Official account of #MQM (Muttahida Quami Movement). Founder & Leader @AltafHussain_90

Pakistan and Worldwide
Joined April 2012
🌱 OFFICIAL POSTER 🌱 On the occasion of 17 September — Altaf Hussain Bhai’s 73rd Birthday, join the Global Tree Planting Campaign from 9–15 September 2026. 🌎🍀 Let’s make this birthday a celebration of life, hope, and a greener future. #OnePlantForAltafBhai
7
73
6
129
7,184
Replying to @KiyyaBaloch
مجھ پر غیرآئینی و غیرقانونی پابندی کیوں لگائی گئی؟ میرا قصور کیا تھا ؟ مجھ پر غیرآئینی پابندی کے خلاف کتنے لیڈروں اور کتنی انسانی حقوق تنظیموں نے آواز اٹھائی؟
9
14
139
جہاں ظلم وبربریت کاراج ہو،آئین و قانون کے پرخچے اڑادیے جائیں،کیا ایسے ملک کواسلامی یا جمہوری ملک کہا جاسکتا ہے؟ ……………………………………………………… پاکستان کانام ”اسلامی جمہوریہ پاکستان “ہے،اسلام میں انسان کی زندگی اورانسانی حرمت کادرس دیا جاتا ہے،قرآن مجید میں ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ پاکستان میں صورتحال یہ ہے کہ شہریوں کے ساتھ کھلی کھلی زیادتیاں کی جارہی ہیں کہ جس کسی کےگھرپرچھاپہ مارنا ہو، چھاپہ مارو، جس کوبھی گھرسے اٹھانا چاہو اٹھالو اوراگروہ گھرپر نہ ملے تو اس کے بھائی، بیٹے یا بزرگ والد کو اٹھالو، چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرو، اس کے گھرکی خواتین کی بے حرمتی کرو۔کیا قرآن مجید کی کسی آیت مبارکہ، کسی حدیث مبارکہ یااسلامی تعلیمات میں کہیں کوئی ایسادرس ہے کہ کسی بھی مطلوبہ شخص کےگھر کے دروازے توڑ کر گھر میں داخل ہو،گھرمیں تلاشی کےنام پر توڑپھوڑ کرو، مطلوبہ شخص نہ ملے تواس کے بے گناہ گھر والوں کے ساتھ ایسا ظلم کیا جائے؟ پاکستان کواسلامی ملک کہا جاتا ہے لیکن پاکستان کے تمام شہروں میں اس قسم کی زیادتیوں کے واقعات روز مرہ کامعمول ہیں۔ جہاں بغیر وارنٹ گھروں میں چھاپوں کے نام پر یہ زیادتیاں کی جائیں، ظلم وبربریت کاراج قائم ہو، عوامی مینڈیٹ کااحترام نہ کیا جائے، قانون کے پرخچے اڑادیے جائیں، تو کیا ایسے ملک کواسلامی یا جمہوری ملک کیسےکہا جاسکتا ہے؟ اگرکوئی ملک اسلامی ہوتو وہاں ریاست کے عام شہری کی بھی اتنی ہی عزت ہوتی ہے جتنی ریاست کے امیرکی ہوتی ہے۔قانون کی نظر میں ریاست کاامیراورعام شہری برابرہیں۔ حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کے شہریوں کے حقوق کااحترام کریں، خلیفہ راشد حضرت عمر فاروق  ؓ نےفرمایا تھا کہ ”اگرنہرِ فرات پرکوئی کتا بھی بھوکا ہو اس کی ذمہ داری مجھ پر ہے“ لیکن ہمارے ملک میں ریاست کے حکمرانوں کا طرزعمل اس کے صریحاً برخلاف ہے۔ ہمارے ہاں انصاف نہیں ہے۔ میرے بڑے بھائی ناصر حسین اوربھتیجے عارف حسین کوپولیس اوررینجرز نے گھرسے گرفتارکر کے تین روز تک تشددکانشانہ بنانے کے بعدکراچی کے علاقےگڈاپ میں لےجا کر بیدردی سےدونوں کوشہید کردیا، وہ ایم کیو ایم کے کارکن نہیں تھے، ان کاسیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا، اسی طرح میرے بہنوئی اسلم ابراہانی کوگرفتار کرکے ان پر تشدد کیا گیا، انہیں کئی ماہ تک اڈیالہ جیل میں رکھ کر اذیتیں دی گئیں، انہیں بھی شہید کردیاگیا۔ میرے بھائی اوربھتیجے کا کیا قصورتھا؟ ان کے ماورائے عدالت قتل کی کوئی تحقیقات نہیں ہوئی۔ اسی طرح ایم کیوایم کے بزرگ رہنماجنہوں نے کراچی یونیورسٹی کےشعبہ فلاسفی کے پروفیسر کی حیثیت سے 40 تک ہزاروں طلبہ کوفلسفہ کی تعلیم دی وہ ایم کیو ایم میں شامل ہوئے اور22  اگست 2016ء کے بعد جب انہوں نے مجھ سےلاتعلقی کرنےسے انکار کردیا اور ایم کیوایم کی نئی رابطہ کمیٹی میں شامل ہوئے توانہیں بھی پہلے گرفتارکرکے کئی ماہ تک قیدمیں رکھا گیا،جب وہ ضمانت پررہا ہوئے تو 13جنوری 2018ء کوانہیں اغواکرنے کے بعد تشدد کرکےشہید کردیا گیا اوران کی لاش کراچی کے ساحلی علاقے ابراہیم حیدری میں پھینک دی۔ آخرڈاکٹرحسن ظفر عارف شہید کا کیا قصورتھا؟  قرآن مجید میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمارہا ہے کہ، اللہ ظلم کوناپسند فرماتا ہے، اللہ ظالموں کے اعمال سے غافل نہیں، ظالموں کاانجام بھیانک ہوگا، ظالموں کی طرف نہ جھکو ورنہ تمہیں بھی دوزخ کی آگ چھولے گی۔  اسی طرح نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی مختلف احادیث مبارکہ میں بھی ظلم اورظالموں کی مذمت کی گئی ہے اورایک حدیث میں یہاں تک فرمایا ہے کہ ظلم سے بچو کیونکہ ظالم قیامت کے دن تاریکیوں کا باعث بنے گا۔ ہم اپنے آپ کومسلمان کہتے ہیں، قرآن مجید، اللہ کی وحدانیت پرایمان رکھتے ہیں اور حضرت محمدمصطفےٰ ﷺ کواللہ کاآخری نبی مانتے ہیں لیکن پاکستان میں جوظلم ہورہا ہے اسے دیکھ کرخاموش رہتے ہیں، ظلم کو قوم سے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن آج کے جدید ڈیجیٹل دور میں آپ کسی بھی جگہ ہونے والے ظلم کو چھپا نہیں سکتے، وہ زمانے گئے جب ظالم وجابرفرعون، شداد، نمرود، ہامان عوام پر ظلم کیا کرتے تھے اورکسی کو پتہ نہیں چلتا تھا۔ آج جگہ جگہ کلوز سرکٹ ٹی وی کیمرے (CCTV) لگے ہوتے ہیں، ہرفرد کے کیمرے والے موبائل فون ہیں اور جو خبر اخبارات یا ٹی وی چینلز پر شائع یا نشر نہیں ہوتی وہ سوشل میڈیا پر آجاتی ہے۔  حال ہی میں بلوچستان میں سیکوریٹی فورسز کے ایک کیمپ پر بلوچ مزاحمت کاروں کے حملے کی خبرآئی اور کہا گیا کہ پاکستانی فوج نے ایک خاتون سمیت 9 حملہ آوروں کو ہلاک کر ڈالاجبکہ سوشل میڈیا پر اس واقعے کے حوالے سے وڈیو فلم گردش کررہی ہے جس میں دکھایا گیا ہےکہ مزاحمت کاروں اورفوج کے درمیان فائرنگ ہورہی ہے۔  1/2
10
99
3
139
3,531
1/2 صوبہ پنجاب میں جولوگ موجودہ حکومت کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں ان کے گھروں پر چھاپوں اوراس دوران اہل خانہ سے بدسلوکی کےواقعات کی وڈیوز سامنے آتی رہی ہیں، حکومتی مظالم اوربدسلوکی سے متاثرہ لوگوں کو جہاں موقع ملا وہ امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اورمغربی ممالک چلےگئے۔ آج حکومت اور ریاست کے ظالمانہ اقدامات کے باعث لوگوں کے پاس دوہی راستے بچے ہیں کہ وہ یاتو جیل میں قید کردیئے جائیں یاجلاوطن ہوجائیں۔ صوبہ پنجاب اور کشمیر کے لوگوں کی بہت بڑی تعداد اپنی جان بچانے کیلئے ہجرت کرگئے، وہاں انہوں نے امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اورمغربی ممالک کے شہریوں کےساتھ مل کر ریاستی مظالم کے خلاف احتجاجی جلسے جلوس کئے تو ان کی وڈیو بناکر نادرا مظاہرین کاریکارڈ نکالا گیا، پاکستان میں ان کے گھروں پر چھاپے مارےگئے،ان کےاہل خانہ کو ہراساں کیا گیا اور گرفتار کیا گیا۔قرآن مجید یا احادیث مبارکہ میں کہاں لکھا ہے کہ جو مطلوب فرد نہ ملےاس کےوالد یابھائیوں کو گرفتار کرلیا جائے؟ خیبرپختونخوا میں دو تہائی اکثریت رکھنےوالی منتخب حکومت کے خاتمہ اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکر اسمبلی بابرسلیم سواتی کواغواء کرنے کا عمل کس اسلامی اورجمہوری قوانین کے تحت کیا گیا؟ اس عمل پر اعتراض کرنے والے یوٹیوبرز کی جانب سے کہا جاتا رہا کہ اگروزیراعلیٰ سہیل آفریدی کوبرطرف کرکے صوبے میں گورنرراج یا ایمرجنسی نافذ کی گئی تو قیامت آجائے گی لیکن جب یہ غیرقانونی اورغیرجمہوری عمل کیا گیا تو بلندوبانگ دعوے کرنے والوں کی جانب سے کچھ بھی نہ ہوا۔آخر لوگ اپنے گھروں سے کیوں باہرنہیں نکلے؟ اگرپی ٹی آئی کے کارکنان عمران خان سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو انہیں عمران خان کے نظریئے کیلئے قربانی دینے کیلئے تیار رہنا چاہیے۔   الطاف حسین پاکستان کو اس وقت تک اسلامی جمہوریہ پاکستان نہیں کہے گا جب تک ملک کواسلامی اور جمہوری اصولوں کے مطابق نہ چلایاجائے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ کا قول ہے کہ کفرکی حکومت چل سکتی ہے مگر ظلم کی حکومت نہیں چل سکتی۔  پاکستان میں عوام پر اس قدرظلم ہورہا ہے لیکن کسی مفتی، کسی عالم،کسی گدہ نشین یاعلماء کے کسی بھی گروہ نے اس ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھائی، کسی نے ظلم کوظلم نہیں کہا، انہیں اپنے جبہ، عمامے اوردستارکی لاج رکھتے ہوئے ظلم کوظلم کہناچاہیے۔ میں پوچھتا ہوں کہ میرا قصورکیا تھا، میرا گناہ یہ ہے کہ میں نے حکمراں اشرافیہ طبقہ کے ظالمانہ جاگیردارانہ، وڈیرانہ سسٹم کے خلاف نہ صرف جہاد کیا بلکہ غریب اورمڈل کلاس نوجوانوں کو اسمبلیوں میں بھیج کراس سسٹم کوتوڑا، میں نے پورے ملک سے اس کرپٹ سسٹم کوختم کرنے کی کوشش کی لیکن مجھ پر اورمیری تحریک پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے، اگرمیں اس سسٹم کوبدل دیتا توآج پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہوتا۔میں ملک کو دو فیصد مراعات یافتہ طبقہ کے قبضہ سے آزاد کرانا چاہتا ہوں۔ میں سمجھتاہوں کہ پاکستان کی بقاء اورسلامتی اسی میں ہے کہ ملک کاہرادارہ، ہرشخص اپنے ضمیر اور ملک کے آئین اورقانون کے سامنے جوابدہ ہو،کوئی قانون سے بالاترنہ ہو۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر490  ویں فکری نشست سے خطاب 24، اکتوبر2026ء
2
67
1
94
741
قائد تحریک الطاف حسین پر عائد غیرآئینی و غیرقانونی پابندی سراسر آمرانہ ہے ، یہ پابندی ختم ہونی چاہیے #LiftBanOnAltafHussain
3
39
1
74
585
مجھ پر غیرآئینی و غیرقانونی پابندی کیوں لگائی گئی؟ میرا قصور کیا تھا ؟ مجھ پر غیرآئینی پابندی کے خلاف کتنے لیڈروں اور کتنی انسانی حقوق تنظیموں نے آواز اٹھائی؟
36
149
9
267
7,058
ایم کیو ایم ساتھ افریقہ کے آرگنائزر محمد یوسف شہید کی برسی پر شہید کو خراج عقیدت ، فاتحہ خوانی
17
103
1
155
3,103
فوج کشی کی پالیسی سے پاکستان کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔  باقیماندہ پاکستان کوقائم رکھنا ہے تو حقائق تسلیم کرنا ہوگا۔ حقائق بیان کرنے پر مجھے غدار قرار دینا درست نہیں  —————————- پاکستان کی داخلی اوربین الاقوامی صورتحال بہت نازک ہوتی جارہی ہے، پاکستان کی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں، تیسری عالمی جنگ کی باتیں بھی ہورہی ہیں مگرپاکستان میں عوام سے حقائق چھپائے جاتے ہیں۔بالکل ایسے ہی جیسے کہ 1971ء، میں چھپائے گئے،جب سابقہ مشرقی پاکستان میں جنگ کے دوران 16 دسمبر 1971ء کوپاکستان کی فوج انڈیاکی فوج کے سامنے ہتھیارڈال رہی تھی لیکن مغربی پاکستان میں اخبارات میں یہ شہ سرخیاں شائع کی جارہی تھیں کہ ہماری فوجیں دشمن کو ہر محاذ پر شکست دے رہی ہیں۔مشرقی پاکستان کی طرح آج بلوچستان کی جوسنگین صورتحال ہے اس سے بھی عوام کو بےخبر رکھا جارہا ہے، دو روزقبل بلوچستان کے علاقے گوادرمیں جو واقعہ ہوااس بارے میں بھی عوام سے حقائق چھپائے جارہے ہیں۔  ہمیں بحیثیت قوم یہ سوچناہوگا کہ بنگالیوں نے توتحریک پاکستان میں صف اول میں حصہ لیا تھا، غیر منصفانہ سلوک کے باوجود انہوں نے پاکستان کا سو فیصد ساتھ دیا تھا، پھر مشرقی پاکستان ہم سے الگ کیوں ہوا؟ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کیوں بنا؟یہ پاکستان کی تاریخ کے تلخ حقائق ہیں، آخرنئی نسل کویہ حقائق کیوں نہ بتائے جائیں؟ نئی نسل کو حقائق بتانے پر مجھے غدارکہاجاتا ہے، میں نے بعض سوشل میڈیابراڈ پر حقائق بیان کئے تو بعض متعصب لوگوں نے مجھے غداراوربی ایل اے کاحمایتی کہا، میں حقائق بیان کرتا ہوں، میراسوال یہ ہے کہ بی ایل اے جیسی تنظیمیں کیوں وجود میں آئیں؟کسی قوم کے لوگ ا گر ہتھیار اٹھاتے ہیں توکیوں اٹھاتے ہیں؟ کیا امریکیوں نے سلطنت برطانیہ کی کالونی سے آزادی حاصل کرنے کے لئے ہتھیارنہیں اٹھائے تھے؟ اگرمیں تاریخی حقائق بیان کرتاہوں اوراس کی روشنی میں پالیسیاں درست کرنے کی بات کرتاہوں توآپ میرے بیان کردہ نکات سے اختلاف کرسکتے ہیں، میرے پیش کردہ حقائق کوثبوت وشواہد اوردلائل کی بنیاد پر مجھے غلط ثابت کرسکتے ہیں، اگرآپ مجھے غلط ثابت کردیں تومیں اس پرمعافی مانگ لوں گا، لیکن حقائق بیان کرنے پرآپ مجھے غدارقرار نہیں دے سکتے۔ کیا یہ حقائق نہیں کہ جب 14 اگست 1947ء کوپاکستان وجود میں آیا تو اس وقت بلوچستان پاکستان کا حصہ نہیں تھا بلکہ آزادریاست تھی،اس وقت کا پاکستان کانقشہ دیکھ لیں،اس میں بلوچستان نہیں ملے گا، 4 اگست 1947ء کوسلطنت برطانیہ کے نمائندے کی موجودگی میں قائداعظم محمدعلی جناح اور خان آف قلات میراحمدیارخان کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جسے Standstill agreement  کہا جاتاہے جس کے تحت پاکستان نے ریاست قلات کوایک آزاد اور خودمختارریاست تسلیم کرلیا تھا۔ اس حوالے سے 11 اگست 1947ء کوباقاعدہ اعلان ہوگیا تھا۔ریاست قلات ایک آزاد اور خودمختار ریاست تھی لیکن بعد میں قلات کوپاکستان میں شامل ہونےکے لئے دباؤڈالا گیا،جب خان آف قلات نے پاکستان میں شامل ہونے سے انکارکردیا تو ان کومجبور کرنے کےلئے مارچ 1948ء میں پاکستان کی فوج بلوچستان میں داخل ہوگئی۔27مارچ 1948ء کو قلات پرفوج کشی کردی گئی،خان آف قلات کے محل پر حملہ کردیاگیا، اورخان آف قلات میراحمد یارخان پر دباؤ ڈال کران سے جبری الحاق نامے پر دستخط لےلئے گئے۔جسے ”جبری الحاق“ کہا جاتا ہے، خان آف قلات کے چھوٹے بھائی پرنس کریم نےاس الحاق کو تسلیم نہیں کیااوربلوچستان کے عوام کے ساتھ ملکر جدوجہدشروع کردی۔ اس جبری الحاق کےخلاف بلوچوں کی یہ جدوجہد 1948سے آج تک جاری ہے۔  اسی طرح ریاست کشمیرکابھی معاملہ ہے کہ وہ 14  اگست1947ء میں ایک آزاد اور خودمختارریاست تھی، وہاں مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت تھی۔ کشمیرنہ انڈیا کا حصہ تھا اورنہ ہی پاکستان کا، انڈیا ہو یا پاکستان، دونوں نے کشمیرپر قبضہ کیا، اسی لئے کشمیری آج بھی ایک آزاد اور خودمختار کشمیرکی بات کرتے ہیں۔ یہ تاریخی حقائق ہیں، ان حقائق کے بیان کرنے پر مجھ پر غداری کے الزامات لگانا درست نہیں۔ 1/2
4
131
1
191
5,378
2/2 ہمیں باقیماندہ پاکستان کی فکرہے توہمیں اس پرسوچنا ہوگا کہ پاکستان کے دولخت ہونے کی وجوہات کیا تھیں؟ بنگالیوں نے اپنا حق مانگا،ہم نےنہیں دیا،سابقہ مشرقی پاکستان آبادی کے لحاظ سے 56 فیصد تھا، انہوں نے اپنی آبادی کے تناسب سے ہر شعبہ میں اپناحق مانگا لیکن ہم نے آبادی کے تناسب سے ان کاحق دینے کے بجائے پیرٹی (Parity) یا برابری کاغیرمنصفانہ قانون بنایا، بنگالیوں نے اس کوبھی قبول کرلیا لیکن ہم نے اس قانون کے مطابق بھی بنگالیوں کوان کاحق نہیں دیا۔ کیایہ حقیقت نہیں کہ 1970ء کے عام انتخابات میں شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی لیکن اس وقت کی ملٹری لیڈرشپ اورذوالفقارعلی بھٹو نے عوامی لیگ کو ملنے والے مینڈیٹ کوتسلیم نہیں کیا، اقتدارکی منتقلی کے لئے اسمبلی کااجلاس تک نہیں بلایا گیا، شیخ مجیب نے ڈھاکہ میں اسمبلی کااجلاس بلایا توبھٹو نے دھمکی دی کہ جو رکن اجلا س میں شرکت کرنے ڈھاکہ جائے گااس کی ٹانگیں توڑدی جائیں گی، ہم نے عوامی لیگ کو اقتدار دینے کے بجائے مشرقی پاکستان میں فوج کشی کی اوربنگالیوں کا قتل کیا؟ اس کانتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان ٹوٹ گیا اورمشرقی پاکستان الگ ہوکربنگلہ دیش بن گیا۔ آج بھی پاکستان میں جہاں بھی لوگ اپنا حق مانگ رہے ہیں تووہاں بات چیت کرنے اور ڈائیلاگ کرنے کے بجائے فوج کشی کا عمل کیا جارہا ہے،اس پالیسی سے پاکستان کے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔ اگر باقیماندہ پاکستان کوقائم رکھنا ہے تو ہمیں حقائق تسلیم کرنا ہوگا۔ آج بھی بلوچستان میں فوج کشی کی جارہی ہے، خیبرپختونخوا میں پشتونوں نے تحریک انصاف کواپنا مینڈیٹ دیا لیکن پشتونوں کے مینڈیٹ کااحترام کرنے کے بجائے وہاں گورنرراج اورایمرجنسی نافذ کرکے پشتونوں کے مینڈیٹ کاخون کردیا گیا۔ یہ پشتونوں کے مینڈیٹ کی توہین ہے۔ خیبر پختونخوا کے منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کویہی کہا تھا کہ ان کےصوبے میں جوبھی آپریشن کرنا ہے وہ صوبائی حکومت کرے گی لیکن اس بات پر سہیل آفریدی کی حکومت کو اڑا کرپھینک دیا گیا۔ منظور پشتین پاکستان کے آئین وقانون کے تحت پشتونوں کے حقوق مانگ رہاتھا، لیکن ان کی تنظیم پر پابندی لگادی گئی۔حکمرانوں کو سوچنا چاہیے کہ ایسے اقدامات سے پشتونوں میں کیا جذبات پیدا ہورہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ ایک آزاداورخودمختارالیکشن کمیشن قائم کیاجائے جس کے تحت آزادانہ اورمنصفانہ الیکشن کرائے جائیں اورفارم 47 میں نتائج تبدیل کرنے کے بجائے عوام جسے منتخب کریں، اقتدارعوام کے حقیقی منتخب سویلین نمائندوں کےحوالے کیا جائے، سویلین کوحکومت چلانے دی جائے، فوج بیرکوں میں واپس جائے، ملک کے تمام اداروں کوچلانا فوج کا کام نہیں ہے، البتہ فوج کی ایجنسیوں کے پاس کسی بھی سیاستدان کے کرپشن اورلوٹ مار میں ملوث ہونے کی رپورٹس ہوں تو وہ ثبوت وشواہد کے ساتھ حکومت کوپیش کردیں۔ اسی طرح ملک میں آئین وقانون کی حکمرانی ہوسکتی ہے اور ہم ملک کو حقیقی معنوں میں مضبوط ومستحکم کرسکتے ہیں۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر489  ویں فکری نشست سے خطاب 24، اکتوبر2026ء
7
96
1
129
1,142
ایم کیو ایم ساوتھ افریقہ یونٹ کےشہید آرگنائزر محمد یوسف خان کی تیسری برسی کے موقع پر قرآن خوانی وفاتحہ کی گئی اورشہید کوخراج عقیدت پیش کیاگیا،برسی کے اجتماع میں لشہیدکے اہل خانہ ،MQM کے ذمہ داران وکارکنان نے شرکت،شہید سمیت تمام شہداءکی مغفرت کےلیے دعا کی گئی @AltafHussain_90
2
36
67
958
کراچی میں اصل ڈاکوؤں کو پکڑنےکے بجائے پولیس شہر کے بےقصور نوجوانوں کو گولیاں مار رہی ہے، اگر پولیس کےمطابق یہ نوجوان قصوروار تھا تو پولیس اسےزخمی حالت میں اسپتال میں چھوڑ کر فرارکیوں ہوگئی تھی؟ پیپلزپارٹی حکومت نے پولیس میں ڈاکوؤں کو بھرتی کررکھا ہے جو خود وارداتیں کررہے ہیں
کراچی کے علاقے ناظم آباد میں پولیس فائرنگ سے نوجوان زخمی
1
58
77
887
عدالت اور ریاست سے سوال ؟ اس وحشی درندے کے سر سینکڑوں معصوم مُہاجروں کا خون ہے۔ غیر قانونی کلاشنکوفیں، بارود اور گولیاں سے معصوم مہاجروں کو چھلنی کیا۔ اسکا اقبالِ جرم قانون کے منہ پر تماچہ نہیں ؟ @OfficialDGISPR @NCCIAOFFICIAL @HRCPakistan
4
26
43
616
وفا پرست کارکنان وعوام ایم کیو ایم فیڈرل بی ایریا سیکٹر کے کارکن مرزا وصی بیگ کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کریں ،بانی وقائد جناب الطاف حسین کی اپیل
1
20
43
2,557
برسی ایم کیو ایم ساوتھ افریقہ یونٹ کے شہید آرگنائزر محمد یوسف خان بھائی کی آج تیسری برسی کے موقع پر ان کی روح کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی و قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا اور یوسف بھائی شہید کے اہل خانہ کے ساتھ ساتھ ڈربن چیپٹر کے تمام ساتھیوں نے شرکت کی یوسف بھائی شہید اور تحریک کے تمام شہداء کے لیے دعا کی گئی ایم کیو ایم ساؤتھ افریقہ ڈربن چیپٹر
1
48
79
2,426
جس طرح پولیٹیکل انجینئرنگ کرکے ایم کیو ایم کوتوڑا گیا تھا اسی طرح اب پی ٹی آئی کو توڑنے کے لئے پولیٹیکل انجینئرنگ کی جارہی ہیے، پی ٹی آئی میں گروپ بندیاں کرائی جارہی ہیں اورمائنس الطاف حسین کی طرح مائنس عمران خان منصوبے پر کام کیا جارہا ہے۔ پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن یوں توجمہوریت کی علمبرداربنتی ہیں لیکن ان دونوں جماعتوں کی مشترکہ حکومت نے خیبرپختونخوا کی منتخب حکومت کوجس طرح ختم کرکے وہاں گورنرراج اورایمرجنسی نافذ کی ہے کیا اس اقدام کوجمہوری اقدام کہاجائے گا؟ کیا اسے عوام کی خواہشات اورامنگوں کے مطابق کہا جائے گا؟ یہ اقدام جمہور کے مینڈیٹ اور فیصلے کو بوٹوں تلے روندنا ہے۔ گورنر راج کے نفاذ کے موقع پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور خیبرپختونخوا کی اسمبلی کے اسپیکر کو اغوا کیا گیا جن کا اب تک کچھ پتہ نہیں ہے۔ جب مسلم لیگ ن کے میاں نوازشریف کی حکومت کوختم کیا گیا تومسلم لیگ ن نے اس کے خلاف پورے ملک میں احتجاج کیا، نوازشریف، شہبازشریف نے ”مجھے کیوں نکالا“ کی مہم چلائی، نوازشریف نے یہی شورمچایا کہ مجھے کیوں نکالا؟ جب ان کی حکومت ختم ہوتومجھے کیوں نکالا کاسوال کھڑا ہوجاتا ہے لیکن جب خیبرپختونخوا کی منتخب حکومت کاخاتمہ کیا جائے، وہاں گورنرراج نافذکیاجائے تووہ جائز قراردیا جاتاہے۔  اسی طرح پیپلزپارٹی کانعرہ تھا”جمہوریت بہترین انتقام ہے“۔ آصف زرداری، بلاول زرداری اور ان کے تمام رہنمایہ نعرہ لگاتے تھے لیکن آصف زرداری نے خیبرپختونخوا میں گورنرراج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کا فرمان جاری کرنے میں زرا دیر نہیں لگائی، پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے جمہوریت کے نعرے اوردعوے کہاں گئے؟   خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی منتخب حکومت ختم کرنے اوروہاں گورنرراج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کے بعداب تحریک انصاف کوتوڑنے اوراسے مختلف گروپوں میں تقسیم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، جو اس عمل کے خلاف آواز اٹھارہے ہیں، ان کو نشانہ بنایا جارہا ہے، کل مرادسعید کے گھرپر بھی چھاپہ ماراگیاہے، جو قابل مذمت ہے۔ظلم سے لوگوں کووقتی طورپر خاموش کیا جاسکتا ہے لیکن ان کے دلوں سے ان کی جماعت اور رہنما کی محبت کودلوں سے نکالا نہیں جاسکتا۔ تحریک انصاف کے کارکنوں کوچاہیے کہ وہ پارٹی کوتوڑنے اوراسے گروپ بندیوں میں تقسیم کرنے کی کوششوں کوناکام بنائیں اور انہیں ان حالات سے مایوس نہیں ہوناچاہیے۔  الطاف حسین ٹک ٹاک پر 488  ویں فکری نشست سے خطاب 23  اکتوبر2026ء
8
153
3
274
5,936
امریکہ کے کوریئرسروس مین کاکردار ادا کرنے پر پاکستان آج بین الاقوامی سطح پر بری طرح مشکلات کاشکارہے ————————— ایران اورامریکہ کے درمیان ثالثی کے نام پر امریکہ کے مفادات کے لئے کوششیں کرنے اورامریکہ کے کوریئرسروس مین کاکردار ادا کرنے پر پاکستان آج بین الاقوامی سطح پر بری طرح مشکلات کاشکارہے۔ اس صورتحال میں ملک کومزیدمشکلات سے بچانے کے لئے حکمرانوں کوچاہیے کہ وہ دوسروں کے گھر کی آگ بجھانے کی فکر کرنے کے بجائے اپنے گھر کی فکر کریں۔  یہ المیہ ہے کہ جب کوئی حکومت اپنے ملک کے عوام کے مفاد کے بجائے دوسری قوتوں کے مفادات کے لئے کام کرنے میں لگ جائے تواسے اس کاکوئی احساس نہیں رہتاکہ اس کے اپنے عوام کن مسائل کا شکارہیں،وہ اپنے مسائل کے حل کے لئے آوازاٹھانے والوں کے خلاف آمرانہ اورجابرانہ ہتھکنڈے اختیار کرتی ہے۔  فیلڈمارشل عاصم منیراوروفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے دوروزقبل ایران کاجودورہ کیاہے، اس دورے میں انہیں ایرانی حکومت کی جانب سے جس طرح کی سردمہری کاسامنا کرنا پڑا ہے اسے دنیانے نوٹ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ ملاقات میں فیلڈمارشل عاصم منیراورمحسن نقوی کی جانب سے ایرانی حکومت کوامریکہ کایہ پیغام دیاگیاہےکہ ایران کے پاس جوافزودہ یورینیئم ہے وہ امریکہ کے حوالے کردیا جائے جس پر ایرانی حکومت نے صاف انکارکردیاہے۔ثالث کے بجائے امریکہ کے کورئیر سروس مین کاکرداراداکرنے پر پاکستان کواب نہایت ہزیمت کاسامنا کرنا پڑرہا ہے، آپ اپنے گھرکی آگ بجھانہیں پائے لیکن دوسروں کے گھرکی آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔ میں یہی کہوں گا کہ خدارا اپنے ملک کی فکرکریں، عالمی طاقتوں کے مفادات کے تحفظ میں ملک کی عزت کو داؤ پر نہ لگائیں۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 488  ویں فکری نشست سے خطاب 23  اکتوبر2026ء
8
112
2
184
6,516
ساتھیوں شمع جلائے رکھنا وفا کا پرچم اٹھائے رکھنا میں اپنے خوں کی روشنائی سے نوید طلوع سحر سنا رہا ہوں 🤲🤲🤲🤲🤲 سلام شہید محمد یوسف خان بھائی کو سلام
آه شہید محمد یوسف خان بھائی آپ بہت یاد آتے ہیں جس شان سے آپ نے جام شہادت نوش کیا وہ مہاجر قوم کی تاریخ میں ہمیشہ سنہرے حرفوں سے لکھا جائیگا آپ نے جو کہا وہ کر دکھایا الله آپکو جنّت الفردوس میں اعلی مقام عطافرماۓ تاریخِ شہادت : 23اکتوبر 2023
1
32
1
64
807
ایم کیوایم کےبانی جناب الطاف حسین کئی دہائیوں سےقوم کوپاکستان کی اصل تاریخ بتاتے رہے مگر جواب میں ان پر بہتان تراشی کی گئی آج بھی مردم شناسی نہیں ہےاور یہ حقیقت بیان کرنے والےالطاف بھائی کا نام لینے سے بھی گریز کیا جارہاہے کبھی وقت ملے توانکی کتاب”سچی باتیں “ ضرورپڑھنا
علامہ اقبال کے اس خط کے منظر پر آنے کے بعد مطالعہ پاکستان دوبارہ لکھنا پڑے گا۔ علامہ اقبال 1934 کے اس خط میں کہہ رہے ہیں کہ یار پروفیسر ٹامسن میں نے پاکستان کا خواب نہيں دیکھا۔ مجھ پر یہ خواب نہ ڈالیں۔ میں نے تو تجویز دی تھی کہ انڈین فیڈریشن کے اندر شمال مغرب میں ایک صوبہ مسلمانوں کا بنایا جائے۔ یہ صوبہ انڈین فیڈریشن کا حصہ ہوگا۔ علیحدہ ملک پاکستان کا تصور کیمرج والوں نے پیش کیا تھا۔ میرا اس سے کچھ لینا دینا نہيں ہے۔ آپ کا مخلص، محمد اقبال
7
76
106
1,789
نوابشاہ کے مظلوم مہاجروں کی فریاد پر آواز اٹھی تو صرف قائد تحریک الطاف حسین کی، نوابشاہ کا درد محسوس کیا تو صرف الطاف بھائی نے، باقی تمام نام نہاد علمبردار اور دعویدار اپنے لب سی کر ظالموں کے طرفدار بنے ہوئے ہیں ۔ پیپلزپارٹی کی ظالم حکومت نوابشاہ کے لوگوں پر ظلم بند کرے
میں نواب شاہ سبزی مارکیٹ کی دکانوں کو تجاوزات قرار دیکر مسمار کرنے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ نوابشاہ مارکیٹ روڈ پر یہ دکانیں قانونی تھیں جو 60 سال قبل بلدیہ کے منظور شدہ نقشے کے مطابق قانونی طور پر تعمیر کی گئی تھیں، اس مارکیٹ کے دکاندار بلدیہ کو باقاعدگی سے ہر ماہ کرایہ بھی ادا کرتے ہیں لیکن پیپلزپارٹی کی ظالم حکومت نے ان دکانوں کو تجاوزات قرار دے کر گرادیا ہے۔اس سلسلے میں دکانداروں کو کوئی نوٹس تک نہیں دیا گیا۔دوسال قبل نوابشاہ کے علاقے منوآباد میں بھی اردو بولنے والوں کی دکانیں توڑ دی گئیں تھیں اور اب نوابشاہ کے مارکیٹ روڈ پر قائم 60 سال پرانی سبزی مارکیٹ کی دکانیں مسمار کردی گئی ہیں۔ نوابشاہ کے شہریوں کی قانونی دکانوں کو مسمار کرنا سراسر ظلم ہے۔ پیپلزپارٹی کی ظالم حکومت ایک طرف تو شہریوں کو روزگار فراہم نہیں کر رہی ہے دوسری طرف شہریوں سے ان کا روزگار چھین کر ان کا معاشی قتل کررہی ہے۔میں نوابشاہ کے شہریوں خصوصاً جن لوگوں کی دکانیں مسمار کی گئی ہیں ان سے دلی ہمدردی اور مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں اور مطالبہ کرتا ہوں کہ مارکیٹ کی دکانیں گرانے کا عمل بند کیا جائے، دکانیں بحال کی جائیں، دکانداروں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے اور نوابشاہ کے شہریوں کا معاشی قتل بند کیا جائے۔
63
1
112
2,295
میں نواب شاہ سبزی مارکیٹ کی دکانوں کو تجاوزات قرار دیکر مسمار کرنے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ نوابشاہ مارکیٹ روڈ پر یہ دکانیں قانونی تھیں جو 60 سال قبل بلدیہ کے منظور شدہ نقشے کے مطابق قانونی طور پر تعمیر کی گئی تھیں، اس مارکیٹ کے دکاندار بلدیہ کو باقاعدگی سے ہر ماہ کرایہ بھی ادا کرتے ہیں لیکن پیپلزپارٹی کی ظالم حکومت نے ان دکانوں کو تجاوزات قرار دے کر گرادیا ہے۔اس سلسلے میں دکانداروں کو کوئی نوٹس تک نہیں دیا گیا۔دوسال قبل نوابشاہ کے علاقے منوآباد میں بھی اردو بولنے والوں کی دکانیں توڑ دی گئیں تھیں اور اب نوابشاہ کے مارکیٹ روڈ پر قائم 60 سال پرانی سبزی مارکیٹ کی دکانیں مسمار کردی گئی ہیں۔ نوابشاہ کے شہریوں کی قانونی دکانوں کو مسمار کرنا سراسر ظلم ہے۔ پیپلزپارٹی کی ظالم حکومت ایک طرف تو شہریوں کو روزگار فراہم نہیں کر رہی ہے دوسری طرف شہریوں سے ان کا روزگار چھین کر ان کا معاشی قتل کررہی ہے۔میں نوابشاہ کے شہریوں خصوصاً جن لوگوں کی دکانیں مسمار کی گئی ہیں ان سے دلی ہمدردی اور مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں اور مطالبہ کرتا ہوں کہ مارکیٹ کی دکانیں گرانے کا عمل بند کیا جائے، دکانیں بحال کی جائیں، دکانداروں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے اور نوابشاہ کے شہریوں کا معاشی قتل بند کیا جائے۔
20
183
6
333
8,615