Pinned Tweet
السلام علیکم!
صبحِ بخیر🤍
پروردگار عالم سے دعا کہ آج کا دن ہم سب کے لیے باعثِ برکت اور رحمت ثابت ہو۔
♥اللھم صل علی محمد وآلہ محمد♥
#خاتم_الرسلﷺ
Syeda retweeted
*بتاؤں آپ کو کیسی ہے اللّه کی محبت؟*❤️
*جیسا گمان کرو گے، اللہ پاک کو ویسا ہی پاؤ گے۔💝
❤️سکون کی غرض سے اسے ڈھونڈنے نکلو گے تو اسے “السلام” پاؤ گے۔
❤ جب گناہوں میں لپٹ کر بار بار جاؤ گے تب اسے “الغفار” پاؤ گے۔
❤️جب سارے دروازے بند ہو جائیں گے تب تم اسے “الفتاح” پاؤ گے۔
❤️ جب تم یقین کے ساتھ اس کے روبرو دعا کے لیے ہاتھ اٹھاؤ گے تب اسے “المجیب” پاؤ گے۔
❤️ جب اپنے معاملات کا فیصلہ اس پر چھوڑ دو گے تب اسے “الحکیم” پاؤ گے۔
❤️ جب کام کہیں سے نہ بن پائے گا تب تم اسے “الوکيل” پاؤ گے۔
❤️جب اپنی من پسند چیز اس کی حفاظت میں چھوڑ دو گے تب اسے “الحفيظ” پاؤ گے۔
❤️جب بے بسی کی انتہا تمہیں سجدے میں گرا دے گی تب تم اسے “القادر” پاؤ گے۔
❤️ جب دنیا کی ساری محبتیں تمہیں رد کر دیں گی تب تم اسے “الودود” پاؤ گے۔
❣️اللّٰہ ہم سب کی زندگی میں آسانیاں عطا فرمائے، آمین۔🤲❤️*
#خاتم_النبیین_محمدﷺ
#خاتم_الرسلﷺ
Syeda retweeted
السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
#خاتم_الرسلﷺ
#دامن_یار
سرورِ کائنات، ہادیِ اعظم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں درود شریف کا نذرانہ پیش کرنا روح کی تسکین اور بہترین عبادت ہے۔ زندگی کا ہر لمحہ گریزاں ہے، لیکن وہ گھڑی لافانی ہو جاتی ہے جو آقا کریم ﷺ کے ذکرِ پاک اور ثناء خوانی کے نور سے منور ہو جائے۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔
اَللّٰهُمّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔
Syeda retweeted
الســـلام علیـــکم ورحـــمتہ الــلہ وبـــرکـــاتـــہ
#خاتم_الرسلﷺ
#دامن_یار
سرورِ کائنات، ہادیِ اعظم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں درود شریف کا نذرانہ پیش کرنا روح کی تسکین اور بہترین عبادت ہے۔ زندگی کا ہر لمحہ گریزاں ہے، لیکن وہ گھڑی لافانی ہو جاتی ہے جو آقا کریم ﷺ کے ذکرِ پاک اور ثناء خوانی کے نور سے منور ہو جائے۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔
اَللّٰهُمّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔
#تشریح_القرآن
سورۃ البقرہ
آیت نمبر 126
ترجمہ:
اور جب ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا تھا کہ: اے میرے پروردگار! اس شہر (مکہ مکرمہ) کو امن والا شہر بنا دیجیے اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان لائیں، انہیں قسم قسم کے پھلوں سے رزق عطا فرمائیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور جو کفر اختیار کرے گا، اسے بھی میں کچھ عرصے کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دوں گا، پھر اسے دوزخ کے عذاب کی طرف مجبوراً لے جاؤں گا، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
سورہ البقرہ
آیت 126
تشریح:
اس آیتِ مبارکہ میں بیت اللہ شریف کی تعمیر کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا ذکر ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ اے میرے پروردگار! اس شہر (مکہ مکرمہ) کو امن و سلامتی والا شہر بنا دیجیے اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، انہیں طرح طرح کے پھلوں اور دیگر نعمتوں سے رزق عطا فرمائیے۔
مکہ مکرمہ ایک ایسی وادی میں واقع ہے جہاں زراعت کے وسائل محدود ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی کہ وہ اپنے فضل و کرم سے اس شہر کو رزق اور نعمتوں سے مالا مال فرما دے۔
اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ دنیا میں رزق عطا کرنا صرف اہلِ ایمان کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ کافر بھی دنیاوی رزق سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق مومن اور کافر، دونوں کو دنیا میں رزق عطا فرماتا ہے۔ تاہم دنیا کی یہ نعمتیں عارضی ہیں اور ان سے فائدہ اٹھانا آخرت کی کامیابی کی ضمانت نہیں۔
جو لوگ کفر اختیار کریں گے، انہیں بھی دنیا میں ایک مقررہ مدت تک زندگی کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا، لیکن آخرت میں اپنے کفر کے سبب انہیں عذابِ جہنم کا سامنا کرنا ہوگا، اور جہنم بہت برا ٹھکانا ہے۔
اس آیتِ مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دنیاوی رزق اور آسائشوں کا ملنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش بھی ہے۔ حقیقی کامیابی آخرت میں نجات اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے میں ہے
1
@M_Sial6
@its_1222
@_Awan6
@zahy_12
@NIK_563
@Ejz55
@Irumwarraichh
@AdnanQaiser4
السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
#خاتم_الرسلﷺ
#دامن_یار
سرورِ کائنات، ہادیِ اعظم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں درود شریف کا نذرانہ پیش کرنا روح کی تسکین اور بہترین عبادت ہے۔ زندگی کا ہر لمحہ گریزاں ہے، لیکن وہ گھڑی لافانی ہو جاتی ہے جو آقا کریم ﷺ کے ذکرِ پاک اور ثناء خوانی کے نور سے منور ہو جائے۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔
اَللّٰهُمّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔
#تشریح_القرآن
سورۃ البقرہ
آیت نمبر 126
ترجمہ:
اور جب ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا تھا کہ: اے میرے پروردگار! اس شہر (مکہ مکرمہ) کو امن والا شہر بنا دیجیے اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان لائیں، انہیں قسم قسم کے پھلوں سے رزق عطا فرمائیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور جو کفر اختیار کرے گا، اسے بھی میں کچھ عرصے کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دوں گا، پھر اسے دوزخ کے عذاب کی طرف مجبوراً لے جاؤں گا، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
سورہ البقرہ
آیت 126
تشریح:
اس آیتِ مبارکہ میں بیت اللہ شریف کی تعمیر کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا ذکر ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ اے میرے پروردگار! اس شہر (مکہ مکرمہ) کو امن و سلامتی والا شہر بنا دیجیے اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، انہیں طرح طرح کے پھلوں اور دیگر نعمتوں سے رزق عطا فرمائیے۔
مکہ مکرمہ ایک ایسی وادی میں واقع ہے جہاں زراعت کے وسائل محدود ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی کہ وہ اپنے فضل و کرم سے اس شہر کو رزق اور نعمتوں سے مالا مال فرما دے۔
اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ دنیا میں رزق عطا کرنا صرف اہلِ ایمان کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ کافر بھی دنیاوی رزق سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق مومن اور کافر، دونوں کو دنیا میں رزق عطا فرماتا ہے۔ تاہم دنیا کی یہ نعمتیں عارضی ہیں اور ان سے فائدہ اٹھانا آخرت کی کامیابی کی ضمانت نہیں۔
جو لوگ کفر اختیار کریں گے، انہیں بھی دنیا میں ایک مقررہ مدت تک زندگی کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا، لیکن آخرت میں اپنے کفر کے سبب انہیں عذابِ جہنم کا سامنا کرنا ہوگا، اور جہنم بہت برا ٹھکانا ہے۔
اس آیتِ مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دنیاوی رزق اور آسائشوں کا ملنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش بھی ہے۔ حقیقی کامیابی آخرت میں نجات اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے میں ہے۔
Syeda retweeted
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
#خاتم_الرسلﷺ
زندگی کی وہ گھڑی لافانی ہو جاتی ہے جو ہادیِ اعظم ﷺ آقا کریم ﷺ کے ذکرِ پاک اور درود پاک کے نور سے منور ہو جائے۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ
Syeda retweeted
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
#خاتم_الرسلﷺ
#دامن_یار
سرورِ کائنات، ہادیِ اعظم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں درود شریف کا نذرانہ پیش کرنا روح کی تسکین اور بہترین عبادت ہے۔ زندگی کا ہر لمحہ گریزاں ہے، لیکن وہ گھڑی لافانی ہو جاتی ہے جو آقا کریم ﷺ کے ذکرِ پاک اور ثناء خوانی کے نور سے منور ہو جائے۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔
اَللّٰهُمّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔
#تشریح_القرآن
سورۃ البقرہ
آیت نمبر 126
ترجمہ:
اور جب ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا تھا کہ: اے میرے پروردگار! اس شہر (مکہ مکرمہ) کو امن والا شہر بنا دیجیے اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان لائیں، انہیں قسم قسم کے پھلوں سے رزق عطا فرمائیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور جو کفر اختیار کرے گا، اسے بھی میں کچھ عرصے کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دوں گا، پھر اسے دوزخ کے عذاب کی طرف مجبوراً لے جاؤں گا، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
سورہ البقرہ
آیت 126
تشریح:
اس آیتِ مبارکہ میں بیت اللہ شریف کی تعمیر کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا ذکر ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ اے میرے پروردگار! اس شہر (مکہ مکرمہ) کو امن و سلامتی والا شہر بنا دیجیے اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، انہیں طرح طرح کے پھلوں اور دیگر نعمتوں سے رزق عطا فرمائیے۔
مکہ مکرمہ ایک ایسی وادی میں واقع ہے جہاں زراعت کے وسائل محدود ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی کہ وہ اپنے فضل و کرم سے اس شہر کو رزق اور نعمتوں سے مالا مال فرما دے۔
اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ دنیا میں رزق عطا کرنا صرف اہلِ ایمان کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ کافر بھی دنیاوی رزق سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق مومن اور کافر، دونوں کو دنیا میں رزق عطا فرماتا ہے۔ تاہم دنیا کی یہ نعمتیں عارضی ہیں اور ان سے فائدہ اٹھانا آخرت کی کامیابی کی ضمانت نہیں۔
جو لوگ کفر اختیار کریں گے، انہیں بھی دنیا میں ایک مقررہ مدت تک زندگی کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا، لیکن آخرت میں اپنے کفر کے سبب انہیں عذابِ جہنم کا سامنا کرنا ہوگا، اور جہنم بہت برا ٹھکانا ہے۔
اس آیتِ مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دنیاوی رزق اور آسائشوں کا ملنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش بھی ہے۔ حقیقی کامیابی آخرت میں نجات اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے میں ہے۔
1
@_Awan6
@Irumwarraichh
@zahy_12
@ak77577
@Tani__Syed
@Syeda__313
@Sehr_1k
@afshi0
@7Amavi
@Iqb9786
@1um_r
@nonari_kashif
@chaudharysa21
@15_mmpk
@AmjadSb22
@Amanmalik1070
@Amna_Naeemxxx
@bakhtawarkhan_0
@seemi_f
@Sarakhan7827
@Sra_az
@Kom_6K
@FasihaZaman
@Faiza_Ali_Hasan
@Tani__Syed
@Ho0r____
@FasihaZaman
@Sammy_5S
@faarah_but
@M_Sial6
Syeda retweeted
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
#خاتم_الرسلﷺ
زندگی کی وہ گھڑی لافانی ہو جاتی ہے جو ہادیِ اعظم ﷺ آقا کریم ﷺ کے ذکرِ پاک اور درود پاک کے نور سے منور ہو جائے۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ
Syeda retweeted
سر لا مکاں سے طلب ہوئی
سوئے منتہیٰ وہ چلے نبی ﷺ♥️
کوئی حد ہے ان کے عروج کی
بلغ العلیٰ بکمالہٖ،
کشف الدجیٰ بجمالہٖ
حسنت جمیع خصالہٖ،
صلو علیہ وآلہٖ
اٙللـَّهـُمَّ صـَلِِِّ وَسّـلٙـِّمْ وَبـَارِكْ عـٙلـىِِ مُحـٙٙمّـدِِؐ﴿ﷺ﴾
#عمران_خان_کہاں_ہے
Syeda retweeted
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
#خاتم_الرسلﷺ
زندگی کی وہ گھڑی لافانی ہو جاتی ہے جو ہادیِ اعظم ﷺ آقا کریم ﷺ کے ذکرِ پاک اور درود پاک کے نور سے منور ہو جائے۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ
1
Syeda retweeted
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
#خاتم_الرسلﷺ
#دامن_یار
سرورِ کائنات، ہادیِ اعظم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں درود شریف کا نذرانہ پیش کرنا روح کی تسکین اور بہترین عبادت ہے۔ زندگی کا ہر لمحہ گریزاں ہے، لیکن وہ گھڑی لافانی ہو جاتی ہے جو آقا کریم ﷺ کے ذکرِ پاک اور ثناء خوانی کے نور سے منور ہو جائے۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔
اَللّٰهُمّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔
#تشریح_القرآن
سورۃ البقرہ
آیت نمبر 126
ترجمہ:
اور جب ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا تھا کہ: اے میرے پروردگار! اس شہر (مکہ مکرمہ) کو امن والا شہر بنا دیجیے اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان لائیں، انہیں قسم قسم کے پھلوں سے رزق عطا فرمائیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور جو کفر اختیار کرے گا، اسے بھی میں کچھ عرصے کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دوں گا، پھر اسے دوزخ کے عذاب کی طرف مجبوراً لے جاؤں گا، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
سورہ البقرہ
آیت 126
تشریح:
اس آیتِ مبارکہ میں بیت اللہ شریف کی تعمیر کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا ذکر ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ اے میرے پروردگار! اس شہر (مکہ مکرمہ) کو امن و سلامتی والا شہر بنا دیجیے اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، انہیں طرح طرح کے پھلوں اور دیگر نعمتوں سے رزق عطا فرمائیے۔
مکہ مکرمہ ایک ایسی وادی میں واقع ہے جہاں زراعت کے وسائل محدود ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی کہ وہ اپنے فضل و کرم سے اس شہر کو رزق اور نعمتوں سے مالا مال فرما دے۔
اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ دنیا میں رزق عطا کرنا صرف اہلِ ایمان کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ کافر بھی دنیاوی رزق سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق مومن اور کافر، دونوں کو دنیا میں رزق عطا فرماتا ہے۔ تاہم دنیا کی یہ نعمتیں عارضی ہیں اور ان سے فائدہ اٹھانا آخرت کی کامیابی کی ضمانت نہیں۔
جو لوگ کفر اختیار کریں گے، انہیں بھی دنیا میں ایک مقررہ مدت تک زندگی کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا، لیکن آخرت میں اپنے کفر کے سبب انہیں عذابِ جہنم کا سامنا کرنا ہوگا، اور جہنم بہت برا ٹھکانا ہے۔
اس آیتِ مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دنیاوی رزق اور آسائشوں کا ملنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش بھی ہے۔ حقیقی کامیابی آخرت میں نجات اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے میں ہے۔
1
Syeda retweeted
Ya "Musabbib al-Asbab" is one of my most fav phrases to refer Allah. It means the one who causes the causes.
Everything is controlled by Allah.
I can't explain it but it's simply beautiful! ✨💞
#خاتم_الرسلﷺ
Syeda retweeted
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
#خاتم_الرسلﷺ
#دامن_یار
سرورِ کائنات، ہادیِ اعظم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں درود شریف کا نذرانہ پیش کرنا روح کی تسکین اور بہترین عبادت ہے۔ زندگی کا ہر لمحہ گریزاں ہے، لیکن وہ گھڑی لافانی ہو جاتی ہے جو آقا کریم ﷺ کے ذکرِ پاک اور ثناء خوانی کے نور سے منور ہو جائے۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔
اَللّٰهُمّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔
#تشریح_القرآن
سورۃ البقرہ
آیت نمبر 126
ترجمہ:
اور جب ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا تھا کہ: اے میرے پروردگار! اس شہر (مکہ مکرمہ) کو امن والا شہر بنا دیجیے اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان لائیں، انہیں قسم قسم کے پھلوں سے رزق عطا فرمائیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور جو کفر اختیار کرے گا، اسے بھی میں کچھ عرصے کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دوں گا، پھر اسے دوزخ کے عذاب کی طرف مجبوراً لے جاؤں گا، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
سورہ البقرہ
آیت 126
تشریح:
اس آیتِ مبارکہ میں بیت اللہ شریف کی تعمیر کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا ذکر ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ اے میرے پروردگار! اس شہر (مکہ مکرمہ) کو امن و سلامتی والا شہر بنا دیجیے اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، انہیں طرح طرح کے پھلوں اور دیگر نعمتوں سے رزق عطا فرمائیے۔
مکہ مکرمہ ایک ایسی وادی میں واقع ہے جہاں زراعت کے وسائل محدود ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی کہ وہ اپنے فضل و کرم سے اس شہر کو رزق اور نعمتوں سے مالا مال فرما دے۔
اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ دنیا میں رزق عطا کرنا صرف اہلِ ایمان کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ کافر بھی دنیاوی رزق سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق مومن اور کافر، دونوں کو دنیا میں رزق عطا فرماتا ہے۔ تاہم دنیا کی یہ نعمتیں عارضی ہیں اور ان سے فائدہ اٹھانا آخرت کی کامیابی کی ضمانت نہیں۔
جو لوگ کفر اختیار کریں گے، انہیں بھی دنیا میں ایک مقررہ مدت تک زندگی کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا، لیکن آخرت میں اپنے کفر کے سبب انہیں عذابِ جہنم کا سامنا کرنا ہوگا، اور جہنم بہت برا ٹھکانا ہے۔
اس آیتِ مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دنیاوی رزق اور آسائشوں کا ملنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش بھی ہے۔ حقیقی کامیابی آخرت میں نجات اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے میں ہے۔
Syeda retweeted
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
#خاتم_الرسلﷺ
سرورِ کائنات، ہادیِ اعظم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں درود شریف کا نذرانہ پیش کرنا روح کی تسکین اور بہترین عبادت ہے۔ زندگی کا ہر لمحہ گریزاں ہے، لیکن وہ گھڑی لافانی ہو جاتی ہے جو آقا کریم ﷺ کے ذکرِ پاک اور ثناء خوانی کے نور سے منور ہو جائے۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔
اَللّٰهُمّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔
#تشریح_القرآن
سورۃ البقرہ
آیت نمبر 126
ترجمہ:
اور جب ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا تھا کہ: اے میرے پروردگار! اس شہر (مکہ مکرمہ) کو امن والا شہر بنا دیجیے اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان لائیں، انہیں قسم قسم کے پھلوں سے رزق عطا فرمائیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور جو کفر اختیار کرے گا، اسے بھی میں کچھ عرصے کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دوں گا، پھر اسے دوزخ کے عذاب کی طرف مجبوراً لے جاؤں گا، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
سورہ البقرہ
آیت 126
تشریح:
اس آیتِ مبارکہ میں بیت اللہ شریف کی تعمیر کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا ذکر ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ اے میرے پروردگار! اس شہر (مکہ مکرمہ) کو امن و سلامتی والا شہر بنا دیجیے اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، انہیں طرح طرح کے پھلوں اور دیگر نعمتوں سے رزق عطا فرمائیے۔
مکہ مکرمہ ایک ایسی وادی میں واقع ہے جہاں زراعت کے وسائل محدود ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی کہ وہ اپنے فضل و کرم سے اس شہر کو رزق اور نعمتوں سے مالا مال فرما دے۔
اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ دنیا میں رزق عطا کرنا صرف اہلِ ایمان کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ کافر بھی دنیاوی رزق سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق مومن اور کافر، دونوں کو دنیا میں رزق عطا فرماتا ہے۔ تاہم دنیا کی یہ نعمتیں عارضی ہیں اور ان سے فائدہ اٹھانا آخرت کی کامیابی کی ضمانت نہیں۔
#خاتم_الرسلﷺ
Syeda retweeted
Isha namaz Reminder
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 🌙
عشاء کی نماز کا وقت ہوا چاہتا ہے…
رات کی تاریکی میں جب سب کچھ خاموش ہو جاتا ہے،
تبھی اللہ کی بارگاہ میں سر جھکانے کا سب سے پیارا وقت آتا ہے,
آئیے،
آج کی آخری فرض نماز ادا کریں,
سجدہ ریز ہو جائیں، دل کی گہرائیوں سے دعا کریں,
اللہ ہمیں نماز باجماعت اور خشوع کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے,
آمین یا رب العالمین..
#خاتم_الرسلﷺ
🤖 Made with AI
Syeda retweeted
کبھی خود کو بہت اکیلا محسوس کرو تو یہ یاد رکھنا… 🤍
اللہ تم سے محبت کرتا ہے۔
تمہاری خاموش دعائیں بھی سنتا ہے،
تمہارے آنسو بھی دیکھتا ہے،
تمہاری وہ تکلیف بھی جانتا ہے جو تم کسی سے کہہ نہیں پاتے۔ 🌸
لوگ چھوڑ دیں تو چھوڑ دینے دو،
بس اللہ کا دامن مت چھوڑنا۔
کیونکہ جس رب کی محبت نصیب ہو جائے،
وہ کبھی حقیقت میں اکیلا نہیں رہتا۔ 🤲
🌹حَسْبِيَ الله لا إِلَهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيم🌹
#خاتم_الرسلﷺ
#محبت_مافیا
Syeda retweeted
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
#خاتم_الرسلﷺ
#دامن_یار
سرورِ کائنات، ہادیِ اعظم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں درود شریف کا نذرانہ پیش کرنا روح کی تسکین اور بہترین عبادت ہے۔ زندگی کا ہر لمحہ گریزاں ہے، لیکن وہ گھڑی لافانی ہو جاتی ہے جو آقا کریم ﷺ کے ذکرِ پاک اور ثناء خوانی کے نور سے منور ہو جائے۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔
اَللّٰهُمّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔
#تشریح_القرآن
سورۃ البقرہ
آیت نمبر 126
ترجمہ:
اور جب ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا تھا کہ: اے میرے پروردگار! اس شہر (مکہ مکرمہ) کو امن والا شہر بنا دیجیے اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان لائیں، انہیں قسم قسم کے پھلوں سے رزق عطا فرمائیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور جو کفر اختیار کرے گا، اسے بھی میں کچھ عرصے کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دوں گا، پھر اسے دوزخ کے عذاب کی طرف مجبوراً لے جاؤں گا، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
سورہ البقرہ
آیت 126
تشریح:
اس آیتِ مبارکہ میں بیت اللہ شریف کی تعمیر کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا ذکر ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ اے میرے پروردگار! اس شہر (مکہ مکرمہ) کو امن و سلامتی والا شہر بنا دیجیے اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، انہیں طرح طرح کے پھلوں اور دیگر نعمتوں سے رزق عطا فرمائیے۔
مکہ مکرمہ ایک ایسی وادی میں واقع ہے جہاں زراعت کے وسائل محدود ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی کہ وہ اپنے فضل و کرم سے اس شہر کو رزق اور نعمتوں سے مالا مال فرما دے۔
اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ دنیا میں رزق عطا کرنا صرف اہلِ ایمان کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ کافر بھی دنیاوی رزق سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق مومن اور کافر، دونوں کو دنیا میں رزق عطا فرماتا ہے۔ تاہم دنیا کی یہ نعمتیں عارضی ہیں اور ان سے فائدہ اٹھانا آخرت کی کامیابی کی ضمانت نہیں۔
جو لوگ کفر اختیار کریں گے، انہیں بھی دنیا میں ایک مقررہ مدت تک زندگی کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا، لیکن آخرت میں اپنے کفر کے سبب انہیں عذابِ جہنم کا سامنا کرنا ہوگا، اور جہنم بہت برا ٹھکانا ہے۔
اس آیتِ مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دنیاوی رزق اور آسائشوں کا ملنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش بھی ہے۔ حقیقی کامیابی آخرت میں نجات اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے میں ہے۔۔💖
Syeda retweeted
Nothing is impossible when you're asking Allah because Allah says in the Quran:
“And He will provide him from, he never could imagine.
And whosoever puts his trust in Allah, then He will suffice him.
Verily, Allah will accomplish His purpose.
Indeed Allah has set a measure for all things.
Al Qur’aan (65:3) #خاتم_الرسلﷺ
Syeda retweeted
#خاتم_الرسلﷺ
#تشریح_القرآن
بنیادی اسلامی عقائد
اللہ تعالیٰ کو وحدہٗ لا شریک ماننا، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو آخری نبی تسلیم کرنا اور قرآنِ مجید کو اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی کتاب اور قیامت تک کے لیے سرچشمۂ ہدایت ماننا بنیادی اسلامی عقائد میں شامل ہے۔
8
Syeda retweeted
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
#خاتم_الرسلﷺ
زندگی کی وہ گھڑی لافانی ہو جاتی ہے جو ہادیِ اعظم ﷺ آقا کریم ﷺ کے ذکرِ پاک اور درود پاک کے نور سے منور ہو جائے۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ
1


























