ہمارے ایم پی ایز کو اگر اپنی پختونخواء حکومت واپس چاہیے تو اپنے اجروں میں واپس جانا ہوگا۔ اپنے گلی محلوں اور حلقوں میں واپس جانا ہوگا۔ آپ وہاں سے عوامی طاقت کے بلبوتے اسمبلیوں میں آئے تھے۔ واپسی بھی وہیں سے ہوگی۔ ورنہ یہ ٹرک کی بتیاں ہمیں 4 سال سے گول گول گھما رہی ہیں۔
بھٹو نے فروری 1973 میں نیپ کی حکومت ختم کی لیکن آئین کی تیاری میں انہیں اپریل تک قومی اسمبلی میں آنےدیا۔انکودلاسہ دیاکہ انکی حکومتیں بحال ہونگی۔ پھرجب اگست میں آئین مکمل طورپرپاس ہوگیاتوتمام نیپ لیڈرشپ کومختلف الزامات میں جیل بھجوادیا۔ اورجب تک کرسی پررہاسبکواندررکھا۔
نہیں میں تو رومی فوج کے 9th legion کا سوچ رہا تھا۔ جو لشکر آج سے قریبا 1900 سال پہلے ہسپانیہ سے نکل کر برطانیہ پر حملہ کرنے گیا تھا اور راستے میں ہی گم ہوگیا۔ آج تک اسکا سراغ نا مل سکا۔
Salar Sultanzai retweeted
ذوالفقار علی بھٹو 1958 تک خود کو ’بھارتی شہری‘ ثابت کرنے کیلئے بھارتی عدالتوں میں کیس لڑتے رہے، ایوب خان کی کابینہ میں وزیر مقرر ہوئے تو بھارتی سپریم کورٹ سے 3 نومبر 1958 کو درخواست واپس لی۔ BBC اردو کا دلچسپ آرٹیکل
bbc.com/urdu/articles/cqz0vp…
Salar Sultanzai retweeted
عظمٰی خان کا شوہر 🚨
ہمیں ریلیف نہیں مل رہی, اب بتاؤ ہم کیا کریں؟ میں تو پوری عوام سے پوچھتا ہوں, جو بھی یہ دیکھے, کہ اب اپ, آپ بتاؤ ہم کیا کریں
ستر سال کی عورتوں کو پکڑ کے جیل میں ڈال دیا، اس سے بڑی کیا ناانصافی ہوگی؟
#شوکت_خانم_کی_شیر_اولاد
Salar Sultanzai retweeted
سلیمان خان 🚨
ہمارے والد خود یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ انہیں اسی طرح قتل کرنا چاہتے ہیں جس طرح مصری صدر محمد مرسی کو جیل کے اندر قتل کیا گیا تھا
Salar Sultanzai retweeted
یہ آج تک اس لئے لاپتہ ہے کہ ان کو دہشتگرد کہا گیا، دہشتگردوں کا سہولت کار کہا گیا اور آج اپنے ہی ایمرجنسی لگانے کہ بعد غیر قانونی و غیر آئینی ایریا ڈویلپمنٹ کونسل کہ وائس چیئرمین نے خود جو کہا وہ قوم کہ سامنے ہے،
روف کلاسرا، اجمل جامی کا زہر منیب فاروق اور حسن ایوب سے زیادہ خطرناک ہے۔ یہ حضرات گڑھ میں زہر کھلاتے ہیں۔
میں محترم چئیرمین گوہر صاحب اور محترم جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجہ صاحب کو کور کمیٹی سے اپنا استعفی پیش کرنا چاہونگا۔ اس پلیٹ فارم کےلیے خان صاحب نے ہمیں باہمی مشاورت سے پارٹی کی مفاد میں مربوط فیصلے کرنے کےلیے چنا تھا۔ ہم نے آخری حد تک برداشت کے ساتھ، مکمل اخلاص اور شب و روز کی تندہی کے ساتھ تمام معاملات پر پارٹی اور خان صاحب کو مضبوط کرنے کی حتی الامکان کوشش کی۔ لیکن بدقسمتی سے اب یہ پلیٹ فارم متاثر کن کارکردگی پیش کرنے میں مسلسل ناکام رہی ہے۔ اس کی واضح وجوہات یہ ہیں کہ پارٹی آئین کے مطابق اس اہم فیصلہ ساز پلیٹ فارم کو یا تو بطور انجمن ستائش باہمی کےلیے استعمال کیا جاتا ہے یا پھر ایسے ربر اسٹیمپ کے بطور جس کے زریعے کیے گئے غلط فیصلوں، غلطیوں، کوتائیوں یا نقصانات کی توجیہہ پیش کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کو پے درپے مسلسل ہر محاظ پر ناکامیوں کا سامنا ہے۔ جہاں اس پلیٹ فارم پر معزز میمبرز کو خان صاحب بھی مشاورت، اختلاف رائے اور تنقید کےلیے کھلے دل سے خوش آمدید کہتے تھے وہاں اب چند فیصلہ ساز دوست مشورے کو توہین اور اختلاف رائے کو جرم سمجھتے ہیں۔ تنقید کو تو بدقسمتی سے اب دشمنی سمجھا جاتا ہے۔ ہر شخص آخر میں صرف اللہ اور اپنے ضمیر کو جوابدہ ہیں۔ شاید دوستوں نے کھلے نیت سے کوششیں کی ہوں، شاید ہم ہی غلط ہوں۔ لیکن اس بابت کبھی فراخدلی سے کوئی مکالمہ نا ہوسکا۔ ہم تین سال سے گزارش کرتے رہے کہ فیصلے اجتماعی ہوں۔ پارٹی تنظیم مضبوط ہو۔ ہر شخص اپنی زمہ داریوں کا احساس کرے اور پارٹی کو متحد کرکے تحریکی اہداف جس میں اول ترین خان صاحب کی رہائی ہے انکو حاصل کیا جائے۔ لیکن یہ امر قابل صد افسوس ہے کہ نیک نیتانہ گزارشات کو سنجیدہ لینے کے بجائے ہر بات میں سازش ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی۔ فیصلہ ساز دوستوں کی انا اس قدر بلند ہے کہ کورکمیٹی تو چھوڑیں سوشل میڈیا پر بیس بائیس سال کے بچوں کی تنقید ڈھونڈ ڈھونڈ کر انکو طنزیہ جواب دیے جاتے۔ اس پلیٹ فارم پر اظہار اختلاف پرمعتبر پرانے ساتھیوں کی برملا بے عزتی کی جاتی۔ کوئی تجویز دے تو وہ ارسطو کہلاتا، کوئی کسی ایکٹیوٹی کی تائید کرے تو رستم و سہراب جیسے طنزیہ القابات سے نوازا جاتا۔ کوئی تنظیم بنانے کی استدعا کرے تو اسکو عہدوں کے شوقین بتایا جاتا۔
اس بات پر فخر ہے کہ پارٹی کےساتھ اور خاص طور پر خان صاحب کے ساتھ 19 سال کا تعلق ہے۔ نا حکومتیں لوٹی نا کبھی کسی قسم کی مراعات کا الزام لگا۔ مشکل وقت کے ساتھی ہیں۔ سارا بلوچستان جانتا ہے کہ سیٹ اور وزارت و دیگر آفرز کے باوجود جن لوگوں نے ضمیر کا سودا نا کیا ان میں ہمارا بھی زکر ہوتا ہے۔ پارٹی کے لیے پیسہ، وقت، پسینہ اور خون سب حاضر کیا۔ بارہا سیدھی فائرنگ کا سامنا کیا لیکن میدان یا ساتھیوں کو اکیلا چھوڑنے کےبجائے گرفتار ہونا اور جیلوں میں جانا قبول کیا۔ دو درجن سے زائد دہشتگردی کے کیسوں کے ساتھ 70 سے زائد ایف آئی آر ہونگے۔ عہدے یا کمیٹیوں کو اعزازات کے بجائے ہمیشہ زمہ داری سمجھا۔ لیکن جب وہی عہدے یا اعزازات پارٹی کی مضبوطی و بہتری کی بجائے نقصان کا سبب بنے تو بلا ججھک نشست خالی کردی۔ نا یہ پہلی بار ہے نا آخری بار ہے۔ اللہ عمران خان کو سلامت رکھے، اسکے نام پر بطور ایک کارکن ہمیشہ حاضر رہینگے۔
والسلام
عمران خان کے لیول کا کوئی نکلا پھر تو بات ہی ختم ہے۔ عمران خان ایک ہی ہے! انہوں نے یہ عزت، یہ مقام، یہ عوامی بھروسہ 50 سال کی عوامی زندگی کی مسلسل قربانیوں سے بنائی ہیں۔
عمران خان نے سب آزما کر دیکھا:
پرانے سیاستدان
تجربہ کار سیاستدان
وکلاء
علماء اور مذہبی طبقات
صنعتی و کاروباری شخصیات
نوجوان
بوڑھے
غریب لوگ
امیر لوگ
عام عوام
بلکہ سارا پاکستان
لیکن 25 کروڑ عوام میں کوئی ایک بھی عمران خان جیسے بہادر، باضمیر، نڈر اور خوددار نہیں نکلا کیونکہ عمران خان صرف ایک ہے ♥️
Salar Sultanzai retweeted
تیریاں ریساں کون کرے
علی وزیر کے سامنے امیدوار کھڑا نہیں کیا کہ پشتون قوم پرستوں کو آئسولیٹ کرنے کی بجائے قومی دھارے میں لایا جائے۔ ثمر بلور کے ضمنی الیکشن میں امیدوار کھڑا نہیں کیا کہ اسکا شوہر دہشتگردی کا شکار ہوا ہے۔ اختر مینگل نے اعتراف کیا کہ عمران خان نے 400 لاپتہ بلوچ افراد بازیاب کروائے۔ گلالئی اسماعیل کے والد کو باہر جانے کے لیے مدد دی گلالئی کا شکریے والا ٹویٹ آج بھی بطور ثبوت موجود ہے۔
ہر جماعت نے عمران خان کے خلاف بار بار لانگ مارچ نکالے، کسی لانگ مارچ پر کریک ڈاون نہیں ہوا کہیں تشدد نہیں ہوا ، کبھی ورکرز کے گھر نہیں توڑے۔ نواز شریف نے بیمار ہونے کی ایکٹنگ کی تو ترس آگیا اور نواز شریف فیصل واڈا کے کتے کے خون کا سیمپل دے کر باہر چلا گیا۔ مطیع اللہ جان کو فوج نے اٹھایا تو فوری بازیاب کروایا۔
غلطیاں کمیاں کمزوریاں کوتاہیاں بھی رہیں لیکن ایسی مثالیں آپ کو پاکستان کی اسی سالہ تاریخ میں کہیں نہیں ملیں گی۔ المیہ یہ رہا کہ شاید ہی ان میں سے کوئی ایسا ہو جس نے بعد میں عمران خان کو ڈسا نہ ہو۔
Salar Sultanzai retweeted
جب قرضہ 42 ہزار ارب تھا اس وقت ملک ڈیفالٹ کر چکا تھا اور اب قرض 87 ہزار ارب تک پہنچ چکا ہے تو ملک اونچی اوڑان پر ہے، معشیت پروان چڑھ رہی ہے اور سیاسی استحکام آچکا ہے۔
آج 23 اکتوبر ہے۔ شہید وطن ارشد شریف شہید کی برسی ہے۔ اللہ انکے درجات بلند کرے اور ان کے خاندان پر وہ برکتیں نازل کرے جنکا اللہ نے شہیدوں سے وعدہ کر رکھا ہے۔ آمین۔
یہ اسرائیل کی ہولوکاسٹ والی سٹوری ہے۔ اسرائیلی بھی ساری دنیا میں ہولوکاسٹ کا رونا پیٹتے ہیں لیکن کر وہی رہے ہیں جسکو وہ ظلم عظیم گردانتے ہیں۔
مادرِ جمہوریت بیگم نصرت بھٹو کی برسی پر قذافی اسٹیڈیم میں ان کے لہولہان چہرے کی تصویر آنکھوں کے سامنے ہے، میرے لیے اس تصویر کو دیکھنا کبھی آسان نہیں رہا۔
میرے لئے یہ تصور بھی کبھی آسان نہیں رہا کہ بیگم نصرت بھٹو راولپنڈی جیل کی سلاخوں کے پیچھے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو الوداع کہہ رہی تھیں اور جب عدالتی قتل کے بعد قائدعوام سپردِ خاک ہوئے تو ان کی شریک حیات کو تدفین میں شرکت کی اجازت تک نہیں ملی، اسی غم کے ساتھ انہوں نے بکھری ہوئی پارٹی کو سنبھالا اور آمریت کے خلاف تحریکِ بحالیٔ جمہوریت کو ایک بڑی تحریک بنادیا، انہوں نے بیٹی اور بیٹوں کی جدائی بھی سہی اور پھر بھی عام آدمی کے دکھ بانٹتی رہیں۔
شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو جب حوصلے کی مثال دینا ہوتی تو وہ اپنی والدہ کا ذکر کرتی تھیں، آج بیگم نصرت بھٹو کو یاد کرتے ہوئے محسوس کررہا ہوں کہ جس ماں کی ہمت پر مجھے ناز ہے، اس کی ہمت کے پیچھے بھی ایک ماں تھی۔
ہمارے پاس عمران خان کا نام بیچنے کے سوا کچھ رہا ہی نہیں۔ ٹویٹر، فیس بوک، ویلاگ میں بولتے جاو "عمران خان کا ساتھ کسی صورت نہیں چھوڑونگا"، نیچھے تماشبین قوم بیٹھی ہے تالیاں اور واہ واہ ملینگے۔ کوئی یہ نہیں پوچھےگا کیا کیا؟ کیا کرنا ہے؟ راستہ؟ اہداف؟
دنیا کی ہر تنظیم، چاہے وہ سیاسی جماعت ہو، تحریک ہو، کارپوریٹ بزنس ہو یا کوئی کرکٹ ٹیم ہو وہ دو اصولوں پر چلتی ہیں۔
1۔ اہداف
2۔ اقدار
کوئی اہداف پر زیادہ توجہ دیتاہے کوئی اقدار پر کوئی اس میں بیلنس کے طریقے سے چلتا ہے۔ ہمارے ساتھ جو ہونا تھا وہ ہوچکا ہے۔ اہداف حاصل کرنے میں ہم کتنے کامیاب ہیں وہ سب کو معلوم ہے۔ اقدار ہمارے کیا ہونے چاہیے یا ان پر ہم کتنے قائم ہیں وہ فیصلہ ہر کوئی اپنے گریبان میں مجھ سمیت جھانک کر دیکھ لے۔
نہیں ابوزرمیں آپکوبھی بول رہاہوں۔ خود کوبھی بول رہاہوں۔ فلانے گروپ فلانےگروپ کوبھی بول رہاہوں۔ پارٹی میں سب نے سب کوغدار ڈیکلئیرکردیاہے۔ ایک بھی وفادارنہیں رہا۔ وہ عمر شریف کی بات ہےکہ لاہوری اتنےپائےکھاتےلگتاہےبھینس اینٹوں پرکھڑی ہے۔ ہم نےعمران خان سےاخلاص والاکوئی کام نہیں کیا۔














