Voice of the Victims of Blasphemy Business Group (@VictimsofB_Gang) header
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group (@VictimsofB_Gang) profile picture

Voice for the Victims of Blasphemy Business Group... (400+Victims, 5 Deaths....) Dedicated to support oppressed and helpless Families of Innocent Souls..

Joined March 2024
Photo by Voice of the Victims of Blasphemy Business Group (@VictimsofB_Gang)Photo by Voice of the Victims of Blasphemy Business Group (@VictimsofB_Gang)Photo by Voice of the Victims of Blasphemy Business Group (@VictimsofB_Gang)Photo by Voice of the Victims of Blasphemy Business Group (@VictimsofB_Gang)Photo by Voice of the Victims of Blasphemy Business Group (@VictimsofB_Gang)Photo by Voice of the Victims of Blasphemy Business Group (@VictimsofB_Gang)Photo by Voice of the Victims of Blasphemy Business Group (@VictimsofB_Gang)Photo by Voice of the Victims of Blasphemy Business Group (@VictimsofB_Gang)Photo by Voice of the Victims of Blasphemy Business Group (@VictimsofB_Gang)Photo by Voice of the Victims of Blasphemy Business Group (@VictimsofB_Gang)
فیکٹ فوکس کی نئی تحقیقاتی رپورٹ (پارٹ#1) 👈تین دہائیاں، تین کردار، تین راستے، ایک سوال 31 اگست, 2026 by قندیل عظیم 📍 پانچ مئی 2025 کو حکومت پنجاب کے محکمہ داخلہ کے سکریٹری نورالامین مینگل نے ایک درخواست مسترد کر دی۔ درخواست ایک ایسے شخص کی تھی جس کا نام برسوں سے دہشت گردی سے متعلق ایک سرکاری فہرست، یعنی فورتھ شیڈول، میں شامل ہے۔ اس شخص نے مؤقف اختیار کیا کہ اب اس کا کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی سے تعلق نہیں، اس لیے اس کا نام فہرست سے نکال دیا جائے۔ 📍نورالامین مینگل، جنہوں نے خود اس شخص کا نام 24 جون 2024 کو فورتھ شیڈول میں ڈالا تھا، ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد یہ درخواست مسترد کر دی۔ سرکاری فیصلے میں انہوں نے قرار دیا کہ درج وجوہات اور موجود شواہد کے مطابق درخواست گزار کا نام فورتھ شیڈول سے نہیں نکالا جا سکتا۔ 📍یہ فیصلہ صرف ایک انتظامی کارروائی نہیں تھا۔ اس نے تقریباً تین دہائیوں پر محیط ایک ایسے ریکارڈ کی طرف دوبارہ توجہ دلائی جس میں فرقہ وارانہ شدت پسندی، دہشت گردی کے مقدمات، کالعدم تنظیموں سے تعلق اور بعد کے برسوں میں سامنے آنے والی نئی سرگرمیاں ایک ہی سلسلے کی مختلف کڑیاں دکھائی دیتی ہیں۔ 📍 اسی کہانی کے تین مرکزی کردار ہیں، جن میں دو سگے بھائی ہیں۔ 📍لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس چودھری عبدالعزیز جنہوں نے عبداللہ شاہ قتل کیس پر اثر انداز ہونے کے حوالے سے فیکٹ فوکس کی فروری 2025 کی تحقیقاتی خبر شائع ہونے کے فوراً بعد استعفٰی دے دیا تھا، اس کہانی کے پہلے مرکزی کردار ہیں۔ وہ آج بھی بڑے زور و شور سے مختلف پلیٹ فارمز پر بلاسفیمی کے کاروبار کی سہولت کاری کر رہے ہیں۔ 📍دوسرے کردار، راؤ حبیب الرحمان، جن کے خلاف 1990 کی دہائی سے لے کر اب تک مختلف اوقات میں دہشت گردی، قتل، اقدام قتل، اشتعال انگیزی اور دیگر سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہوتے رہے۔ ان کا نام پاکستان کی تاریخ کے دہشت گردی کے سب سے بڑے کیسز میں آیا، سرکاری ریکارڈ کے مطابق ان کا نام آج بھی فورتھ شیڈول میں شامل ہے۔ اور حال ہی میں اسی فورتھ شیڈول سے نام نکلوانے کی ان کی درخواست پنجاب کی وزارت داخلہ نے مسترد کر دی۔ 📍وہ بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم لشکر جھنگوی کے مرکزی رہنماؤں میں سے ہیں اور ایک لمبا عرصہ اسی دہشت گرد تنظیم کے ضلع وہاڑی کے صدر رہے۔ 📍یاد رہے کہ پاکستان نے لشکر جھنگوی کو 14 اگست 2001 کو کالعدم قرار دیا تھا ، جبکہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے 2003 میں اسے القاعدہ اور طالبان سے تعلق کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا۔ اس سب کے باوجود راؤ حبیب الرحمان اب آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں اور اپنے کاروبار وغیرہ کو دیکھ رہے ہیں۔ 📍تیسرے کردار راؤ حبیب الرحمان کے چھوٹے بھائی ایڈووکیٹ راؤ عبدالرحیم، جوخود کو اسلام آباد میں قائم ایک تنظیم لیگل کمیشن آن بلاسفیمی کا سربراہ بتاتے ہیں مگر پچھلے دو سالوں میں فیکٹ فوکس نے مسلسل اپنی تحقیقاتی رپورٹنگ کے ذریعے انکی تنظیم کی اصلیت کو عیاں کیا اور ثابت کیا کہ راؤ عبدالرحیم در اصل " بلاسفیمی بزنس گروپ" کے سربراہ ہیں۔ 📍فیکٹ فوکس نے پنجاب پولیس کی اسپیشل برانچ کی ایک ایسی کلاسیفائیڈ رپورٹ کو بھی جاری کیا جس میں راؤ عبدالرحیم کے بلاسفیمی سے متعلق اسی ایڈونچر کو " بلاسفیمی بزنس گروپ " کے نام سے ہی پکارا گیا تھا۔ 📍میڈیا کے دیگر حلقے اور صحافی انکی تنظیم کو " بلاسفیمی گینگ " پکارتے ہیں۔ ان موصوف کاروبار بھی عروج پر ہے اور موجودہ حکومت کے اہم ترین وزرا سے انکا رابطہ رہتا ہے اور وہ باآسانی پارلیمنٹ کی ہر طرح کی کاروائی کا حصہ بھی بنتے ہیں۔ فیکٹ فوکس کی یہ رپورٹ سرکاری ریکارڈ، ایف آئی آرز، تحقیقاتی رپورٹس، عدالتی دستاویزات، محکمہ داخلہ کے احکامات، دیگر سرکاری دستاویزات اور ناقابل تردید ثبوتوں کی بنیاد پر گزشتہ تین دہائیوں کے دوران مختلف اوقات میں پیش آنے والے واقعات کو ایک ٹائم لائن کی صورت میں سامنے لاتی ہے۔ 📍اس ٹائم لائن سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی جیسے جرائم میں ملوث افراد اور دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ عناصر نہ صرف موجودہ نظام میں محفوظ رہتے ہیں بلکہ اپنے فرسودہ اور انتہاپسندانہ نظریات اور مقاصد کو جاری رکھنے کے لیے اپنی سابقہ تنظیموں کو نئے ناموں اور بدلے ہوئے طریقہ کار کے ساتھ دوبارہ منظم کر لیتے ہیں۔ حالات اور ماحول کے مطابق تنظیم کا نام اور کام کرنے کا انداز بدل جاتا ہے، مگر مقاصد وہی رہتے ہیں۔ 📍یوں گزشتہ تین دہائیوں میں مذہبی انتہاپسند اور دہشت گرد تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد مزید طاقتور ہوئے، انہوں نے نئے محاذ کھولے اور نت نئے ایڈونچر شروع کیے، جبکہ عام اور غریب لوگوں، خصوصاً پڑھے لکھے نوجوانوں کی زندگیاں مزید اجیرن ہوتی گئیں۔ (جاری ہے 👇)
9
33
4
101
15,047
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
اسلام آباد ہائی کورٹ کا تاریخ ساز فیصلہ اسلام آباد بائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے بلاسفیمی کے من گھڑت مُقدمے میں 9 سال سے پابند سلاسل اُردو کے ایک پروفیسر کی سزا کو معطل کرتے ہووے ضمانت پر رہائی کا حُکم دے دیا۔ درخواست گُزار کی طرف سے مُحمد عثمان نواز وڑائچ عدالت میں پیش ہوئے۔ #BlasphemyBusinessGang
14
39
3
134
2,950
👈وہ وقت جب اسلام آباد ہائی کورٹ پر چڑھائی کرنے کے لئے "اہل ایمان" کے جتھوں کو بلایا جاتا تھا جیسے وہاں باقی سب کافر ہیں اور اہل ایمان وہاں جتھے لے کے پہنچیں۔ (زیر نظر جولائی 2025 کی ٹویٹ پڑھیں اور آج جسٹس سردار اعجاز اسحاق صاحب کے ریمارکس بھی پڑھیں) 🚨 🔵 👈ججوں اور گواہوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا، جسٹس سردار اعجاز اسحاق کے اہم ریمارکس 📍اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کے توہینِ مذہب سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران عدالتی نظام اور ریاست کی جانب سے ججوں اور گواہوں کو تحفظ فراہم نہ کرنے پر اہم ریمارکس۔ 📍جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان اور جسٹس خادم حسین سومرو پر مشتمل بینچ نے توہینِ مذہب کے مقدمے میں گرفتار ملزمان کی سزائیں معطل کرتے ہوئے اپیلوں پر سماعت کی۔ 📍جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیئے کہ توہینِ مذہب کے مقدمے (نور فاطمہ رٹ پیٹیشن) کی سماعت کے دوران انہیں ہر روز یہ خوف محسوس ہوتا تھا کہ کوئی شخص آئے گا اور انہیں عدالت میں گولی مار کر چلا جائے گا۔ 📍ان کا کہنا تھا کہ اس نشست پر بغیر کسی خوف کے بیٹھنا ممکن نہیں، خوف کی وجہ سے کوئی جج ان اپیلوں کی سماعت نہیں کرتا۔ اگر وہ اکیلے یہ مقدمات سن سکتے تو ضرور سنتے۔ 📍جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ریاست کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ریاست اپنا کام ٹھیک سے نہیں کرتی، ججوں اور گواہوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا۔ کتنے ہی جج ایسے ہیں جن کی جانیں چلی گئیں۔ 📍انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ ان معاملات پر جواب دیں گے تو ان کے خلاف ایک اور ریفرنس دائر ہو جائے گا۔ سب کو معلوم ہے کہ یہ اپیلیں برسوں سے مقرر کیوں نہیں ہو رہیں۔ 📍جسٹس سردار اعجاز اسحاق کے ریمارکس نے توہینِ مذہب کے مقدمات میں عدالتی کارروائی، ججوں کو لاحق سیکیورٹی خدشات اور زیرِ التوا اپیلوں کے معاملے کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کر دیا۔ #StopBlasphemyBusiness #JusticeFor450 #450LivesMatter
🔵 دین فروش کسی بھی حد تک گر سکتے ہیں ۔ ان سے اپنا ایمان، اپنے بچوں اور ان بچوں کے والدین کو بھی بچا کر رکھیں آپ کو کسی بھی وقت دین سے نکالنے کا فتویٰ جاری کرسکتے ہیں۔ منہ پر سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجا کر شعور ٹی وی پر بیٹھا انتہا پسند شخص، بلاسفیمی بزنس گروپ کا شکار ہونے والے مظلوم مسلمان بچوں پر اور ان کے والدین پر کیسے کیسے الزام لگا رہا ہےخود پڑھیں ۔ 🔵 اصل میں ان کا بزنس ڈوب رہاہے سارا مسئلہ ہی بلاسفیمی بزنس کا ہے ۔ اس شخص نے مندرجہ زیل الزامات لگائے ہیں (ذیل میں دیا گیا پوسٹر پڑھیں)۔ یہاں ریاست جسے ماں کہتے ہیں ایسے انتہا پسندوں کو روکنے میں ناکام ہے ۔ 📍 450 مسلمانوں کے بچے قادیانی لابی ؟؟؟ (جہاں اور کوئی کارڈ کام نہ کرے قادیانی کارڈ کھیلو اور جس پر چاہے فتویٰ جاری کردو ) 📍 گستاخوں کے والدین..؟؟؟ (کیا مطلب جناب آپ کا؟؟؟ آپ کو بلاسفیمی بزنس گینگ کہا جائے تو آپ کو تکلیف ہوتی ہے اور بچوں کے والدین کو گستاخوں کے والدین بنادیا ؟؟؟؟) 📍اہل ایمان اسلام آباد پہنچیں ۔۔؟ (اہل ایمان اسلام آباد پہنچیں مطلب ؟؟؟ وہاں باقی سب کافر ہیں جو اہل ایمان وہاں جتھے لے کر پہنچیں ؟؟؟) 📍 ہائی کورٹ پہنچنے کی دعوت کس لئے ؟ (عدالتوں پر جتھوں کے ذریعے اثر انداز ہونے کے لئے ؟؟؟) 📍معرکہ حق و باطل ؟؟؟ (کیا مطلب ؟ آپ کے علاؤہ سب غیر مسلم ہیں یا کافر ہو چکے ہیں جو حق و باطل کا معرکہ ہونے جارہا وہ بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں ؟؟) شعور نامی بے شعور ٹی وی کی پیچھے بیٹھے شخص کی یہ ٹویٹ اس کی انتہا پسندانہ ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے جو دین فروشوں کو اشتعال دلا کر عدالت پر پہنچنے کی کھلی دعوت معرکہ حق و باطل بنا کر دی گئی ہے ۔ یہ بے شعور بلاسفیمی بزنس گروپ کی ہنی ٹریپنگ لڑکیاں اور سپین کے نمبرز اور عبداللہ شاہ کا قتل تک ایکسپوز ہونے کے بعد بھی بلاسفیمی بزنس گروپ کی مکمل سپورٹ میں کھڑا نظر آتا ہے اس میں سمجھنے والے باآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ ان کا انسانیت یا دین اسلام سے کتنا تعلق ہے ۔ 🔵 نوٹ: بے شعور نامی ٹی وی کی یہ پوسٹ کچھ عرصہ پہلے ان کے پیج پر پوسٹ کی گئی تھی یہاں نیچے دوبارہ آگاہی کے لئے شئیر کی جارہی ہے ۔ #StopBlasphemyBusiness #400LivesMatter #BlasphemyBusinessGroup
5
29
1
82
1,787
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
راؤعبدالرحیم نےجو بیج بوئےتھے،آج انکی فصل تباہی مچارہی ہے۔700سےزائد کیسزسامنےآچکےہیں،اب کوئی بچہ،کوئی گھراورکوئی خاندان محفوظ نہیں۔روزانہ نئےخاندان اسکی زدمیں آرہےہیں۔آج ایک اوربہن اپنےبھائی کےلیےرو رہی ہے۔آخر کتنےگھراجڑنےکےبعد یہ سلسلہ رکےگا؟ گندہ دھندہ #StopBlasphemyBusiness
9
206
7
359
11,100
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
🔥 گورنمنٹ سے ، محسن نقوی سے ، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور باقی اداروں سے ارجنٹ اپیل ہے کہ اس ظلم کو روکیں 🔥اس آرمی بیک گراؤنڈ رکھنے والی بہن کی فریاد سنو 🙏۔ ان کا نام سید مریم ہے اور ان کے بھائی کو سوسائٹی کے فرعون رانا عبید نے پولیس کی کا بھیروں کے ساتھ مل کر جھوٹے توہین مذہب کے کیس میں بھجوایا ہوا ہے اور پچھلے 5 دنوں سے انکے بھائی کو اغوا کیا ہوا ہے ۔ @MohsinnaqviC42 @KhawajaMAsif @MaryamNSharif @OfficialDGISPR @BBCUrdu @arynewsud @geonews_urdu
26
598
14
1,083
43,378
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
منافقت کا دوسرا نام! پروگرام مں کچھ اور، عدالت میں کچھ اور.
2
10
3
33
917
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
پتہ نہیں کیا وجہ ہے کہ راؤ عبد الرحیم کی گاڑی اغوا میں اور ان کی سم قتل میں استعمال ہوتی ہے۔
9
24
180
📍 غیر قانونی سمز کہاں سے ملتی تھیں ؟ 📍 کون رجسٹرڈ کرتا تھا ؟ 📍یہ استعمال ہی کیوں کرتے تھے کس اتھارٹی کے تحت اور کس غلط مقصد کے لئے ؟ 📍ان سمز پر بنے واٹس ایپ اکاؤنٹس اور ان کے ذریعے بنائے گئے گروپس کا کیا مقصد تھا ؟ 📍ہنی ٹریپنگ ٹیمز کے ارکان بشمول لڑکوں اور لڑکیوں کے کیوں فیک آئی ڈیز اور خفیہ غیر قانونی سمز کے ذریعے نوجوانوں کو کال میں پھنسا کر انکا شکار کرتے تھے ؟ 👈آج تک جواب نہ مل سکے
راؤ صاحب آج تک نہ بتا سکے کہ بونیر کی رہائشی نسرین بی بی کا نمبر ان کے پاس کیسے آیا
5
25
2
60
1,190
🚨🔵 حیرانگی کی بات ہے بلاسفیمی بزنس گروپ ان ویڈیوز سے ڈرتا کیوں ہے ؟ پہلے انہیں تحقیقاتی کمیشن سے خوف آتا تھا اور اب ویڈیوز سے بھی خوف آنے لگا گیا ہے ۔ ؟ آخر کیا وجہ ہوسکتی ہے ..؟؟؟
جس کومل عرف ایمان کو ایف آئی اے کبھی ڈھونڈ نہ سکی لیکن وہی ایمان اسلام آباد ہائیکورٹ میں کمیشن بننے کے خلاف درخواست دائر کرنے پہنچ گئی
8
34
89
1,617
🚨📍 بلاسفیمی بزنس گروپ کا اجتماعی شعور مکمل طور پر جاہلیت میں ڈوب چکا ہے۔ 📍 اسلام آباد ہائی کورٹ کی لائیو سٹریمنگ کی گئی ویڈیوز کو 👈خود درخواست دے کر 👈منت سماجت کرکے 👈ترلے مار کے 👈اور تعلقات استعمال کرکے پوری کی پوری لائیو سٹریمنگ کی ویڈیوز کو ہائی کورٹ کے یوٹیوب چینل سے "پبلک" سے ہٹا کر "پرائیویٹ" کرواکر خوش ہورہے ہیں۔ 🔵 پہلے یہ تحقیقاتی کمیشن سے ڈرتے تھے اور اب تو لائیو سٹریمنگ کی ویڈیوز سے بھی ڈرتے ہیں ۔ اور ویڈیوز ہٹانے پر بھی جیسے ان کی جان میں جان آگئی ہو ۔ اتنے کم ظرف ہیں کہ پہلے اسی عدالت میں درخوست دے کر ویڈیوز ہٹواتے ہیں اور پھر اس عدالت اور اسی عدالت کے جج کے خلاف نفرت انگیز مہم چلاتے ہیں اور ساتھ میں خوش بھی ہوتے ہیں مکمل طور پر بوکھلا گئے ہیں۔ 450 لوگوں کے جیتے جاگتے بچے کھائے ہیں تم لوگوں نے ، لوگوں کی زندگیاں برباد کرنے والوں کو ویڈیوز سے بھی ڈر لگتا ہے کمال ہے ۔ 🔵 یہ اپنے منہ سے اپنے واٹس ایپ گروپس اورسوشل میڈیا پیجز پر بول رہے ہیں کہ مدعیان نے درخواست لگا کر منت ترلہ کرکے ویڈیوز اسلام آباد ہائی کورٹ کے یوٹیوب چینل سے "پرائیویٹ" کروئی ہیں۔ پھر یہ گدھے اسی پر خوشیاں منا رہے ہیں یہ اتنے ہی جاہل اور عقل و شعور سے عاری ہوچکے ہیں یا پھر اپنے جاہل فالورز کو جھوٹی تسلیاں دینے کے لیے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رہے ہیں کہ ہم نے ویڈیوز پرائیویٹ کرواکے بڑا معرکہ مارا ہے اور ہم قوم کی کمر عدالتوں میں نہیں لگنے دیں گے ۔ جاہلیت کی کوئی لمٹ نہیں ہوتی ویسے ۔ 🔵 کوئی بھی ذی شعور انسان اب تو باآسانی سمجھ سکتا ہے کہ ان کو یہ جاہل یوٹیوبر لے ڈوبے گا اپنا گند ان کو حلوہ بنا کر بیچ رہا ہے اور بلاسفیمی بزنس گروپ خوشی سے خرید رہا ہے ۔ جس کا دامن صاف ہوتا ہے وہ ویڈیوز سے خوف نہیں کھاتا ، مگر یہ تو ویڈیوز سے بھی خوفزدہ ہیں ۔ 🔵 عوام بہت باشعور ہوچکی ہے، عوام مان نہیں رہی ان کا جھوٹ خرید نہیں رہی اور گینگ کی دال نہیں گل رہی اور کوئی منجن نہیں بک رہا تو اب یہ چھوٹی چھوٹی حرکتیں کرنے خود کو مزید ننگا کر رہے ہیں ۔ جن کا دامن صاف ہو وہ ویڈیوز سے نہیں ڈرتے اور نہ ہی تحقیقاتی کمیشن سے ڈرتے ہیں۔۔۔
22
45
3
109
3,116
🚨📍 پطرس مسیح ہم شرمندہ ہیں۔ 📍ایک مسیحی ، 16 سال کی عمر ، کرکٹ کھیلتے محمد اویس سے جھگڑا ہوا اور پھر اس اویس نے اس کرسچیئن لڑکے سے ایسا انتقام لیا کہ توہین رسالت لگوا کر اس کی زندگی برباد کردی ۔ 📍 پطرس کی کہانی دل چیر دینے والی ہے۔ 💔 ذرا سوچیں، اگر یہی ظلم کسی دوسرے ملک میں کسی مسلمان کے ساتھ ہو تو ہماری غیرت جاگ اٹھے، آسمان سر پر اٹھا لیں۔ 📍 لیکن افسوس! اپنے ہی ملک پاکستان میں ہم دوسرے انسانوں کے درد سے اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ کسی کی چیخیں، کسی ماں کے آنسو اور کسی خاندان کی بربادی ہمیں جھنجھوڑتی تک نہیں۔ آخر ہمارا ضمیر کب جاگے گا؟ 💔
12
67
5
165
4,342
📍 اسلام تو سب سے پہلے عرب میں آیا تھا تو اب ان کے اسلام کے حساب سے چلنا ہے یا برصغیر کے چند ملاؤں کے حساب سے۔۔۔ ؟
سعودی عرب نے مولویوں کو ناراض کردیا؟ سعودی حکومت نے ایک سری لنکن شہری جس نے فیس بک پر توہین آمیز مواد شئیر کیا تھا اس کو سزائے موت دینے کے بعد معاف کردیا۔ سری لنکن شہری نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معافی طلب کی تھی۔ اس خبر سے پاکستان میں لاتعداد مولوی اور ہالینڈ سے پاکستان آیا ہوا اپنے آپ کو مستری قرار دینے والا شخص شدید غصے میں ہے اور امکان ہے کہ وہ آج سعودیوں کو شاید دائرہ اسلام سے خارج کردے۔ اس کے ویڈیو پیغام کا شدت سے انتظار ہے۔
10
20
58
2,054
🚨📍 انتہا پسندی اور حق اختلاف انتہا پسندی کے بارے میں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ نقطہ اعتدال سے ہٹ کر ایک انتہائی راستے کو اختیار کرنے کا نام ہے۔ یہ بات کسی درجے میں درست ہے، مگر انتہا پسندی کو ایک مسئلہ بنا دینے والی اصل چیز یہ ہے کہ اس مرض میں مبتلا لوگ دوسروں کا حق اختلاف سلب کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ کسی معاملے میں ایک انتہائی رائے قائم ہی نہیں کرتے بلکہ خود کو مکمل حق اور دوسروں کو مکمل باطل قرار دینے کی بھی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ اس سے آگے بڑھ کر ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ ان کے نقطہ نظر کے علاوہ معاشرے میں کوئی نقطہ نظر باقی نہ رہے۔ کوئی اختلاف رائے کرے تو اس کے خلاف نکتہ آفرینی، جھوٹا پروپیگنڈا، الزام و بہتان کی مہم شروع ہوجاتی ہے۔ یہی وہ انتہا پسندی ہے جو فرقہ واریت اورعلمی جمود پیدا کرتی ہے ۔ یہی انتہا پسندی آگے بڑھتی ہے اور تکفیر اور دہشت گردی کا راستہ اختیار کر لیتی ہے۔ آپ کسی بھی فرقہ پرست یا دہشت گردوں کے کسی بھی حمایتی کی کوئی بھی تحریر پڑھ لیں یا تقریر سن لیں۔ آپ کو معلوم ہو گا کہ یہ لوگ خود کو آخری حق اور دوسروں کو باطل محض سمجھتے ہیں۔ (یہ شخص وکٹم فیملیز کے وکیل آصف علی تمبولی کی تکفیر کرچکا ہے) حقیقت یہ ہے کہ معاشرے سے اگر دہشت گردی اور فرقہ واریت کو ختم کرنا ہے تو اس کے لیے انتہا پسندانہ سوچ کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اور انتہا پسندی کو ختم کرنا ہے تو اس کا ایک ہی راستہ ہے۔ لوگوں کا حق اختلاف تسلیم کیا جائے۔ انسانوں کو اپنے سے مختلف نقطہ نظر کو اختیار کرنے اور اسے پھیلانے کا حق دیا جائے۔ یہ وہ حق ہے جسے دے کر اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں بھیجا ہے۔ جب کبھی کوئی فرد یا گروہ اس حق کو چھینتا ہے تو وہ معاشرے میں انتہا پسندی کو فروغ دیتا ہے۔
اِس ساری بھونڈی گُفتگو میں تمہارے گند اُگلنے والے منہ سے ایک لفظ بھی عثمان وڑائچ کے سوال کے جواب میں نہیں نکلا۔۔۔ تُم ہو کون؟؟؟ تمہاری اوقات کیا ہے کہ سینٹ کمیٹی جیسا فورم تمہیں فراہم کیا جائے؟؟؟ ایوان بالا کیا اتنا گِر چُکا ہے کہ ایک غلیظ پروپیگینڈسٹ کو مدعو کرے!!!!
5
20
1
46
1,215
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
اِس ساری بھونڈی گُفتگو میں تمہارے گند اُگلنے والے منہ سے ایک لفظ بھی عثمان وڑائچ کے سوال کے جواب میں نہیں نکلا۔۔۔ تُم ہو کون؟؟؟ تمہاری اوقات کیا ہے کہ سینٹ کمیٹی جیسا فورم تمہیں فراہم کیا جائے؟؟؟ ایوان بالا کیا اتنا گِر چُکا ہے کہ ایک غلیظ پروپیگینڈسٹ کو مدعو کرے!!!!
24
31
4
142
10,215
🔵 جب موقع دیا گیاتھا کہ آپ کیا چاہتے ہیں تو کوئی دلیل نہیں تھی ۔ صرف آئیں بائیں شائیں ۔۔ جج بھی کنفیوز کی آخر آپ چاہتے کیا ہیں مجھے سمجھا دیں ۔۔۔۔ !
3
44
1
135
2,593
"فیکٹ فوکس سٹوری (پارٹ#3) 📍 یہی نہیں اقوام متحدہ کی طرف سے دہشت گرد قرار دی گئی بدنام زمانہ تنظیم لشکر جھنگوی کے دہشت گردوں کے بھی وکیل بنے۔ یہاں تک کہ ایک مرحلے پر وہ اسی کہانی کے دوسرے کردار اور لشکر جھنگوی کے اہم رہنما راؤ حبیب الرحمان کے وکیل بھی بنے۔ 📍جسٹس (ر) چودھری عبدالعزیز ایک انتہا پسند مذہبی ایکٹیوسٹ ہیں، جواپنے مقاصد کے حصول کیلیے پہلے وکیل بنے اور پھر شدت پسند حلقوں میں اپنے کنکشنز استعمال کرتے ہوئے ہائیکورٹ کے جج تک بن گئے۔ وہ بلاسفیمی بزنس گروپ کے نظریاتی اور روحانی باپ ہیں ۔" کاپی_پیست || کریڈٹ @VictimsofB_Gang
Replying to @VictimsofB_Gang
فیکٹ فوکس سٹوری (پارٹ#3) 📍 یہی نہیں اقوام متحدہ کی طرف سے دہشت گرد قرار دی گئی بدنام زمانہ تنظیم لشکر جھنگوی کے دہشت گردوں کے بھی وکیل بنے۔ یہاں تک کہ ایک مرحلے پر وہ اسی کہانی کے دوسرے کردار اور لشکر جھنگوی کے اہم رہنما راؤ حبیب الرحمان کے وکیل بھی بنے۔ 📍جسٹس (ر) چودھری عبدالعزیز ایک انتہا پسند مذہبی ایکٹیوسٹ ہیں، جواپنے مقاصد کے حصول کیلیے پہلے وکیل بنے اور پھر شدت پسند حلقوں میں اپنے کنکشنز استعمال کرتے ہوئے ہائیکورٹ کے جج تک بن گئے۔ وہ بلاسفیمی بزنس گروپ کے نظریاتی اور روحانی باپ ہیں ۔ 📍 جب 2022 میں بلاسفیمی گینگ کے سربراہ راؤ عبدالرحیم کے خلاف عبداللہ شاہ کا قتل کیس اسلام آباد پولیس نے حل کر لیا تو یکدم جسٹس چودھری عبدالعزیز نے لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی کے بنچ سے سنسنی خیز اور مشکوک احکامات جاری کرنا شروع کر دیے، ایف آئی اے کے افسران کی بیانات کی حد تک کھچائی شروع کر دی، ایف آئی اے کے سائبر کرائمز ونگ میں ایمرجنسی بنیادوں پر "بلاسفیمی سیل” قائم کرنے کے انتہائی مضحکہ خیز احکامات جاری کیے۔ 📍بالکل اسی لمحے ایف آئی اے افسران مقتول عبداللہ شاہ کے والد عامر شاہ کے خلاف بھی توہین رسالت کا جھوٹا مقدمہ درج کر کے اسے پیغام دے چکے تھے کہ اب انکی اور انکے باقی دو بچوں کی زندگی راؤ عبدالرحیم کے خلاف اپنے مقتول بیٹے عبداللہ شاہ کا مقدمہ قتل واپس لینے پر ہی منحصر ہے اور اسی صورت میں عامر شاہ کا نام توہین رسالت کے مقدمے سے نکل سکتا ہے۔ یوں جسٹس چودھری عبدالعزیز کی سربراہی میں چلنے والے نیٹ ورک کے ذریعے بلاسفیمی گینگ کو مسلسل اور مکمل تحفظ فراہم کیا جاتا رہا۔ 📍یہی نہیں جب ایڈوکیٹ راؤ عبدالرحیم کی قیادت میں چلنے والا بلاسفیمی گینگ چند ہنی ٹریپنگ والی لڑکیوں اور اس وقت کے ایف آئی اے کے سائبر کرائمز ونگ کے ملازمین کے ساتھ مل کر نوجوان بچوں کو توہین مذہب کے کیسز میں پھنسا رہا تھا، عین اسی وقت راؤ عبدالرحیم ایک درخواست لے کر جسٹس چودھری عبدالعزیز کی عدالت میں گئے کہ ایف آئی اے سائیبر کرائمز ونگ کے ملازمین کی ملازمت کو مستقل کیا جائے کیونکہ بہت بڑی بڑی خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔ 📍جسٹس چودھری ایکٹیوژم کے اس لیول پر تھے کہ انہوں نے راؤ عبدالرحیم کے کہنے پر بطور جج لاہور ہائیکورٹ یہ حکم بھی جاری کر دیا۔ 📍پنجاب پولیس کی سپیشل برانچ کی رپورٹ آئی تو بلاسفیمی گینگ اسے بھی لے کر لاہور ہائیکورٹ میں اسی من پسند جج کے پاس پہنچ گیا۔ مگر کسی وجہ سے کچھ عرصے کیلیے جسٹس چودھری کا تبادلہ ملتان بنچ ہو گیا۔ اس پر بلاسفیمی گینگ نے بھی معاملے کی پیروی روک دی۔ 📍 بعد ازاں جسٹس چودھری ملتان سے واپس آئے تو راؤ عبدالرحیم نے پھر سے درخواست کی پیروی کی نامعلوم وجوہات کی بنا پر وہ درخواست واقعی جسٹس چودھری کی عدالت میں لگ گئی۔ اور اس مرتبہ بھی جوڈیشیل گاؤن پہنے ایک ایکٹیوسٹ جسٹس چودھری عبدالعزیز نے بلاسفیمی گینگ کی درخواست قبول کرتے ہوئے اسپیشل برانچ کی رپورٹ کی بنیاد پر اس گینگ کے خلاف اداروں کو سخت ایکشن لینے سے روک دیا۔ اگرچہ یہ حکم بعد میں قائم نہ رہ سکا۔ (جاری ہے 👇)
5
18
401
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
💯
14
41
632
450 انسانی زندگیاں داؤ پر ہیں ، سینکڑوں خاندانوں زندگیاں خطرے میں ڈالنے والا شخص کون ہے ؟ جب یہ کچھ بھی نہیں تو اسے اتنا پروٹوکول کون دلوا رہا ہے ؟ سوال تو بنتا ہے ۔۔۔۔! ہمارے بچوں کی زندگیاں مذاق نہیں اور نہ ہی ہمارے بچے کیڑے مکوڑے ہیں جنہیں یہ زومبیز حلوہ سمجھ کر کھا جائیں گے۔ ایسے نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔۔
سوال یہ بنتا ہے کہ یہ شخص کونسا ایکسپرٹ ہے جسے انسانی حقوق کی کمیٹی میں بُلایا جا رہا۔ یہ قانون نافظ کرنے والے ادارے سے ہے؟ یہ فرانزک ایکسپرٹ ہے؟ یہ مذہبی رہنما ہے؟ یہ انسانی حقوق کا چیمپئن ہے؟ نہیں یہ کُچھ بھی نہیں ہے۔ یہ تو صرف مکروہ دھندا کرنے والوں مکروہ چہرا ہے۔ Ban him
12
41
1
96
1,990
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
کتنے گھر اجاڑ دیئے ان کالی بھیڑوں نے 🐉 @SenatorMumtaz @AllamaRajaNasir @AbidSherAli @SyedAliZafar1 @SMasroorAhsan @Anny_Marri @AkMashal @PoonjoM @BBCUrdu @BBC @BBCWorld
6
14
438