Mahpara Magsi (@_mahparaa) header
Mahpara Magsi (@_mahparaa) profile picture

|From the historic land of kalat| Passionate about politics, culture & human rights |

Kalat, Pakistan
Joined March 2021
Photo by Mahpara Magsi (@_mahparaa)Photo by Mahpara Magsi (@_mahparaa)Photo by Mahpara Magsi (@_mahparaa)Photo by Mahpara Magsi (@_mahparaa)Photo by Mahpara Magsi (@_mahparaa)Photo by Mahpara Magsi (@_mahparaa)Photo by Mahpara Magsi (@_mahparaa)Photo by Mahpara Magsi (@_mahparaa)
وہ بلوچ ہے تو ہم بھی بلوچ ہیں، اگر وہ گلے میں فٹ ہونا چاہ رہے ہیں تو مجبوراً ہم بھی دفاع کریں گے۔ اگر آپ جھل مگسی آئیں گے تو ہم لڑیں گے، نواب زادہ میر زرین مگسی نے بلوچ عوام دشمن تنظیموں کو واضح پیغام دے دیا۔
29
76
2
200
23,241
یہ شفیق مینگل کے گھر بی ایل اے کے حملے کی ویڈیو ہے، اس حملے کے دو دن بعد سردار اختر مینگل کے گھر حملے کی بھی ایک خبر آئی تھی، انتظار ہے کہ اب اختر مینگل صاحب کب اپنے مینگل اسکواڈ کی بہادری سب کو دکھاتے ہیں،،،
1
10
کتاب سب سے بڑا انقلاب ہے، ضلع پنجگور کے کتاب میلے میں صرف دو دن میں 10 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی کتابیں فروخت ہوئیں۔ پنجگور کے نوجوانوں نے ایک بار پھر پیغام دیا کہ بلوچستان کی مٹی علم سے محبت کرنے والوں کی مٹی ہے اور ہم آج بھی کتاب کو ہر چیز سے بالاتر اور مقدس سمجھتے ہیں۔
2
4
13
229
Mahpara Magsi retweeted
آپ ایران چلا گیا ہے تو 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 ہے۔ آپ کا خاندانی جھگڑا ہے تو 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 ہے۔ کوئی سردار کا نوکر اٹھا گیا ہے تو 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 ہے۔ آپ پہاڑ پر چلا گیا ہے تو 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 ہے۔ آپ کا شناختی کارڈ گم گیا تو 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 ہے۔ ہم تمہارا فوٹو لے گا اسکا پوسٹر بنائے گا اور پھر اس پر لکھے گا 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 پھر اپنے اکاونٹ سے لگا کر اوپر سے مال سمیٹے گا۔ لائبہ ستار والا کیس تو یاد ہو گا جس کا ماں بہن خاندان تک نے پریس کانفرنس کیا کہ ہمارا بیٹی کو عبدالسلام نے اٹھایا کیونکہ ہم نے رشتہ سے انکار کیا تھا۔ لیکن بلوچ یکجہتی کمیٹی اتنا غیرت مند نکلا کہ اسکا خاندان کا پریس کانفرنس کے باوجود اسکا نام 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 میں ڈال دیا اور آج تک یہ بھی نہیں کہا ہم سے غلطی ہو گیا۔
1
3
522
Mahpara Magsi retweeted
انسپکٹر دلاور کی تفتیش! اتنی دولت کے باوجود بلوچستان کا بچہ محروم کیوں ہے؟ انسپکٹر دلاور کی تفتیش میں 4 چہروں سے نقاب ہٹا،قوم پرست سیاستدان،قبائلی سردار،مسلح تنظیم کا کمانڈر اور منشیات کا سوداگر سامنے آیا۔ چاروں کا طریقہ الگ تھا لیکن مقصد ایک ہی تھا،نعروں کی آڑ میں نوجوانوں کو الجھایا گیا،جب کہ معدنی کانوں سے دولت نکلتی رہی جو ان چار چہروں کی جیب میں جاتی رہی۔ انسپکٹر دلاور نے اب بلوچ نوجوانوں کو جگا دیا ہے،اب وہ سوال کرنا شروع ہوگئے ہیں کہ ہماری دو نسلیں تو تباہ کردیں لیکن تیسری نسل کو قیمت نہیں چکانے دیں گے۔
5
11
1
22
892
Mahpara Magsi retweeted
گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے سردار اختر مینگل! کل تک اپنے آپ کو ریاست کا ساتھ دینے والے 70 سرداروں میں شمار کرنے والے اختر مینگل صاحب آج کل ہر انٹرویو میں ریاست اور اسمبلی کو نہ ماننے کی باتیں کرتے ہیں۔
6
1
16
902
Mahpara Magsi retweeted
خضدار میں جدید واکنگ ٹریک کی سہولت عام شہری کی ترقی کے اس تصور کی عکاس ہےجہاں تعمیر و ترقی صرف انفراسٹرکچر نہیں بلکہ عوام کی صحت، سہولت اور معیارِ زندگی بھی ہے یہ اقدام شہریوں کو صحت مند سرگرمیوں کے لیے اچھا ماحول فراہم کرنے کے ساتھ ایک بہتر، صاف ستھرے اور متحرک شہری کلچر کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
5
16
28
546
عمر چھوٹی، خواب بڑے اور شطرنج کی دنیا میں عزم بے مثال! ♟️ بلوچستان کا ننھا شطرنج کا کھلاڑی، عبدالرحمٰن، اپنی ذہانت، دلچسپی اور غیر معمولی صلاحیتوں سے سب کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ بڑے بھائی سے شطرنج سیکھنے والے اس ننھے کھلاڑی کی دلچسپ کہانی جانیے، وائس آف بلوچستان کی خصوصی ویڈیو میں!
7
11
15
654
Mahpara Magsi retweeted
یہ ناراض بلوچ نہیں ہیں یہ دہشتگرد ہیں،ناراض بلوچ کا بیانیہ بی ایل اے کو فائدہ پہنچانے کے لئے بنایا جاتا ہے۔ جو بلوچ املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں،بلوچ شناخت پر حملہ آور ہوتے ہیں وہ ہرگز کسی رحم کے مستحق نہیں ہیں اور نہ ہی ہونے چاہیے
8
18
34
715
Mahpara Magsi retweeted
بلوچستان کا بنیادی مسئلہ دہشتگردی نہیں فرسودہ سرداری نظام ہے۔ ایک طرف بااثر سردار بے پناہ دولت، زمینوں اور وسائل کے مالک ہیں، دوسری طرف عام بلوچ شہری غربت، پسماندگی اور بنیادی سہولتوں کی محرومی کا شکار ہیں،یہی وجہ ہے کہ وہ پہاڑوں کا رُخ کرلیتے ہیں جب ان بااثر شخصیات کے مفادات کو چیلنج جاتا ہے تو بعض عناصر ریاست کے خلاف مسلح مزاحمت کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ بلوچستان کے عوام کو سرداری استحصال اور دہشت گردی دونوں سے نجات چاہیے عوام آج بھی غربت کی لکیر سے نیچے سانس لے رہے ہیں،یہاں صرف ایک سردار اخترمینگل کی کل جائیداد 31 ارب روپے سے زائد ہے۔
10
14
24
443
Mahpara Magsi retweeted
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت 29ویں ہارڈننگ آف دی اسٹیٹ کانفرنس کا اجلاس منعقد اجلاس میں اسمگلنگ، منشیات اور غیرقانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے، جبکہ کوئٹہ سمیت اہم شہروں میں سیف سٹی منصوبوں کی جلد تکمیل کے لیے اقدامات پر زور دیا گیا
3
14
24
366
We’re Hiring!! Join our team as a Graphic Designer + Video Editor. Be creative and tell stories.Shape the visual Voice of Balochistan. 9 On-Site | 3+ Years Experience Apply by 8th November , 2026 Send your CV & Portfolio via WhatsApp: +92 300 0810003
2
13
17
626
خان آف قلات کے بیٹے بازیاب ہو کر آئے کہا مجھے اغواہ کرنے والے وہی لوگ تھے جو عام بلوچ کو اغواہ کرتے آج خان آف قلات قبائلی سرداروں کا شکریہ ادا کر رہے ہیں وہی سردار جو عام بلوچ کے اغواہ ہونے پر تو دور بے گناہ قتل ہونے پر کوئی آواز نہیں اٹھاتے اسی طبقاتی نظام/سرداری نظام کے خلاف ہم بلوچ بولتے ہیں تو غدار کہلائے جاتے ہیں۔
3
8
23
2,544
Mahpara Magsi retweeted
موجودہ بحریہ گرین کبھی ہمارا تفریح مقام ہوتا تھا ۔ بارش میں ندیاں بہتی تھیں ۔ جنگلی جانوروں کا بسیرا تھا ۔ انہیں پھاڑوں کے بیچھ گاؤں ہوتے تھے ۔ ان ہی راستوں سے ہم آتے جاتے تھے بہت سکون ہوتا تھا ۔ کوئی ہمیں نہیں روکتا تھا جہاں مرضی ہم مال چراتے تھے ہم تھے ہمارا ہی سب کچھ تھا ۔ سب ایک دوسرے کو جانتے پہچانتے تھے ۔ اور آج وہاں بحریہ ٹاؤن ہے ۔ ہمارے خود کے راستے ہمارے لئے بند کئے جارہے ہیں ۔ اور ہمیں پوچھا جارہا ہے " تم کون ہو ۔ کہاں جارہے ہو " اور اگر کوئی غریب بکری گائے چرا رہا ہے تو اسے کہا جا رہا ہے یہاں پر اعجازت نہیں ہے یہاں سے نکالو یہاں پر نہیں چھوڑو ورنہ ہم لیکے جائیں گے ہمیں ہمارے ہی گھر میں دھمکیاں مل رہی ہے بس ہم کس سے انصاف مانگے. اللہ پاک کے فیصلے کا ہمیں بے صبری سے انتظار ہے ان شا اللہ 🤲
1
8
22
1,762
Mahpara Magsi retweeted
سنا ہے پاکستان سے ہمارا حقوق کیلئے لڑنے والے خود اپنے حقوق کیلئے آپس میں ہی لڑ پڑے۔ کوئی کہہ رہا بشیر زیب کو ہٹا دیا۔ کوئی کہہ رہا بشیر زیب مارا گیا۔ کوئی کہہ رہا بشیر زیب کو اپنے ساتھیوں نے قید کر لیا۔ خیر جو بھی ہے ہم کو تو اتنا پتہ ہے کہ اپنوں نے اپنے کو ہی فارغ کر دیا۔ سوشل میڈیا یہ بھی کہہ رہا آپسی لڑائی مال پانی پر ہوئی اور بشیر زیب کو ٹھکانے لگانے والا بشیر زیب کا سب سے بڑا ناقد سابق فوجی رحمان گل ہے۔ ہم جب کہتا ہے یہ جو آج ہمیں بلوچ حقوق دلانے پر پاکستان اور فوج کیخلاف کھڑے ہیں گزرے کل میں یہی سب کہیں نہ کہیں اندر سے مال لیکر اپنے ہی ساتھیوں کو ٹھکانے لگاتے رہیں تو ہم کو سوشل میڈیا پر گالیاں دی جاتی ہیں۔ فرق اتنا ہے اب یہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے کیلئے باہر کے ملکوں سے پیسہ لیتے ہیں اور گزرے کل میں یہ اپنے بڑوں کو مرنے کیلئے اندر سے پیسہ لیتے تھے۔ ویسے یہ بھی سچ ہے کہ اسلم اچھو کو مارنے اور مروانے والے بھی رحمان گل، جئند بلوچ جیسے اندر کے ہی لوگ تھے انکا بھی تعلق بشیر زیب گروپ سے ہی تھا اور آج اسی گروپ نے اپنا بندہ کھڑکا دیا۔
3
6
16
10,977
Mahpara Magsi retweeted
بی ایل اے کی قیادت میں تبدیلی اندرونی اقتدار کی کشمکش اور تنظیمی زوال کو بے نقاب کرتی ہے بلوچ علیحدگی پسند اور دہشت گرد تنظیموں کا بدلتا ہوا منظرنامہ قیادت کے بحران، اندرونی اختلافات اور تنظیمی کنٹرول کی کمزوری کو ظاہر کر رہا ہے۔ نام نہاد اجتماعی جدوجہد کے دعووں کے برعکس، مختلف دھڑے اب فنڈنگ، مالی وسائل، آپریشنل اختیارات اور اسٹریٹجک فیصلوں پر بالادستی کی جنگ میں الجھتے دکھائی دیتے ہیں۔ بشیر زیب کو بی ایل اے کی قیادت سے ہٹایا جانا تنظیم کے اندر موجود ایک بڑے اختلاف کو بے نقاب کرتا ہے۔ اگرچہ تنظیم کے پریس ریلیز میں اس تبدیلی کو آئینی اور باہمی رضامندی سے ہونے والا فیصلہ قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے، تاہم تنظیم کے سربراہ کی غیر معمولی انداز میں رخصتی اس فیصلے کے پس پردہ جاری اقتدار کی کشمکش کی تصدیق ہے ۔ اسی نوعیت کی اندرونی تقسیم حربیار مری کے زیرِ اثر بی ایل اے آزاد اور اس کے بیرونِ ملک سیاسی پلیٹ فارم فری بلوچستان موومنٹ (FBM) میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ متعدد استعفوں اور علیحدگیوں کے واقعات بڑھتی ہوئی اندرونی بے چینی، تنظیمی ہم آہنگی میں کمی اور حربیار مری کی قیادت کی جانب سے تنظیمی کنٹرول برقرار رکھنے کی صلاحیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ پیش رفت مختلف علیحدگی پسند دھڑوں میں ایک بار بار سامنے آنے والے رجحان کو بے نقاب کررہی ہے، جہاں قیادت کی باہمی رقابت، مالی مفادات کا ٹکراؤ، خواتین کا جنسی استحصال اور اختیارات کی جنگ ان تنظیموں کے اندرونی اتحاد اور تنظیمی ڈھانچے کو مسلسل کمزور کر رہی ہے۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ بشیر زیب کا بی ایل اے دھڑا 2017 میں تنظیم کے اندر ہونے والی تقسیم کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا، جب بشیر زیب اور اسلم بلوچ نے اصل قیادت سے علیحدگی اختیار کرکے اپنا الگ دھڑا قائم کیا تھا۔
12
8
3
21
7,520
یہ صحافی حقیقت بیان کر رہے ہیں کشمور بازار میں دن دھاڑے نواب اکبر بگٹی کے بندوں نے فائرنگ کر کے راہ گزرتے مختلف بلوچ قبائل کے لوگوں کو شہید کیا اور پھر فخر سے ذمہ داری بھی قبول کی کیونکہ بلوچستان میں نواب اور سرداروں کو عام بلوچ کا قتل معاف ہے۔
1
2
16
363
Kalat Publishers stands as one of Balochistan’s oldest pioneering publishing houses, playing a remarkable role in bringing the works of local writers and authors to readers. Discover the fascinating story behind this literary venture and its contribution to promoting Balochistan’s literary heritage in Voice of Balochistan’s exclusive video.
9
16
27
724
یہ سردار اختر مینگل صاحب کے علاقے خضدار کے وہ طلباء ہیں جن کے بارے میں سردار صاحب ہر انٹریو میں کہتے رہے ہمارے بچوں نے کتاب چھوڑ دی، ان کی مائیں میرے پاس آکر کہتی انہیں تعلیم نہ دو ورنہ سوال کریں گے آج یہی بلوچ طلباء خضدار میں شہید سکندر زہری یونیورسٹی کے فعال ہونے پر خوشی خوشی داخلے کے لیے پہنچ رہے ہیں۔
2
61
1
126
3,106
Mahpara Magsi retweeted
بلوچستان میں طویل راستوں کا سفر اب ایک کلک پر! وسیع رقبے اور طویل فاصلوں کے باعث بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات تک رسائی ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہی ہے، لیکن اب ٹیکنالوجی نے یہ مشکل آسان بنا دی ہے۔ حکومتِ بلوچستان کی Sehat Dehleez App کے ذریعے شہری گھر بیٹھے 24 گھنٹے مفت آن لائن ڈاکٹر سے طبی مشاورت حاصل کر سکتے ہیں۔ اب ڈاکٹر سے مشورے کے لیے طویل سفر کی ضرورت نہیں، کیونکہ صحت کی سہولت آپ کی دہلیز پر پہنچانے کا ڈیجیٹل راستہ کھل چکا ہے۔
9
14
30
431