Khaldun Hasni (@Comrade_Bedar) header
Khaldun Hasni (@Comrade_Bedar) profile picture

Love Leads Longer

Balochistan, Pakistan
Joined July 2025
Photo by Khaldun Hasni (@Comrade_Bedar)Photo by Khaldun Hasni (@Comrade_Bedar)Photo by Khaldun Hasni (@Comrade_Bedar)Photo by Khaldun Hasni (@Comrade_Bedar)Photo by Khaldun Hasni (@Comrade_Bedar)Photo by Khaldun Hasni (@Comrade_Bedar)Photo by Khaldun Hasni (@Comrade_Bedar)Photo by Khaldun Hasni (@Comrade_Bedar)Photo by Khaldun Hasni (@Comrade_Bedar)Photo by Khaldun Hasni (@Comrade_Bedar)
Bashir Zeb commander of BLA was brought in critical condition at Mohammand International Hospital, Kandahar Afghanistan. Reports suggest that he was poisoned and is currently in a state of coma and being transferred to an Indian hospital
7
6
11
7,030
Khaldun Hasni retweeted
یہاں ایسا ہی ہوتا ہے، سب ڈی کمپنی، مرزا پور اور پاتال لوک کی کہانی ہے. ان مسلحہ تنظیموں اور خفیہ تحریکوں میں سب کا انجام ایک سا ہوتا ہے. اسلم اچھو کو بھی خودکش دھماکے میں مروایا گیا تھا، ماہرنگ کے والد ڈاکٹر غفار لانگہو کو بی ایل اے نے باقاعدہ اغواء کرکے قتل کیا تھا جسکی گواہی ماماقدیر نے دی تھی. اکبر بگٹی کے خلاف بالاچ مری سہولت کار تھا، پھر بالاچ کا قد بڑھا تو حربیار نے افغانستان میں اسکو ٹھکانے لگوایا. کوئی نظریات اور می وطن تحریک نہیں ہے مسلحہ مارکسٹس اور چے گویرا کی نظریاتی بیوائیوں کا، بھتے، منشیات کے پیسوں اور پاکستان مخالف بیرونی ایجنسیوں کے پیسوں پر بدمعاشی کا کھیل ہے. اسکا انجام موت یے، موت ہے اور موت ہے. باقی جو لوگ اختر مینگل کے اثر و رسوخ پر بدمعاشی کررہے ہیں وہ یہ یاد رکھیں کہ سلام ٹیپو کو افغانستان میں مروانے کے لئے مرتضیٰ بھٹو نے ہی سہولت کاری کی تھی. صولت مرزا کو پھانسی کی سزا ہوئی تو الطاف حسین و ایم کیو ایم نے اسے اپنا ماننے سے ہی انکار کردیا تھا. تم سب بھی کسی کے لئے بالاچ مری، سلام ٹیپو اور صولت مرزا ہو.
3
36
104
5,602
Khaldun Hasni retweeted
سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کھربوں کے بجٹ اور مسلسل وعدوں کے باوجود جو بنیادی مسائل پیپلزپارٹی حل نہ کر سکی آج جماعت اسلامی کے ایک ٹاؤن ناظم نے وہ کام کر کے دکھا دیا یہ اس بات کا واضع ثبوت ہے کہ مسئلہ فنڈز کی کمی کا نہیں بلکہ نیت اور کارکردگی کا ہے سندھ اور خصوصاً کراچی کو دہائیوں سے کھنڈر بنا کر رکھنے والوں کی بدترین گورننس، کرپشن اور نااہلی اب عوام کے سامنے پوری طرح بے نقاب ہو چکی ہے سندھ کے عوام بنیادی سہولیات، صاف پانی اور سڑکوں کو ترستے رہے جبکہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے پیپلزپارٹی حکمران صرف زبانی جمع خرچ کرتے رہے ایک منتخب ٹاؤن ناظم کا عملی کام اس بات کی گواہی ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور عوام کی خدمت کا جذبہ ہو تو کم وسائل میں بھی تبدیلی لائی جا سکتی ہے پیپلزپارٹی کی روایتی سیاست اور ناکام انتظام کاری کا دور اب ختم ہونا چاہیے سندھ کا عوام اب کھوکھلے نعروں کے بجائے صرف اور صرف حقیقی کارکردگی چاہتا ہے۔
16
27
488
موجودہ بحریہ گرین کبھی ہمارا تفریح مقام ہوتا تھا ۔ بارش میں ندیاں بہتی تھیں ۔ جنگلی جانوروں کا بسیرا تھا ۔ انہیں پھاڑوں کے بیچھ گاؤں ہوتے تھے ۔ ان ہی راستوں سے ہم آتے جاتے تھے بہت سکون ہوتا تھا ۔ کوئی ہمیں نہیں روکتا تھا جہاں مرضی ہم مال چراتے تھے ہم تھے ہمارا ہی سب کچھ تھا ۔ سب ایک دوسرے کو جانتے پہچانتے تھے ۔ اور آج وہاں بحریہ ٹاؤن ہے ۔ ہمارے خود کے راستے ہمارے لئے بند کئے جارہے ہیں ۔ اور ہمیں پوچھا جارہا ہے " تم کون ہو ۔ کہاں جارہے ہو " اور اگر کوئی غریب بکری گائے چرا رہا ہے تو اسے کہا جا رہا ہے یہاں پر اعجازت نہیں ہے یہاں سے نکالو یہاں پر نہیں چھوڑو ورنہ ہم لیکے جائیں گے ہمیں ہمارے ہی گھر میں دھمکیاں مل رہی ہے بس ہم کس سے انصاف مانگے. اللہ پاک کے فیصلے کا ہمیں بے صبری سے انتظار ہے ان شا اللہ 🤲
1
8
22
1,762
بی ایل اے کی قیادت میں تبدیلی اندرونی اقتدار کی کشمکش اور تنظیمی زوال کو بے نقاب کرتی ہے بلوچ علیحدگی پسند اور دہشت گرد تنظیموں کا بدلتا ہوا منظرنامہ قیادت کے بحران، اندرونی اختلافات اور تنظیمی کنٹرول کی کمزوری کو ظاہر کر رہا ہے۔ نام نہاد اجتماعی جدوجہد کے دعووں کے برعکس، مختلف دھڑے اب فنڈنگ، مالی وسائل، آپریشنل اختیارات اور اسٹریٹجک فیصلوں پر بالادستی کی جنگ میں الجھتے دکھائی دیتے ہیں۔ بشیر زیب کو بی ایل اے کی قیادت سے ہٹایا جانا تنظیم کے اندر موجود ایک بڑے اختلاف کو بے نقاب کرتا ہے۔ اگرچہ تنظیم کے پریس ریلیز میں اس تبدیلی کو آئینی اور باہمی رضامندی سے ہونے والا فیصلہ قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے، تاہم تنظیم کے سربراہ کی غیر معمولی انداز میں رخصتی اس فیصلے کے پس پردہ جاری اقتدار کی کشمکش کی تصدیق ہے ۔ اسی نوعیت کی اندرونی تقسیم حربیار مری کے زیرِ اثر بی ایل اے آزاد اور اس کے بیرونِ ملک سیاسی پلیٹ فارم فری بلوچستان موومنٹ (FBM) میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ متعدد استعفوں اور علیحدگیوں کے واقعات بڑھتی ہوئی اندرونی بے چینی، تنظیمی ہم آہنگی میں کمی اور حربیار مری کی قیادت کی جانب سے تنظیمی کنٹرول برقرار رکھنے کی صلاحیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ پیش رفت مختلف علیحدگی پسند دھڑوں میں ایک بار بار سامنے آنے والے رجحان کو بے نقاب کررہی ہے، جہاں قیادت کی باہمی رقابت، مالی مفادات کا ٹکراؤ، خواتین کا جنسی استحصال اور اختیارات کی جنگ ان تنظیموں کے اندرونی اتحاد اور تنظیمی ڈھانچے کو مسلسل کمزور کر رہی ہے۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ بشیر زیب کا بی ایل اے دھڑا 2017 میں تنظیم کے اندر ہونے والی تقسیم کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا، جب بشیر زیب اور اسلم بلوچ نے اصل قیادت سے علیحدگی اختیار کرکے اپنا الگ دھڑا قائم کیا تھا۔
12
8
3
21
7,528
بی ایل اے کیسے بلوچ بچیوں کو ورغلاتی ہے،شرمناک مثال سامنے آئی ہے،اس بچے کے چچا کو کچھ عرصہ قبل BLA نے خود قتل کیا اور الزام سیکیورٹی فورسز پر عائد کردیا۔ پھر اِس بچی کو واٹس ایپ پر میسج کیا کہ اگر چچا کا بدلہ لینا چاہتی ہو تو پہاڑوں پر آجاؤ۔ بچی نے دیگر بلوچ بچیوں کو نصیحت کی ہے کہ کالعدم تنظیم لڑکیوں کا فائدہ اٹھاتی ہے،ان سے دور رہیں،پڑھائی پر توجہ دیں،جو غلطی میں نے کی ہے،آپ مت کریں۔
7
94
1
177
6,691
گریٹر بلوچستان دراصل گریٹر اسرائیل کا ذیلی پراجیکٹ ہے
Similar patterns in Iranian Balochistan. Looks like Israel is finally in the game!
4
148
ایک تصویر نے لوگوں کو ششدر کر دیا ہے۔ یہ تصویر برادر عزیز حسن الیاس کی ہے جو مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کے مرقد پر اشک بار بیٹھے ہیں۔ حسن الیاس جناب جاوید احمد غامدی کے شاگرد ہیں۔ ان کا مولانا مودودی سے کیا لینا دینا؟ یہ سوال درست ہے لیکن کسی نتیجے پر چھلانگ لگانے سے قبل تھوڑا پس منظر میں جھانک لیا جائے تو بہتر ہو۔ اس دنیا میں سانس لینے والے ہر ذی روح کی ایک کہانی ہے جیسے میری اور آپ کی کہانی ہے۔ ایسی ہی ایک کہانی غامدی صاحب کی بھی ہے۔ کتابیں پڑھنے اور زندگی پر غور فکر کرنے والوں کی کہانی میں کچھ نہ کچھ نیا ضرور ہوتا ہے لیکن یہ نیا خاکہ اکثر بے رنگ رہتا ہے اگر اس کی راہ میں کوئی موڑ نہ آئے اور اس موڑ پر اس کی ملاقات کسی مرد خود آگاہ سے نہ ہو۔ جاوید صاحب کی کہانی میں بھی یہی ہوا۔ ان کی ملاقات سید ابوالاعلی مودودی سے ہوئی اور ان کی زندگی میں معنی پیدا ہونے لگے۔ حسن الیاس سے کسی نے پوچھا کہ سید ابوالاعلی مودودی کی رحلت کو نصف صدی گزرتی ہے، اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد آپ لوگ ان کی فکر اور کام کو کیسے دیکھتے ہیں۔ روانی سے بات کرنے والے حسن الیاس خاموش ہوئے، لحظہ سوال کرنے والے کی طرف دیکھا پھر کہا: ' سید ابو الاعلیٰ مودودی نہ ہوتے تو آج غامدی صاحب کا کوئی وجود نہ ہوتا۔' یہ بات انھوں نے غامدی صاحب سے الفت رکھنے والوں کے اجتماع میں کہی۔ مرقد مودودی پر انھیں اشک بار دیکھ کر اس بات کے معنی معلوم ہو گئے۔ علم کی دنیا اور عام دنیا میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہوتا۔ ہم میں سے ہر شخص کی کام یابی یا کسی کارنامے کی انجام دہی کے پس پشت کسی نہ کسی کا احسان ضرور ہوتا ہے۔ کوئی پیٹھ تھپکنے والا، حوصلہ دلانے والا اور راہ دکھانے والا نہ ہو تو مسافر صحرا میں بھٹکتا ہی رہ جائے۔ کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو منزل پر پہنچ یا کہیں مزید آگے نکل کر پیٹھ تھپکنے والے کو یاد رکھتے اور احسان شناسی سے کام لیتے ہیں۔ جاوید احمد غامدی کا شمار ان ہی تھوڑے سے لوگوں میں ہوتا ہے۔ غامدی صاحب کی احسان شناسی ان کی ذات تک محدود نہیں رہی۔ اس پاکیزہ جذبے کی خوشبو سے ان کے شاگرد اور ان کا حلقہ فکر بھی مشک بار ہوا ہے۔ یہ سوال ذہن میں آ سکتا ہے کہ اچھا ایسا ہو گیا لیکن یہ تو کہیے کہ اس کا مطلب کیا ہے؟ یہ مطلب بہت سادہ ہے۔ جاوید احمد غامدی مولانا مودودی سے چلے اور مولانا امین احسن اصلاحی تک پہنچے۔ اب خود ان کا اپنا ایک اسکول ہے۔ یعنی وہ بعض معاملات میں انفرادی رائے رکھتے ہیں جسے مسلمانوں کی ایک قابل لحاظ تعداد قبول کرتی ہے۔ اسلامی تاریخ میں یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ امام ابو یوسفؒ اور امام محمد بن حسن شیبانیؒ؛ امام ابو حنیفہؒ کے شاگرد تھے لیکن آگے چل کر ان دونوں بزرگوں نے امام ابو حنیفہ کی آرا سے اختلاف کیا لیکن اس کے باوجود ان دونوں کی قدر و منزلت اور احترام میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ انھیں بھی فقہ حنفیہ کے اکابر میں شمار کیا جاتا ہے۔ امام شافعی امام مالک کے شاگرد ہیں لیکن انھوں نے بھی اپنے استاد سے اختلاف کیا۔ اس اختلاف کا احترام کیا گیا لیکن اس کے ساتھ ان کی بزرگی اور علمی مرتبے کو بھی تسلیم کیا گیا۔ امام احمد بن حنبل امام شافعی کے شاگرد تھے۔ ان کی کہانی بھی مختلف نہیں۔ علمی دنیا کی کہانی یہی ہے۔ جو شخص خود کو کسی علم کے لیے مخصوص کر لے، اسے وقت دے اور اس پر غور و فکر کرے تو لا محالہ کچھ نئی چیزیں وجود میں آئیں گی جیسے مولانا مودودی کا اختصاص قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں ہے یا نظم اجتماعی یعنی اسلامی ریاست کے نظام حکومت کے بارے میں ان کی فکر کا بڑا حصہ خلافت و ملوکیت میں سمٹ آیا ہے۔ ان ہی معاملات پر اگر کوئی دوسرا کام کرے تو ضروری نہیں کہ وہ بھی اسی نتیجے پر پہنچے جس نتیجے پر اس سے پہلے والے پہنچے ہیں۔ علمی تگ و دو کے نتائج نہ بدلیں تو اس کے نتیجے میں علمی سفر ہی رک جائے گا اور معاشرہ طالبان کے افغانستان جیسا ہو جائے گا۔ پہیے کی ایجاد سے لے کر ورچوئل دنیا کے وجود میں آنے تک دنیا نے ترقی کا سفر طے کیا ہے، اس کے پیچھے اصل طاقت یہی علمی سفر ہے جس میں نئی آرا وجود میں آتی ہیں، نئی ایجادات ہوتی ہیں اور بنی نوع انسان کا سفر آگے بڑھتا ہے۔ اس کے باوجود ایک حقیقت یعنی دنیا کی پہلی ایجاد پہیہ، اس کی اہمیت اور اسے ایجاد کرنے والے کا احترام ہمیشہ برقرار رہے گا۔ بالکل یہی معاملہ علم کا ہے خواہ وہ دین کا علم ہی کیوں نہ ہو۔
1
2
7
195
مولانا مودودی ہمارے عہد کے عظیم مفکر اور عالم ہیں جن کی آرا سے صرف پاکستان نہیں پوری دنیا نے کسی نہ کسی طرح اثر قبول کیا ہے۔ غامدی صاحب تسلیم کرتے ہیں کہ وہ آج جو کچھ ہیں، کبھی نہ ہوتے اگر انھیں مولانا مودودی کی تربیت میسر نہ آئی ہوتی۔ مولانا مودودی نے غامدی صاحب کو جس راستے پر گامزن کیا تھا، اس پر وہ نہایت سنجیدگی اور ایمان داری سے چلے۔ نتیجہ وہی نکلا جو علمی سفر کے نتیجے میں نکلتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا غامدی صاحب کو اپنی آرا سے رجوع کرنا چاہیے اور مولانا مودودی کے راستے پر ہی چلنا چاہیے؟ یہ بنیادی سوال ہے اور اسی سوال کا جواب درست نتیجے پر پہنچا سکتا ہے۔ اس جواب تک پہنچنے کے لیے ایک سوال اور کرنا پڑے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا مولانا مودودی کی آرا کو تسلیم کرنا اسی طرح ضروری ہے جیسے قرآن و سنت کو تسلیم کرنا۔ عقل سلیم کرنے والا کوئی ایک فرد بھی اس سوال کا جواب اثبات میں نہیں دے گا۔ خود مولانا مودودی بھی۔ یہی تو وہ بات تو ہے جس پر اصرار شخصیت پرستی اور فرقہ پرستی کا راستہ ہموار کرتا ہے۔ ہمارے عہد میں یہ مولانا مودودی ہی تھے جنھوں نے اس شجر خبیثہ کو جڑ سے کاٹ دیا۔ تجدید و احیائے دین سے حاصل ہونے والا ایک بڑا سبق یہ بھی ہے۔ یہاں ایک سوال اور پیدا ہوتا ہے۔ تحقیق و جستجو کے نتیجے میں جب نئی آرا اور نئے مفروضے وجود میں آ جائیں تو کیا کیا جائے؟ کیا پرانے تعلق واسطے اور محبت و احترام کے رشتے ختم ہو جائیں گے؟ ہمارے آئمہ کے یہاں تو ایسا نہیں ہوا تھا۔ ان سے قبل صحابہ کرام کے درمیان بھی آرا میں اختلاف کے باوجود رشتے برقرار رہے۔ کیا یہ پاکیزہ روایت اب بھی برقرار رہنی چاہیے یا نہیں؟ یہ روایت برقرار رہے تو ایک دوسرے کو سمجھنے سمجھانے اور آگے بڑھنے کا راستہ نکل سکتا ہے۔ یہ نہ ہو سکا تو اختلاف کے باوجود مل بیٹھنے کا راستہ تو نکل ہی آئے گا۔ اس میں بھی بڑی خیر ہے۔
2
86
بھائی ریحان حسنی نے BUITEMS یونیورسٹی میں ایک خوبصورت ثقافتی اسٹال کے ذریعے بلوچستان کی قدیم روایات، مہمان نوازی اور روایتی طرزِ زندگی کو نہایت خوبصورتی سے پیش کیا یے۔ اس دور میں اپنی قدیم اقدار، روایتی دستار بندی کی رسم اور بے مثال مہمان نوازی کو زندہ رکھنا اور انہیں نئی نسل تک منتقل کرنا ایک قابلِ تحسین اور باعثِ فخر کاوش ہے۔ ریحان ہماری شاندار ثقافتی میراث اور روشن مستقبل کا حقیقی سفیر ہے!
1
3
111
پاکستان انگریزوں نے اپنے کس مقصد کے لئے بنایا تھا؟ نظریہ پاکستان کتنا سچا تھا؟ خان ولی خان، ہود بائی، ڈاکٹر مبارک علی اور ڈاکٹر اشتیاق کی لابی کیا کرتی ہے؟ قیام پاکستان کی تاریخ اور بائیں بازوں کے دانشوروں کے نظریے کا نیا رُخ
5
10
4
20
2,201
صحت مند بلوچستان ہی خوشحال بلوچستان ہم اہلِ خاران ضلعی اسپتال کی سولرائزیشن کا منصوبہ مکمل ہونے پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو کے تحت 43 لاکھ 50 ہزار روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والا یہ منصوبہ عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔ اس منصوبے سے امید ہے کہ بجلی کی بندش کے دوران بھی ایمرجنسی وارڈ اور او پی ڈی بلاک میں بجلی کی فراہمی برقرار رکھنے میں مدد ملے گی، جس سے مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کو ریلیف ملے گا۔ ہم متعلقہ حکام کے اس اقدام کو سراہتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ بلوچستان کے دیگر دور دراز علاقوں کے اسپتالوں میں بھی بجلی، ادویات، جدید طبی آلات اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ صحت مند بلوچستان ہی خوشحال بلوچستان کی ضمانت ہے۔ عوامی خدمت کے ایسے اقدامات جاری رہنے چاہئیں! #بلوچستان #خاران #صحت_سب_کے_لیے #عوامی_فلاح #ترقی
1
2
110
کینسرکا مقابلہ کرنے والی بلوچستان کی باہمت خاتون کرکٹرزمر شفیع عزم وحوصلے کی مثال بن گئیں کوئٹہ کے علاقے سریاب سے تعلق رکھنے والی زمرشفیع نے بریسٹ کینسر کی تشخیص کے باوجود کرکٹ سے اپنا رشتہ برقرار رکھا درد، تھکن اور مشکلات بھی زمر شفیع کے عزم کو شکست نہ دے سکیں،روزانہ دو سے تین گھنٹے کرکٹ پریکٹس معمول بنا لی بلوچستان کی باہمت خاتون کرکٹر زمرشفیع کا کہنا ہےکہ: بیماری اور مشکلات کے باوجود کرکٹ کا جنون کم نہیں ہوا، کرکٹ میری زندگی کا سہارا ہے کرکٹ میرا جنون اور شوق ہے، بلوچستان اور پاکستان کا نام روشن کرنا چاہتی ہوں، خاتون کرکٹر زمرشفیع کینسر کیخلاف جدوجہد اور کرکٹ سے بے پناہ محبت زمر شفیع کے عزم، حوصلے اور امید کی روشن مثال بن گئیں. #Balochistan
1
93
جو لوگ بلقیس کو ہیرو بنا رہے تھے وہ بلوچ خواتین کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ اس لڑکی کو محبت کے جھوٹے وعدوں، فحش ویڈیوز اور بلیک میلنگ کے ذریعے پہاڑوں میں گھسیٹا گیا، استحصال کیا گیا اور آخر کار گوادر میں مار دیا گیا۔ یہ آزادی کی جدوجہد نہیں، یہ بلوچ بیٹیوں کی تباہی ہے۔ حفصہ نثار جیسی بیٹیاں اصل فخر ہیں جو 120 لڑکوں کو مفت فٹبال سکھا رہی ہیں۔
یہ ہے گوادر کا اصل چہرہ! یہ 14 سالہ حفصہ نثار ہے جو 120 لڑکوں کو فٹبال سکھاتی ہے،کوچنگ کے ساتھ ساتھ حفصہ خود بھی ایک فٹبالر ہے،حفصہ نثار بلوچستان اور گوادر کا اصل چہرہ ہے،بی ایل اے کی بلقیس نہیں۔ گوادر کی بچیاں حفصہ کی طرح بننا چاہتی ہیں انہیں کسی بھی ریاست مخالف بیانیے میں دلچسپی نہیں ہے
125
مکہ مکرمہ نے ایک امام کے تحت نماز کے 100 سال مکمل کر لیے۔ کئی صدیوں تک مسجد الحرام میں چار الگ الگ نماز کی جگہیں تھیں۔ ہر مسلک اپنے اپنے امام کے ساتھ ایک کے بعد ایک نماز ادا کرتا تھا۔ عام طور پر شافعی گروہ پہلے نماز پڑھتا تھا، اس کے بعد دوسرے گروہ۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ایک ہی نماز دن میں کئی بار دہرائی جاتی تھی۔ 27 اکتوبر 1926 کو شاہ عبدالعزیز نے اس عمل کو بند کرنے کا حکم دیا۔ علما نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سب کو ایک ہی امام کے تحت جمع کیا جائے۔ اس کے بعد سے ہر نماز کے لیے صرف ایک جماعت ہوتی ہے۔ حرم میں بار بار گروہ نہیں ہوتے اور الگ الگ حصے بھی نہیں رہے۔ یہ اسی طریقے سے میل کھاتا ہے جس طرح نبی کریم ﷺ اور ان کے صحابہ نماز پڑھتے تھے۔ تمام نمازی ایک جسم کی طرح ایک امام کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ نظام بغیر کسی تبدیلی کے پورے 100 سال جاری رہا ہے۔ آج بھی لاکھوں لوگ مکہ مکرمہ میں ایک متحد جماعت کی صورت میں نماز ادا کرتے ہیں۔
1
3
138
بلوچستان کا پاکستان سے الحاق کیسے ہوا؟تینوں ریاستوں نے بغیر کسی ملٹری ایکشن کے الحاق نامے پر دستخط کیے،کسی قسم کی دھمکی بھی نہیں دی گئی،خان آف قلات تو اپنی سوانح حیات میں لکھ کر گئے ہیں کہ وہ قائداعظم کو سونے میں توُلتے تھے،معروف تاریخ دان حسن جعفری کی زبانی
11
79
2
105
2,611
بلوچستان کا نیا رُخ لیکر آئی ہیں بشریٰ قمر! ایسا سکول جہاں سب بچے شطرنج کے ماہر ہیں پشین سے تعلق رکھنے والے عبدالرحمان کی عمر محض 8 سال ہے اور شطرنج کے کھیل میں بڑوں بڑوں کو مات دے سکتا ہے، دوسری جماعت کا طالب علم عبدالرحمان شطرنج کے بین الاقوامی کھلاڑی میگنس کارلسن کی طرح شطرنج کی دنیا میں نام بنانا چاہتا ہے #NayaRukhDigital #Chess #Balochistan
5
4
11
869
پیر غیب بولان 💗
5
93
Idrees Maftoon from Zhob, Balochistan, turned his personal savings into a library with a powerful vision to inspire young minds through knowledge and learning. Watch our exclusive video to discover his inspiring initiative and commitment to building a brighter future through education.
8
23
53
21,492
بلوچستان کی پہلی خاتون الیکٹریشن مناہل حمید نے روایتی سوچ سے ہٹ کر الیکٹریشن کے شعبے میں قدم رکھتے ہوئے ایک منفرد مثال قائم کی ہے۔ اپنے عزم، محنت اور ہنر کے ذریعے وہ نہ صرف اپنی پہچان بنا رہی ہیں بلکہ بلوچستان کی دیگر خواتین کے لیے بھی نئی راہیں کھول رہی ہیں۔ ہمت، خودمختاری اور کامیابی کے اس منفرد سفر کی کہانی دیکھیے وائس آف بلوچستان کی خصوصی ویڈیو میں۔
12
23
60
13,416