Former Member Political Committee And Core Committee PTI. Form 45 MNA NA 263 Quetta. Striving for honor and rights of my people.

Pakistan, Quetta
Joined May 2017
Include

Only show posts containing:

Exclude

Hide posts containing:

Time range
-
Minimum likes
Salar Sultanzai retweeted
Today, the Punjab government confirmed before the Lahore High Court that my mother, Aleema Khan @Aleema_KhanPK and my aunts, Dr Uzma Khan @DrUzma_KhanPK and @Noreen_KhanPK Noreen Niazi, have been detained for another 30 days under the MPO. What is particularly disturbing is that, according to the government’s own submission, the extension was approved on 7 October, yet only disclosed before the court on 26 October. Why was this order not disclosed during the Lahore High Court hearings on 9th and 12th October? Why was our family kept in the dark, even after their original 30-day detention periods had expired? For over a month, @ImranKhanPTI’s three sisters have been held in prison, denied access to their families and legal counsel, simply for standing by their brother, Imran Khan. As a son and nephew, I ask: What threat do three women pose to the state that warrants another month of imprisonment? What are the authorities so afraid of? The law should protect citizens from arbitrary detention, not become an instrument of persecution. We demand their immediate release, immediate access to their families and lawyers, and full disclosure of the legal grounds for their continued detention. We will keep fighting for justice. We will not be silenced. #FreeImranKhanAndFamily #imrankhan
41
885
25
1,550
21,880
تیرے ہوتے ہوئے بھی اے خالق مجھ پر ہر شخص نے خدائی کی۔
بھائی اللہ کے واسطے کاونٹر واپس دے دو وہ تو کاونٹر تب دیتا نا جب بھائی ہوتا وہ تو ابلیس تھا
41
173
1,590
ہمارے ایم پی ایز کو اگر اپنی پختونخواء حکومت واپس چاہیے تو اپنے اجروں میں واپس جانا ہوگا۔ اپنے گلی محلوں اور حلقوں میں واپس جانا ہوگا۔ آپ وہاں سے عوامی طاقت کے بلبوتے اسمبلیوں میں آئے تھے۔ واپسی بھی وہیں سے ہوگی۔ ورنہ یہ ٹرک کی بتیاں ہمیں 4 سال سے گول گول گھما رہی ہیں۔
8
199
4
659
5,039
Replying to @AhmedFaizUSA
گروک بھی یہی بتائیگا کہ اسکا کچھ پتہ نا چل سکا۔
2
51
بھٹو نے فروری 1973 میں نیپ کی حکومت ختم کی لیکن آئین کی تیاری میں انہیں اپریل تک قومی اسمبلی میں آنےدیا۔انکودلاسہ دیاکہ انکی حکومتیں بحال ہونگی۔ پھرجب اگست میں آئین مکمل طورپرپاس ہوگیاتوتمام نیپ لیڈرشپ کومختلف الزامات میں جیل بھجوادیا۔ اورجب تک کرسی پررہاسبکواندررکھا۔
2
81
274
3,064
نہیں میں تو رومی فوج کے 9th legion کا سوچ رہا تھا۔ جو لشکر آج سے قریبا 1900 سال پہلے ہسپانیہ سے نکل کر برطانیہ پر حملہ کرنے گیا تھا اور راستے میں ہی گم ہوگیا۔ آج تک اسکا سراغ نا مل سکا۔
Replying to @MeFixerr
شاعر کا اشارہ پارٹی قیادت کی طرف ہے ۔۔۔
2
20
94
3,542
یقینا رہبر منزل کہیں پر راستہ بھولا وگرنہ قافلے کے قافلے گم ہو نہیں سکتے۔
3
44
1
256
3,656
Salar Sultanzai retweeted
ذوالفقار علی بھٹو 1958 تک خود کو ’بھارتی شہری‘ ثابت کرنے کیلئے بھارتی عدالتوں میں کیس لڑتے رہے، ایوب خان کی کابینہ میں وزیر مقرر ہوئے تو بھارتی سپریم کورٹ سے 3 نومبر 1958 کو درخواست واپس لی۔ BBC اردو کا دلچسپ آرٹیکل bbc.com/urdu/articles/cqz0vp…
19
686
29
1,540
41,110
Salar Sultanzai retweeted
عظمٰی خان کا شوہر 🚨 ہمیں ریلیف نہیں مل رہی, اب بتاؤ ہم کیا کریں؟ میں تو پوری عوام سے پوچھتا ہوں, جو بھی یہ دیکھے, کہ اب اپ, آپ بتاؤ ہم کیا کریں ستر سال کی عورتوں کو پکڑ کے جیل میں ڈال دیا، اس سے بڑی کیا ناانصافی ہوگی؟ #شوکت_خانم_کی_شیر_اولاد
55
2,864
15
6,101
37,932
انکو کس سے خطرہ ہے؟ آسمانی بجلی سے؟
41
148
7
691
9,672
Salar Sultanzai retweeted
سلیمان خان 🚨 ہمارے والد خود یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ انہیں اسی طرح قتل کرنا چاہتے ہیں جس طرح مصری صدر محمد مرسی کو جیل کے اندر قتل کیا گیا تھا
3
207
1
413
7,232
Salar Sultanzai retweeted
یہ آج تک اس لئے لاپتہ ہے کہ ان کو دہشتگرد کہا گیا، دہشتگردوں کا سہولت کار کہا گیا اور آج اپنے ہی ایمرجنسی لگانے کہ بعد غیر قانونی و غیر آئینی ایریا ڈویلپمنٹ کونسل کہ وائس چیئرمین نے خود جو کہا وہ قوم کہ سامنے ہے،
7
379
6
1,258
7,989
روف کلاسرا، اجمل جامی کا زہر منیب فاروق اور حسن ایوب سے زیادہ خطرناک ہے۔ یہ حضرات گڑھ میں زہر کھلاتے ہیں۔
68
844
14
4,191
40,796
Replying to @KaliwalYam
یار مزاق نہیں کرو فیصل جاوید خان بھائی۔
6
1
25
1,078
میں محترم چئیرمین گوہر صاحب اور محترم جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجہ صاحب کو کور کمیٹی سے اپنا استعفی پیش کرنا چاہونگا۔ اس پلیٹ فارم کےلیے خان صاحب نے ہمیں باہمی مشاورت سے پارٹی کی مفاد میں مربوط فیصلے کرنے کےلیے چنا تھا۔ ہم نے آخری حد تک برداشت کے ساتھ، مکمل اخلاص اور شب و روز کی تندہی کے ساتھ تمام معاملات پر پارٹی اور خان صاحب کو مضبوط کرنے کی حتی الامکان کوشش کی۔ لیکن بدقسمتی سے اب یہ پلیٹ فارم متاثر کن کارکردگی پیش کرنے میں مسلسل ناکام رہی ہے۔ اس کی واضح وجوہات یہ ہیں کہ پارٹی آئین کے مطابق اس اہم فیصلہ ساز پلیٹ فارم کو یا تو بطور انجمن ستائش باہمی کےلیے استعمال کیا جاتا ہے یا پھر ایسے ربر اسٹیمپ کے بطور جس کے زریعے کیے گئے غلط فیصلوں، غلطیوں، کوتائیوں یا نقصانات کی توجیہہ پیش کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کو پے درپے مسلسل ہر محاظ پر ناکامیوں کا سامنا ہے۔ جہاں اس پلیٹ فارم پر معزز میمبرز کو خان صاحب بھی مشاورت، اختلاف رائے اور تنقید کےلیے کھلے دل سے خوش آمدید کہتے تھے وہاں اب چند فیصلہ ساز دوست مشورے کو توہین اور اختلاف رائے کو جرم سمجھتے ہیں۔ تنقید کو تو بدقسمتی سے اب دشمنی سمجھا جاتا ہے۔ ہر شخص آخر میں صرف اللہ اور اپنے ضمیر کو جوابدہ ہیں۔ شاید دوستوں نے کھلے نیت سے کوششیں کی ہوں، شاید ہم ہی غلط ہوں۔ لیکن اس بابت کبھی فراخدلی سے کوئی مکالمہ نا ہوسکا۔ ہم تین سال سے گزارش کرتے رہے کہ فیصلے اجتماعی ہوں۔ پارٹی تنظیم مضبوط ہو۔ ہر شخص اپنی زمہ داریوں کا احساس کرے اور پارٹی کو متحد کرکے تحریکی اہداف جس میں اول ترین خان صاحب کی رہائی ہے انکو حاصل کیا جائے۔ لیکن یہ امر قابل صد افسوس ہے کہ نیک نیتانہ گزارشات کو سنجیدہ لینے کے بجائے ہر بات میں سازش ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی۔ فیصلہ ساز دوستوں کی انا اس قدر بلند ہے کہ کورکمیٹی تو چھوڑیں سوشل میڈیا پر بیس بائیس سال کے بچوں کی تنقید ڈھونڈ ڈھونڈ کر انکو طنزیہ جواب دیے جاتے۔ اس پلیٹ فارم پر اظہار اختلاف پرمعتبر پرانے ساتھیوں کی برملا بے عزتی کی جاتی۔ کوئی تجویز دے تو وہ ارسطو کہلاتا، کوئی کسی ایکٹیوٹی کی تائید کرے تو رستم و سہراب جیسے طنزیہ القابات سے نوازا جاتا۔ کوئی تنظیم بنانے کی استدعا کرے تو اسکو عہدوں کے شوقین بتایا جاتا۔ اس بات پر فخر ہے کہ پارٹی کےساتھ اور خاص طور پر خان صاحب کے ساتھ 19 سال کا تعلق ہے۔ نا حکومتیں لوٹی نا کبھی کسی قسم کی مراعات کا الزام لگا۔ مشکل وقت کے ساتھی ہیں۔ سارا بلوچستان جانتا ہے کہ سیٹ اور وزارت و دیگر آفرز کے باوجود جن لوگوں نے ضمیر کا سودا نا کیا ان میں ہمارا بھی زکر ہوتا ہے۔ پارٹی کے لیے پیسہ، وقت، پسینہ اور خون سب حاضر کیا۔ بارہا سیدھی فائرنگ کا سامنا کیا لیکن میدان یا ساتھیوں کو اکیلا چھوڑنے کےبجائے گرفتار ہونا اور جیلوں میں جانا قبول کیا۔ دو درجن سے زائد دہشتگردی کے کیسوں کے ساتھ 70 سے زائد ایف آئی آر ہونگے۔ عہدے یا کمیٹیوں کو اعزازات کے بجائے ہمیشہ زمہ داری سمجھا۔ لیکن جب وہی عہدے یا اعزازات پارٹی کی مضبوطی و بہتری کی بجائے نقصان کا سبب بنے تو بلا ججھک نشست خالی کردی۔ نا یہ پہلی بار ہے نا آخری بار ہے۔ اللہ عمران خان کو سلامت رکھے، اسکے نام پر بطور ایک کارکن ہمیشہ حاضر رہینگے۔ والسلام
84
392
21
1,709
56,263
عمران خان کے لیول کا کوئی نکلا پھر تو بات ہی ختم ہے۔ عمران خان ایک ہی ہے! انہوں نے یہ عزت، یہ مقام، یہ عوامی بھروسہ 50 سال کی عوامی زندگی کی مسلسل قربانیوں سے بنائی ہیں۔
عمران خان نے سب آزما کر دیکھا: ​پرانے سیاستدان ​تجربہ کار سیاستدان ​وکلاء ​علماء اور مذہبی طبقات ​صنعتی و کاروباری شخصیات ​نوجوان ​بوڑھے ​غریب لوگ ​امیر لوگ ​عام عوام ​بلکہ سارا پاکستان ​لیکن 25 کروڑ عوام میں کوئی ایک بھی عمران خان جیسے بہادر، باضمیر، نڈر اور خوددار نہیں نکلا کیونکہ عمران خان صرف ایک ہے ♥️
2
172
1,010
10,683
Salar Sultanzai retweeted
تیریاں ریساں کون کرے علی وزیر کے سامنے امیدوار کھڑا نہیں کیا کہ پشتون قوم پرستوں کو آئسولیٹ کرنے کی بجائے قومی دھارے میں لایا جائے۔ ثمر بلور کے ضمنی الیکشن میں امیدوار کھڑا نہیں کیا کہ اسکا شوہر دہشتگردی کا شکار ہوا ہے۔ اختر مینگل نے اعتراف کیا کہ عمران خان نے 400 لاپتہ بلوچ افراد بازیاب کروائے۔ گلالئی اسماعیل کے والد کو باہر جانے کے لیے مدد دی گلالئی کا شکریے والا ٹویٹ آج بھی بطور ثبوت موجود ہے۔ ہر جماعت نے عمران خان کے خلاف بار بار لانگ مارچ نکالے، کسی لانگ مارچ پر کریک ڈاون نہیں ہوا کہیں تشدد نہیں ہوا ، کبھی ورکرز کے گھر نہیں توڑے۔ نواز شریف نے بیمار ہونے کی ایکٹنگ کی تو ترس آگیا اور نواز شریف فیصل واڈا کے کتے کے خون کا سیمپل دے کر باہر چلا گیا۔ مطیع اللہ جان کو فوج نے اٹھایا تو فوری بازیاب کروایا۔ غلطیاں کمیاں کمزوریاں کوتاہیاں بھی رہیں لیکن ایسی مثالیں آپ کو پاکستان کی اسی سالہ تاریخ میں کہیں نہیں ملیں گی۔ المیہ یہ رہا کہ شاید ہی ان میں سے کوئی ایسا ہو جس نے بعد میں عمران خان کو ڈسا نہ ہو۔
101
3,810
29
9,857
102,877
Salar Sultanzai retweeted
Replying to @KaliwalYam
حالیہ میڈیا رپورٹس، احتجاج اور سروے کے مطابق عمران خان اب بھی پاکستان میں سب سے زیادہ مقبول سیاسی شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔
5
44
2
232
6,168