نہ سراوان کے سردار کام آئے،نہ جھالاوان کے سرداروں نے کچھ کیا،لیکن سیکیورٹی فورسز نے خان آف قلات کے فرزند کو بی ایل اے سے بازیاب کرالیا۔
قلات کے شاہی دربار کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ خان آف قالات کے فرزند آغا محمد خان احمد زئی بحفاظت محل پہنچ چکے ہیں۔
کچھ روز قبل ولی عہد کو بی ایل اے نے اغواء کرلیا تھا،کل ہی ولی عہد کی اہلیہ نے سراوان اور جھالاوان کے سرداروں کو جھنجھوڑا تھا۔
آواران میں دہشتگردوں کا ڈرون سے شکار کرنے کا سلسلہ جاری ہے،فورسز کی جدید ٹیکنالوجی سے کوئی دہشتگرد محفوظ نہیں ہے۔
بلوچ شناخت کے دشمن بی ایل اے کے کارندوں نے مقامی ڈرائیور کا واحد ذریعہ معاش ٹرک نذر آتش کردیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق بی ایل اے کے کارندے ٹرک ڈرائیورز سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اُن کے لئے سہولت کاری کی جائے،ان کا سامان،اسلحہ یا دیگر تخریب کاری کا سازوسامان ترسیل کیا جائے،انکار پر ٹرک کو جلادیا جاتا ہے۔
بی ایل اے کے کارندوں نے نصیرآباد کے علاقے نوتال سے 2 کاشتکاروں کو محض اس لیے اغواء کرلیا کیوں کہ انہوں نے منشیات کی فصل کاشت نہیں کی۔
بلوچستان حکومت کی جانب سے منشیات کے خلاف سختی سے قبل بی ایل اے کے کارندے مقامی کاشتکاروں کو ڈرا دھمکاکر منشیات کی کاشت کراتے تھے اور پھر اُس فصل کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔اسمگلنگ کی جاتی تھی اور مال بنایا جاتا تھا
اے این ایف نے دیگر اداروں کیساتھ ملکر جب سے بی ایل اے کا پیسہ بنانے کا یہ نیٹ ورک توڑا ہے وہ مشکلات کا شکار ہیں
خان آف قلات کی بہو نے بلوچ سرداروں،نوابوں خاص طور پر سراوان اور جھالاوان کے چیف اخترمینگل اور ثناءاللہ زہری کی بزدلی سے پردہ اٹھایا ہے۔
خان آف قلات کی بہو کا بیان قلات کے شاہی دربار سے جاری ہوا ہے جس میں بلوچ سرداروں اور نوابوں کو جھنجھوڑا گیا ہے کہ خان آف قلات کے بیٹے کو بی ایل اے نے اغواء کرلیا ہے اور نام نہاد سردار خاموش بیٹھے ہیں۔
اہلیہ ولی عہد شہزادہ پرنس محمد خان احمدزئی (دختر شہزادہ موسیٰ جان احمدزئی) نے ایک انتہائی اہم اور تشویشناک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے شوہر، ولی عہد شہزادہ پرنس محمد خان احمدزئی کو لاپتہ ہوئے تین روز سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے، جس سے پوری فیملی اضطراب اور ذہنی کرب میں مبتلا ہے
انہوں نے اپنے بیان میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ لاپتہ ہونے کے دن ان کا اپنے شوہر سے رابطہ ہوا تھا، جس میں انہوں نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ آپ لوگ پریشان نہ ہوں، میں جلد واپس آؤں گا۔ تاہم، اس بات کو آج تین مکمل روز گزر چکے ہیں لیکن ان کا کوئی سراغ نہ مل سکا ہے اور نہ ہی ان سے دوبارہ کوئی رابطہ ہو پایا ہے۔
اہلیہ پرنس محمد خان احمدزئی نے بحیثیت زوجہ اور تمام بلوچ اقوام کی بہن اور بیٹی کی حیثیت سے بلوچستان کی تمام مسلّح تنظیموں اور سرکاری و سلامتی کے اداروں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس تمام صورتحال کو واضح کریں تاکہ ان کا خاندان اس مسلسل قرب اور پریشانی سے باہر نکل سکے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ احمدزئی خاندان کی بلوچستان، اس کی عوام اور سر زمین کے لیے تاریخی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔
اس نازک وقت میں، انہوں نے بلوچستان کے تمام نوابوں، سرداروں، سیاسی رہنماؤں اور معتبرین سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بااثر کردار اور جدوجہد کو ببروئے کار لائیں تاکہ ولی عہد شہزادہ پرنس محمد خان احمدزئی کی جلد از جلد باحفاظت بازیابی ممکن ہو سکے۔
بلوچستان میں تعلیمی اداروں کی سولرائزیشن کا سلسلہ جاری، ہوشاب کے سرکاری اسکول میں منصوبہ مکمل
بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (بی ایس ڈی آئی) کے تحت صوبے کے تعلیمی اداروں میں بجلی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے سولرائزیشن کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔
بی ایس ڈی آئی فیز ون کے تحت ضلع کیچ کے علاقے ہوشاب میں گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا منصوبہ مکمل کرلیا گیا ہے۔
منصوبے پر مجموعی طور پر 50 لاکھ روپے خرچ کیے گئے، جبکہ تعمیراتی و تنصیبی کام فروری 2025 میں شروع ہوکر جون 2025 میں مکمل ہوا۔
خاران میں بی ایل اے کی جانب سے بھجوائے گئے 5 ڈرون گرادیے گئے،ڈرونز کا ہدف عوامی املاک تھی،سیکیورٹی فورسز نے فوری ردعمل دیتے ہوئے پانچوں ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی مار گرایا۔مقامی عمائدین نے سوالات اٹھائے ہیں کہ بی ایل اے کے پاس ڈرونز کہاں سے آئے؟ کیا بھارت نے ڈرون فراہم کیے ہیں؟
خان آف قلات کا بیٹا اغواء ہوگیا،جھالاوان اور سراوان کے سردار اخترمینگل اور ثناءاللہ زہری بزدل ٹھہرے،کچھ نہ کرپائے۔بلوچ عوام کو بی ایل اے نے لوٹا کچھ نہ کیا۔
اسماءجتک کیس میں سرداروں کے سیکیورٹی گارڈملوث نکلے،مولانا ہدایت الرحمان نے سرداروں کے اصل چہرے سے پردہ اٹھایا ہے اور بتایا ہے کہ سینکڑوں سردار ہیں اِن ایک سو سرداروں نے بلوچستان کی بیٹی اسماء جتک،والد،ماموں کی حفاظت کی؟ تم سردار قاتلوں کیساتھ ہو۔
سراوان اور جھالاوان کے سرداروں میں پریس کانفرنس تک کرنے کی ہمت نہیں ہوئی
ایک نواب کا داماد ایک MPA کی بات کو برداشت نہیں کرتا،یہ عام بلوچ عوام کیساتھ کیا کرتے ہوں گے؟ کیوں کہ جمیعت علمائے اسلام (مولانا فضل الرحمان) نے انہیں چوک سے لاکر MPA بنایا،ان کی تربیت چوک والی،میں چوک والا نہیں ہوں،میری تربیت جماعت اسلامی نے کی ہے،مولاناہدایت الرحمان
یہ تربت کا سہیل بہرام ہے،سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کا ملازم ہے،سہیل کو قریبی رشتے دار جو بی ایل اے کا حصہ تھا،دھوکے سے بہکایہ،جھوٹ بولے،لیکن جب حققیت آشکار ہوئی تو چھوڑ دیا اور قومی دھارے میں شامل ہوگیا۔
ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے اس لئے اداروں نے مجھے معاف کردیا،سہیل بہرام
کل رات خضدار سے قلات جاتے ہوئے خان آف قلات کے فرزند شہزادہ محمد خان کو بی ایل اے نے اغواء کرلیا ہے۔
مقامی اور محمد خان کے قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ بی ایل اے کی جانب سے ریاست کے خلاف بیان دینے کے لئے دباؤ ڈالا جارہا تھا۔
بی ایل اے کے حق میں بی وائی سی کی طرح بیانیہ نہ بنانے پر انہیں اغواء کرلیا گیا،مقامی عمائدین کا کہنا ہے کہ اگر خان آف قلات کے بیٹے کو یوں اغواء کرسکتے ہیں تو بی ایل اے کی نظر میں کسی عام بلوچ کی کوئی وقعت نہیں،اُن سے کوئی محفوظ نہیں ہے۔یہ اپنے عزائم کی خاطر کسی کو بھی نقصان پہنچاسکتے ہیں۔
دوسری جانب یہ سوالات بھی اٹھائے جارہے ہیں کہ مگسی سمیت دیگر کئی قبائل بی ایل اے کے خلاف پہلے ہی ریاست کے شانہ بشانہ لڑرہے ہیں،اب سراوان اور جھالاوان کے سردار کیا کریں گے؟ اخترمینگل اور نواب ثناءاللہ خان زہری بلوچ شناخت کی جنگ لڑیں گے یا پھر روایتی بزدلی کا مظاہرہ کیا جائے گا؟
یہ ہے گوادر کا اصل چہرہ!
یہ 14 سالہ حفصہ نثار ہے جو 120 لڑکوں کو فٹبال سکھاتی ہے،کوچنگ کے ساتھ ساتھ حفصہ خود بھی ایک فٹبالر ہے،حفصہ نثار بلوچستان اور گوادر کا اصل چہرہ ہے،بی ایل اے کی بلقیس نہیں۔
گوادر کی بچیاں حفصہ کی طرح بننا چاہتی ہیں انہیں کسی بھی ریاست مخالف بیانیے میں دلچسپی نہیں ہے
وڈھ اور کچھی میں مقامی افراد کی جانب سے شکایات موصول ہورہی تھیں کہ بی ایل اے کی کارندے عوامی املاک کو نقصان پہنچارہے ہیں
گزشتہ دنوں ایک عوامی سہولت کے لئے تعمیر کیے گئے پُل کو بھی تباہ کیا تھا
سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات پر آپریشن کیا،جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بی ایل اے کے کارندوں کے خفیہ ٹھکانوں کا پتہ لگایا اور کارروائی کرکے مجموعی طور پر 9 کارندوں کو ہلاک کردیا،خفیہ ٹھکانے تباہ کردیے۔
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ڈھابے پر کام کرنے والے یتیم بچے منیر احمد سمیت پانچ بہن بھائیوں اور ان کی والدہ کی کفالت کی ذمہ داری اٹھا لی۔
سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد وزیراعلیٰ نے منیر احمد سے ملاقات کی اور پانچوں بہن بھائیوں کے تعلیمی اداروں میں داخلے اور رہائش کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے ذاتی خرچ پر بچوں کے لیے موسم سرما کے کپڑوں کی خریداری بھی کروائی اور ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
#balochistan
نوشکی میں بی ایل اے کی جانب سے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج پر حملہ کیا گیا ہے،طالبات کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی گئی،طالبات کی مزاحمت پر بی ایل اے کے بزدل کارندے 3 طالبات کو زخمی کرکے فرار ہوگئے۔
عینی شاہدین کے مطابق بی ایل اے کے کارندے طالبات کو تعلیم سے دوری اختیار کرنے اور پہاڑوں پر جانے کے لئے دباؤ ڈالتے رہے۔
بلوچستان اسمبلی میں سرداری نظام کے خاتمے کی قرار داد پیش کی تو پیپلزپارٹی،مسلم لیگ ن سمیت کسی جماعت کو تکلیف نہیں ہوئی لیکن جمیعت علمائےاسلام کے ارکان کو بڑی تکلیف ہوئی،مجھے ان کی حالت پر بہت رحم آیا،مولانا ہدایت الرحمان
یہ وہی پہاڑ ہیں جہاں آنے کا چیلنج ماہرنگ بلوچ دیا کرتی تھی،فورسز کو للکارا جاتا تھا کہ اِن پہاڑوں تک رسائی نہیں،نہ ہی آسکتے ہیں۔آج وہاں فورسز کے جوان تو موجود ہیں لیکن ماہرنگ کے ساتھی بشیر زیب اور اللہ نذر کہیں نظر نہیں آرہے
بلوچستان میں کہیں بھی دہشتگردوں کی نقل و حرکت محفوظ نہیں ہے،ہر جگہ وہ نگرانی میں آجاتے ہیں اور پھر جب کارروائی ہوتی ہے تو فرار کی کوشش کرتے ہیں جو ناکام ہوجاتی ہے اور مارے جاتے ہیں۔
گوادر کے عوام نے بی ایل اے اور بی ایل ایف کے سوشل میڈیا مواد سازی کی منصوبہ بندی کو بھی ناکام بنادیا ہے۔
معمول سے ہٹ کر عوام باہر نکلے ہیں،معمولات زندگی رواں دواں ہیں،کہیں دہشتگردوں کا ڈر نظر نہیں آرہا۔
تربت سے تعلق رکھنے والی اس خاتون نے پریس کانفرنس کرکے بتایا ہے کہ اُس کا بھائی تعلیم کے حصول کے لئے گھر سے گیا تھا لیکن بعد میں لاپتہ ہوگیا،پھر پتہ چلا کہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں شامل ہوچکا ہے۔
بی ایل اے ایسے ہی بلوچ نوجوانوں کو نشے پر لگاکر گمراہ کرکے بلوچ شناخت کو داغدار کررہی ہے،اُن کی نسل کو تباہی کے دہانے پر لیکر جارہی ہے،لیکن خوش آئند امر یہ ہے کہ بلوچ عوام اس کے خلاف اب باقاعدہ کھڑے ہوچکے ہیں۔





