Pinned Tweet
بنامِ جبر و غرورِ شاہی حسینؑ غیرت کا فیصلہ ہے
حسینؑ کردارِ اہلِ ایماں حسینؑ معیارِ زندگی ہے
𝐼𝓂𝓇𝒶𝓃 𝐿𝒶𝓁𝒾𝓀𝒶 retweeted
عمران خان کی قیادت میں تحریکِ انصاف کی سیاسی جدوجہد میں کارکنوں کی ثابت قدمی اور قربانیوں کا بنیادی کردار رہا ہے۔ مشکل حالات میں ان کی اور ان کے خاندانوں کی مدد اور ان کے حقوق کا تحفظ ہماری اولین ذمہ داری ہے۔
گرفتاریوں اور پابندیوں کے باوجود پارٹی تنظیمیں، منتخب نمائندے، تمام ونگز اور انصاف لائرز فورم متاثرہ کارکنوں کی قانونی مدد، ان کے خاندانوں سے رابطے اور سیاسی سرگرمیوں کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
کارکنوں کی یہ توقع بجا ہے کہ پارٹی عہدیدار اور منتخب نمائندے فعال رہیں، ان کے مسائل پر توجہ دیں اور انہیں پیش رفت سے باقاعدہ آگاہ کریں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جاری کوششوں کو مزید مؤثر بنایا جائے، گرفتار اور لاپتہ کارکنوں کے معاملات کی پیروی یقینی بنائی جائے اور آئندہ سیاسی لائحۂ عمل کی تیاری کے لیے رابطہ کاری بہتر کی جائے۔
صوبائی عہدیداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ریجنل صدور اور جنرل سیکرٹریز کے ساتھ مل کر کام کریں۔ ریجنل قیادت اپنی ضلعی تنظیموں، منتخب نمائندوں، تمام ونگز اور انصاف لائرز فورم کے تعاون سے کارکنوں کی مدد اور تنظیمی رابطوں کو مزید مؤثر بنائے اور پیش رفت سے صوبائی تنظیم کو باقاعدہ آگاہ رکھے۔
میرا یقین ہے۔ عمران خان کو دھمکیاں دی گئی ہیں، انہیں بلیک میل کیا جا رہا ہے، اور جیل میں ان پر جسمانی تشدد بھی کیا گیا ہے
اور شاید یہ اس لیے ڈر رہے ہیں کہ اگر ملاقات ہوئی تو وہ آدمی بتا دے گا
محمود خان اچکزئی
𝐼𝓂𝓇𝒶𝓃 𝐿𝒶𝓁𝒾𝓀𝒶 retweeted
تحریکِ انصاف کے سامنے ایک مشکل فیصلہ تھا: عمران خان کے اصولوں اور عوام کے حقوق پر سمجھوتہ کرکے صوبائی حکومت بچائی جائے یا اقتدار کی قربانی دے کر اپنے اصولوں پر قائم رہا جائے۔ ہم نے اقتدار کے بجائے اصولوں کو ترجیح دی اور ہمیں اپنے اس فیصلے پر فخر ہونا چاہیے۔
ہمارا مؤقف صرف حکومت بچانے تک محدود نہیں تھا بلکہ خیبر پختونخوا کے عوام کے آئینی حقوق، صوبائی خودمختاری، قدرتی وسائل اور معدنیات پر حقِ ملکیت اور جائز حصے، آبی وسائل پر حقوق اور وفاق کے ذمے مالی واجبات کے تحفظ سے بھی متعلق تھا۔ حالات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ہماری حکومت کے خلاف کارروائی کی منصوبہ بندی بہت پہلے سے کی گئی تھی، جس کا مقصد تحریکِ انصاف کو کمزور کرنا تھا۔
ہمیں اپنے اصولی مؤقف کو سیاسی شکست بنا کر پیش کرنے والوں کے بیانیے کو رد کرنا چاہیے۔خیبر پختونخوا کی حکومت چھین تو لی گئی، لیکن ہم اپنے اصولوں، سیاسی مقاصد اور عمران خان کے نظریے سے پیچھے نہیں ہٹے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے تجربات سے سبق سیکھیں اور منصوبہ بندی، رابطہ کاری اور فیصلہ سازی کو بہتر بنائیں۔ اہم فیصلوں میں صوبائی، علاقائی اور ضلعی تنظیموں، پارٹی ونگز، اراکینِ اسمبلی اور متعلقہ فورمز سے مؤثر مشاورت ہو تاکہ تمام تنظیمی سطحوں کی رائے اور تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
پارٹی کا اتحاد ہماری اصل طاقت ہے۔ باہمی احترام، مشاورت اور موجودہ تنظیمی ڈھانچے کے تحت فیصلے کیے جائیں اور ان پر مل کر عمل کیا جائے۔ تاہم فیصلہ سازی کا اختیار اور ذمہ داری انہی افراد کے پاس رہنی چاہیے جنہیں عمران خان نے یہ اختیار دیا ہے یا جو پارٹی آئین اور عمران خان کے احکامات کے تحت بااختیار ہیں۔
ہمارے کارکنوں نے بے پناہ قربانیاں بار بار دی ہیں۔ وہ ایسی قیادت کے حق دار ہیں جو ان کے ساتھ رابطے میں رہے، ان کی رائے سنے اور اپنے فیصلوں اور اقدامات کے لیے جواب دہ ہو۔
ہمارے اصول آج بھی قائم ہیں۔ ہمیں باہمی اعتماد، بہتر مشاورت اور اتحاد کے ساتھ اپنی جدوجہد کو آگے بڑھانا ہے
𝐼𝓂𝓇𝒶𝓃 𝐿𝒶𝓁𝒾𝓀𝒶 retweeted
عمران خان صاحب سے اڈیالہ میں کئی بار خیبر پختونخواہ حکومت کے حوالے سے بات ہوئی۔ خان صاحب نے ہر بار کہا کہ عوام سے رشتے اور حکومت کے درمیان انتخاب کرنا ہو تو ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑے رہنا۔ بیساکھیوں کے ذریعے یا جبر کی گود میں بیٹھ کر حکومت کرنے والی جماعتوں کا حشر ہمارے سامنے ہے: مصنوعی فارم 47 کا اقتدار اور عوام کی دھتکار۔ خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کی حکومت کو عوام سے رشتہ نہ توڑنے کی وجہ سے سلب کیا گیا ہے۔ مایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔ پارٹی کو ہر سطح پر اپنے اندرونی نظم اور اتحاد کو قائم رکھنا ہے۔ پولیٹیکل کمیٹی اور کور کمیٹی کو پارٹی کی رہنمائی کرنا ہے۔ مرکز اور صوبوں میں پارلیمانی پارٹیاں پارلیمان کے اندر پولیٹیکل کمیٹی اور کور کمیٹی کی طے کردہ پالیسی کے تحت کام کرتی رہیں گی۔ پاکستانی قوم عمران خان کے عوام دوستی کے نظریے کے ساتھ کھڑی ہے۔
𝐼𝓂𝓇𝒶𝓃 𝐿𝒶𝓁𝒾𝓀𝒶 retweeted
میری 21 اکتوبر کی ٹویٹ پر معزرت کا مطالبہ ٹویٹ کے متن کو نہ سمجھنے یا جان بوجھ کر اسکو غلط رنگ دینے پر مبنی ہے۔ اس ٹویٹ میں خیبر پختونخواہ اسمبلی یا خیبر پختونخواہ کی پارٹی تنظیم پر ہرگز کوئی الزام نہیں لگایا گیا۔ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے ممبران اور تنظیمی عہدیداران عمران خان کے وفادار ہیں۔ میری ٹویٹ ایک ممکنہ بیرونی سازش کے تناظر میں کی گئی تھی۔ کسی قسم کی معزرت کی ہر گز ضرورت نہیں۔ پارٹی کے اندرونی نظم پر حملے ابھی ختم نہیں ہوئے۔
𝐼𝓂𝓇𝒶𝓃 𝐿𝒶𝓁𝒾𝓀𝒶 retweeted
نیازی خاموش دعاؤں میں یوں بستا ہے۔۔
شالہ ربّ کَنڈ نہ لاوی
شالہ تتی ہوا نہ لگے ❣️🤲
#ReleaseImranKhan
اگر آپ نے امن لانا ہے تو آپکو افغانستان سے رشتہ جوڑنا ہوگا
حاجی مرجان جس کو کونسل کا چیئرمین بنایا ہے اس کا خیبر پختونخواہ اسمبلی میں منعقدہ قومی جرگہ سے خطاب
𝐼𝓂𝓇𝒶𝓃 𝐿𝒶𝓁𝒾𝓀𝒶 retweeted
ایمرجنسی کے بعد کہا گیا تھا کہ صوبے کو تقسیم نہیں کیا جا رہا، نیا ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ACS) چیف سیکریٹری (CS) کو رپورٹ کرے گا، اور ان ہنگامی اضلاع کی انتظامیہ جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کی طرز پر ہوگی۔
تاہم، اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ بارہ اضلاع گورنر، گورنر کی مشاورتی کونسل، نئے چیف سیکریٹری اور خیبر پختونخوا انتظامیہ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔ اس سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ ان 12 اضلاع کے لیے نئے اے سی ایس (جو گریڈ 20 کے ڈی ایم جی افسر ہیں) تنِ تنہا حکومت کے تمام اختیارات کے مالک ہوں گے۔ وہی دراصل حکومت ہیں۔
اس سے کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں:
* اگر پی ٹی آئی کے خلاف کارروائی کی بنیاد یہ تھی کہ موجودہ گورنر اور ان کی ٹیم منتخب حکومت کے مقابلے میں صوبہ چلانے کی بہتر صلاحیت رکھتے ہیں، تو پھر ایسا کیسے ممکن ہے کہ گورنر پورا صوبہ چلانے کے تو اہل ہیں، مگر انہیں اپنے آبائی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان اور اپنے ہی خطے کے 12 اضلاع کے معاملات سونپنے کے قابل نہیں سمجھا گیا؟
* اسی طرح، اگر 11 رکنی ٹیکنوکریٹ کابینہ اتنی ہی باصلاحیت ہے، تو وہ ہنگامی اضلاع میں اپنے اپنے محکمے کیوں نہیں چلا سکتی؟ اگر ایک گریڈ 20 کا افسر ان سے بہتر ہے، تو پھر باقی خیبر پختونخوا کا انتظام بھی چیف سیکریٹری کے حوالے کیوں نہیں کر دیا جاتا؟ کسی ٹیکنوکریٹ یا سیاست دان کی ضرورت ہی کیوں باقی رہ جاتی ہے؟
* کیا 48 رکنی کونسل کے غیر منتخب ارکان (جن میں سے ایک کا انتقال ہو چکا ہے، 6 مستعفی ہو چکے ہیں، اور ایک جنہوں نے طالبان سے مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے اور وہ اتفاق سے کونسل کے وائس چیئرمین بھی ہیں) اپنے اپنے اضلاع سے منتخب شدہ اراکینِ صوبائی اسمبلی (MPAs) کا متبادل بن سکتے ہیں؟ ان میں سے بیشتر وہ لوگ ہیں جنہوں نے انتخاب تو لڑا مگر محض چند سو ووٹ حاصل کر سکے۔ وہ اس علاقے کی نمائندگی کیسے کر سکتے ہیں جس نے انہیں مسترد کر دیا تھا؟
* اگر مقصد صرف ہنگامی اضلاع پر توجہ مرکوز کرنا ہے، تو محض پانچ یا چھ افسران کو 40 محکموں کا چارج کیسے دیا جا سکتا ہے؟
* اگر مقصد حکومت کو عوام کی دہلیز تک لانا ہے، تو یہ انتظامیہ اور اے سی ایس ڈیرہ اسماعیل خان یا بنوں میں بیٹھنے کے بجائے پشاور میں فاٹا سیکریٹریٹ میں کیوں بیٹھیں گے؟ اور وہ پشاور کے بجائے اسلام آباد کو کیوں رپورٹ کریں گے؟
اتنے سارے سوالات... اور کوئی جواب نہیں...
”سب کچھ ختم ہوگیا ہے اب صرف قبائل کے پہاڑوں میں معدنیات باقی ہے اس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، یاد رکھے قبائلوں تاریخ آپ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اگر ہم نے کھڑے نہیں ہوئے تو آنے والی نسلیں ہمیں گالیاں دیں گے.“- مرجان خان
ضم شدہ اضلاع پر مسلط غیر قانونی مشاورتی کونسل میں اہم عہدہ دیے جانے سے چند روز پہلے تک مرجان خان واضح اور پُرجوش انداز میں معدنیات پر قبضے کے خلاف مزاحمت کی اپیل کر رہے تھے.
کیا اسی لیے پی ٹی آئی کو فوجی آپریشنز کی حمایت کرنے کے لیے 72 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دی گئی تاکہ مقامی آبادی کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا جا سکے. آخر وہ کون سے وعدے ہیں اور کن کے ساتھ کیے گئے ہیں کہ معدنیات سے مالا مال قبائلی اضلاع میں مقامی آبادی کو اتنی عجلت میں آئی ڈی پیز بنانا چاہ رہے ہیں؟
#خان_اور_فیملی_کو_رہا_کرو
کوٹ لکھپت جیل لاہور میں اسیر راہنماؤں کا خط
بسمہ اللہ الرحمٰن الرحیم
جناب بیرسٹر گوہر علی خان چئیرمین پاکستان تحریک انصاف
جناب سلمان اکرم راجہ
سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف
ممبران پارلیمانی پارٹی نیشنل اور صوبائی اسمبلی و سینٹ
ممبران سیاسی اور کور کمیٹی
پاکستان کی مقبول ترین سیاسی جماعت تاریخی دوراہے ہر ہے ۔ اس کا مضبوط اور منضبط رہنا نہ صرف اُس کے اپنے وجود کے لئے ضروری ہے بلکہ پاکستان کی نوجوان نسل کی امیدوں کو بارآور کرنے کے لیے بھی ناگزیر ہے ۔
پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین جناب عمران احمد خان نیازی کی گذشتہ 3 برس کی جیل اور تقریباً ایک سال کی قید تنہائی نے تحریک انصاف کے لئے صورت حال گھمبیر کر دی ہے۔ ایسے میں باقیماندہ پی ٹی آئی قیادت کے لئے مشکلات اور آزمائش بہت زیادہ بڑھ گئی ہے ۔
کوٹ لکھپت جیل میں مقید پی ٹی آئی رہنما ، پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ان سے توقع کرتے ہیں کہ وہ زیادہ بردباری، درگزر اور صبر کا مظاہرہ کریں گے ۔ محض خیروں اور افواہوں کی بنیاد پر رد عمل کا اظہار نہ کریں اور باہم مل بیٹھ کر معاملہ فہمی، صلاح مشورے اور بحث و تمحیص کے بعد زیادہ سے زیادہ اتفاق رائے سے فیصلے کریں ، مختلف اجلاسوں میں ہونے والی بحث امانت کا درجہ رکھتی ہے ، میڈیا پر اپنی ذاتی آراء کا اظہار کرنے کی بجائے پارٹی پالیسی کے آنے کا انتظار کریں اور اُس کے مطابق ذرائع ابلاغ پر اپنے خیالات کا اظہار کریں. یہ وقت استعفیٰ دینے اور استعفوں کا مطالبہ کرنے کا نہیں ہے۔
کوٹ لکھپت جیل میں مقید تحریک انصاف کے رہنما ، تحریک انصاف کی قیادت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ وائس چیئرمین پی ٹی آئی جناب شاہ محمود قریشی کی رہائی کو پارٹی پالیسی کی اولین ترجیحات میں رکھیں ۔
وائس چیئرمین پی ٹی آئی تین برس سے زیادہ عرصہ سے جیل میں ہیں ۔ وہ اپنے اوپر بنائے جائے والے تمام مقدمات میں سے چھ میں بری اور باقی مقدمات میں ضمانت مل چکی ہے ۔ اُسی طرح کے باقی دو مقدمات میں عرصہ دراز سے ضمانت کی درخواستیں فیصلہ نہ ہونے کی وجہ سے التوا کا شکار ہیں، اس ضمن میں بیسوں پیشیاں / تاریخیں پڑ چکی ہیں ۔ ریکارڈ ہی پیش نہیں ہوتا ! اُن کی رہائی موجودہ پی ٹی آئی قیادت کیلئے تقویت کا باعث ہوگی ۔
شاہ محمود قریشی
ڈاکٹر یاسمین راشد
سینیٹر اعجاز احمد چوہدری
میاں محمود الرشید
عمر سرفراز چیمہ
بذریعہ! رانا مدثر عمر ایڈووکیٹ
@salmanAraja
@BarristerGohar
@PTIofficial
یہ جس بندے کا انٹرویو ہےاسٹیبلیشمنٹ کی بنائی کونسل کا چیئرمین ہے یہ محب وطن ہے جبکہ تحریک انصاف والے ملک دشمن ہیں جو بالکل یہی بات کر رہے تھے
سوشل میڈیا پر وفاقی قبائلی ترقیاتی کونسل کے ڈپٹی چیف خان مرجان کا ایک انٹرویو وائرل ہو رہا ہے۔ چونکہ یہ انٹرویو پشتو میں ہے، اسی لیے میں @Aatifkhattak5 نے سوچا کہ جن دوستوں کو پشتو کی سمجھ نہیں آتی، ان کی آسانی کے لیے ترجمہ پیش کروں۔
افغانستان کے ساتھ مذاکرات سیاسی بصیرت کا تقاضا ہیں۔ میرے خیال میں اگر حکومت قبائل کو توجہ دے تو قبائلی جرگہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کرسکتا ہے۔ میں پہلے بھی جرگے میں جاچکا ہوں، ہم نے اس جرگے میں جنگ بندی کے لیے 90 دن کا وقت لیا تھا۔ انہوں نے ہمیں اتنے یقین کے ساتھ یہ وقت دیا تھا کہ جب جنگ بندی کا دورانیہ ختم ہو رہا تھا تو آدھا گھنٹہ پہلے مجھے کال آئی کہ آج ہمارے دیے ہوئے وقت کی مدت ختم ہو رہی ہے۔
میرے خیال میں آج کے دن تک جنگ جاری ہے۔ میں حکومت سے، سیاسی کارکنوں سے اور سیاسی بصیرت رکھنے والوں سے کہتا ہوں کہ قبائل کو موقع دیں تاکہ ہم اس مسئلے کا حل نکال لیں۔
پہلے بھی ہم نے حل نکالا تھا اور اس بار بھی ہم حل نکالیں گے۔
ہم 15، 20 افراد اس جرگے میں جائیں اور قابلِ اعتماد لوگ جائیں (ضروری نہیں کہ قبائلی کونسل کے سارے لوگ ہوں)۔ ہم ایک وفد کی شکل میں جائیں اور افغانستان میں ایک ہفتہ گزار لیں تو افغانستان کے تحفظات بھی دور ہو جائیں گے اور بارڈر کے مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔
میرے خیال میں ٹی ٹی پی ہو یا حافظ گل بہادر گروپ، جب انہیں یقین ہو جائے گا کہ پاکستان کی طرف سے ایک قابلِ احترام وفد آیا ہے تو میرے خیال میں ٹی ٹی پی، حافظ گل بہادر گروپ اور امارتِ اسلامی افغانستان، کوئی کچھ بھی کہے، ایک دوسرے کی بات مانتے ہیں۔ اچھی طرح سے پیار محبت سے مانتے ہیں۔
ہم کوشش کریں گے کہ امارتِ اسلامی کے ساتھ ایک ہو جائیں اور دونوں فریقین کے سامنے امن کی بات رکھیں تو پھر آپ دیکھیں گے کہ کوئی جنگ نہیں ہوگی، کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں، جنگ فوری ختم ہو جائے گی۔ سردی شروع ہوتے ہی ہم جنگ سے نکل چکے ہوں گے۔
جب تک ہم مذاکرات کا عمل شروع نہیں کرتے، یاد رکھنا، نہ جنگ ختم ہوگی، یہ جاری رہے گی اور جنگ ہمارے ملک کی تباہی کا ذریعہ ہے۔
میں تو یہی کہتا ہوں کہ یہ ہماری قوم کے بچے ہیں۔ آفریدی، مومند، محسود، وزیر، داوڑ، بیٹنی، مروت، یہ سب ایک لوگ ہیں، ایک قبیلے کے ہیں۔ اب تک یہ لوگ اپر (افغانستان) میں جنگ لڑ رہے تھے اور ابھی یہ لوگ یہاں جنگ لڑ رہے ہیں۔ میرے خیال میں ان کا ہیڈکوارٹر افغانستان ہے۔ وہ کتنے ہی بہانے کریں کہ ہم نے ان گروپوں کے ساتھ رابطے توڑ دیے ہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہ ایک ہیں۔ ہم یہی چاہتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ جائیں، بات کریں اور جنگ ختم کریں۔
یقین مانیں کہ آج پاکستان میں جو جنگ ہو رہی ہے، یہ افغانستان کی طرف سے ہے اور یہ بھی غلط نہیں کہ شاید وہاں جو جنگ ہے، وہ ہماری طرف سے ہو۔ تو ہم چاہتے ہیں کہ روزانہ کا خون خرابہ اور لاشیں ختم ہوں اور کاروبار شروع ہو۔ دنیا کی پالیسی یہی ہے کہ جنگیں ختم ہو رہی ہیں اور ترقی اور آگے بڑھنے کی پالیسی پر عمل ہو رہا ہے۔
تو ہم کوشش کر رہے ہیں کہ باعزت اور قدر و منزلت رکھنے والے لوگ وہاں بھیجیں اور یہ بھی کہ ان کے پاس اختیار ہو۔ مجھے یقین ہے کہ ایک ہفتے میں ہم سارے مسائل حل کریں گے۔
پہلے بھی ایسا تھا کہ جنگ جاری تھی۔ جاری جنگ کے دوران جب ہم نے بات کی تھی اور افغانستان سے جنگ بندی کا اعلان ہوا تو پاکستان میں 90 دنوں تک ایک پٹاخہ بھی نہیں پھوٹا تھا۔
آج بھی ہم یہی سوچتے ہیں اور یقین ہے کہ ہم خلوص سے چلے جائیں، کونسل کے پاس اختیار ہو اور ہم امارتِ اسلامی سے بات کریں۔ یہ جو پہاڑوں میں بیٹھے ہیں، یہ تو ہمارے اپنے بچے ہیں، ان کے ساتھ بھی بات کریں گے۔ ہم امارتِ اسلامی سے کہیں گے کہ ان لوگوں کو ہمارے ساتھ بات چیت کے لیے بٹھاؤ۔ اگر یہاں پاکستان میں نہیں تو ہم انہیں کہیں گے کہ افغانستان بلا لو۔ کہیں محاذ پر ہوں گے یا افغانستان میں ہوں گے، بلا لیں، ہم ان کے ساتھ بیٹھیں۔ یہ ہمارے بچے ہیں، ہماری قوم کے لوگ ہیں، ان کے ساتھ ہم بیٹھیں گے۔ یہ ہماری اولاد ہے، ہم ان کی بربادی نہیں چاہتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ بات چیت کریں اور ان کا بچاؤ یقینی ہو۔ یہ بہت مشکل وقت گزار رہے ہوں گے، تو ہم انہیں بچائیں اور اپنے ملک کے ساتھ بات کریں۔
1/2
𝐼𝓂𝓇𝒶𝓃 𝐿𝒶𝓁𝒾𝓀𝒶 retweeted
پاکستان تحریک انصاف مرکزی سیکرٹریٹ کا خیبرپختونخوا کی تنظیمی صورتحال کے حوالے سے نوٹیفکیشن:
-پی ٹی آئی کے پی کی صوبائی تنظیم جنید اکبر خان کی صدارت میں کام جاری رکھے گی۔
-جنید اکبر کی عدم موجودگی میں سینیٹر نورالحق قادری صوبائی کابینہ کے اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔
-جنرل سیکرٹری علی اصغر خان کو تمام صوبائی اجلاس بلانے، صدارت کرنے اور تمام انتظامی و تنظیمی معاملات کی نگرانی کا اختیار دے دیا گیا ہے۔
حکم ثانی تک پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی صوبائی کابینہ یا تنظیمی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
بیرسٹر گوہر
@BarristerGohar
"عمران خان صاحب کی تینوں بہنوں کی جس دن گرفتاری ہوئی اس دن تھری ایم پی او کا ایک آڈر سامنے آیا جو گرفتاری کے بعد جاری ہوا جس کو ہم نے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اس پر ہوم سیکرٹری نے سماعت کی تیس دن گزرنے کے باوجود عدالت احکامات کے مطابق فیصلہ نہ ہوا، 19 اکتوبر کو 30دن پورے ہوئے آج تین دن اوپر ہوچکے ہیں لیکن رہائی نہیں ہوئی آج ہم نے لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی اور عدالت سے استدعا کی کہ اس طرح غیرقانونی بغیر کسی جرم کے کسی کو زیرحراست نہیں رکھا جا سکتا عدالت ان کو فوراً عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم جاری کرے اور جنہوں نے غیرقانونی قید رکھا ان کے خلاف کاروائی کی جائے اور اس کے ساتھ عدالتی حکم نہ ماننے پر توہین عدالت کی کاروائی بھی کی جائے عدالت نے 28 تاریخ کو ہوم سیکرٹری اور سپرنڈنٹ جیل کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا"۔
علیمہ خان کے بیٹے شاہریز خان کے وکیل رانا مدثر کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو
𝐼𝓂𝓇𝒶𝓃 𝐿𝒶𝓁𝒾𝓀𝒶 retweeted
ٹی ٹی پی کی سب سے بڑی ڈیمانڈ تھی کہ فاٹا کو دوبارہ خیبر پختونخوا سے الگ کیا جائے
فوج نے ADRC کے نام پر FATA کو بحال کر کے ان کی سب سے بڑی ڈیمانڈ پوری کر دی ہے 👏🏻
𝐼𝓂𝓇𝒶𝓃 𝐿𝒶𝓁𝒾𝓀𝒶 retweeted
فارم 47 کی حکومت کی دہائیوں پرانی پالیسیوں پر یوٹرن کے ساتھ جن غلطیوں کا اعتراف جرم کر رہی ہے، ان پر عمران خان نے بہت پہلے "Absolutely Not" کہہ کر اصولوں پر کوئی سمجھوتہ کرنے سے انکار کیا تھا۔
”دہشت گردوں کو واپس لانے کی پالیسی غلط تھی۔“
مراد سعید
@MuradSaeedPTI














