ایک دن بات نہ ہو تو اس کی جان جاتی تھی
میں اکثر اسے تنگ کرتا تھا کبھی بات نہ کر کے کبھی لیٹ ریپلائے کر کے
مجھے اس کی فکر کرنا اچھا لگتا تھا
اس کا غصہ جیسے وہ محبت جتاتی تھی
کمال لگتا تھا ....
مجھے آج بھی یاد ہے وہ اس کی فکر کرنا اس کا غصہ، سوچتا تھا کہ جب ملیں گے نا ہم بہت تنگ کروں گا
اسے ساری باتیں کروں گا
اس سے جب بھی کوئی الٹی سیدھی بات کرتا تو وہ ہنس دیتی اور اس کا یہی ہنسنا عزیز تھا مجھے
مگر بات کئے زمانے ہو گئے
زندگی کی دوڑ، توقعات کے بوجھ، اور روزمرہ کے جھمیلوں میں الجھ کر جب کبھی ہم فرصت کے دو لمحے پا کر اپنے "باطن" کی کھڑکی کھولتے ہیں، تو باہر کا شور تھم جاتا ہے اور اندر کی خاموشی ایک خوفناک سچائی بن کر سامنے آتی ہے۔ وہ دل جو کبھی محبت، جوش، امید اور خوابوں سے دھڑکتا تھا،
وقت کے سرد تھپیڑوں اور ناگہانی صدموں کی زد میں آ کر ایک خاموش قبرستان بن چکا ہوتا ہے۔
یہاں امیدوں کی لاشیں دفن ہوتی ہیں، ان خوابوں کے جنازے رکھے ہوتے ہیں جو ادھورے رہ گئے، اور ان پاکیزہ جذبات کی لاشیں پڑی ہوتی ہیں جنہیں اپنوں کی بے رخی یا حالات کی تلخی نے مار ڈالا۔





