Pinned Tweet
حضرت علی کوفے کے یتیم بچوں سے فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی تمہیں یتیم ہونے کا طعنہ دے تو اسے کہنا میں یتیم نہیں ہوں
میرے بابا کا نام علی ابنِ ابو طالب ہے🫀✨🫶
ستارہ سحر☕ retweeted
سقراط جب بچہ تھا، تو روزانہ ایک راستے پر چہل قدمی کے لیے جایا کرتا تھا۔
اس راستے میں ایک کمہار کا گھر تھا، جو مٹی کے برتن بنایا کرتا تھا۔ وہ کمہار کے پاس جا کر بیٹھ جاتا اور اسے غور سے تکتا رہتا ۔ اسے برتن بننے کا عمل دیکھنا بہت اچھا لگتا تھا ۔
ایک دن کمہار نے اس کی محویت دیکھ کر اپنے پاس بلایا اور پوچھا۔
" بیٹا ! تم یہاں سے روز گزرتے ہو اور میرے پاس بیٹھ کر دیکھتے رہتے ہو ۔۔۔۔۔ تم کیا دیکھتے ہو؟"
" میں آپ کو برتن بناتے دیکھتا ہوں اور یہ عمل مجھے بہت اچھا لگتا ہے دیکھنا ۔۔۔۔۔ اس سے میرے ذہن میں چند سوال پیدا ہوئے ہیں ۔۔۔۔ میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں۔ "
سقراط کی بات سن کر کمہار بولا ۔
" یہ تو بہت اچھی ہے ۔۔۔۔۔ تم پوچھو ، جو پوچھنا چاہتے ہو؟"
" آپ جو برتن بناتے ہیں ۔۔۔۔ اس کا خاکہ کہاں بنتا ہے ؟"
" اس کا خاکہ سب سے پہلے میرے ذہن میں بنتا ہے۔۔۔۔۔ "
یہ سن کع سقراط جوش سے بولا ۔
" میں سمجھ گیا ۔۔۔۔"
کمہار نے حیرت سے پوچھا ۔
" کیا سمجھے ؟ "
" یہی کہ ہر چیز تخلیق سے پہلے خیال میں بنتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خالق کے خیال میں ہم پہلے بن چکے تھے ، تخلیق بعد میں ہوئے ۔۔۔۔۔ اب میرا اگلا سوال یہ ہے کہ جب آپ برتن بنا رہے ہیں، تو ایسا کیا کرتے ہیں کہ یہ اتنا خوب صورت بنتا ہے ؟ "
" میں اسے محبت سے بناتا ہوں۔ میں جو بھی چیز بناتا ہوں، اسے خلوص سے بناتا ہوں اور اسے بناتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتا ہوں تاکہ کوئی کمی کوتاہی نہ رہ جائے ۔ "
سقراط نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔
" اس کی بھی سمجھ آ گئی، کیوں کہ بنانے والا ہم سے محبت کرتا ہے ، کیوں کہ اس نے ہمیں بنایا جو ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ اگلا سوال یہ ہے کہ آپ اتنے عرصے سے برتن بنا رہے ہیں ، کوئی ایسی خواہش ہے ، جو آپ چاہتے ہیں کہ پوری ہو ۔ "
" ہاں ! ہے ۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ ایسا برتن بناؤں کہ دنیا اش اش کر اٹھے اور پھر ویسا برتن میں کبھی نہ بنا سکوں۔۔۔۔۔" کمہار نے حسرت سے کہا۔
یہ سنتے ہی سقراط اچھل پڑا۔
" واہ ! خالق ہر بار ایسی تخلیق کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ دنیا بے اختیار اش اش کر اٹھے ، کیوں کہ خالق کو پتا ہے کہ میں جو یہ انسان اس دنیا میں بھیج رہا ہوں ، اس جیسا کوئی اور دوبارہ نہیں آئے گا ۔۔۔۔۔"
کِتنی خُوبصُورتی سے
تُم میرے خیالوں میں آتے ہو
ایک مُسکراہٹ
میرے چہرے پر کِھل اُٹھتی ہے
چاہے تُم مُجھ سے
کتنے ہی دور کیوں نہ ہو..
وقت تُم ہی ہو
میرا دن تُم ہو
میری رات تُم ہو
میری خامُوشی تُم ہو
میری ہنسی تُم ہو
میری گُفتگُو تُم ہو
دِل ۔۔
بس ” تُم“ ہی کہتا ہے..
ستارہ سحر☕ retweeted
وقت کا سب سے خاموش سبق یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو دل کو عزیز ہو، زندگی میں ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتی؛ کچھ لوگ صرف ہماری سمجھ میں اضافہ کرنے آتے ہیں، ساتھ نبھانے نہیں۔
ستارہ سحر☕ retweeted
السلام علیکم
کبھی کبھی زندگی میں کچھ معاملات اور حالات ہمارا توازن بگاڑ دیتے ہیں، ایسی صورت حال میں کبھی ہمت نہیں ہارنی چاہئے۔ اگر دوڑ نہ پائیں تو چلتے رہیں اور چل بھی نہ پائیں رینگتے رہیں یعنی ہر حال میں کوشش جاری رکھیں!!
ستارہ سحر☕ retweeted
پگلی!
مجھے خوشی ہے میں امر ہوگیا ہوں
یہ میرا اجر ہے جو خدا نے مجھے دیا ہے
وہ تمام امور جو مجھ پر پابند کئے گئے
میں نے ان تمام امور کو سر جھکا کر قبول کیا
میں چلتا رہا اور سر کبھی اوپر نہیں کیا
یہ محبت کا اصول ہے
محبوب کیلئے اٹھائے گئے قدم عاجزی سے بھرے ہوں
تم جانتی ہو کہ میرے الفاظ نے کیا کیا ہے؟
ان الفاظوں نے ہم دونوں کا میلاپ کروایا ہے
ان لفظوں میں ہمارا لمس سمویا ہواہے
ہم لفظوں کی دنیا میں چھپکے سے مل رہے ہیں
اور ملتے رہیں گے
اس دنیا میں ہمیں کوئی الگ نہیں کر پائے گا !
تم جانتی ہو کہ ان بھول بھلیوں جیسی تحریروں سے کیا ہوا ہے ؟
ہم تاقیامت کسی خیال میں زندہ رہیں گے
ہماری محبت بہت سوں کیلئے نقش بنے گی
جہاں کہا جائے گا کہ
کیا تم نے چاند نما شخص کو نہیں پڑھا تھا
کہ وہ کیسی محبت کرتا تھا
اور اس کی پگلی جو محبت کا لبادہ اوڑھ کر تخیل میں آباد ہوچکی تھی
تم جانتی ہو اس تخیل کے قیام سے کیا ہوا ہے ؟
یہ تخیل ہجر کے ماروں کو راستہ دکھائے گا
کہ دیکھو جب حقیقت موافق نہ ہو تو اسکو چھوڑ دینا چاہیے
تخیل کا آباد ہونا ہر دل میں ضروری ہے
پگلی ہم دونوں نے مل کر تخیل کی بقا کی جنگ لڑی ہے
جب ہر کوئی حقیقت کی سیڑھیاں چڑھنا چاہ رہا تھا
تب ہم بقائے تخیل کی خاطر تخیل کو خیمہ بنا چکے تھے
تم جانتی ہو کہ ہم نے جائز اور ناجائز کو واضح کیا ہے کہ محبت کس مذہب کو مانتی ہے
محبت تو فقط محبوب کے دیدار کو مانتی ہے
ہم نے سب کو یہ بتا ڈالا ہے کہ محبت فقط جائز کو مانتی ہے
جہاں ناجائز حقیقت اور تخیل بن جائے اسکا محبت سے کوئی تعلق نہیں ہے
ہم نے محبت کے دودھ میں سے پانی کو نچوڑ ڈالا ہے
ہم نے محبت کو شفاف کر ڈالا ہے
دیکھو اب محبت کسی چھوٹے بچے کی طرح ہنس رہی ہے
اور اسکی ہنسی کی قیمت ہم دونوں ہیں پگلی !
جانتی ہو پگلی ہم نے اور کیا کیا کِیا ہے ؟
ہم نے ایک دوسرے کو خود پر لازم و ملزوم کر دیا ہے
اب یہ مکمل کا مکمل ناممکن ہے کہ ہم دونوں کو الگ لیا جائے
اب ہم دونوں کا ایک ہی نام ہے
اور وہ نام محبت ہے
ہم نے افراتفری میں سکون کو جنم دیا ہے
دیکھو سکون نے سنہرے کپڑے پہن رکھے ہیں
اچھا سنو پگلی
ابھی تو ایک بہت لمبا سفر باقی ہے
جس کو ہم نے ایک ساتھ طے کرنا ہے
قدم سے قدم ملا کر
ہم پر بڑی بھاری زمہ داری ہے
ہم نے محبت کی حفاظت کرنی ہے
تم میرا ساتھ دوگی نا؟
اچھا سنو پگلی
آج ایک اعتراف اور کرتا ہوں
تم میری واحد کمزوری ہو
اگر تمہیں کچھ ہوگیا
تو سب اسی وقت اسی لمحہ ختم ہوجائے گا
تم سن رہی ہو نا پگلی ؟
ٹیرس پر تم تک میری آواز پہنچ رہی ہے نا
تمہیں یاد ہے نا کہ میں نے کہا تھا کہ ہمیں کسی ذرائع کی ضرورت نہیں ہے
تم جانتی ہو پگلی ہم نے اور کیا کیا ہے ؟
ہم نے اپنی روح سے الہام کو روح بخشی ہے
تم اب سوچو گی کہ یہ سب کیسے ہوا
تو میں تمہیں ضرور بتاؤں گا کہ الہام کب ہمارے اردگرد چھا گیا
اچھا سنو پگلی
ابھی ہم نے دنیا کو اور بہت کچھ بتانا ہے
ہم نے دنیا میں فقط محبت کا رنگ بھرنا ہے
بھلا محبت کے رنگ سے خوبصورت کوئی رنگ ہوسکتا ہے
محبت کا رنگ آسمان کے جیسا ہے
ہم بھی تو آسمانی ہوچکے ہیں
جو دنیا کے نہیں رہتے ہیں نا پگلی
وہ آسمان کے ہوجاتے ہیں
تم رویا مت کرو پگلی
تم روتی ہو تو پوری کائنات روتی ہے
محبت کی دنیا میں سونامی آ کھڑی ہوتی ہے
پاگل یہ تو خوش ہونے کا موقع ہے کہ
ہم دونوں نے وہ کر دِکھایا ہے جو آج تک کوئی نہ کر پایا
ہم نے محبت کو عملی جامع پہنایا ہے
ہم نے محبت کو ثابت کر دِکھایا ہے !
عباس
ستارہ سحر☕ retweeted
ذرا یہ دھوپ ڈھل جائے تو ان کا حال پوچھیں گے
یہاں کچھ سائے اپنے آپ کو پیکر بتاتے ہیں
ستارہ سحر☕ retweeted
سالگرہ بہت بہت مبارک ہو پیاری لڑکی
ہمیشہ خوش رہو بلند نصیب پاؤ
کبھی کوئی تکلیف نا چھوئے اپکو
صدا مسکراتی رہو آمین ثم آمین
@iqra66540053105
ستارہ سحر☕ retweeted
Between Melody and Mayhem.
Her Many Weaknesses..
She didn’t know what she love more,
His magical melodies?
His love for music?
His cache of caustic words?
His belligerence?
Or his intoxicating brown eyes ?

















