Blind💙 (@blindheart8) header
Blind💙 (@blindheart8) profile picture

‏‏‏‏‏لآ اِلَهَ اِلّا اللّهُ مُحَمَّدٌ رَسُوُل اللّهِ Lahore Pakistan ❤

Lahore, Pakistan
Joined December 2011
Photo by Blind💙 (@blindheart8)Photo by Blind💙 (@blindheart8)Photo by Blind💙 (@blindheart8)Photo by Blind💙 (@blindheart8)Photo by Blind💙 (@blindheart8)Photo by Blind💙 (@blindheart8)Photo by Blind💙 (@blindheart8)Photo by Blind💙 (@blindheart8)Photo by Blind💙 (@blindheart8)Photo by Blind💙 (@blindheart8)
🚨 ایران کے حملوں نے امریکی فوجی طاقت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا دیا! 🇮🇷💥🇺🇸 24 امریکی فوجی اڈے، 274 عمارتیں تباہ! وال اسٹریٹ جرنل (WSJ) کی سیٹلائٹ تصاویر اور امریکی فوجی حکام سے انٹرویوز پر مبنی تحقیق نے مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی حملوں سے ہونے والے نقصانات کے حیران کن اعداد و شمار سامنے رکھ دیے ہیں۔ 🔴 رپورٹ کے اہم انکشافات: ▪️ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی موجودگی والی 24 فوجی تنصیبات متاثر ہوئیں۔ ▪️ مجموعی طور پر 274 عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ ▪️ ابتدائی دو ہفتوں میں ہی 119 عمارتیں متاثر ہو چکی تھیں۔ ▪️ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق نقصانات کا ابتدائی تخمینہ کم از کم 5 ارب ڈالر ہے۔ ▪️ فوجی اڈوں کی تعمیرِ نو پر 4 ارب ڈالر سے زائد خرچ ہونے کا امکان ہے۔ ▪️ امریکی فوجیوں کی رہائشی عمارتیں بھی حملوں کی زد میں آئیں۔ ⚠️ سب سے بڑا سوال: کیا یہ حملے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی حکمتِ عملی اور مستقبل کی موجودگی کو تبدیل کرنے پر مجبور کر دیں گے؟ دنیا کی سپر پاور کے لیے یہ صرف مالی نقصان نہیں، بلکہ خطے میں فوجی برتری، دفاعی حکمتِ عملی اور طاقت کے توازن کا بھی امتحان ہے۔ 💬 آپ کی نظر میں، کیا ایران نے امریکی فوجی طاقت کے ناقابلِ تسخیر ہونے کے تصور کو بدل دیا ہے؟ #Iran #USA #MiddleEast #Geopolitics #MilitaryAnalysis
🤖 Made with AI
1
1
93
Blind💙 retweeted
دن میں ٹریفک سگنل پر بھیک مانگتی تھی، رات کو قانون پڑھتی تھی، پھر ایک دن کالا کوٹ پہن کر عدالت پہنچ گئی! کراچی کے مصروف ٹریفک سگنل پر گاڑیاں رکتیں، شیشے نیچے ہوتے، کوئی چند روپے دے دیتا اور کوئی نظریں چرا کر آگے بڑھ جاتا۔ انہی گاڑیوں کے درمیان ایک نوجوان خواجہ سرا عورت بھی روزی کمانے کی کوشش کرتی تھی۔ شاید بہت سے لوگوں کے لیے وہ بھی سڑک پر نظر آنے والے دوسرے بے شمار چہروں کی طرح تھی، لیکن اس کی زندگی میں ایک ایسا خواب موجود تھا جس کا اندازہ وہاں سے گزرنے والوں کو نہیں تھا۔ وہ دن بھر جو پیسے جمع کرتی، انہی میں سے کچھ بچا کر شام کو قانون کی تعلیم حاصل کرنے جاتی تھی۔ اس عورت کا نام نشا راؤ تھا۔ نشا کا تعلق لاہور کے ایک متوسط گھرانے سے تھا۔ وہ اپنی شناخت کے حوالے سے معاشرتی دباؤ اور مشکلات کا سامنا کررہی تھیں۔ اٹھارہ برس کی عمر میں انہوں نے گھر چھوڑ دیا اور دو دوسری خواجہ سرا افراد کے ساتھ کراچی پہنچ گئیں۔ ایک نئے شہر میں نہ مستقل روزگار تھا، نہ معاشی تحفظ۔ جن لوگوں کے پاس انہیں پناہ ملی، انہوں نے گزارے کے لیے بھیک مانگنے یا دوسرے محدود راستوں کا مشورہ دیا۔ نشا نے ابتدا میں سڑکوں پر بھیک مانگ کر ہی اپنی ضروریات پوری کیں، مگر وہ اس صورتحال کو اپنی پوری زندگی کا مقدر بنانے پر آمادہ نہیں تھیں۔ یہیں سے ان کی زندگی کا ایک مشکل مگر غیرمعمولی سفر شروع ہوا۔ دن میں ٹریفک سگنل پر کھڑے ہوکر رقم جمع کرنا اور پھر رات کو قانون کی کتابیں پڑھنا کوئی آسان معمول نہیں تھا۔ تعلیم کے اخراجات پورے کرنا، لوگوں کے رویوں کا سامنا کرنا اور ایک ایسے پیشے میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرنا جہاں خواجہ سرا افراد کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی، ہر مرحلہ ایک نئی رکاوٹ تھا۔ مگر نشا نے پڑھائی جاری رکھی، قانون کی ڈگری حاصل کی اور بالآخر وکالت کا لائسنس لینے میں کامیاب ہوگئیں۔ 2020 میں نشا راؤ پاکستان کی پہلی خواجہ سرا وکیل کے طور پر سامنے آئیں۔ وہ کراچی بار ایسوسی ایشن کا حصہ بنیں اور شہر کی عدالتوں میں مقدمات کی پیروی شروع کردی۔ اسی سال رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو کے مطابق وہ پچاس مقدمات پر کام کرچکی تھیں۔ ان کے مؤکلوں میں خواجہ سرا افراد کے علاوہ دوسرے شہری بھی شامل تھے۔ ایک ایسی خاتون جو کبھی سڑک پر دوسروں کی مالی مدد کی محتاج تھیں، اب عدالت میں لوگوں کو قانونی مدد فراہم کررہی تھیں۔ اس کہانی کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ نشا اپنے ماضی سے لاتعلق نہیں ہوئیں۔ کراچی میں ان کے ساتھ بھیک مانگنے والی ایک خواجہ سرا ساتھی نے بتایا کہ نشا آج بھی اپنی برادری کے لوگوں کی مدد کے لیے دستیاب رہتی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ سڑک پر کھڑے ہوکر روزی کمانا کیا ہوتا ہے، معاشرتی تحقیر کس طرح انسان کا اعتماد متاثر کرتی ہے اور قانونی مدد کے بغیر کمزور افراد کو کس قدر مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ شاید اسی لیے انہوں نے اپنے پیشے کو صرف آمدنی کا ذریعہ نہیں بلکہ دوسروں کے حقوق کے لیے کام کرنے کا راستہ بھی بنایا۔ 2021 میں نشا نے جامعہ کراچی میں قانون کی مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے داخلہ حاصل کیا۔ ان کا خواب یہیں ختم نہیں ہوا تھا۔ وہ پاکستان کی پہلی خواجہ سرا جج بننے کی خواہش بھی ظاہر کرچکی تھیں۔ یہ منزل انہیں حاصل ہوئی یا نہیں، اس سے قطع نظر، ان کا وکالت تک پہنچنا ہی ایک ایسے معاشرے میں غیرمعمولی کامیابی تھی جہاں بہت سے خواجہ سرا افراد کے لیے تعلیم، روزگار اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کے مواقع محدود ہیں۔ نشا راؤ کی کہانی میں اصل حیرت یہ نہیں کہ ایک خواجہ سرا عورت وکیل بن گئی۔ اصل سوال یہ ہے کہ جس انسان میں اتنی صلاحیت موجود تھی، اسے اپنی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ٹریفک سگنل پر بھیک کیوں مانگنا پڑی؟ شاید نشا کی سب سے بڑی کامیابی کالا کوٹ پہننا نہیں، بلکہ یہ ثابت کرنا ہے کہ انسان کی شناخت اس کے خوابوں، قابلیت اور عزت سے محروم کیے جانے کی وجہ نہیں بننی چاہیے۔ کبھی جس شہر میں لوگ اسے چند روپے دے کر آگے بڑھ جاتے تھے، اسی شہر کی عدالتوں میں اس نے اپنی پیشہ ورانہ شناخت قائم کرلی۔
17
92
4
482
21,796
ایک ہیلتھ ایکسپرٹ ڈاکٹر منڈی پلز کا پاڈکاسٹ سنا۔ حیران کن بلکہ ہوشربا انکشافات کیے۔ فرمایا کہ processed food industry نے ہمارے ہارمونز کو تبدیل کر دیا ہے اور ہمارے digestive system کے ساتھ چھیڑ خانی rigging کی ہے۔ اب ہمارا ہم پر کنٹرول ختم یوچکا ہے۔ ایک مثال دی کہ آلو کی چپس بنانے والی کمپنیاں چپس پر ایسے کیمیکلز چھڑکتی ہیں جو مضر صحت ہیں لیکن آپ کی بھوک کم کرنے کی بجائے بڑھاتی ہیں۔ اس لئے آپ لیز, پرنگلز اور دوسری چپس جتنی کھاتے جائیں بھوک بڑھتی جائے گی۔ کم نہیں ہوگی۔ وہ کیمیکلز آپ کو وقی خوشی بھی دیتے ہیں۔ فرمایا کہ آئیس کریم کی کمپنیاں اور چاکلیٹس بار بنانے والے بھی یہی کام کرتے ہیں۔ کہا آئیس کریم تو ایسے بیکٹریا آپ کے دہن میں پیدا کرتی ہیں جو بیکٹریاز آئیس کریم نہ ملنے پر چیختے ہیں۔ شور و غوغا کرتے ہیں۔ اور آپ کو کان سے پکڑ کر آئیس کریم کی دوکان پر لے کر جاتے ہیں کہ چلو آئیس کریم کپ خریدو۔ کہا ہم نے کیا کھانا کیا ہے اب اس کی چوائیس processed food companies نے ہم سے چھین لی ہے۔ اور یہ واردات بچپن میں ہی ڈال دی جاتی ہے۔ آپ اپنے بچوں کو اب روک نہيں سکتے۔ وہ کمپنیوں کے کنٹرول میں ہیں۔ فرمایا خود رک سکتے ہیں لیکن اس کا طریقہ کافی مشکل ہے۔ کہا سب سے پہلے ایک عادت بنائیں۔ صرف دن کی روشنی میں کھائیں۔ طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک۔ جب سورج چلا جائے تو کبھی کچھ نہ کھائیں۔ یہ عمر بھر کا معمول ہونا چاہیے۔ قدیم انسان یہی کچھ کرتا تھا۔ صحتمند، توانا اور طاقتور رہتا تھا۔ پھر فرمایا کہ مضر صحت بیکٹریاز کا صرف ایک حل ہے کہ انہیں starve out کیا جائے یعنی بھوک کے لمبے وقفوں سے مارا جائے۔ فرمایا کی باڈی کو detoxify کرنے کا بھی یہی طریقہ ہے کہ 8 گھنٹے کھایا جائے۔ سولہ گھنٹے کی fasting کی جائے۔ اس سے آپ کے سسٹم سے زہریلا مواد toxins نکل جاتا ہے۔ (پاڈکاسٹ کا لنک نیچے۔)
19
113
545
21,023
Blind💙 retweeted
Why destroy nature when we can build around it?
886
11,354
464
87,868
8,536,160
اوئے کم بختو: گناہ کو چھپانے یا غربت کی وجہ سے اپنے بچوں کو قتل نہ کیا کرو ، ایک فون کر دیا کرو میں خود لینے آجاؤنگا ۔۔۔۔ 500 سے زائد بچوں کو پالنے والے چوہدری اختر کی اپیل ۔۔۔ یاد رہے کہ عبدالستار ایدھی مرحوم کے بعد چوہدری اختر وہ واحد پاکستانی ہیں جنہیں نادرا ریکارڈ میں بے سہارا بچوں کی ولدیت میں اپنا نام لکھوانے کی اجازت حکومت نے دے رکھی ہے ۔ چوہدری اختر میر پور کے علاقہ کھاڑک سے تعلق رکھتے ہیں مگر یہ خود انگلینڈ میں پیدا ہوئے ۔ وہیں پلے بڑھے اور جوان ہوئے ، انکے خاندان کا وہاں بڑا کاروبار ہے ، 2005 کے زلزلے میں کچھ دوستوں کے کہنے پر زلزلہ زدگان کی مدد اور ریلیف کے لیے پاکستان آئے تو سینکڑوں یتیم بے سہارا بچوں کو سڑکوں پر رلتے دیکھ کر انہوں نے ان بچوں کے لیے ایک پناہ گاہ بنانے کا سوچا ۔۔۔ انگلیینڈ میں پاکستانی دوستوں سے صلاح مشورہ کیا اور کچھ رقم جمع کرکے میر پور میں ایک عمارت خریدی ، وہاں بچوں کے لیے ہر سہولت اور ہر قسم کا سامان جمع کر کے حکومت سے درخواست کی کہ کچھ بے سہارا اور یتیم بچے انکے حوالے کیے جائے ، میر پور میں یہ خاندان اپنی ایک ساکھ اور مقام رکھتا تھا چنانچہ چوہدری اختر کو بے سہارا بچے دینے کا سلسلہ شروع ہوا ۔ اور انگلینڈ مقیم پاکستانیوں اور میر پور و دیگر شہروں کے کچھ مخیر حضرات کی مدد سے یہ سلسلہ جاری رہا ، چند سال بعد ایک وقت ایسا آیا کہ چوہدری اختر نے انگلینڈ میں اپنی گھریلو پریشانیوں اور مصروفیات کی وجہ سے یہ یتیم خانہ بند کرنے کا ارادہ کر لیا ۔وہ فیصلہ کر چکے تھے اور حکومت کو اس سے مطلع کرنے جانے ہی والے تھے کہ انکے زیر کفالت ایک بچی انکے دفتر میں آئی ۔ یہ لاڈلی بچی ہر روز ایک بار آکر چوہدری اختر کو اپنی ماں کے پاس لے جانے کی ضد کرتی تھی ۔ جب کہ اسکے والدین زلزلے کی نذر ہو چکے تھے اور اس کا ماموں اسے یہاں چھوڑ گیا تھا ۔ چوہدری اختر کا دل پسیج گیا اور یہ سوچ میں پڑ گئے کہ وہ تو یہ ادارہ بند کرکے انگلینڈ چلے جائیں گے لیکن یہ یتیم بچے پھر سڑک پر چلے جائیں گے انکا کیا ہوگا ۔۔ یہی سوچ کر انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ اب جو مرضی ہو جائے زندگی ان بچوں کے لیے وقف رکھیں گے ۔ اسکے بعد چوہدری اختر نے اس وقت کے وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق سے اپنے یتیم خانے کے لیے جگہ مانگی اور اپنا منصوبہ انکے سامنے رکھا تو وزیراعظم نے انہیں میر پور کے پہاڑوں میں ایک جگہ الاٹ کردی ، جو کہ ایک پہاڑ ہی تھا ، چوہدری اختر نے اس پہاڑ کو ہموار کرنے کا کام شروع کروایا ، یہاں پھر اوورسیز پاکستانیز نے بھر پور مدد کی خود میر پور اور مظفر آباد والوں نے اپنے علاقے میں ایک شاندار پراجیکٹ بنتا دیکھا تو ہر طرح سے حصہ ڈالا اور آخر کار ساڑھے تین سال کے عرصہ میں یہ عظیم الشان عمارت تعمیر ہوئی جو آپ اس تصویر میں دیکھ سکتے ہیں ۔۔۔۔ زلزلہ کے بعد چوہدری اختر کے اس ادارے میں پرورش اور تعلیم حاصل کرنے والے بچے آج جوان اور عملی زندگی میں قدم رکھ چکے ہیں کئی ایک اسی ادارے میں مختلف خدمات سر انجام دے رہے ہیں جبکہ اسکے بعد ملک کے مختلف شہروں خصوصا پنجاب سے کوڑے اور کچرے میں پھینک دیے جانیوالے بچے اس ادارے میں لائے جاتے ہیں انہیں یہاں پھولوں کی طرح رکھا جاتا ہے ہر سہولت اور آسائش مہیا کی جاتی ہے ، چوہدری اختر ان لاوارث بچوں کو کوڑے کچرے اور سڑک سے اٹھا کر خود پالتے ہیں انہیں اپنا نام دیتے ہیں ۔ میر پور آزاد کشمیر میں کورٹ کمپلیکس نامی یہ ادارہ آج 500 سے زائد بچوں لڑکوں اور لڑکیوں کا خیال رکھ رہا ہے انکی پرورش کررہا ہے اور انہیں پڑھا لکھا بھی رہا ہے ، نیکی کے اس کام می حصہ ڈالنے والے اوورسیز پاکستانیوں و دیگر مدد گاروں نے بلاشبہ زندگی میں ہی جنت کما لی ہے ، چوہدری اختر نے غربت ، لڑائی جھگڑوں سے تنگ اور گناہ چھپانے کے لیے اپنے بچوں کو ق۔ت۔ل کرنے والے سنگدلوں کو پیغام دیا ہے کہ خدارا پھول سے بچوں سے زندگی نہ چھینا کرو ، انہیں میرے حوالے کردیا کرو یا ہمیں فون کیا کرو ، ہم ان معصوم پھول جیسے بچوں کو لینے خود آپ کے پاس آجائیں گے ۔۔۔۔ دعا ہے اللہ کریم چوہدری اختر کو اس مشن میں قدم قدم پر آسانیاں عطا کرے آمین ثم آمین
35
247
6
787
60,941
یورپ میں موسم بے قابو ہوتا جا رہا ہے۔ فرانس میں شدید گرمی کی لہر کے باعث بدھ سے اب تک تقریباً ایک ہزار سے زائد اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ اس کے فوراً بعد موسم نے اچانک رخ بدلا اور مختلف علاقوں میں شدید گرج چمک کے ساتھ تباہ کن طوفان آ گئے، جنہوں نے لوگوں کو حیران کر دیا۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس نوعیت کا موسم پہلے کبھی نہیں دیکھا
40
539
3
2,425
98,955
اتحاد کی چابی کس کے پاس ہے؟ یہ صرف نعرہ نہیں وقت کی ضرورت ہے!
2
10
55
اللہ کی اپنی شان ہے اور اس کے اپنے رنگ ہیں دیکھیں❤️ گرگٹ کیسے رنگ بدلتا ہے👇
25
70
2
180
18,151
Blind💙 retweeted
پنجاب صادق آباد !! 25 افراد بشمول بچوں کو گردوں میں پتھری کے آپریشن کا کہہ کر سب کے گردے نکال لئے گئے !! طاقتور شیطانوں کا چہیتا ڈاکٹر فواد مختار اب تک 328 افراد کے گردے نکال چکا ہے جو روپورٹ ہوئے ہیں !!
88
2,540
68
3,788
181,887
دنیا اسے صرف ایک سائیکل سمجھتی ہے، مگر ایک بیٹی کے لیے وہ اس کے باپ کی محبت، تحفظ اور دنیا کی سب سے محفوظ جگہ ہے
4
343
1
2,769
34,621
When words become swords.
1
5
105
🌡️ گرمی کی لہر اور موسمی صورتحال | پاکستان 🔥 ملک بھر میں گرمی اور ہیٹ ویو کی صورتحال برقرار، خاص طور پر جنوبی پنجاب، سندھ اور بالائی بلوچستان کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے کئی ڈگری زیادہ ریکارڈ کیے گئے۔ 🔥 آج بھی سندھ، جنوبی پنجاب، مشرقی بلوچستان اور وسطی پنجاب میں شدید گرمی برقرار رہنے کا امکان ہے۔ 🌡️ اندرون سندھ، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، رحیم یار خان، دادو، سبی اور جیکب آباد میں درجہ حرارت 45 تا 48°C تک جا سکتا ہے۔ 🌆 لاہور، فیصل آباد، سرگودھا اور ملتان میں موسم نہایت گرم اور خشک رہے گا جبکہ درجہ حرارت 42 تا 45°C کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ 🌊 کراچی میں سمندری ہوائیں جزوی بحال رہنے کے باعث گرمی کی شدت نسبتاً کم مگر حبس زیادہ محسوس ہو سکتا ہے۔ ⛰️ شمالی علاقوں، مری، گلیات اور کشمیر میں موسم نسبتاً خوشگوار رہے گا۔ 📍 گزشتہ روز گرم ترین علاقے 🔥 ڈیرہ غازی خان: 47.7°C 🔥 کوٹ قیصرانی: 46.1°C 🔥 تونسہ شریف: 45.6°C 🔥 فورٹ عباس: 45.2°C 🔥 لیہ: 45.1°C 🏙️ بڑے شہروں کی صورتحال 🌆 لاہور: 42 تا 44°C 🌆 ملتان: 43.7°C 🌆 فیصل آباد: 43.2°C 🌆 اسلام آباد / راولپنڈی: 40 تا 41°C 🌆 پشاور: 39.4°C 🌆 کراچی: 32 تا 36°C 🌆 کوئٹہ: 34°C 🏔️ پہاڑی مقامات 🌲 مری: 28.3°C 🌲 نتھیا گلی: 27.3°C 🌲 گلیات: 23.6°C ☀️ آج کی گرمی کی پیشگوئی ⚠️ احتیاطی تدابیر 🥤 پانی، لیموں پانی اور ORS کا زیادہ استعمال کریں۔ 🧢 دھوپ میں نکلتے وقت ٹوپی یا چھتری کا استعمال لازمی کریں۔ 👕 ہلکے رنگ اور ڈھیلے کپڑے پہنیں۔ 🚫 دوپہر 11 بجے سے شام 4 بجے تک غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کریں۔ 🐦 جانوروں اور پرندوں کیلئے پانی اور سایہ ضرور فراہم کریں۔ مزید اپڈیٹس کے لیے ویدر والے کو فالو کریں
8
1
103
12,913
After returning from China without anything worthwhile, Trump talked to Netanyahu twice in less than a week. Fresh attacks on Iran? Same thing to get different results? BTW, Ukraine has also been reactivated against Russia. Launched over 550 drones, some hitting buildings in Moscow. Things could get out of hand now that “war has developed its own dynamics & is beginning to dictate its terms”to US & Israel.
2
3
5
828
اس شہزادی کے دل میں پوری دنیا کی دھڑکن تھی۔ اس وقت دنیا میں آٹھ ارب تیس لاکھ لوگ ہیں۔ جو بھی شہزادی کی تصویر دیکھتا اس کا دل دھڑکے بنا رہ ہی نہیں سکتا۔ بہت مشکل ہے کوئی ایسا ہو گا جسے شہزادی پر پیار نہ آۓ۔ شہزادی کی مسکراہٹ یاد نہ آۓ۔ شہزادی کے لیے دل سے دعا نہ نکلے۔ شہزادی کو اپنے قریب محسوس نہ کرے۔ اور یہ نہ کہے۔ “اوہ میرے خدا… یہ کیا ہو گیا؟” تقریباً تیس سال گزر چکے۔ لیکن وہ آج بھی بھلائی نہ جا سکی۔ مجھے وہ شہزادی بہت یاد آتی ہے۔ جو AIDS کے مریضوں کے پاس جاتی تھی۔ اُس وقت لوگوں کے دلوں میں ایسا خوف تھا جیسے ہم نے کرونا کے دنوں میں دیکھا۔لوگ مریضوں سے دور رہتے تھے۔ نرسیں اور ڈاکٹر بھی دستانے پہن کر جاتے، فاصلہ رکھتے۔ لوگ سمجھتے تھے کہ اگر AIDS کے مریض کو چھو لیا… تو شاید موت خود انسان کو چھو لے گی۔ مگر ڈیانا اُن کمروں میں جاتی تھی جہاں لوگ جانا پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ دستانے پہننے سے انکار کر دیتی۔ مریض کے پاس بیٹھتی۔ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتی۔ مسکرا کر بات کرتی جیسے اُسے بیماری نہیں… صرف محبت کی کمی ہو۔ مجھے وہ لیڈی ڈیانا بھی یاد آتی ہے… جو انگولا کی اُس زمین پر چلی تھی جہاں ہر قدم کے نیچے بارود دفن تھا۔ لوگ دور کھڑے تھے۔ فوجی راستہ دکھا رہے تھے۔ اور دنیا کی سب سے مشہور عورت آہستہ آہستہ اُن بارودی سرنگوں کے درمیان چل رہی تھی۔ کوئی اور ہوتا تو شاید صرف تقریر کر کے واپس آ جاتا… مگر اُس عورت نے دنیا کو تصویروں سے ہلا دیا۔ مجھے وہ لیڈی ڈائنا بھی یاد آتی ہے… جو اپنے بچوں کو لے کر عام لوگوں والے پارک میں جاتی تھی۔ وہ لائن میں کھڑی ہوتی۔ جھولے جھولتی، دوڑتی، بچوں کے ساتھ چیختی اور ہنستی۔ ایک شہزادی…جسے دنیا تاج میں دیکھنا چاہتی تھی… وہ اپنے بچوں کے ساتھ بھیگ کر ہنس رہی ہوتی تھی۔ مجھے وہ لیڈی ڈائنا بھی یاد آتی ہے… جو بیمار بچوں کے ہسپتال جاتی تھی۔ چاکلیٹس لے کر۔ کھلونے لے کر۔ پھل لے کر۔ وہ بچوں کے بستروں کے کنارے بیٹھ جاتی۔ بچوں کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی۔ اور کچھ بچے تو اُسے دیکھ کر ایسے مسکراتے تھے جیسے درد چند لمحوں کے لیے کہیں چلا گیا ہو۔ اپنی ذاتی زندگی کے مشکل ترین وقت میں بھی وہ عوام کے سامنے مضبوط رہیں۔ میڈیا ہر لمحہ اُن کا پیچھا کرتا تھا، نجی زندگی خبروں کی زینت بنتی تھی، مگر اس سب کے باوجود وہ charity visits، بیمار بچوں اور جنگ متاثرہ لوگوں سے ملنا نہیں چھوڑتی تھیں۔ شاید اسی لیے دنیا آج بھی انہیں صرف “Princess Diana” نہیں بلکہ “People’s Princess” کے نام سے یاد کرتی ہے۔ شہزادی کے آخری الفاظ کے بارے میں مختلف روایات موجود ہیں، لیکن سب سے زیادہ مشہور بیان اُس فائر فائٹر ڈاکٹر کا ہے جو حادثے کے فوراً بعد موقع پر پہنچا تھا۔ اُس کے مطابق، جب وہ گاڑی کے پاس پہنچا تو ڈیانا ابھی زندہ تھیں۔ انہوں نے آہستہ سے کہا تھا: “اوہ میرے خدا… یہ کیا ہو گیا؟” یہ الفاظ ایک شہزادی کے نہیں تھے۔ یہ ہر اُس شخص کے تھے جس کو پتہ لگتا تھا کہ شہزادی اس دنیا میں نہیں رہی۔ یہ اُن لوگوں کے بھی ہیں جنہوں نے کبھی شہزادی کو نہیں دیکھا لیکن اس کی باتیں سن کے اس کے متعلق پڑھ کے اس کی تصویر دیکھ کر کہتے ہیں۔ تو کیا یہ بات سچ نہیں کہ اس شہزادی کے دل میں پوری دنیا کی دھڑکن تھی۔ محسن علی ۱۵ مئی ۲۰۲۶ء ------ 🌎
11
20
1
129
4,340
محکمہ موسمیات کی ملک بھر میں ’ہیٹ برسٹ‘ کی وارننگ؛ راتوں میں اچانک گرمی بڑھنے کا خطرہ محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف حصوں میں شدید ہیٹ ویو کے ساتھ ساتھ ایک نایاب موسمیاتی رجحان ’ہیٹ برسٹ‘ (Heat Burst) کی پیشگوئی کر دی ہے، جس کے باعث رات کے اوقات میں درجہ حرارت اچانک انتہائی بلند سطح پر پہنچ سکتا ہے۔ ہیٹ برسٹ کیا ہے؟ موسمیاتی ماہرین کے مطابق ’ہیٹ برسٹ‘ ایک ایسی صورتحال ہے جس میں بارش برسانے والے بادل (Thunderstorm) ختم ہوتے وقت فضا سے خشک اور ٹھنڈی ہوا کو تیزی سے زمین کی طرف دھکیلتے ہیں۔ جب یہ ہوا بلندی سے نیچے آتی ہے تو فضائی دباؤ کے باعث یہ سکڑ کر شدید گرم ہو جاتی ہے اور زمین پر پہنچتے ہی کسی دھماکے کی طرح گرم ہوا کی لہر پیدا کرتی ہے۔ اس عمل کے دوران چند ہی منٹوں میں درجہ حرارت 10 سے 20 ڈگری تک بڑھ سکتا ہے اور ہوا میں نمی کا تناسب صفر ہو جاتا ہے۔ موجودہ صورتحال اور الرٹ: محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق: پاکستان میں سپر ال نینو کے اثرات کی وجہ سے رواں سال مئی اور جون میں گرمی کے پچھلے کئی ریکارڈ ٹوٹنے کا امکان ہے۔ جنوبی پنجاب (خصوصاً ملتان)، سندھ اور بلوچستان کے میدانی علاقوں میں ’ہیٹ برسٹ‘ کے بننے کے واضح امکانات موجود ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ رات کے وقت بھی اچانک گرمی کی صورت میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور پانی کا زیادہ استعمال کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ غیر معمولی موسمی تبدیلی موسمیاتی تغیر (Climate Change) کا نتیجہ ہے، جس سے انسانی صحت کے ساتھ ساتھ فصلوں اور لائیو اسٹاک کو بھی شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
🤖 Made with AI
3
45
2
145
17,182
UK vs Pakistan — Hidden Truth That Will Shock You! ⚡| Bitter Truth
1
7
79
Blind💙 retweeted
31
382
9
848
8,141
Blind💙 retweeted
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ سے ایکشن لینے کی درخواست..! ڈاکٹر نے شہ رگ کاٹ دی، ہنستی مسکراتی معصوم کو نا تجربہ کار قصائی نے موت کی بھینٹ چڑھا دیا۔ معصوم سی بیٹی 13 سالہ سائرہ احسن کے گلے کا آپریشن مبینہ طور پر ای این ٹی ڈاکٹر شاہد علی نے ساہیوال میڈیکل کمپلیکس پر کیا۔ مبینہ طور پر شہ رگ کاٹنے سے بلیڈنگ نہ رکی تو چھٹی دے دی طبیعت بگڑنے پر ساہیوال ٹیچنگ اسپتال لایا گیا دوبارہ آپریشن کیا اور ICU میں چھوڑ کر ذمہ دار رفو چکر ہوگیا، معصوم بچی تڑپ تڑپ کر خالق حقیقی سے جاملی۔ یہ وڈیو آپریشن تھیٹر میں جاتے ہو سائرہ نے خود اپنے بابا احسن کو کہہ کر بنوائی تھی💔😭 کیا پنجاب کی ماں معصوم بے گناہ سائرہ کو انصاف دلوا سکے گی؟ @MaryamNSharif @hinaparvezbutt
35
517
15
742
21,600
Loadshedding is Back With a Vengeance: 1. Power Division is Pakistan’s most Dangerous Division 2. Power Division has the Power to Bankrupt the Economy 3. Pre-2006, Circular Debt ~ zero 4. In 2006, Circular Debt Rs111B 5. Today, power sector Circular Debt Rs2,000B 6. Today, gas sector Circular Debt Rs3,000B 7. Total Circular Debt ~ Rs5,000B 8. By 2030, Circular Debt ~ Rs9,000B 9. This is not a power crisis 10. This is a compounding debt machine Pakistan’s most dangerous division Business By Dr Farrukh Saleem April 16, 2026 📷 📷 📷A man sits outside his shop during a country-wide power breakdown in Karachi, on January 23, 2023. — Reuters Here’s the hard truth: Pakistan’s Power Division has the power to bankrupt the economy. Yes, the Power Division has formally announced more than two hours of daily loadshedding. Lo and behold, Pakistan does not have a power shortage, Pakistan has a power management failure. Pakistan has an installed capacity of around 45,000 MW. Peak demand rarely crosses 25,000-28,000MW. That is a surplus of 17,000-20,000MW. And yet, the Power Division is switching off power. Why? The Power Division offers a justification. Loadshedding, it says, is to “reduce the use of costly fuels” and “prevent a sharp increase in tariffs.” This is a deeply flawed argument. To begin with, it confuses price with cost. Switching off cheaper available electricity during peak hours does not eliminate cost. It merely reallocates cost. Capacity payments, now exceeding Rs 2 trillion annually,do not disappear when plants are shut. They continue to accrue. The truth the Power Division won’t state: This policy does not control tariffs. It guarantees higher tariffs over time.The Power Division has made demand destruction its explicit policy. It admits the system can meet full demand. It cuts power regardless. Call it what it is: not load shedding, not shortage management, deliberate curtailment. Electricity exists, the Division simply decides you cannot have it. Pre-2006, circular debt was essentially zero. In 2006, it stood at Rs111 billion. Today, power sector circular debt stands at around Rs2 trillion, with total energy sector debt (power plus gas) exceeding Rs5 trillion. That is a 17-fold increase in 20 years. The reality: Circular debt has been compounding at an annual rate of 15 per cent per year for two decades straight. At its current rate of growth, Pakistan’s circular debt will cross Rs8 trillion by 2030. No war, no flood, no external shock, just 25 years of the same policy, compounding at 15 per cent a year. That is what makes the Power Division the most dangerous institution in Pakistan. The Power Division is running a parallel fiscal deficit. It is hollowing out the federal budget. It is killing growth. None of this is abstract. Electricity at Rs50 per unit has pushed large parts of industry to the edge. Textiles, steel, chemicals -- scaling down. Households choosing between food and electricity -- scaling down. Pakistan is not facing a power problem. It is facing an economic contraction. And the Power Division is driving it. Red alert: The Power Division is not just draining rupees. It is destroying dollar-earning capacity.Pakistan is not running out of electricity. Pakistan is running out of paying consumers. Pakistan is not running out of electricity. Pakistan is running out of money -- and the Power Division sits at the centre of that drain. thenews.pk/print/1410251-pak…
40
188
15
425
20,079
Blind💙 retweeted
ویلکم ٹو پرانا پاکستان
37
325
12
730
12,660