Pinned Tweet
امریکہ کی اصل پریشانی ایران کا ایٹمی پروگرام نہیں بلکہ وہ خفیہ عسکری منصوبہ ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس کی تفصیلات پینٹاگون کی انتہائی حساس فائلوں تک محدود ہیں۔
رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا نے گزشتہ کئی برسوں میں ایران کو نہ صرف ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کی بلکہ ایران کے زیرزمین فوجی اڈوں پر ایسے جدید نظام بھی نصب کیے جو امریکی سیٹلائٹس کو غلط مقامات کی تصاویر دکھاتے ہیں۔
یہاں تک دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ایران نے اپنے اصل ایٹمی ہتھیاروں کو ایسی زیرزمین سرنگوں میں منتقل کردیا ہے جو تہران سے شروع ہوکر خلیج فارس کے نیچے سے گزرتی ہوئی یمن تک پہنچتی ہیں۔
لیکن اصل انکشاف اس سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔
ایران نے مبینہ طور پر یمن کے حوثیوں کو ایسے جدید میزائل فراہم کیے ہیں جو فضا میں اپنا راستہ تبدیل کرنے کے ساتھ دشمن کے دفاعی ریڈار کو یہ یقین بھی دلا سکتے ہیں کہ حملہ کسی دوسرے ملک کی طرف سے کیا گیا ہے۔
سعودی عرب کو خفیہ پیغام بھی پہنچایا جاچکا ہے کہ ایران کے خلاف کسی امریکی کارروائی کی صورت میں ریاض کو جواب دینے سے پہلے سوچنے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔
واشنگٹن میں اصل کھلبلی اس وقت مچی جب ایک مبینہ رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ ایران نے شمالی کوریا کی مدد سے اپنے میزائلوں میں ایسی ٹیکنالوجی نصب کرلی ہے جو دشمن کے میزائل کو راستے ہی میں پکڑ کر واپس اسی کی طرف موڑ سکتی ہے۔
لیکن پینٹاگون کے لیے سب سے بڑا دھچکا اس وقت سامنے آیا جب ایک خفیہ سیٹلائٹ نے انکشاف کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے نیچے ایک پورا بحری اڈہ تعمیر کررکھا ہے، جہاں ایسی آبدوزیں موجود ہیں جو سمندر میں نہیں بلکہ سمندر کی تہہ کے نیچے سرنگوں میں سفر کرتی ہیں۔
امریکی بحریہ کے لیے مزید پریشان کن خبر یہ تھی کہ ان آبدوزوں کو سطح سمندر پر آنے کی ضرورت ہی نہیں، کیونکہ ایران نے شمالی کوریا کے سائنس دانوں کی مدد سے سمندری پانی سے براہِ راست ایٹمی ایندھن تیار کرنے کا طریقہ بھی دریافت کرلیا ہے۔
یہی نہیں، بعض انتہائی خفیہ حلقوں میں یہ اطلاعات بھی گردش کررہی ہیں کہ ایران نے سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات کے نیچے ایسے مقناطیسی آلات نصب کررکھے ہیں جو صرف تہران سے ایک مخصوص سگنل ملنے پر پورے خطے کا تیل واپس زمین میں کھینچ سکتے ہیں۔
اور اب امریکی انٹیلیجنس کو شبہ ہے کہ ایران کا اصل منصوبہ مشرقِ وسطیٰ پر قبضہ کرنا نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی جگہ سے سرکا کر بحرِ ہند میں منتقل کرنا ہے تاکہ امریکی فوجی اڈوں کی جغرافیائی اہمیت ہی ختم ہوجائے۔
ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ شمالی کوریا نے ایران کو ایک ایسا آخری ہتھیار فراہم کیا ہے جسے چلانے کے بعد امریکہ کو ایران پر حملہ کرنے کے لیے پہلے ایران سے اجازت لینا پڑے گی۔
اس ساری صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ امریکہ ایران پر حملہ کب کرے گا۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر ایران نے پورا مشرقِ وسطیٰ ہی کہیں اور منتقل کردیا تو امریکہ اپنے طیارہ بردار بحری جہاز لے کر جائے گا کہاں؟
اور آخر میں صرف اتنا عرض ہے کہ یہ تمام خفیہ انکشافات میرے اپنے تخیل کی پیداوار ہیں۔
کیونکہ جب چھوڑنی ہی ہیں تو پھر بندہ کھل کے چھوڑے!
Mansoor | Mr. Hide - Rebirth retweeted
عینی شاہدین کے مطابق 7 زندہ لاشیں مردہ ہو گئی ہے پر چھپایا جا رہا ان کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے چلے تھے مرشد ان کو شعور دینے ۔دل روتا ہے کہ عمران خان ان لوگوں کے لیے اندر ہے قید تنہائی میں ہے چکے جانا چاہیے انکو اپنے بچوں کے پاس جتنی بھی زندگی بچی ہے سکون سے گزاریں
سننے میں آیا ہے کہ پتلو کی شادی کی تقریب میں بھگدڑ مچ گئی، جس کے بعد باقی تقریبات بھی منسوخ کرنا پڑیں۔
افسوس اس بات کا ہے کہ ہماری قوم کے ایک بڑے طبقے کو شاید کبھی یہ سکھایا ہی نہیں گیا کہ عزتِ نفس بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔
شادی کی تقریب میں کھانا کھل جائے تو بعض لوگ اس پر ایسے ٹوٹ پڑتے ہیں جیسے مہینوں سے بھوکے ہوں اور اگلے کئی مہینوں تک کھانا نصیب نہ ہونے کا خدشہ ہو۔ نہ اپنی عزت کا خیال، نہ دوسروں کا لحاظ، نہ کسی نظم و ضبط کی پروا۔
کہیں مفت راشن تقسیم ہو رہا ہو تو دو کلو آٹے کے لیے گھنٹوں دھوپ میں دھکے کھانے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ یہاں یہ فرق سمجھنا بھی ضروری ہے کہ حقیقی ضرورت کے تحت مدد لینا بے عزتی نہیں، لیکن محض مفت کی چیز حاصل کرنے کے لیے اپنی عزت اور دوسروں کے حقوق پامال کرنا یقیناً افسوسناک ہے۔
چودہ اگست کے موقع پر سیاسی جماعتیں کیک کاٹتی ہیں تو بعض جگہوں پر پانچ منٹ کے اندر جو مناظر سامنے آتے ہیں، وہ ہماری اجتماعی تربیت کا پول کھول کر رکھ دیتے ہیں۔ ایک معمولی سے کیک کے لیے دھکم پیل، چھینا جھپٹی اور ایسا ہجوم جیسے زندگی کا آخری موقع ہاتھ سے نکل رہا ہو۔
میں اپنے پانچ سال کے بچے کو بھی کسی جگہ لے جا کر کہوں کہ یہاں لائن میں لگ جاؤ، تمہیں ڈھیر ساری چاکلیٹیں مفت ملیں گی، تو وہ جواب دے گا: بابا، مجھے نہیں چاہییں، چلو یہاں سے۔
اور یہی وہ تربیت ہے جو ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو دینی چاہیے۔ ہر مفت ملنے والی چیز حاصل کرنا ضروری نہیں ہوتا، اور ہر جگہ اپنا حصہ وصول کرنا کوئی کامیابی نہیں ہوتی۔
غربت کوئی عیب نہیں، بھوک کوئی شرمندگی نہیں اور ضرورت کے وقت کسی سے مدد لینا بھی توہین نہیں۔ لیکن جہاں ضرورت نہیں، وہاں محض مفت کی چیز کے لالچ میں اپنی خودداری، تہذیب اور وقار کو روند ڈالنا یقیناً شرمناک ہے۔
او بے شرمو! کبھی کسی چیز کو یہ کہہ کر بھی چھوڑ دیا کرو کہ مجھے نہیں چاہیے۔
دنیا کی ہر چیز حاصل کرنا ضروری نہیں۔ کچھ چیزوں سے دستبردار ہو کر انسان اپنی نظروں میں بہت بلند ہو جاتا ہے۔
یاد رکھو، مفت کی چیز چھوڑ دینے سے انسان غریب نہیں ہوتا، لیکن چند لقموں کے لیے اپنا وقار گنوا دینے سے ضرور چھوٹا ہو جاتا ہے۔
Mansoor | Mr. Hide - Rebirth retweeted
ایک چھوٹا سا جلسہ کرنا ہو تو اپکو اجازت لینی پڑتی ہے
یہ ایک پورا شو کر رہا تھا ہزاروں لوگوں کے ساتھ اس نے کیا کیا اقدام کیے
اس کو اجازت کس نے دی ایسا پروگرام کرنے کی اتنی جانوں کے ساتھ کھیل کر بچ نکلنا یہ انصاف نہیں
حکومت اداروں کو سخت ایکشن لینا چاہیے اس کے خلاف
سننے میں آیا ہے کہ پتلو کی شادی کی تقریب میں بھگدڑ مچ گئی، جس کے بعد باقی تقریبات بھی منسوخ کرنا پڑیں۔
افسوس اس بات کا ہے کہ ہماری قوم کے ایک بڑے طبقے کو شاید کبھی یہ سکھایا ہی نہیں گیا کہ عزتِ نفس بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔
شادی کی تقریب میں کھانا کھل جائے تو بعض لوگ اس پر ایسے ٹوٹ پڑتے ہیں جیسے مہینوں سے بھوکے ہوں اور اگلے کئی مہینوں تک کھانا نصیب نہ ہونے کا خدشہ ہو۔ نہ اپنی عزت کا خیال، نہ دوسروں کا لحاظ، نہ کسی نظم و ضبط کی پروا۔
کہیں مفت راشن تقسیم ہو رہا ہو تو دو کلو آٹے کے لیے گھنٹوں دھوپ میں دھکے کھانے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ یہاں یہ فرق سمجھنا بھی ضروری ہے کہ حقیقی ضرورت کے تحت مدد لینا بے عزتی نہیں، لیکن محض مفت کی چیز حاصل کرنے کے لیے اپنی عزت اور دوسروں کے حقوق پامال کرنا یقیناً افسوسناک ہے۔
چودہ اگست کے موقع پر سیاسی جماعتیں کیک کاٹتی ہیں تو بعض جگہوں پر پانچ منٹ کے اندر جو مناظر سامنے آتے ہیں، وہ ہماری اجتماعی تربیت کا پول کھول کر رکھ دیتے ہیں۔ ایک معمولی سے کیک کے لیے دھکم پیل، چھینا جھپٹی اور ایسا ہجوم جیسے زندگی کا آخری موقع ہاتھ سے نکل رہا ہو۔
میں اپنے پانچ سال کے بچے کو بھی کسی جگہ لے جا کر کہوں کہ یہاں لائن میں لگ جاؤ، تمہیں ڈھیر ساری چاکلیٹیں مفت ملیں گی، تو وہ جواب دے گا: بابا، مجھے نہیں چاہییں، چلو یہاں سے۔
اور یہی وہ تربیت ہے جو ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو دینی چاہیے۔ ہر مفت ملنے والی چیز حاصل کرنا ضروری نہیں ہوتا، اور ہر جگہ اپنا حصہ وصول کرنا کوئی کامیابی نہیں ہوتی۔
غربت کوئی عیب نہیں، بھوک کوئی شرمندگی نہیں اور ضرورت کے وقت کسی سے مدد لینا بھی توہین نہیں۔ لیکن جہاں ضرورت نہیں، وہاں محض مفت کی چیز کے لالچ میں اپنی خودداری، تہذیب اور وقار کو روند ڈالنا یقیناً شرمناک ہے۔
او بے شرمو! کبھی کسی چیز کو یہ کہہ کر بھی چھوڑ دیا کرو کہ مجھے نہیں چاہیے۔
دنیا کی ہر چیز حاصل کرنا ضروری نہیں۔ کچھ چیزوں سے دستبردار ہو کر انسان اپنی نظروں میں بہت بلند ہو جاتا ہے۔
یاد رکھو، مفت کی چیز چھوڑ دینے سے انسان غریب نہیں ہوتا، لیکن چند لقموں کے لیے اپنا وقار گنوا دینے سے ضرور چھوٹا ہو جاتا ہے۔
Mansoor | Mr. Hide - Rebirth retweeted
ہالووین کے موقع پر کنواروں کی اجتماعی دعا!
اے میرے رب! ہم شدید ترین سنگل ہیں۔ ہماری حالت پر رحم فرما۔ ہماری تنہائی اب اس مقام پر پہنچ چکی ہے کہ رات کو کوئی چڑیل بھی نظر آ جائے تو ڈرنے کے بجائے پوچھتے ہیں، آپ کا رشتہ کہیں طے تو نہیں؟
یا رب! اس ہالووین پر ہم سب کو ایسی ہی حسین و جمیل چڑیل عطا فرما، جو رات کو ڈرانے آئے تو صبح ہمارے ساتھ ناشتہ بھی کرے۔
ہمیں اس کے جادو، کالے علم، الٹے پاؤں یا جھاڑو پر سفر کرنے سے کوئی اعتراض نہیں۔ بس شکل پیاری ہو، مزاج رومانوی ہو اور وفاداری ایسی کہ دوسرے مرد کو دیکھتے ہی اسے مینڈک بنا دے۔
اے پروردگار! آخر ہم بھی تیرے ہی بندے ہیں۔ کب تک دوسروں کی چڑیلوں کی تصویروں پر دل لبھاتے رہیں گے؟
اس ہالووین پر کسی چڑیل کو ہمارے نصیب میں بھی لکھ دے، چاہے جہیز میں صرف جھاڑو ہی کیوں نہ لائے!
آمین، بصد احترام، انجمنِ کنوارگانِ عالم!
Mansoor | Mr. Hide - Rebirth retweeted
سیزن 2، قسط 1
“میں سعد کے بچے کی ماں بننے والی ہوں۔”
کمرے میں ایسی خاموشی ہوئی کہ سموسے میں سے آلو کے گرنے کی آواز بھی سنائی دے سکتی تھی۔
سعد نے رمشا کو دیکھا۔
پھر حرا کو۔
پھر اپنے ابا کے ہاتھ میں اٹھا ہوا جوتا دیکھا۔
اور فوراً بولا “ابو آپ ہر بات پر جوتا کیوں اٹھا لیتے ہیں؟”
ابا: “ پہلے مجھے یہ بتا کہ نکاح سے پہلے family package کیسے activate ہوگیا؟” 😂
-
-
حرا کا بڑا بھائی آستین چڑھانے لگا۔
سعد نے اسے روک کر کہا بھائی آستین نیچے رکھیں، بچہ اگر میرا نکلا تو خود اوپر کردوں گا!
دانش پیچھے سے: “اور اگر نہ نکلا؟”
سعد:
“تو اس کی آستین تجھ میں ڈال دوں گا!”😂
مولوی صاحب نے نکاح نامہ بند کیا۔
“میں پانچ منٹ کے لیے آیا تھا۔”
فہد: “حضرت اب interval تک رکنا پڑے گا۔”
-
-
رمشا چیخی: “یہ مجھے پہچان بھی نہیں رہا!”
سعد: “بہن—”
رمشا: “بہن؟!”
سعد: “معذرت… نامعلوم خاتون!”😂
-
-
رمشا نے pregnancy report نکالی۔
Emergency Contact:
Saad Ahmed
ساتھ سعد کا نمبر۔
-
-
ابا نے report دیکھی۔ “نام تیرا۔ نمبر تیرا۔”
سعد: “ابو بے فارم بھی مانگ لیں، شاید وہاں بھی میرے نام پر لکھا ہو!”
حرا نے غصے سے پوچھا: “سعد، سچ کیا ہے؟”
سعد: “سچ یہ ہے کہ مجھے اس عورت کا نام بھی نہیں معلوم!”
رمشا:
“رمشا!”
سعد فوراً حرا کی طرف مڑا: “دیکھا؟ ابھی بتایا اس نے!” 😂
-
-
ماموں ایک کونے میں بڑے افسوس سے سر ہلا رہے تھے۔
“میں تو پہلے ہی کہتا تھا، لڑکا بہت چالاک ہے۔”
سعد: “ماموں، آپ نے پہلے مجھے تین دفعہ دیکھا ہے!”
ماموں: “چالاک آدمی تین دفعہ میں پکڑا جاتا ہے۔”
دانش: “ماموں expert ہیں۔ Discovery Channel نے بس ابھی contact نہیں کیا۔” 😂
رمشا نے mobile نکالا۔
“Report چھوڑیں… میرے پاس messages بھی ہیں۔”
WhatsApp کھلا۔
Contact name:
Saad ❤️
آخری میسج :“فکر نہ کرو، نکاح سے پہلے سب handle کرلوں گا۔”
حرا نے سعد کو دیکھا۔
ابا نے جوتا مزید مضبوطی سے پکڑا۔
سعد نے screen دیکھی اور آہستہ سے بولا:
“قسم سے…”
“اب تو مجھے خود جاننا ہے کہ میں راتوں کو کہاں جاتا ہوں۔”
جاری ہے…
قسط 7 — رشتہ، رضامندی اور آخری بمب
سعد گھر پہنچا تو رات کے ساڑھے گیارہ بج رہے تھے۔ چہرے پر وہ سکون تھا جو عموماً دو خاندانوں سے بیک وقت ذلیل ہونے کے بعد آتا ہے۔
دروازہ کھولا تو ابا سامنے بیٹھے تھے۔
ابا نے اوپر سے نیچے تک دیکھا۔
پھر پوچھا:
“کام کیسا رہا، Electrician صاحب؟”
سعد نے کمزور سی آواز میں کہا: “ابو غلطی ہوگئی…”
پھٹاک!
پہلا تھپڑ۔
ابا بولے:
“یہ غلطی کا تھا۔”
پھٹاک!
“یہ electrician بننے کا۔”
امی kitchen سے دوڑتی ہوئی آئیں۔ “بس بھی کریں! بچہ ہے!”
ابا چیخے:
“انتیس سال کا بچہ لڑکی کے گھر wiring کرنے گیا تھا!”
سعد:
“Wiring نہیں ابو… محبت”🤣
کسی طرح ماحول ٹھنڈا ہوا۔
سعد ہمت کرکے بولا:
“ابو… ایک بات اور ہے۔”
ابا نے چپل دوبارہ ہاتھ میں لی۔
“اب کیا؟ لڑکی pregnant تو نہیں؟”
سعد:
“نہیں نہیں! وہ تو—”
پھر رک گیا۔
“اصل میں… کل اس کے گھر والے ہمارے گھر آرہے ہیں۔”
ابا:
“کیوں؟”
“رشتے کی بات کرنے۔”
کمرے میں خاموشی۔
امی کے ہاتھ سے چائے کا کپ تقریباً گر گیا۔
چھوٹی بہن نے mobile نیچے کیا۔
ابا نے سعد کو ایسے دیکھا جیسے سعد نے ابا کے گردے نکال لیے ہوں۔
“کون سے گھر والے؟”
“وہی… جن کے گھر سے ابھی آیا ہوں۔”
“جن کے گھر electrician بن کر گیا تھا؟”
“جی…”
ابا نے سر پکڑ لیا۔
اگلی صبح گھر میں قیامت برپا تھی۔
امی:
“پردے بدلو!”
بہن:
“یہ cushion بہت پرانے ہیں!”
ابا:
“Cushion سے رشتہ ہونا ہے؟”
امی:
“آپ خاموش رہیں، آپ کی بنیان sofa پر پڑی ہے!”
ابا نے فوراً بنیان اٹھائی۔
دوپہر کو حِرا کے گھر والے پہنچ گئے۔
حِرا کے ابو۔
امی۔
دونوں بھائی۔
ماموں۔
اور سعد نے ماموں کو دیکھتے ہی پہچان لیا۔
وہی جو کل ہر جملے کے بعد بیٹھ کر commentary کر رہا تھا۔
ماموں نے سعد کو دیکھ کر کہا:
“Electrician صاحب، آج current ٹھیک ہے؟”
سعد:
“جی ماموں…”
ابا فوراً:
“ابھی سے ماموں؟”🤨
سعد:
“میں relationship building—”
ابا نے گھورا۔
سعد:
“چائے لے آتا ہوں۔”😂
بات شروع ہوئی۔
حِرا کے ابو:
“ہمیں بچا پسند ہے۔ غلطی ہوئی، مگر نیت خراب نہیں لگی۔”
ابا نے سعد کی طرف دیکھا۔
“آپ کو نیت ٹھیک لگی؟ ہمیں تو بچپن سے شک ہے۔”
سعد: “ابو!”🥹
کافی بحث ہوئی۔
آمدنی۔
نوکری۔
گھر۔
مستقبل۔
شادی کے خرچے۔
آخرکار دونوں خاندان راضی ہوگئے۔
سعد دل ہی دل میں سوچ رہا تھا:
“تین تھپڑ، ایک رات کی بے عزتی… deal بری نہیں رہی۔”
ماموں نے اعلان کیا:
“جب سب راضی ہیں تو زیادہ لمبا کیوں کرنا؟ نکاح کی تاریخ رکھ لو۔”
بات دو ہفتے بعد کے نکاح پر طے ہوگئی۔
نکاح کا دن آگیا۔ سعد cream sherwani میں بیٹھا تھا۔
بال ایسے بنائے ہوئے جیسے پچھلی تمام ذلتیں کسی دوسرے آدمی کے ساتھ ہوئی تھیں۔
دانش نے پوچھا:
“گھبراہٹ؟”
سعد:
“بالکل نہیں۔”
فہد:
“دروازے کو بار بار کیوں دیکھ رہے ہو؟”
سعد:
“میرے تجربے میں مصیبت ہمیشہ دروازے سے ہی داخل ہوئی ہے۔”
😂
مولوی صاحب نے کاغذات کھولے۔
گواہ بیٹھ گئے۔
حِرا دوسرے کمرے میں۔
مولوی صاحب نے کہا:
“دولہا صاحب، آپ کو یہ نکاح قبول—”
اچانک پیچھے سے ایک آواز آئی:
“رُک جائیں!”
پورا کمرہ خاموش۔
سعد نے فوراً آنکھیں بند کرلیں۔
دانش نے آہستہ سے کہا:
“لو جی… مصیبت نے location ڈھونڈ لی۔”😂
دروازے پر تقریباً ستائیس اٹھائیس سال کی ایک لڑکی کھڑی تھی۔
آنکھوں میں غصہ
اور نظر سیدھی سعد پر۔
سعد کے ابا نے سعد کو دیکھا۔
“تو اسے جانتا ہے؟”
سعد:
“ابو قسم سے میں”
لڑکی آگے بڑھی۔
“یہ نکاح نہیں ہوسکتا!”
ہِرا کے ابو:
“کیوں؟”
لڑکی نے سعد کی طرف انگلی کی۔
“کیونکہ اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا!”
سعد:
“کیاااا؟”
لڑکی:
“اور اب مجھے چھوڑ کر کسی اور سے شادی کر رہا ہے!”
سعد کے ابا نے آہستہ آہستہ جوتا اتارنا شروع کردیا۔
حِرا کا بڑا بھائی آگے آیا۔
“تم سعد کو کب سے جانتی ہو؟”
لڑکی:
“کافی عرصے سے۔”
سعد:
“میں نے اسے زندگی میں—”
لڑکی نے اچانک آواز بلند کی۔
“اور میں…”
پورا کمرہ خاموش۔
مولوی صاحب نے قلم میز پر رکھ دیا۔
دانش نے سموسہ پلیٹ میں واپس رکھ دیا۔
سعد کے ابا نے جوتا مضبوطی سے پکڑ لیا۔
لڑکی نے سعد کی طرف دیکھا اور کہا:
“میں سعد کے بچے کی ماں بننے والی ہوں۔”
سنااااااٹا۔
سعد کا منہ کھلا رہ گیا۔
حِرا کے بھائیوں نے آستینیں اوپر کرلیں۔
ابا نے جوتا shoulder level تک اٹھا لیا۔
امی نے سینے پر ہاتھ رکھ لیا۔
اور سعد…
بس ایک ہی جملہ بول پایا:
“کون سا بچہ؟”
سیزن 1 ختم۔
باقی کہانی جاننے کے لیے انتظار کریں
“عشق کا شارٹ سرکٹ: سیزن 2” 😂😂😂😂
Mansoor | Mr. Hide - Rebirth retweeted
اقرار کو لیڈر بنانے کے لئے گرفتار کیا گیا تھا مگر جب عوام نے مطلوبہ پزیرائی نہیں دی تو رھائ دینی پڑی کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ جس قانون کے تحت اقرار کو گرفتار کیا گیا تھا اس میں اب تک کسی اور سیاسی آدمی کی بھی ضمانت ہوئی ہے؟
سیزن 2، قسط 1
“میں سعد کے بچے کی ماں بننے والی ہوں۔”
کمرے میں ایسی خاموشی ہوئی کہ سموسے میں سے آلو کے گرنے کی آواز بھی سنائی دے سکتی تھی۔
سعد نے رمشا کو دیکھا۔
پھر حرا کو۔
پھر اپنے ابا کے ہاتھ میں اٹھا ہوا جوتا دیکھا۔
اور فوراً بولا “ابو آپ ہر بات پر جوتا کیوں اٹھا لیتے ہیں؟”
ابا: “ پہلے مجھے یہ بتا کہ نکاح سے پہلے family package کیسے activate ہوگیا؟” 😂
-
-
حرا کا بڑا بھائی آستین چڑھانے لگا۔
سعد نے اسے روک کر کہا بھائی آستین نیچے رکھیں، بچہ اگر میرا نکلا تو خود اوپر کردوں گا!
دانش پیچھے سے: “اور اگر نہ نکلا؟”
سعد:
“تو اس کی آستین تجھ میں ڈال دوں گا!”😂
مولوی صاحب نے نکاح نامہ بند کیا۔
“میں پانچ منٹ کے لیے آیا تھا۔”
فہد: “حضرت اب interval تک رکنا پڑے گا۔”
-
-
رمشا چیخی: “یہ مجھے پہچان بھی نہیں رہا!”
سعد: “بہن—”
رمشا: “بہن؟!”
سعد: “معذرت… نامعلوم خاتون!”😂
-
-
رمشا نے pregnancy report نکالی۔
Emergency Contact:
Saad Ahmed
ساتھ سعد کا نمبر۔
-
-
ابا نے report دیکھی۔ “نام تیرا۔ نمبر تیرا۔”
سعد: “ابو بے فارم بھی مانگ لیں، شاید وہاں بھی میرے نام پر لکھا ہو!”
حرا نے غصے سے پوچھا: “سعد، سچ کیا ہے؟”
سعد: “سچ یہ ہے کہ مجھے اس عورت کا نام بھی نہیں معلوم!”
رمشا:
“رمشا!”
سعد فوراً حرا کی طرف مڑا: “دیکھا؟ ابھی بتایا اس نے!” 😂
-
-
ماموں ایک کونے میں بڑے افسوس سے سر ہلا رہے تھے۔
“میں تو پہلے ہی کہتا تھا، لڑکا بہت چالاک ہے۔”
سعد: “ماموں، آپ نے پہلے مجھے تین دفعہ دیکھا ہے!”
ماموں: “چالاک آدمی تین دفعہ میں پکڑا جاتا ہے۔”
دانش: “ماموں expert ہیں۔ Discovery Channel نے بس ابھی contact نہیں کیا۔” 😂
رمشا نے mobile نکالا۔
“Report چھوڑیں… میرے پاس messages بھی ہیں۔”
WhatsApp کھلا۔
Contact name:
Saad ❤️
آخری میسج :“فکر نہ کرو، نکاح سے پہلے سب handle کرلوں گا۔”
حرا نے سعد کو دیکھا۔
ابا نے جوتا مزید مضبوطی سے پکڑا۔
سعد نے screen دیکھی اور آہستہ سے بولا:
“قسم سے…”
“اب تو مجھے خود جاننا ہے کہ میں راتوں کو کہاں جاتا ہوں۔”
جاری ہے…
قسط 7 — رشتہ، رضامندی اور آخری بمب
سعد گھر پہنچا تو رات کے ساڑھے گیارہ بج رہے تھے۔ چہرے پر وہ سکون تھا جو عموماً دو خاندانوں سے بیک وقت ذلیل ہونے کے بعد آتا ہے۔
دروازہ کھولا تو ابا سامنے بیٹھے تھے۔
ابا نے اوپر سے نیچے تک دیکھا۔
پھر پوچھا:
“کام کیسا رہا، Electrician صاحب؟”
سعد نے کمزور سی آواز میں کہا: “ابو غلطی ہوگئی…”
پھٹاک!
پہلا تھپڑ۔
ابا بولے:
“یہ غلطی کا تھا۔”
پھٹاک!
“یہ electrician بننے کا۔”
امی kitchen سے دوڑتی ہوئی آئیں۔ “بس بھی کریں! بچہ ہے!”
ابا چیخے:
“انتیس سال کا بچہ لڑکی کے گھر wiring کرنے گیا تھا!”
سعد:
“Wiring نہیں ابو… محبت”🤣
کسی طرح ماحول ٹھنڈا ہوا۔
سعد ہمت کرکے بولا:
“ابو… ایک بات اور ہے۔”
ابا نے چپل دوبارہ ہاتھ میں لی۔
“اب کیا؟ لڑکی pregnant تو نہیں؟”
سعد:
“نہیں نہیں! وہ تو—”
پھر رک گیا۔
“اصل میں… کل اس کے گھر والے ہمارے گھر آرہے ہیں۔”
ابا:
“کیوں؟”
“رشتے کی بات کرنے۔”
کمرے میں خاموشی۔
امی کے ہاتھ سے چائے کا کپ تقریباً گر گیا۔
چھوٹی بہن نے mobile نیچے کیا۔
ابا نے سعد کو ایسے دیکھا جیسے سعد نے ابا کے گردے نکال لیے ہوں۔
“کون سے گھر والے؟”
“وہی… جن کے گھر سے ابھی آیا ہوں۔”
“جن کے گھر electrician بن کر گیا تھا؟”
“جی…”
ابا نے سر پکڑ لیا۔
اگلی صبح گھر میں قیامت برپا تھی۔
امی:
“پردے بدلو!”
بہن:
“یہ cushion بہت پرانے ہیں!”
ابا:
“Cushion سے رشتہ ہونا ہے؟”
امی:
“آپ خاموش رہیں، آپ کی بنیان sofa پر پڑی ہے!”
ابا نے فوراً بنیان اٹھائی۔
دوپہر کو حِرا کے گھر والے پہنچ گئے۔
حِرا کے ابو۔
امی۔
دونوں بھائی۔
ماموں۔
اور سعد نے ماموں کو دیکھتے ہی پہچان لیا۔
وہی جو کل ہر جملے کے بعد بیٹھ کر commentary کر رہا تھا۔
ماموں نے سعد کو دیکھ کر کہا:
“Electrician صاحب، آج current ٹھیک ہے؟”
سعد:
“جی ماموں…”
ابا فوراً:
“ابھی سے ماموں؟”🤨
سعد:
“میں relationship building—”
ابا نے گھورا۔
سعد:
“چائے لے آتا ہوں۔”😂
بات شروع ہوئی۔
حِرا کے ابو:
“ہمیں بچا پسند ہے۔ غلطی ہوئی، مگر نیت خراب نہیں لگی۔”
ابا نے سعد کی طرف دیکھا۔
“آپ کو نیت ٹھیک لگی؟ ہمیں تو بچپن سے شک ہے۔”
سعد: “ابو!”🥹
کافی بحث ہوئی۔
آمدنی۔
نوکری۔
گھر۔
مستقبل۔
شادی کے خرچے۔
آخرکار دونوں خاندان راضی ہوگئے۔
سعد دل ہی دل میں سوچ رہا تھا:
“تین تھپڑ، ایک رات کی بے عزتی… deal بری نہیں رہی۔”
ماموں نے اعلان کیا:
“جب سب راضی ہیں تو زیادہ لمبا کیوں کرنا؟ نکاح کی تاریخ رکھ لو۔”
بات دو ہفتے بعد کے نکاح پر طے ہوگئی۔
نکاح کا دن آگیا۔ سعد cream sherwani میں بیٹھا تھا۔
بال ایسے بنائے ہوئے جیسے پچھلی تمام ذلتیں کسی دوسرے آدمی کے ساتھ ہوئی تھیں۔
دانش نے پوچھا:
“گھبراہٹ؟”
سعد:
“بالکل نہیں۔”
فہد:
“دروازے کو بار بار کیوں دیکھ رہے ہو؟”
سعد:
“میرے تجربے میں مصیبت ہمیشہ دروازے سے ہی داخل ہوئی ہے۔”
😂
مولوی صاحب نے کاغذات کھولے۔
گواہ بیٹھ گئے۔
حِرا دوسرے کمرے میں۔
مولوی صاحب نے کہا:
“دولہا صاحب، آپ کو یہ نکاح قبول—”
اچانک پیچھے سے ایک آواز آئی:
“رُک جائیں!”
پورا کمرہ خاموش۔
سعد نے فوراً آنکھیں بند کرلیں۔
دانش نے آہستہ سے کہا:
“لو جی… مصیبت نے location ڈھونڈ لی۔”😂
دروازے پر تقریباً ستائیس اٹھائیس سال کی ایک لڑکی کھڑی تھی۔
آنکھوں میں غصہ
اور نظر سیدھی سعد پر۔
سعد کے ابا نے سعد کو دیکھا۔
“تو اسے جانتا ہے؟”
سعد:
“ابو قسم سے میں”
لڑکی آگے بڑھی۔
“یہ نکاح نہیں ہوسکتا!”
ہِرا کے ابو:
“کیوں؟”
لڑکی نے سعد کی طرف انگلی کی۔
“کیونکہ اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا!”
سعد:
“کیاااا؟”
لڑکی:
“اور اب مجھے چھوڑ کر کسی اور سے شادی کر رہا ہے!”
سعد کے ابا نے آہستہ آہستہ جوتا اتارنا شروع کردیا۔
حِرا کا بڑا بھائی آگے آیا۔
“تم سعد کو کب سے جانتی ہو؟”
لڑکی:
“کافی عرصے سے۔”
سعد:
“میں نے اسے زندگی میں—”
لڑکی نے اچانک آواز بلند کی۔
“اور میں…”
پورا کمرہ خاموش۔
مولوی صاحب نے قلم میز پر رکھ دیا۔
دانش نے سموسہ پلیٹ میں واپس رکھ دیا۔
سعد کے ابا نے جوتا مضبوطی سے پکڑ لیا۔
لڑکی نے سعد کی طرف دیکھا اور کہا:
“میں سعد کے بچے کی ماں بننے والی ہوں۔”
سنااااااٹا۔
سعد کا منہ کھلا رہ گیا۔
حِرا کے بھائیوں نے آستینیں اوپر کرلیں۔
ابا نے جوتا shoulder level تک اٹھا لیا۔
امی نے سینے پر ہاتھ رکھ لیا۔
اور سعد…
بس ایک ہی جملہ بول پایا:
“کون سا بچہ؟”
سیزن 1 ختم۔
باقی کہانی جاننے کے لیے انتظار کریں
“عشق کا شارٹ سرکٹ: سیزن 2” 😂😂😂😂
Mansoor | Mr. Hide - Rebirth retweeted
اگر یہ قوم حقوق کے لیے نکلتی تو آج ایک ٹک ٹوکر کی شادی پر موٹر سائیکل لینے کے لیے نہ نکلتی
کیا اپ ان کو جانتے پہنچاتے ہیں؟
یہ وہی مشہور دست شناس ہیں جو ہر خاص و عام کے گردش ستاروں کا حال و مستقبل بتایا کرتیں تھیں
لیکن اج خود کینسر کی مرض میں مبتلا ہو گئیں ہیں۔
عقل بصیرت رکھنے والوں کے لیے سبق اور نصیحت ہے اس میں
کیا انکو خبر نا ہوئی کہ یہ اتنی بڑی بیماری میں مبتلا ہو جائیں گی
انکو انکے ستاروں اور ہاتھوں کی لکیروں سے الہام نہیں ہو سکا؟
یقینا نہیں انسان محدود علم اور طاقت کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے
کوئی ستارہ ہاتھ کی لکیر انگوٹھی پتھر نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتی۔۔۔
ساری کی ساری قدرت طاقت بادشاہت اختیارات ن
نفع و نقصان کا مالک فقط رب العالمین ہیں
یہ موصوفہ ساری عمر خود بھی شرک کرتی رہیں
اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتی رہیں
اللہ تعالیٰ انہیں کامل صحت کے ساتھ
اپنے ماضی کے تمام شرکیہ عقائد پر سچی توبہ کی توفیق عطا فرمائے
آمین ثم آمین یا رب العالمین
ہالووین کے موقع پر کنواروں کی اجتماعی دعا!
اے میرے رب! ہم شدید ترین سنگل ہیں۔ ہماری حالت پر رحم فرما۔ ہماری تنہائی اب اس مقام پر پہنچ چکی ہے کہ رات کو کوئی چڑیل بھی نظر آ جائے تو ڈرنے کے بجائے پوچھتے ہیں، آپ کا رشتہ کہیں طے تو نہیں؟
یا رب! اس ہالووین پر ہم سب کو ایسی ہی حسین و جمیل چڑیل عطا فرما، جو رات کو ڈرانے آئے تو صبح ہمارے ساتھ ناشتہ بھی کرے۔
ہمیں اس کے جادو، کالے علم، الٹے پاؤں یا جھاڑو پر سفر کرنے سے کوئی اعتراض نہیں۔ بس شکل پیاری ہو، مزاج رومانوی ہو اور وفاداری ایسی کہ دوسرے مرد کو دیکھتے ہی اسے مینڈک بنا دے۔
اے پروردگار! آخر ہم بھی تیرے ہی بندے ہیں۔ کب تک دوسروں کی چڑیلوں کی تصویروں پر دل لبھاتے رہیں گے؟
اس ہالووین پر کسی چڑیل کو ہمارے نصیب میں بھی لکھ دے، چاہے جہیز میں صرف جھاڑو ہی کیوں نہ لائے!
آمین، بصد احترام، انجمنِ کنوارگانِ عالم!
Mansoor | Mr. Hide - Rebirth retweeted
یہ سب شیطان کے چیلے ہیں لگتا ہےاب KFC بھی چھوڑنے کا وقت آگیا ہے
اللہ ہم پر رحم کرے
Mansoor | Mr. Hide - Rebirth retweeted
عمران خان کے خاندان ہر شخص باشعور ہے ڈفر دو کو جیل میں ڈالتے ہیں چار اور نکل آتے ہیں 🔥👍
Mansoor | Mr. Hide - Rebirth retweeted
وہ اس یقین کے ساتھ جیتا ہے کہ اللہ کی رحمت، زندگی کی تمام پریشانیوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ 🤍🥀
@ImranKhanPTI ♥️
#عمران_خان
Mansoor | Mr. Hide - Rebirth retweeted
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ایک پوری سورۃ کا نام «القلم» کیوں رکھا؟!
اور اللہ تعالی نے قلم کی قسم کیوں کھائی جو ایک معمولی سی شے ہے جسے ہم اپنی انگلیوں میں تھامتے ہیں جبکہ اس نے اپنی کتاب میں سورج، چاند، آسمان اور ستاروں جیسی عظیم مخلوقات کی قسمیں کھائی ہیں؟
اس قلم کا کیا راز ہے کہ ربّ السمٰوات والأرض نے اس کی قسم کھائی؟!
اور اس چھوٹے سے آلے میں، جس کی لمبائی چند سینٹی میٹر سے زیادہ نہیں ہوتی، کون سی ایسی عظمت پوشیدہ ہے کہ وہ ایک پوری قوم کی تاریخ کو محفوظ کر سکتا ہے، کسی نبی کے علم کو منتقل کر سکتا ہے، اور اپنے لکھنے والے کی موت کے صدیاں بعد بھی فکر و خیال کو زندہ رکھ سکتا ہے؟!
میرے ساتھ اس عظیم آیت پر غور فرمائیے:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿نٓ ۚ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ مَا أَنتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾ [القلم: ۱–۴].
”ن۔ قسم ہے قلم کی اور اس (تحریر) کی جو وہ (فرشتے یا لوگ) لکھتے ہیں۔ (اے حبیب!) آپ اپنے رب کے فضل سے ہرگز مجنون نہیں ہیں۔ اور بے شک آپ کے لیے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ اور بے شک آپ اخلاق کے اعلیٰ ترین درجے (عظیم مرتبے) پر فائز ہیں۔“
کیا ہی روح فرسا اور دلوں کو ہلا دینے والی شروعات ہے!
قسم کا آغاز نہ تو ذخیرہ کیے گئے سونے سے ہوا، نہ سوتیں تلوار سے، اور نہ ہی اقتدار و تاج و تخت سے بلکہ قلم اور اس کی تحریر سے ہوا!
مفسرین نے قلم کے بارے میں مختلف آراء ذکر کی ہیں؛ جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس سے مراد وہ تمام عام قلم ہیں جن سے مخلوق لکھتی ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ (لوحِ محفوظ کا) قلم ہے جس کا ذکر تقدیروں کے لکھنے کے ضمن میں آیا ہے۔ آیت میں ایسی کوئی شرط نہیں جو اس قسم کو صرف اسی چھوٹے قلم تک محدود کر دے جسے ہم جانتے ہیں۔
لیکن اس کے عظیم مفہوم پر غور کیجیے:
اللہ تعالیٰ ہماری توجہ 'لکھنے' (کتابت) کی اہمیت کی طرف مبذول فرما رہا ہے وہ نعمت جو علم کو ضائع ہونے سے بچاتی ہے، حکمت کو نسل در نسل منتقل کرتی ہے، اور انسان کے جسم کے مٹی میں مل جانے کے بعد بھی اس کے اثر کو باقی رکھتی ہے۔
کتنے ہی ایسے بادشاہ گزرے جن کے پاس لشکری طاقت تھی لیکن ان کے نام تک بھلا دیے گئے!
اور کتنے ہی ایسے علماء گزرے جن کے پاس قلم کے سوا کچھ نہ تھا، مگر ان کے الفاظ ان کے انتقال کے صدیوں بعد بھی پڑھائے جا رہے ہیں!
اور کتنے ہی ایسے وجود ہیں جو دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن ان کا فکر و خیال آج بھی لوگوں کے درمیان زندہ ہے، کیونکہ کسی ہاتھ نے لکھا، کسی ذہن نے تدبر کیا، اور کسی قلم نے اسے تحریر کر دیا!
اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ﴾
اللہ نے صرف قلم کا ذکر نہیں کیا، بلکہ اس کے ساتھ ان تحریروں کا بھی ذکر فرمایا جو لکھی جاتی ہیں!
قلم تو محض ایک آلہ (وسیلہ) ہے، جبکہ جو کچھ اس سے لکھا جاتا ہے وہ ایسا علم ہو سکتا ہے جو قوم کی رہنمائی کرے، یا ایسا حق ہو سکتا ہے جو کسی مظلوم کی مدد کرے، یا ایسا کلمہ ہو سکتا ہے جو انسان کے مقام کو بلند کر دے اور اس کے برعکس وہ ایسا باطل بھی ہو سکتا ہے جو لوگوں کو گمراہ کرے اور خود اپنے صاحبِ قلم کے خلاف گواہی بن جائے!
اور یہی وہ مقام ہے جہاں 'الفاظ اور کلام کی ذمہ داری' ظاہر ہوتی ہے!
عظمت اس روشنائی میں نہیں جو بہتی ہے، نہ اس کاغذ میں جو بھر جاتا ہے، بلکہ عظمت اس 'حق' میں ہے جو لکھا جائے، اس 'علم' میں ہے جو پھیلایا جائے، اور اس 'نقش' میں ہے جو باقی رہ جائے۔
پھر قرآنی سیاق و سباق کی خوبصورتی دیکھیے!
قلم اور تحریر کی قسم کے فوراً بعد جوابِ قسم آتا ہے:
﴿مَا أَنتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ﴾
یہ نبی اکرم ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کے جھوٹے بہتانوں سے براءت (پاکی) کا اعلان ہے، اور ان کے الزامات کے مقابلے میں آپ ﷺ کے لیے ثبات و تسلی ہے۔
پھر یہ خطاب ایک عظیم الٰہی گواہی تک بلند ہوتا ہے:
﴿وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾
اس بے مثال اور خوبصورت تناسب پر غور کیجیے: قلم اور تحریر کی قسم، پھر وحی کو اٹھانے والے رسول کا دفاع، اور پھر آپ ﷺ کے اخلاقِ کریمہ کی تعریف و ثناء!
گویا ان معانی کے اجتماع میں ہمارے لیے یہ یاد دہانی ہے کہ سچا علم اخلاق سے جدا نہیں ہونا چاہیے، اور کسی عظیم کلمے کی عظمت اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک اس میں سچائی اور امانت داری شامل نہ ہو۔
اور یہ پہلا موقع نہیں ہے جہاں قرآن میں قلم کی شان کو بلند کیا گیا ہو!
بلکہ وحی کے سب سے پہلے نازل ہونے والے حصے کی طرف لوٹ کر دیکھیے:
👇
Mansoor | Mr. Hide - Rebirth retweeted
سننے میں آیا ہے کہ پتلو کی شادی کی تقریب میں بھگدڑ مچ گئی، جس کے بعد باقی تقریبات بھی منسوخ کرنا پڑیں۔
افسوس اس بات کا ہے کہ ہماری قوم کے ایک بڑے طبقے کو شاید کبھی یہ سکھایا ہی نہیں گیا کہ عزتِ نفس بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔
شادی کی تقریب میں کھانا کھل جائے تو بعض لوگ اس پر ایسے ٹوٹ پڑتے ہیں جیسے مہینوں سے بھوکے ہوں اور اگلے کئی مہینوں تک کھانا نصیب نہ ہونے کا خدشہ ہو۔ نہ اپنی عزت کا خیال، نہ دوسروں کا لحاظ، نہ کسی نظم و ضبط کی پروا۔
کہیں مفت راشن تقسیم ہو رہا ہو تو دو کلو آٹے کے لیے گھنٹوں دھوپ میں دھکے کھانے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ یہاں یہ فرق سمجھنا بھی ضروری ہے کہ حقیقی ضرورت کے تحت مدد لینا بے عزتی نہیں، لیکن محض مفت کی چیز حاصل کرنے کے لیے اپنی عزت اور دوسروں کے حقوق پامال کرنا یقیناً افسوسناک ہے۔
چودہ اگست کے موقع پر سیاسی جماعتیں کیک کاٹتی ہیں تو بعض جگہوں پر پانچ منٹ کے اندر جو مناظر سامنے آتے ہیں، وہ ہماری اجتماعی تربیت کا پول کھول کر رکھ دیتے ہیں۔ ایک معمولی سے کیک کے لیے دھکم پیل، چھینا جھپٹی اور ایسا ہجوم جیسے زندگی کا آخری موقع ہاتھ سے نکل رہا ہو۔
میں اپنے پانچ سال کے بچے کو بھی کسی جگہ لے جا کر کہوں کہ یہاں لائن میں لگ جاؤ، تمہیں ڈھیر ساری چاکلیٹیں مفت ملیں گی، تو وہ جواب دے گا: بابا، مجھے نہیں چاہییں، چلو یہاں سے۔
اور یہی وہ تربیت ہے جو ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو دینی چاہیے۔ ہر مفت ملنے والی چیز حاصل کرنا ضروری نہیں ہوتا، اور ہر جگہ اپنا حصہ وصول کرنا کوئی کامیابی نہیں ہوتی۔
غربت کوئی عیب نہیں، بھوک کوئی شرمندگی نہیں اور ضرورت کے وقت کسی سے مدد لینا بھی توہین نہیں۔ لیکن جہاں ضرورت نہیں، وہاں محض مفت کی چیز کے لالچ میں اپنی خودداری، تہذیب اور وقار کو روند ڈالنا یقیناً شرمناک ہے۔
او بے شرمو! کبھی کسی چیز کو یہ کہہ کر بھی چھوڑ دیا کرو کہ مجھے نہیں چاہیے۔
دنیا کی ہر چیز حاصل کرنا ضروری نہیں۔ کچھ چیزوں سے دستبردار ہو کر انسان اپنی نظروں میں بہت بلند ہو جاتا ہے۔
یاد رکھو، مفت کی چیز چھوڑ دینے سے انسان غریب نہیں ہوتا، لیکن چند لقموں کے لیے اپنا وقار گنوا دینے سے ضرور چھوٹا ہو جاتا ہے۔
Mansoor | Mr. Hide - Rebirth retweeted
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟ صحابہ نے کہا ہمارے نزدیک مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ درہم ہو، نہ کوئی سازوسامان۔
آپﷺ نے فرمایا:
میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا۔
Mansoor | Mr. Hide - Rebirth retweeted
Thank you sir,
Please share their verified account handle too.
تحریک انصاف کی تمام خواتین کو نصیحت کرتا ہوں کہ کوئی بھی پٹواری آپ کی پوسٹ پر آکر کسی بھی قسم کی بکواس کرے تو بنا کسی تاخیر کے NCCIA کو مینشن کریں۔
NCCIA کے لئے یہ ایک بہترین وقت ہوگا اپنی قابلیت اور اہلیت ثابت کرنے گا۔ امید کرتا ہوں ان کے ایکٹو ہونے سے تمام خواتین سوشل میڈیا پر خود کو محفوظ محسوس کریں گی۔ اور بلیک میلنگ جیسے گھٹیا ہتھ کنڈوں پر کنٹرول ہوگا۔
Mansoor | Mr. Hide - Rebirth retweeted
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 🌿
صبح بخیر، جمعہ مبارک
جمعہ کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے
کہ اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ 🤍
اپنی دعاؤں میں یقین رکھیے،
اپنے دل کو ذکرِ الٰہی سے آباد رکھیے،
اور نبی کریم ﷺ پر کثرت سے درود بھیجیے۔
ہو سکتا ہے آج کی کوئی سچی دعا
آپ کی زندگی میں وہ سکون لے آئے
جس کی آپ مدت سے تلاش میں ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہماری خطاؤں کو معاف فرمائے،
ہماری دعاؤں کو قبول کرے
اور ہمارے دلوں کو اپنے ذکر سے مطمئن رکھے۔
آمین یا رب العالمین 🤲
Mansoor | Mr. Hide - Rebirth retweeted
ٹک تاکر پتلو کی مہندی کے فنکشن میں بھگدر مچنے سے چودہ لوگ شدید زخمی ہو گئے ۔۔ اے ار وای نیوز
جب اپ اعلان کرو گے کہ میں کیش تقسیم کر رہا ہو بائیک کاریں دونگا جو میری شادی میں شرکت کرے گا تو پھر سیکورٹی اور انتظام بھی اسی حساب سے رکھنا چاہیے ۔
یہ وہ ملک ہیں جہاں فری کے کھانے پر عوام ٹوٹ پڑتی ہے بائیک اور ہیسے لینے کیلے کون نہی جاے گا ۔۔
کوی شک نہی اس میں وہ ملک کا بڑا ٹک تاکر ہے اس کے فالورز بچے ہیں وہ بیچارے کل سے سٹیڈیم کے باہر سے بیٹھے ہوے ہیں اج دو بجے جا کر گیٹ کھولا گیا ۔۔
اب اکثریت صرف ٹک ٹاک بنانے کیلے گئی ہوی ہے ۔ ابھی اک فنکشن ہوا ہے پانچ دن تک یہ فنکشن جاری رہیں گے ۔۔
صرف دکھاوے کیلے کہ یہ سب ہورہا ہے ۔ حیرت اس وقت ہوی جب اک اینکر نے سوال پوچھا اپ کی بیوی کون ہے غصہ سے اسے ڈانٹ دیا کہ اپ کون ہوتے ہیں ۔۔
مجھ سے پرسنل سوال پوچھنے والے اینکر نے پھر کہا بیوی کو کیا تحفہ دیں گے پھر ڈانٹ دیا پرسنل سوال نہ پوچھیں ۔۔
جو شخص دوسروں کی بہن بیٹی کو نچا کر پیسہ کماتا ہو جب اپنی فیملئ کی بات ای تو غیرت جاگ گئی ۔۔
























