خواجہ آصف، مولانا فضل الرحمن سے طبیعت صاف کروانے کے بعد اب پی ٹی آئی والوں سے طبیعت صاف کروانا چاہتا ھے ۔
اڈیالہ سے آرڈر لینے کے طعنے وہ بندہ دے رھا جو پیٹ کی ہوا بھی جاتی امراء کی اجازت کے بغیر خارج نہیں کرتا۔
حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستیں درکار ہیں۔
سب سے اہم پہلو
نیتن یاہو کا اتحاد اپنی سابقہ 68 نشستوں سے کم ہو کر 53 پر آ گیا۔
عرب جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کیں، جو ان کی ایک تاریخی کامیابی ہے۔
عرب جماعتوں کی حمایت کے بغیر نیتن یاہو مخالف اتحاد کے لیے حکومت بنانا مشکل ہے۔
ابھی نئی حکومت تشکیل نہیں پائی اور سیاسی مذاکرات جاری ہیں۔
AI
اسرائیلی پارلیمان (Knesset) کی کل 120 نشستیں ہیں۔ تازہ حتمی نتائج کے مطابق:
جماعت / اتحاد نشستیں
نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 27
گادی آئزن کوٹ کی یاشار پارٹی 21
نفتالی بینیٹ کا اتحاد 12
مشترکہ عرب فہرست 11
ڈیموکریٹس 8
رام عرب پارٹی 8
اسرائیل بیتینو 7
دیگر مذہبی و دائیں بازو کی جماعتیں
AI
This classic photograph is from the *Cannes Film Festival* of *1956*. A group photo of the most beautiful women of the era.
The picture shows from left to right: *Marilyn Monroe, Audrey Hepburn, Sophia Loren, Brigitte Bardot, Elizabeth Taylor, and Grace Kelly*.
Time waits for no one and now only Sophia Loren, who is 91 years old, remains of that generation of beauties.
یہ 1956ء کے کانز فلم فیسٹیول (Cannes Film Festival) کی ایک یادگار تصویر ہے، جس میں اُس دور کی دنیا کی چند حسین ترین اداکارائیں ایک ساتھ نظر آ رہی ہیں۔
تصویر میں بائیں سے دائیں ترتیب کچھ یوں ہے:
مارلن منرو، آڈری ہیپ برن، صوفیہ لورین، بریژٹ بارڈو، الزبتھ ٹیلر اور گریس کیلی۔
"
*لوگوں کو الزام نہیں دینا چاہیے۔۔۔*
*کہ انہوں نے ہمیں کس قدر مایوس کیا۔۔۔*
*بلکہ اپنے آپ کو الزام دینا چاہیے کہ۔۔۔*
*ہم نے لوگوں سے کس قدر ذیادہ توقعات وابستہ کر لیں۔@*
۔ . *🌻☕*_"
ایک روز صبح خلیفہ معتصم قرآنِ کریم کے مخلوق ہونے کے فتنے کے دوران، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے پاس ان کی قید میں آیا اور پوچھا: ”اے احمد! تم نے صبح کیسے کی؟ تمہارا کیا حال ہے؟“ امام احمد رحمہ اللہ نے جواب دیا: ”اے امیرالمؤمنین! اللہ کا شکر ہے، میں خیریت سے ہوں۔ البتہ میں نے ایک ایسا خواب دیکھا ہے جس نے مجھے بے چین کر رکھا ہے اور اب تک اس کا اثر میرے دل پر باقی ہے۔ میں نے دیکھا کہ قرآنِ کریم کو کفن میں لپیٹ کر رکھ دیا گیا ہے اور وہ وفات پا چکا ہے۔
چنانچہ میں نے اسے غسل دیا، کفن پہنایا اور پھر اس کی نمازِ جنازہ ادا کی۔“ خلیفہ معتصم نے کہا: ”تمہاری خیر ہو، اے احمد! کیا قرآن بھی مر سکتا ہے؟ یا تم میرا مذاق اڑا رہے ہو؟“ امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ تو آپ لوگوں کا قول ہے کہ قرآن مخلوق ہے، اور ہر مخلوق کو موت آتی ہے!“ یہ سن کر خلیفہ معتصم نے ابن ابی دؤاد کی طرف دیکھا، جو اس فتنے کے سرکردہ لوگوں میں سے تھا۔ ابن ابی دؤاد نے کہا: ”اے امیرالمؤمنین! میری رائے میں انہیں کوڑے لگائے جائیں، ان کی اصلاح کا اس کے سوا کوئی راستہ نہیں۔“
خلیفہ معتصم نے کہا: ”اے احمد! اپنی جان کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور قرآن کے مخلوق ہونے کا میرا موقف تسلیم کر لو۔“ امام احمد رحمہ اللہ نے جواب دیا: ”مجھے اللہ کی کتاب یا اس کے رسول ﷺ کی سنت سے کوئی دلیل دکھائیے جو آپ کے اس قول کی تائید کرتی ہو!“ اس پر خلیفہ نے جلاد سے کہا: ”مارو، اللہ تمہارے ہاتھ کاٹ دے!“ یعنی انہیں زور سے اور دردناک طریقے سے کوڑے لگاؤ۔ جلاد نے پہلا کوڑا مارا تو امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”بِسْمِ اللّٰہِ“ پھر دوسرا کوڑا پڑا تو فرمایا: ”لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰہِ“
تیسرا کوڑا پڑا تو فرمایا: ”قرآن اللہ کا کلام ہے، مخلوق نہیں!“ پھر ایک اور کوڑا پڑا تو فرمایا: ”ہمیں ہرگز کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی، سوائے اس کے جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے!“ اس کے بعد ابن ابی دؤاد امام احمد رحمہ اللہ کے قریب آیا اور سرگوشی کرتے ہوئے کہا: ”اے احمد! میرے کان میں بس ایک ایسا لفظ کہہ دو جو تمہیں خلیفہ کے عذاب سے نجات دلا دے۔“ امام احمد رحمہ اللہ نے جواب دیا: ”بلکہ تم میرے قریب آؤ اور میرے کان میں ایک ایسا لفظ کہو جو تمہیں اللہ کے عذاب سے نجات دلا دے!“
یہ سن کر ابن ابی دؤاد نے جلاد کو اشارہ کیا کہ انہیں مزید سختی سے مارے۔ چنانچہ جلاد انہیں مسلسل کوڑے مارتا رہا، یہاں تک کہ امام احمد رحمہ اللہ بے ہوش ہو گئے۔ حوالہ: سیر أعلام النبلاء، امام ذہبی رحمہ اللہ کی تصنیف۔
Muhammad Arif retweeted
Replying to @ArifRetd
‘نکی جئی کڑی’ نے ایک کاوش کو پزیرائی بخشی، اسکول، بی بی فوڈ شاپ،
خواتین کو سلائی کڑھائی کی تربیت
طبی مرکز
مریدکے میں دوسرا اسکول
عالم بی بی فاؤنڈیشن کے 2024 میں دو کیمپس تھے۔
👈 فرح دیبا اکرم نے ایک بچے کی خواہش جس نے بسکٹ کے بجائے کاپی اور پنسل مانگی جس کو سنجیدگی سے لیا۔ 🤲
مفرور پرندوں کو یہ اعلان گیا ہے
صیاد نشیمن کا پتہ جان گیا ہے
یعنی جسے دیمک لگی جاتی تھی وہ میں تھا
اب آ کے میرا میری طرف دھیان گیا ہے
شیشے میں بھلے اس نے میری نقل اتاری
خوش ہوں کہ مجھے کوئی تو پہچان گیا ہے
اب بات تیری کُن پر ہے کچھ کر میرے مولا
اک شخص تیرے در سے پریشان گیا ہے
یہ نام و نسب جا کے زمانے کو بتاؤ
درویش تو دستک سے ہی پہچان گیا ہے
احمد عبداللہ
دنیا کو تاج محل دینے والا بادشاہ اپنی زندگی کے آخری برس ایک قلعے میں بند رہا۔ تخت بیٹے نے چھینا، محل قید خانہ بنا، اور وہ عمارت جو اس نے محبت میں بنائی تھی دور سے دکھائی دیتی رہی مگر قریب جانا ممکن نہ رہا۔
تحریر : Sameer Ali
سولہ سو اٹھاون میں شاہ جہاں شدید بیمار پڑا تو اس کے چاروں بیٹوں کے درمیان تخت کی جنگ چھڑ گئی۔ دارا شکوہ، شجاع، مراد بخش اور اورنگزیب ہر ایک خود کو وارث سمجھتا تھا۔ افواہیں پھیلیں کہ بادشاہ مر چکا ہے۔ شاہ جہاں صحت یاب ہو گیا، لیکن تب تک بیٹوں کی تلواریں نیام سے نکل چکی تھیں اور واپسی کا راستہ بند ہو چکا تھا۔
سامو گڑھ کی جنگ میں اورنگزیب نے دارا شکوہ کو شکست دی اور آگرہ کی طرف بڑھا۔ مؤرخین کے مطابق قلعے کے دروازے بند تھے، مگر اورنگزیب کے سپاہیوں نے قلعے کا پانی روک دیا۔ شاہ جہاں کے پاس ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی راستہ نہ رہا۔ دروازے کھلے، اور بادشاہ اپنے ہی قلعے میں قیدی بن گیا۔
قید میں شاہ جہاں کو ضروری سہولتیں ملتی رہیں مگر باہر کی دنیا سے اس کا رابطہ کٹ گیا۔ اس کی بڑی بیٹی جہاں آرا بیگم نے باپ کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا اور آخر دم تک اس کی خدمت کی۔ روایت ہے کہ بادشاہ دریا کے کنارے بنے برج کی کھڑکی سے دور تاج محل کو دیکھتا رہتا تھا، جہاں اس کی محبوب بیوی ممتاز محل دفن تھیں۔
دارا شکوہ کو سولہ سو انسٹھ میں قتل کیا جا چکا تھا، اور شاہ جہاں کے لیے یہ سب سے بڑا صدمہ تھا۔ اورنگزیب نے باپ سے خط و کتابت جاری رکھی، مگر دونوں کے تعلقات کبھی پہلے جیسے نہ ہو سکے۔ ایک مشہور روایت کے مطابق بادشاہ نے بچوں کو پڑھانے کی اجازت مانگی تو جواب ملا کہ وہ اب بھی حکم چلانا چاہتا ہے۔
جنوری سولہ سو چھیاسٹھ میں تقریباً آٹھ سال کی قید کے بعد شاہ جہاں کا انتقال ہو گیا۔ جہاں آرا اور خادموں نے اس کی تجہیز و تکفین کی۔ کہا جاتا ہے کہ جنازہ خاموشی سے دریا کے راستے تاج محل لے جایا گیا۔ اسے ممتاز محل کے پہلو میں دفن کیا گیا، اور یوں دونوں ایک ہی عمارت میں ہمیشہ کے لیے اکٹھے ہو گئے۔
تاج محل کی ترتیب میں ملکہ کی قبر عین درمیان میں ہے اور بادشاہ کی قبر ایک طرف رکھی گئی ہے، کیونکہ اصل منصوبے میں صرف ملکہ کا مقبرہ تھا۔ شاہ جہاں کی کہانی بتاتی ہے کہ تاج و تخت کی بلندی پر بھی انسان تنہا ہو سکتا ہے۔ آج بھی آگرہ کے قلعے کا وہ برج دیکھنے لوگ آتے ہیں جہاں سے تاج محل نظر آتا ہے.
Muhammad Arif retweeted
Replying to @ArifRetd
سبحان اللہ، عزم وہمت کی زبردست مثال، یہ جذبہ ہر شخص کے لئے باعث تقلید ہونا چاہئے اللہ تعالیٰ بہترین اجر عطافرمائے آمین
Muhammad Arif retweeted
Replying to @ArifRetd
وطن عزیز میں منفی چہرے سرے عام نظر آتے ہیں دیکھ کر بہت مایوسی ہونے لگتی ہے کہ ہم 79 سالوں کی آزادی کہ بعد بھی کہاں کھڑے ہیں اللہ سبحان و تعالٰی کوئی ایک ایسا مثبت کام سامنے دکھا دیتا ہے کہ امید کا بجھتاہوا چراغ روشن ہوجاتی ہے
پیوستہ شجر سے امید بہار رکھ
Muhammad Arif retweeted
Replying to @theResearchLens @ArifRetd
عالم بی بی فاؤنڈیشن سے خود رابطہ کر لیں.
Aalam Bibi Foundation share.google/1ByHpBT8Jjci5yV…
مسجد میں جایئں تو آپ کو ایک خاص قسم کے خدائی خدمت گار لوگوں سے واسط پڑے گا ، جن کا کام ہوتا ھے ،
ذرا دائیں ہو جایئں
ذرا با یئں ہو جایئں
آگے ہو جایئں
پیچھے ہو جایئں۔
اگر یہ لوگ اپنی ذاتی زندگی میں میں اتنے ڈسپلنڈ ہوتے تو کیا بات تھی۔
میں قرآن میں کہاں ہوں؟ 2
یہ آیت پڑھ کر ان کی زبان سے بے ساختہ نکلا:
“ہاں! یہی میرا حال ہے”
یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ قرآن صرف پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ اپنے آپ کو پہچاننے کے لیے ہے۔
ہمیں ہر آیت پر یہ سوچنا چاہیے:
میں ان لوگوں میں کہاں کھڑا ہوں؟
اور اگر ہم اپنے اندر نیکی اور برائی دونوں پاتے ہیں، تو مایوس نہ ہوں، بلکہ اللہ کی طرف رجوع کریں، کیونکہ:
اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔
یہ واقعہ بہت گہرا سبق دیتا ہے، اور حقیقت میں ہر انسان کے لیے ایک آئینہ ہے۔
احنف بن قیس کا یہ طرزِ فکر ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ قرآن صرف پڑھنے کی کتاب نہیں، بلکہ اپنے آپ کو اس میں تلاش کرنے کی کتاب ہے۔
اصل سبق کیا ہے؟
جب انہوں نے قرآن میں نیک لوگوں کی صفات دیکھیں:
راتوں کو عبادت کرنے والے
سحر کے وقت استغفار کرنے والے
غصہ پی جانے والے
دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دینے والے
تو انہوں نے عاجزی سے کہا: میں ان میں نہیں ہوں۔
اور جب انہوں نے کفار و گناہگاروں کی سخت حالت دیکھی تو کہا:
اے اللہ! میں ان سے پناہ مانگتا ہوں۔
آخرکار جب یہ آیت ملی:
(التوبہ: 102)
“کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا، انہوں نے نیک اور برے اعمال کو ملا دیا…”
تو انہوں نے کہا:
“ہاں! یہ میرا حال ہے”
آج ہمارے لیے پیغام
یہ واقعہ ہمیں تین بڑی باتیں سکھاتا ہے:
1. خود احتسابی
قرآن پڑھتے وقت یہ نہ دیکھو کہ یہ آیات کس کے بارے میں ہیں
بلکہ یہ دیکھو:
میں کہاں کھڑا ہوں؟
2. تکبر نہیں، عاجزی
نیک صفات دیکھ کر اپنے آپ کو کامل نہ سمجھو
بلکہ کمی محسوس کرو — یہی ترقی کا راستہ ہے
3. امید کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے
اگر ہم مکمل نیک نہیں اور مکمل برے بھی نہیں
تو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں
ہم وہی ہیں:
جو اچھے اور برے اعمال کو ملا دیتے ہیں
لیکن:
اللہ کی رحمت وسیع ہے
مختصر نتیجہ
یہ سوال “میں قرآن میں کہاں ہوں؟”
اصل میں ایک روحانی سوال ہے:
کیا میں نیک لوگوں میں ہوں؟
یا غافل لوگوں میں؟
یا ان لوگوں میں جو توبہ کر کے اللہ کی طرف لوٹ سکتے ہیں؟
حقیقت یہ ہے:
اکثر ہم تیسرے گروہ میں ہوتے ہیں
اور یہی امید کا دروازہ ہے۔








