Silent voice (@BadarK65) header
Silent voice (@BadarK65) profile picture

Active Humanitarian.

Joined April 2022
Photo by Silent voice (@BadarK65)Photo by Silent voice (@BadarK65)Photo by Silent voice (@BadarK65)Photo by Silent voice (@BadarK65)Photo by Silent voice (@BadarK65)Photo by Silent voice (@BadarK65)Photo by Silent voice (@BadarK65)Photo by Silent voice (@BadarK65)Photo by Silent voice (@BadarK65)Photo by Silent voice (@BadarK65)
Silent voice retweeted
چولستان میں عرب شیوخ کے گندے کھیل کا سچ جو پہلے افواہوں کی صورت میں سنتے رہے ہیں ۔۔ چولستان کے اس غیور بہادر شخص نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر سب بینقاب کر دیا ہے ۔۔ پتہ نہی اس شخص کے ساتھ کیا ہو گا ۔۔ مگر عوام تک اپنی بات پہنچا گیا ۔۔ حقیقت بہت تلخ ہے اور سب سے تلخ جملہ کہ ہماری عزتیں پامال ہورہی ہیں نہ کسی مفتی نے اواز اٹھای نہ کسی میڈیاوالے نے ۔۔ اخر کیوں ؟
147
1,701
65
3,450
116,279
Silent voice retweeted
لاہور کی کچی آبادی میں انیس سالہ لڑکی نے ایک بچے کو بسکٹ دینے کی کوشش کی۔ بچے نے بسکٹ لینے سے انکار کردیا اور کہا کہ اسے کاپی اور پنسل چاہیے۔ اس ایک جملے نے لڑکی کی زندگی بدل دی، اور آج اس کے قائم کردہ ادارے سے تقریباً ایک ہزار بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں! 2005 میں لاہور کی انیس سالہ طالبہ فرح دیبا اکرم کو لکھنے پڑھنے اور لوگوں کی زندگیوں کے بارے میں جاننے کا شوق تھا۔ وہ شہر کے مختلف علاقوں میں جاکر لوگوں کے حالات دیکھتیں اور اپنی ڈائری میں ان کے بارے میں لکھتی تھیں۔ ایک دن وہ کوٹ لکھپت کی ایک غریب بستی میں پہنچیں، جہاں کچھ بچے ان کے اردگرد جمع ہوگئے۔ فرح کے بیگ میں بسکٹ رکھے تھے۔ انہوں نے ایک بچے کو بسکٹ دینے چاہے، مگر بچے نے ایسی بات کہہ دی جس نے انہیں اندر تک متاثر کیا۔ اس نے بسکٹ لینے کے بجائے کاپی اور پنسل مانگ لی۔ فرح کو احساس ہوا کہ یہ بچے صرف کھانے کے محتاج نہیں، بلکہ تعلیم بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے پاس کتابیں نہیں تھیں، مناسب اسکول موجود نہیں تھا اور بہت سے والدین اپنے بچوں کو پڑھانے کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ فرح نے فیصلہ کیا کہ وہ ان بچوں کو پڑھائیں گی۔ اس وقت وہ خود طالبہ تھیں، نہ ان کے پاس کسی تعلیمی ادارے کا تجربہ تھا اور نہ کوئی بڑا سرمایہ، مگر انہوں نے اپنی کوشش شروع کردی۔ وہ روزانہ کوٹ لکھپت کے صنعتی علاقے میں جاتیں اور ایک درخت کے نیچے بچوں کو پڑھانے لگتیں۔ یہ علاقہ غربت اور مختلف سماجی مسائل کا شکار تھا۔ بہت سے بچوں کے لیے تعلیم روزمرہ زندگی کا حصہ ہی نہیں تھی۔ فرح نے ان کے والدین سے رابطے شروع کیے اور انہیں سمجھایا کہ اگر بچے پڑھ لکھ جائیں تو ان کے لیے مستقبل میں بہتر مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ کچھ عرصے بعد انہوں نے اسی علاقے میں چار مرلے کا ایک مکان کرائے پر لیا اور اسے اسکول میں تبدیل کردیا۔ پہلے مرحلے میں ساٹھ بچوں کا داخلہ ہوا۔ فرح خود ہی بچوں کو پڑھاتی تھیں اور اسکول کے انتظامی معاملات بھی سنبھالتی تھیں۔ اساتذہ کی تنخواہیں، کتابیں اور دوسرے اخراجات پورے کرنے کے لیے وہ اپنا جیب خرچ استعمال کرتیں، جبکہ ان کے والد محمد اکرم بھی مالی مدد فراہم کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ گھر والے اور دوست بھی ساتھ شامل ہونے لگے۔ 2008 میں معروف صحافی اور شاعر منو بھائی نے فرح کے اسکول کا دورہ کیا اور ان کی کوششوں کے بارے میں ایک کالم لکھا، جس کا عنوان تھا ‘نکی جئی کڑی’۔ اس تحریر کے بعد بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ لاہور کی ایک نوجوان لڑکی اپنی تعلیم کے ساتھ غریب بچوں کے لیے اسکول چلا رہی ہے۔ مزید لوگوں نے اس کام میں تعاون شروع کردیا۔ فرح نے جلد سمجھ لیا کہ صرف بچوں کو اسکول بھیجنا کافی نہیں۔ اگر کسی بچے کے گھر میں کھانے کا انتظام نہ ہو تو اس کی تعلیم بھی متاثر ہوتی ہے۔ چنانچہ 2010 میں عالم بی بی فوڈ شاپ قائم کی گئی، جہاں روزانہ ڈھائی سو سے زیادہ لوگوں کے لیے کھانے کا انتظام کیا جانے لگا۔ اسی عرصے میں خواتین کو سلائی کڑھائی کی تربیت دینے کا سلسلہ بھی شروع ہوا تاکہ وہ کوئی ہنر سیکھ کر اپنا روزگار حاصل کرسکیں۔ 2012 میں ایک طبی مرکز قائم کیا گیا، جہاں بچوں اور مقامی لوگوں کو کم خرچ پر طبی سہولتیں ملنے لگیں۔ طلبہ کے لیے معائنے کی فیس بھی معاف رکھی گئی۔ بعد میں مریدکے میں دوسرا اسکول قائم ہوا اور 2023 میں ایک بڑے نئے تعلیمی کیمپس کی بنیاد رکھی گئی۔ عالم بی بی فاؤنڈیشن کے 2024 کے ریکارڈ کے مطابق اس کے دو کیمپس میں تقریباً ایک ہزار طلبہ زیرِ تعلیم تھے، جبکہ ادارے کے کھانے کے منصوبے سے مجموعی طور پر تقریباً دس لاکھ کھانے فراہم کیے جاچکے تھے۔ یہ وہی کوشش تھی جس کی ابتدا ایک درخت کے نیچے چند بچوں کو پڑھانے سے ہوئی تھی۔ فرح دیبا اکرم کی کہانی کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ اس نے ایک بچے کی خواہش کو معمولی بات سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا۔ بچے نے بسکٹ کے بجائے کاپی اور پنسل مانگی تھی، اور فرح نے اس کی بات کو سنجیدگی سے لیا۔ آج اسی فیصلے سے سینکڑوں بچوں کے لیے تعلیم کے دروازے کھلے ہیں۔ ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ دوسروں کی زندگی بدلنے کے لیے بہت زیادہ پیسے یا وسائل چاہییں، مگر کبھی کبھی اس کی ابتدا صرف اتنی سی بات سے ہوتی ہے کہ ہم کسی بچے کی خواہش سنیں اور اسے پورا کرنے کی کوشش کریں۔
8
118
2
444
14,478
پاکستان کا ناسور دیسی فرنگی جرنیل ھیں۔
63
642
9
1,881
131,323
Silent voice retweeted
یورپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دے دیا۔ اس کے ایک بڑے پوسٹر کی گزشتہ روز نقاب کشائی کی گئی۔* *دنیا بھر میں وائرل کریں۔۔۔* *اسکو ساری دنیا میں وائرل کرنا اب ہم سب کی ذمّہ داری ہے۔ #اسرائیل_دہشتگرد_ریاست
10
415
1
635
5,894
Silent voice retweeted
Will one day Pakistani Dictators face this End? Maryam Nawaz has started the process of “Rapid Justice” فوری انصاف
This Post is from a suspended account. Learn more
57
360
3
1,446
67,017
اس قدر پر تشدد امتحان ہے اگر کوئی سچی محبت رشتوں کا احترام کرنا جانتا ہوگا اور غیرت مند شخص ہوگا تو اپنے خاندان کو بکھرنے سے بچانے کے لئے سب کے ساتھ ڈوب جائے گا
اپنی رائے کمنٹ دیں @bisma80466172
11
افغانستان سے 600 ٹن سے زیادہ کاٹن بزریعہ ریل ترکی کیلئے روانہ صفر سے سپر فاسٹ ترقی کا حیران کن سفر ایک وقت تھا جب پاکستان میں مشہور زمانہ پروگرام نیلام گھر (طارق عزیز شو) میں یہ سوال پوچھا جاتا تھا دنیا کا وہ کون سا ملک ہے جہاں ایک کلومیٹر بھی ریلوے لائن (ریلوے نظام) نہیں ہے؟ اور اس کا جواب ہوتا تھا افغانستان اور ہمارے دانشور تو تورخم بارڈر کی بندش سے افغانستان کو گھٹنوں پر لانے کی لوریاں سناتے سناتے ہمارے معیشت کو گھٹنوں پر لاکر کھڑا نہ ہونے کے قابل کر گئے۔ لیجئے! آج تاریخ نے اپنے آپ کو بدل دیا ہے اور وہ بھی اس تیزی سے کہ عقل حیران رہ جائے آج کا افغانستان صرف ریلوے سے جڑا ہی نہیں بلکہ عالمی تجارتی شاہراہوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں افغانستان سے کپاس (روئی) اور خشک میوہ جات خربوزے سے بھرا ایک بڑا تجارتی ریل ٹرک روانہ ہوا، جو ایران کے ریلوے نیٹ ورک کے ذریعے سیدھا ترکی تک سامان پہنچا رہا ہے۔ یہی کپاس کوئلہ خشک میوہ جات اور دیگر اشیاء مقامی لوگ گاڑیوں میں لاد کرکے افغانستان باڈر چمن سے ایک کلو میٹر اندر افغانستان سے لوڈ کرتے اور باڈر کراس کرکے چمن میں کلیئرنگ کرتے پھر 3 دن سفر کرکے فیصل آباد اور گجرانوالہ اور ملتان کے ملوں میں خالی کرتے تھے جس سے ہزاروں خاندانوں کی روزئ روٹی لگی تھی اور پاکستانی معیشت پر مثبت اثرات تھے۔ لیکن بات صرف ترکی تک محدود نہیں ہے ایران کے ساتھ کنیکٹیوٹی ریلوے کے ذریعے اب افغانی مال کی رسائی مشرق وسطیٰ اور یورپ تک ہو رہی ہے وسطی ایشیا اور چین کا منصوبہ ترکمانستان، تاجکستان اور چین کو ملانے والے تاریخی ریلوے منصوبے اور اسٹیشنز پر بھی تیزی سے کام جاری و سار ہے جس ملک کے بارے میں سوچا جاتا تھا کہ وہ زمینی بندش (Landlocked) کا شکار ہے، آج وہی افغانستان وسطی ایشیا اور جنوب ایشیا کو یورپ سے جوڑنے والا سب سے بڑا تجارتی پل بن چکا ہے ترقی کسی کی جاگیر نہیں ہوتی نیت حکمت عملی اور مسلسل محنت ہو تو ریگزار بھی خوشحالی کے راستے بن جاتے ہیں۔ افغانستان کا یہ معاشی و تجارتی سفر واقعی ناقابلِ تصور اور شاندار ہے انصاف اولین چیز ہے جو افغانستان کی حکومت نے اپنایا ہوا ہے اور اس کے بعد محنت اور خلوص کے ساتھ خدمت اس کا صلہ اللّٰه ضرور دیتا ہے اور وہ دن دور نہیں جب افغانستان خطے میں ایک بڑی معیشت اور طاقت بن کر ابھرے گا افغانستان میں رشوت کی سطح نہ ہونے کے برابر (زیرو) ہے وہاں نہ CSS کے شاہانہ افسران ہیں اور نہ ہی FBR جیسا نظام وہاں کے جج 30 30 لاکھ تنخواہیں نہیں لیتے اور نہ حکمران 12 ارب کے جہازوں میں گھومتے ہیں وہاں کی اعلیٰ افسر شاہی کے 24 ہزار افسران کے پاس دوہری شہریت بھی نہیں ہے
1
25
80
3,152
یہ ہے اوقات گورنر کی رکشہ ایسوسی ایشن کے صدر کا بیان اس کنڈی کھول گورنر سے لاکھ درجے قابل تحسین ہوگا زیادہ سمجھداری کا ہو گا
خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے بعد اب بات رکشوں اور ہیجڑوں کی رجسٹریشن پر آ گئی ہے، دہشتگردی گئی تیل لینے
1
1
21
وہ پوچھنا یہ تھا کہیں 90 فیصد بچے اپنے اصل باپ کی کوششوں سے پیدا ہوئے ہیں یا آپ جیسے لوگوں کی اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے
غریدہ فاروقی کے اس بیان کے بارے میں آپ کی رائے ،؟ میری رائے تو صاف ہے کہ ایک ٹوئیٹ کے 5 لاکھ روپے بس اسی پیسوں سے بچے پیدا ہو رہے ہیں وہ بھی عااصم نام کہ🥳🤪
2
33
یہ بھی گیو پولیس پر اس کے ساتھیوں کے حملہ آور پولیس مقابلے میں
سگریٹ کا دھواں روکا تو تشدد کی آگ بھڑک اٹھی، چوہنگ پولیس کی کارروائی، پٹرول پمپ ورکر پر تشدد اور سنگین دھمکیاں دینے والا ملزم گرفتار۔ حفاظتی ایس او پیز کے تحت سگریٹ نوشی سے منع کرنے پر ملزم نے ورکر کو تشدد کا نشانہ بنایا اور فرار ہو گیا۔ پولیس نے گاڑی کی مدد سے ملزم کا سراغ لگایا، دورانِ گرفتاری مزاحمت کرنے والے ملزم کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا۔ ملزم کے خلاف مقدمہ درج۔ #Digoperations #LahorePolice #PunjabPolice #لاہورپولیس #lahore #لاہور #ہمارے_شہداء_ہمارا_فخر
15
Silent voice retweeted
بڑی بڑی پھپھے ُکٹنیاں دیکھی ہیں ، مگر یہ وسیم والے معاملے نے تو مجھے بھی ورطہ حیرت میں ڈال دیا ، وسیم وہ لڑکا ہے جِسے توقیر نے رائل آرچرڈ سوسائٹی میں اپنی گاڑی تلے کچل دیا تھا ، ملزم پکڑا گیا، فل فرائی ہو گیا ، خیر تھوڑا سا پیچھے چلتے ہیں یہ تصویر میں آنسو بہاتی ہوئی عورت وسیم کی والدہ ہے۔ اس نے دوسری شادی کر لی تھی اور نئے شوہر نے جو کہ چچا ہی لگتا تھا ، اپنے بھائی کے کمسن بیٹے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ، اب وسیم کو یتیم خانے میں جمع کروا دیا گیا ، اور بھول گئے کہ ہمارا کوئی بیٹا وسیم بھی تھا ، وسیم نے اپنا بچپن یتیم خانے میں گزارا ماں کی محبت اور باپ کی شفقت کے بغیر ، بہن کے پیار اور بھائیوں کے ہنسی مذاق کے بغیر ، تھوڑا بڑا ہوا تو الیکٹریشن کا کام سیکھنے لگا ، جس نے کچلا وہ وسیم کا ٹھیکدار تھا ، کام کے دوران بے جا سختی نے وسیم کو بد دل کر دیا ، اور کہا جا رہا ہے کہ دوران کام اسے ہراساں بھی کیا جاتا رہا ، جس کی وجہ سے وہ کام چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا اور توقیر ٹھیکدار نے گاڑی لے کر پیچھا کیا اور کچل دیا۔۔! وسیم زندہ تھا تو کوئی اسے پوچھنے والا نہیں تھا ، جیسے ہی وہ مرا ، کونوں کھدروں سے اس کے رشتے دار نکل آئے۔ وہ جیسے بارش کے بعد مینڈک نکل آتے ہیں اور لگتے ہیں ٹرٹرانے، یہاں تک کہ بچے کا ننھیال اور نانا بھی صحیح سلامت ہے وہ سب مل کر بھی اپنے گلشن کے پھول کو نہ سنبھال سکے اب یہ عورت دہائیاں دے دے کر ٹسوے بہا رہی ہے اور عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کر رہی ہے، یہ کوشش ہے امدادی رقم حاصل کرنے کے لیے، میرے خیال میں انہیں بالکل بھی رقم نہیں دی جانی چاہیے بلکہ ان رشتہ داروں کو چھتر مارے جانے چاہییں جنہوں نے اسے یتیم خانے میں ڈال دیا اور پھر خبر ہی نہ لی۔۔! آپ کیا کہتے ہیں ؟ منقول
137
259
18
1,164
50,248
چلیں جی آج ایک سروے ہوجاۓ عورتوں میں آپ کے خیال سے ایڈمنسٹریشن کے لحاظ سے سیاست کے اعتبار سے اور شخصیت کے مطابق عوام کی خدمت کرنے میں پاکستان میں سب سے زیادہ ( پاپُولیرٹی ) مشہوری کس کو ملی؟؟ محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کو یا پھر محترمہ مریم نواز صاحبہ کو؟؟🤔
173
6
15
73
7,990
جب تک غریب اپنی غربت کاروبار روتے رہیں گے اسی طرح اشرافیہ سے سڑکوں پر اپنے گھروں کے اندر مار کھاتے رہیں گے میرے دوستوں غربت کوئی عیب نہیں ہے کوئی کمزوری نہیں ہے اپنی غربت کو اپنی بے بسی اپنی مجبوری نہیں سمجھیں اپنی خودداری کو اپنا فخر بنائیں آپ سب نے مل کر اس کو ننگا کرنا تھا
کوئ اتنا گھٹیا کیسے ہو سکتا ہے 😡 کہ أپ انسان کو انسان ہی نا سمجھیں ۔۔۔ غریب اور محنتی ہونا جرم ہو گیا ہے ۔ . یہ اشرافیہ نہیں بدمعاشیہ ہے
7
کسی مذہب کے لبادے اوڑھنے کی ضرورت نہیں ہے سارے مذاہب صرف انسانوں سے ہمدردی مصیبت میں پھنس ہوئے انسانوں کی مدد کرنا یہ ہی اصل مز ہے ہے
بھارت کے اسٹار آل راؤنڈر ہارڈک پانڈیا نے ایک تاریخی کارنامہ سرانجام دے کر سب کے دل جیت لیے۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پانڈیا نے گزشتہ 15 دنوں سے فٹ پاتھ پر سونے والے غریب محمد عاطف اور اس کی ضعیف ماں کی فریاد سن لی۔ رپورٹ کے مطابق، ممبئی کے عاطف کے والد کچھ عرصے قبل دل کے دورے کے باعث انتقال کر گئے تھے، جو ایک آٹا مل کی گاڑیوں میں لوڈنگ کا کام کرتے تھے۔ والد کی وفات کے بعد عاطف، اس کی بہن اور ماں بے سہارا ہو گئے۔ عاطف خود اسکول میں پڑھتا تھا اور حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ دو ماہ کا کرایہ ادا نہ کرنے پر مالک مکان نے ان کا سامان باہر پھینک کر گھر کو تالا لگا دیا۔ مایوسی کے عالم میں نوجوان عاطف اور اس کی بہن نے ہارڈک پانڈیا کے نام ایک اپیل کی، جو پانڈیا تک پہنچ گئی۔ پانڈیا نے فوری طور پر عاطف اور اس کے خاندان کو اپنے گھر بلایا، ممبئی میں ان کے لیے دو کمروں کا گھر خرید کر عاطف کی ماں کے نام ٹرانسفر کر دیا اور کہا: 'اب آپ کو یہاں سے کوئی نہیں نکال سکتا۔' یہی نہیں بلکہ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ جب تک عاطف کو کوئی نوکری نہیں مل جاتی، ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو بیس ہزار روپے ان کی طرف سے ملتے رہیں گے۔ اس اس فراخ دلی پر لوگ پانڈیا کو حقیقی زندگی کا ہیرو قرار دے رہے ہیں 👍♥️
21
Silent voice retweeted
This is a must listen
48
1,680
15
6,205
88,332
آلِ سعود نے اپنی مرضی کا اسلام گھڑا، اور ہم نے اسے دین سمجھ لیا جب بھی سعودی حکومت پر بات ہوتی ہے، ہمارے ہاں لوگ اس طرح تڑپ اٹھتے ہیں جیسے دین پر حملہ ہو گیا ہو۔ تو دو چیزوں کو الگ کر لیتے ہیں۔ اسلام تقریباً چودہ سو سال پرانا دین ہے۔ آلِ سعود کا مکہ پر قبضہ تیرہ اکتوبر 1924 کو ہوا اور مدینہ اگلے برس، یعنی آج سے ٹھیک ایک سو دو سال پہلے۔ اس سے پہلے مکہ کا انتظام صدیوں تک شرفائے مکہ کے پاس رہا، جن کا سلسلہ دسویں صدی تک جاتا ہے۔ یعنی اسلامی تاریخ کے تقریباً نوے فیصد عرصے میں مکہ اس خاندان کے بغیر تھا۔ یہ خاندان آیا کہاں سے؟ 1744 میں درعیہ کے مقام پر محمد بن سعود اور محمد بن عبدالوہاب کے درمیان معاہدہ ہوا۔ ایک کے پاس تلوار تھی، دوسرے کے پاس منبر۔ طے یہ پایا کہ حکومت سعود کی ہو گی اور مذہبی تشریح دوسرے کی۔ یہ ایک سیاسی سودا تھا۔ پھر 1979 آیا۔ ایک ہی سال میں تین جھٹکے۔ ایران میں انقلاب، خود مکہ میں حرم پر مسلح قبضہ، اور افغانستان پر سوویت حملہ۔ سعودی حکومت نے ساکھ بچانے کے لیے تیل کی دولت مذہبی برآمد پر لگا دی۔ اس خرچ کا کوئی سرکاری حساب نہیں، کیونکہ سعودی عرب نے اعداد و شمار کبھی شائع نہیں کیے۔ مگر محقق جیمز ڈورسی کے مطابق اندازہ یہ ہے کہ 1973 کے تیل بحران کے بعد کی دہائیوں میں دنیا بھر کے مذہبی اور ثقافتی اداروں پر پچھتر سے سو ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ رابطہ عالم اسلامی 1962 میں بنی اور ہر اس خطے میں دفتر کھولا جہاں مسلمان آباد تھے۔ 1975 سے 2000 کے درمیان سعودی سرکاری فنڈ سے دنیا بھر میں پندرہ سو سے زائد مساجد بنیں، اور ساتھ مدارس، جامعات، وظائف اور میڈیا۔ سب سے بڑا میدان پاکستان تھا۔ 1947 میں یہاں ایک سو نواسی مدارس تھے۔ 1971 میں تقریباً نو سو۔ 1988 میں، ضیا کے دور کے اختتام پر، آٹھ ہزار سے زائد رجسٹرڈ اور تقریباً پچیس ہزار غیر رجسٹرڈ۔ اور 2023 کی مردم شماری میں چھتیس ہزار تین سو اکتیس۔ یہ خود بخود نہیں ہوا۔ اسی کی دہائی میں سعودی عرب نے ایران کے اثر کو روکنے کے لیے مخصوص مسلک کے مدارس پر بھاری رقم خرچ کی۔ دو ملکوں کی لڑائی کا میدان ہمارے محلے بنا دیے گئے۔ 2008 کے ایک امریکی سفارتی مراسلے میں خبردار کیا گیا کہ سعودی مدد سے چلنے والے مدارس ان علاقوں میں بھی شدت پسندی پھیلا رہے ہیں جو پہلے معتدل تھے۔ پنجاب پولیس نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ صوبے کے دو تہائی سے زائد خود کش حملہ آور مدارس سے پڑھے تھے۔ اور اعتراف خود اسی خاندان نے کیا۔ 2018 میں محمد بن سلمان نے کہا کہ وہابیت کی اشاعت سرد جنگ کے دوران مغربی اتحادیوں کی خواہش پر کی گئی تھی۔ اگر وہ عقیدہ تھا، تو کسی اتحادی کی خواہش پر کیوں پھیلایا گیا؟ اور اگر آج وہی خاندان کنسرٹ، سینما اور ریزارٹ بنا رہا ہے، تو کیا بدلا؟ دین نہیں، پالیسی۔ جو چیز ضرورت کے ساتھ بدل جائے، وہ عقیدہ نہیں، حکمت عملی ہوتی ہے۔ اصل بات ہم نے دین، حرمین اور ایک حکمران خاندان کو ایک ہی چیز سمجھ لیا ہے۔ حرمین دنیا بھر کے مسلمانوں کے ہیں، حکومت ایک خاندان کی ہے۔ اسی لیے جب وہ حکومت دو غیر ملکیوں کی گردن اتار دے اور جرم تک نہ بتائے، تو اس پر سوال کرنا دین پر سوال نہیں، ایک ریاست پر سوال ہے۔ اور آخری بات اپنے بارے میں۔ یہ پیسہ کسی نے زبردستی نہیں تھمایا تھا۔ ضیا الحق اور اس کے جرنیلوں نے یہ سودا خوشی سے کیا، دوسروں کی جنگ اپنی زمین پر لڑنے کے لیے۔ سعودی عرب نے پیسہ دیا، امریکہ نے فرمائش کی، اور لاشیں ہماری تھیں۔ آج وہ دونوں آگے بڑھ چکے ہیں۔ ہم اب بھی وہیں کھڑے ہیں، اپنے مسلکوں میں بٹے ہوئے، اور ہر بم دھماکے کے بعد پوچھتے ہیں کہ یہ سب شروع کہاں سے ہوا تھا۔ حوالہ: معید پیرزادہ کی تحقیق، جیمز ڈورسی، ژیل کیپل، ڈیوڈ کمنز، نیو یارک ٹائمز تحریر: محمد فرخ Muhammad Farrukh #Democracy #Pakistan #Politics
20
55
4
174
8,372
ایسے قانون جب قابل قبول ہوں گے کہ جب کوئی غوری چمڑی والے جوڑے کو ایسی کسی حرکت کرتے ہوئے غوری چمڑے والے جوڑے کے سر قلم کرنے کی جرات دکھائیں گے سر قل بھی پاکستانی بنگلہ دیشی افغانیوں اور ایسے غربت سے اور تنگ آئے ہوئے ممالک کے باشندوں کے کئے جاتے ہیں
😡یہ جرم ایسا نہیں تھا کہ سر تن سے جدا کر دیا جاتا۔ یہ صرف خارجیوں کا تصور اور نظریہ ھے😡 یہ نئی نویلی دلہن اپنے شوھر کے ساتھ اگر ہنی مون منانے جاتی تو شاید زندہ بھی رہتی اور خوشحال بھی۔ لیکن انہوں نے ہنی مون کے بجائے عمرہ کا انتخاب کیا اس سوچ سے کےنئی زندگی کا آغاز خدا کے گھر سے کیا جائے۔ لیکن سعودیوں نے اس نئے نویلے بنگلادیشی جوڑے پر توہین کا الزام لگا کر سر تن سے جدا کردیا۔ کیونکہ اسکے خاوند نے کسی مسجد میں اپنی ھمسر کے ماتھے کو چوما اور کسی پاکستانی دلال نے ویڈیو بنا کر سیکیورٹی اہلکاروں کو بھیج دی۔ اگر اس گناہ کی یہ سزا ہے تو ٹرمپ کے اگے عورتیں نچوانے والے اور کعبہ کی شبیہہ پر شکیرا کو نچوانے والے کیوں زندہ ہیں۔ اس نام نہاد توحید کے نام پر امریکہ و اسرائیل کے دلال ملک نے رونالڈو کو سائن کرنے کی خاطر ملکی قانون کو بدل دیا تھا جسکے مطابق بغیر نکاح کے ریلیشن میں رہنا بھی جائز قرار دیا گیا۔ لیکن چونکہ یہ غریب تھا شاہی حکم پر موت کے گھاٹ اتاردیا گیا آل سعود کی بادشاہی میں یہود کعبتہ اللہ میں گھومتے ہیں جبکہ مسلمانوں کو زبح کردیا جاتا ہے۔۔
12
چھوارے کا تگڑا ہونا ضروری ہے نہیں تو کھجوریں باغ سے ر چلتا پھرتا کھاتا جائے گا
میں چاہتا ہوں میرے بھی ایسے ہی کھجوروں کے باغات ہو...!!! جو تم سمجھ رہے وہ بھی ٹھیک ہے 🥱
1
1
29
کراچی میں ایک فوڈ ڈیلیوری رائیڈر صبح سے لگاتار لوگوں کے لیے کھانا پہنچا رہا تھا، لیکن خود اس نے آج کچھ بھی نہیں کھایا تھا ۔ جب وہ فوڈ ڈیلیوری لے کر ایک گھر میں گیا تو گھر والے اس کی پریشانی اور نقاہت بھانپ گئے ۰۰۰۰۰ چنانچہ انہوں نے اسے اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی جسے اس رائیڈر نے بڑی ہچکچاہٹ کے ساتھ قبول کرلیا ۰۰۰۰۰۰۰۰ رائیڈر جب کھانا کھانے لگا تو جذبات میں اسکے آنسوُ نکل پڑے اور کہنے لگا کہ "آج صبح سے میں نے کچھ نہیں کھایا تھا، کام میں اتنا مصروف رہا کہ بھوک ہی بھول گیا" ۔ اس پر گھر والوں نے اسے یقین دلایا کہ فکر نہ کریں آج آپ ہمارے مہمان ہیں اور ہمارے ساتھ کھانا کھائیں ۔ سبحان اللّہ ❤️😍
19
67
2
284
4,027
تین فاتح، ایک ہی انجام - جب طاقت دماغ کی ایک شریان سے ہار گئی دوسری جنگ عظیم نے 7 کروڑ لاشیں چھوڑیں۔ اس جنگ کے بعد دنیا کا نقشہ تین آدمیوں نے بنایا تھا - واشنگٹن میں روزویلٹ، لندن میں چرچل، اور ماسکو میں سٹالن۔ دنیا انہیں "بگ تھری" کہتی تھی۔ تاریخ کا عجیب اتفاق دیکھیں کہ جن تین ہاتھوں نے دنیا بانٹی، ان تینوں کا خاتمہ ایک ہی ہتھیار سے ہوا - فالج۔ نہ گولی، نہ بم، نہ عدالت۔ صرف دماغ کی ایک باریک شریان۔ روزویلٹ - جو فتح دیکھے بغیر مر گیا موت: 12 اپریل 1945 | عمر: 63 سال | وجہ: دماغ کی شریان کا پھٹنا فرینکلن ڈی روزویلٹ امریکہ کا سب سے طویل عرصہ حکومت کرنے والا صدر تھا۔ اس نے امریکہ کو معاشی بحران سے نکالا اور جنگ جتوائی۔ لیکن اسی نے وہ فیصلے بھی کیے جن سے لاکھوں عام لوگ مارے گئے۔ جاپانی نژاد ایک لاکھ امریکی شہریوں کو صرف ان کی شکل کی وجہ سے کیمپوں میں قید کرنا، اور جاپان پر ایٹم بم گرانے کی منظوری - جس کے منصوبے پر اس کے دور میں کام شروع ہوا تھا - یہ دونوں اس کے دامن پر داغ ہیں۔ ہیروشیما اور ناگاساکی میں 2 لاکھ 20 ہزار لوگ لمحوں میں خاک ہو گئے، جن میں 90 فیصد عام عورتیں اور بچے تھے۔ اس کا بلڈ پریشر آخری دنوں میں 300/190 تھا۔ ڈاکٹروں نے اسے چھپایا۔ جارجیا میں وہ ایک تصویر بنوا رہا تھا، اچانک بولا "میرے سر کے پیچھے شدید درد ہے" اور کرسی پر ہی ڈھیر ہو گیا۔ وہ جنگ کا اختتام نہ دیکھ سکا۔ سٹالن - جو اپنے محافظوں کے ڈر سے مر گیا موت: 5 مارچ 1953 | عمر: 74 سال | وجہ: دماغی فالج اور خون کا رساؤ جوزف سٹالن نے ہٹلر سے بھی زیادہ اپنے لوگوں کو مارا۔ مورخین 2 کروڑ اموات کا ذمہ دار اسے ٹھہراتے ہیں۔ یوکرین میں جان بوجھ کر قحط (Holodomor) پیدا کر کے 40 لاکھ کسانوں کو بھوکا مارنا، اپنی ہی فوج کے 10 لاکھ سپاہیوں کو "بزدلی" کے الزام میں گولی مروانا، اور سائبیریا کے گلاگ کیمپوں میں 60 لاکھ لوگوں کو سڑا دینا - یہ سب اس کے کارنامے ہیں۔ اس کی موت اس کے خوف کی علامت تھی۔ اپنے کمرے میں وہ فرش پر پیشاب میں لت پت گرا پڑا تھا۔ اس کے محافظ 12 گھنٹے تک کمرے میں داخل ہونے کی ہمت نہ کر سکے، کیونکہ سٹالن سوتے ہوئے جگانے پر بھی لوگوں کو مروا دیتا تھا۔ جب ڈاکٹر آئے تو بہت دیر ہو چکی تھی۔ فالج نے اسے 4 دن تک بے زبان، ایک آنکھ کھلی اور ایک بند حالت میں تڑپایا۔ وہ شخص جو ایک دستخط سے لاکھوں کو مرواتا تھا، اپنے لیے پانی بھی نہ مانگ سکا۔ چرچل - جو بنگال کے قحط پر قہقہہ لگاتا رہا موت: 24 جنوری 1965 | عمر: 90 سال | وجہ: فالج کا شدید حملہ برطانیہ کے لیے وہ شیر تھا، ہندوستان کے لیے قصائی۔ 1943 میں جب بنگال میں چاول کی کمی ہوئی تو چرچل نے وہاں سے اناج نکال کر دوسری جنگ عظیم میں لڑنے والے برطانوی فوجیوں کے لیے بھیج دیا۔ 30 لاکھ بنگالی بھوک سے مر گئے۔ جب اسے بتایا گیا تو اس نے کہا "بنگالی خرگوشوں کی طرح بچے پیدا کرتے ہیں، اس لیے قحط آیا ہے"۔ اس نے کینیڈا اور امریکہ سے آنے والی امداد کو بھی روک دیا۔ وہ سب سے لمبا جیا، لیکن انجام وہی۔ 10 جنوری 1965 کو لندن میں اپنے گھر میں اسے فالج کا حملہ ہوا۔ 15 دن تک وہ بستر پر پڑا رہا - نہ بول سکتا تھا، نہ کسی کو پہچان سکتا تھا۔ 24 جنوری کو صبح 8 بجے، جس دن اس کے باپ کی موت ہوئی تھی، وہ بھی مر گیا۔ تین آدمی، تین سلطنتیں، تین ایٹم بم جتنی طاقت - اور موت ایک جیسی۔ ڈاکٹر کہتے ہیں فالج مسلسل غصے، بے خوابی، شراب نوشی اور اقتدار کے دباؤ سے آتا ہے۔ یہ تینوں اسی زہر میں جیتے رہے۔ قدرت نے بتایا کہ تاریخ کا سب سے بڑا فاتح بھی دماغ کی ایک 2 ملی میٹر کی نالی سے بڑا نہیں ہوتا۔ جب وہ نالی بند ہوتی ہے تو دنیا کو حکم دینے والا ہاتھ، ایک گلاس پانی اٹھانے کے قابل بھی نہیں رہتا۔ #موناسکندر
7
59
1
225
13,628