Salar Sultanzai retweeted
عمران خان کی بہنوں کے ساتھ جو رہا ہے اس سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، ان کی کوئی نوکری تو ہے نہیں کہ جو ختم ہو جائے گی، کوئی کیرئیر تو ہے نہیں کہ تباہ ہو جائے گا، اصل سوال تو یہ ہے کہ جن 40 ہزار بے گناہوں کو پچھلے تین سال میں جھوٹے کیسز میں گرفتار کیا گیا، ان کا کیا بنا ہوگا؟ ڈاکٹر عظمیٰ کے شوہر احد خان صاحب کی گفتگو
جوخودساختہ صحافی مختلف سیاسی، جمہوری اور انسانی حقوق کے ایکٹیوسٹس کو جائز آئینی حقوق کی ڈیمانڈ کرنے پر "ریاست مخالفت" یا باغی ہونےکےفتوےدیتےانکوچاہیےاپنےبڑوں سےاس نئی ریاست کی کوئی ممکنہ، مجوزہ، نافزالعمل تعریف ہی لے آئیں۔ تاکہ لوگ اس گناہ کوسمجھ کرپھر تائب گناہ ہوجائیں۔
Salar Sultanzai retweeted
Shameful indeed...
You wanted all of this and you got it. The only reason you are talking against it now is because you need a stamp of legitimacy in your journalism career.
Salar Sultanzai retweeted
This is a lesson we did not learn post February 8th in KP. Self interest should never trump principles. Maybe next time.
حامدمیر اورسلیم صافی جیسےلوگ صحافی نہیں بلکہ طاقت میں حصہ دارہوتے۔ میں 2017میں باجوہ پرتنقیدکےالزام میں ایف آئی اےجیل تھاتوکرم فرماونےپرزورمشورہ دیاکہ سلیم صافی سےرجوع کیاجائے،باجوہ صاحب انکی بہت سنتے۔میں نےانکارکیا۔ پھررہائی پرکہاانکےشوپرچلو۔ میں ندیم ملک کےشوپرگیا۔ دوست بہت ناراض ہوئے۔ یہ اشرافیہ کاایک نیٹورک ہےجوباہمی تعاون پرچلتاہے۔
Salar Sultanzai retweeted
بعد أن قضت معظم حياتها في الدفاع عن الحركة النسوية.. الكاتبة البريطانية بيترونيلا وايت تكتب مقالًا تعبر فيه عن ندمها قائلةً:
“أنا عازبة وبلا أطفال ووحيدة لقد خذلتني الحركة النسوية وخذلت جيلي كله”
أضافت الكاتبة في مقالها: “ألتقي كل يوم اثنين مع مجموعة من الصديقات في أحد مطاعم لندن نجلس على طاولة بالقرب من النافذة ونناقش حياتنا، لدينا الكثير من الأمور المشتركة فكلنا في منتصف الخمسينات من عمرنا ونساء عاملات متعلمات تعليمًا مرموقًا ولكن.. هناك فراغ في حياتنا فكلنا عازبات وليس لدينا أطفال
أشعر بشكل متزايد كما تشعر صديقاتي المقربات أن الحركة النسوية قد خذلت جيلنا .. وأعتقد أحيانًا وكذلك صديقاتي بأن الغرب قد تجاوز الفلسفة النسوية وأنها أصبحت ضارة .. فأين في هذا العالم تُترك النساء مثلنا حتى نصل إلى منتصف الخمسينات من العمر ونجد أنفسنا وحدنا؟ .. هل تعلمون أن واحدة من كل عشر نساء بريطانيات في الخمسينات من العمر لم تتزوج قط وتعيش بمفردها! وهو أمر مؤلم وغير صحي
قالت لي صديقتي سالي البالغة من العمر 55 عامًا: أشعر دائمًا بأني شخص غير مرغوب به كامرأة لأن الحركة النسوية علمتنا أن الأنثى التقليدية هي صورة نمطية اخترعها الرجال لإبقائنا تحت سيطرتهم وبناءً على ذلك كنت معاديةً للرجال إلى حد إبعادهم والآن ها أنا أدفع ثمن ذلك .. أقولها بوضوح لقد حان الوقت لإعادة التفكير في هذه الثقافة واسترجاع الثقافة التقليدية .. ربما يكون الوقت قد فات بالنسبة لي ولصديقاتي ولكن لا ينبغي لنا أن نسمح للحركة النسائية بأن تدمر حياة الأجيال القادمة أيضًا”
Salar Sultanzai retweeted
Speaking on point of order in the @NAofPakistan regarding the raid and vandalism of my house in Peshawar the other day by masked armed men. Most of it has been censored out on the NA social media platforms.
Maybe I don't know English as well as these people. But can someone tell me what stand she is taking? Which words exactly in the sentence condemn her husband?
Also, Maryam currently has women with cancer in jail. So what fucking stand is she taking?
دورجہالت میں مکہ کی پہاڑی کوہ ابو قیس پر ایک یمنی تاجر کھڑاہوکرفریادکرتاہےکہ اے اہل قریش۔۔تم میں سےایک طاقتور"عاص بن وائل"نےمیراحق کھایاہے۔اہلیان قریش ناصرف اسکاحق دلواتےبلکہ ایک عظیم الشان معائدہ"حلف الفضول" لکھتےکہ آئندہ کسی مظلوم، چاہےوہ اپناہویاپرایا،پر کوئی طاقتورظلم ناکرےگا۔
اسلام سےپہلے بھی اور اس وقت میں جس کو "دورجہالت" کہاجاتا ہے ان لوگوں میں وہ اقدار، وہ اخلاقی جرات اور وہ غیرت تھی جو آج کل کے ہمارے دور کے، ہمارے ملک کے بڑے بڑے مسلمانوں، بڑےبڑےمنصفوں، بڑےبڑےلیڈروں میں نہیں پائی جاتی۔ بےشک وہ لوگ اس قابل تھے کہ اللہ نے انسے اسلام کی خدمت لی۔
نوکری جانبدار ہوتی ہے، صحافت غیر جانبدار ہوتی ہے۔ آپ اقرار کررہے ہیں کہ آپ حقائق کی بجائے ہدایات یا ایجنڈے پر چلتے ہیں۔
آج ہم کمزور ہوئے ہیں اس لیے ہماری خواتیں تک جیلوں میں ہیں اور انکو علاج یا خاندان تک رسائی نہیں دی جاتی۔ یہی سبب ہے کہ ہم اپنے فیصلہ ساز دوستوں سےسخت ناراضگی کرتے۔ جب 90 فیصد پاکستان ساتھ ہو اور آپ پھر بھی 3 سال سےتنظیم بنانےکی بجائےپارٹی کوایک NGO کی طرح چلائیں تویہی ہوتاہےپھر۔
Salar Sultanzai retweeted
میرے نواسے قاسم ہاشمی کو ابھی ایجنسیوں والے نقاب پوشوں نے میری نظروں کے سامنے سے گرفتار کر لیا ہے۔
@mmqasimhashmi۔
انگریز نے جب مولانا محمد علی جوہر کو جب گرفتار کیا تھا تو ان کی والدہ نے یہ اشعار پڑھے تھے۔
جان بیٹا خلافت پہ دے دو
ہو تمہی میرے گھر کا اجالا
تھا اسی واسطے تم کو پالا
کام کوئی نہیں اس سے اعلیٰ
جان بیٹا خلافت پہ دے دو
بقول مستنصر حسین تارڑ " شاید قیامت گزر چکی ہو اور ہم جہنم میں رہ رہے ہوں"۔
نورین نیازی کی ہسپتال منتقلی: خاندان پر کیا گزری؟نائب وزیرِ داخلہ طلال چوہدری کی غلط بیانیاں۔
نورین نیازی کی جیل سے ہسپتال منتقلی، دو راتوں کا قیام اور آج جیل واپسی بارے مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں۔ اس دوران اُس کی بیٹیوں پر کیا گزری؟ چونکہ مملکت اذیت پسندوں (SADISTS) کے قبضے میں، بزرگ خواتین بچوں کی تکالیف میں بھی آسودگی ملنی ہے۔
جھوٹوں کا انبار لگا دیا گیا چنانچہ وضاحت ضروری ہے۔ اپ ڈیٹڈ سافٹ ویئر کے ساتھ طلال چوہدری کا دعویٰ کہ نورین نیازی کے اہلِ خانہ کو فوراً اطلاع دی گئی اور ہسپتال بلوا لیا، سفید جھوٹ ہے۔بیٹا جیل میں اور جیل سے باہر دو بیٹیوں کو میڈیا سے معلوم ہوا۔ میری بیٹیاں والدہ کو ملنے اورڈاکٹروں سے رابطے کی ناکام کوشش کرتی رہیں کہ والدہ کی حالتِ زار معلوم ہو سکے۔
28 اکتوبر شام چھ سات بجے ہسپتال منتقلی کی خبر کی تصدیق ہوئی تو دونوں بیٹیاں فورا" ہسپتال پہنچ گئیں، آج 30 اکتوبر شام چھ بجے دو دنوں سے ہسپتال کی راہداریوں میں بھٹکتی رہیں۔ درجنوں دفعہ دونوں بہنوں کی پولیس نےسرزنش کی کہ ہسپتال کی حدود سے باہر نکل جائیں۔ بیٹیوں کی ایک ہی درخواست تھی کہ انہیں والدہ کو دیکھنے دیا جائے یا علاج کرنے والے ڈاکٹر سے بات کروا دی جائے مگر ان کی آہ و بکا بےکار رہی۔
صد افسوس! طلال چوہدری درجنوں ٹھوکریں کھانے اور سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہونے کے بعد جب سے نیا پیشہ اختیار کیا ہے، وہاں جھوٹ اختیاری نہیں بلکہ لازمی مضمون ہے۔ طلال کی تصحیح کے لیے کہ فیملی جو اس وقت فقط دو بیٹیوں پر مشتمل ہے، نورین نیازی کی ہسپتال آمد اور علاج بارے لاعلم رکھا گیا۔ دونوں بہنیں ساری رات اندھیرے میں تیر چلاتی رہیں کہ کوئی ڈاکٹر ملے اور ماں کی صحت بارے کچھ معلوم کر سکیں۔ چونکہ خاصا میڈیا اکٹھا تھا، زبردستی نکالنے کی جرأت نہ تھی۔
24 گھنٹوں کے بعد اگلے دن 29 کی شام کو جب بیٹیوں نے مجبور کیا تو میں نے ایک بھلے مانس اللہ کے بندے کی منت سماجت کی تو اس کی مہربانی بڑی بیٹی کی ملاقات کی صورت پیدا ہوئی۔ آدھی رات سے کچھ پہلے بڑی بیٹی کو ماں تک رسائی ملی، وہاں ماں کی ڈھلکی صحت دیکھ کر بڑی بیٹی ابھی تک صدمے میں ہے۔ والدہ کی خواہش کہ چھوٹی بیٹی کو بھی ملوا دیا جائے جو چند گزوں کے فاصلے پر موجود تھی اور ماں کو ملنے کے لیے تڑپ رہی تھی۔ جب بڑی بہن ماں کے پاس تھی تو چھوٹی بیٹی بار بار مجھے فون کرکے بلک رہی تھی کہ ’’ابا مجھے بھی اماں سے ملوا دیں‘‘، مگر بے بسی تھی۔ اگلے دن کوشش کی کہ دوسری بیٹی، یا دونوں بیٹیاں، والدہ سے مل لیں، مگر اجازت نہ ملی۔ جب نورین نیازی کو ہسپتال سے جیل منتقل کیا جا رہا تھا توچھوٹی بیٹی نے ماں کو دور سے دیکھا تو اس کی حالت صدمے سے غیر ہو گئی، دونوں بیٹیوں پر دو دن جو بیتی ہے اور جس صدمہ میں ہیں ،جزوی حال درج کر دیاہے۔
طلال چوہدری فرما رہے ہیں کہ خاندان کو فوراً بلا لیا گیا تھا سراسر جھوٹ ہے۔ سوچتا ہوں ماضی میں طلال چوہدری کی جودرگت بنی اور سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہوا، میرے پر بیتی ہوتی تو میں بھی آٹو پائلٹ پر بلال چوہدری کی طرح جھوٹ پرچار کرتا ، فرماں بردار ہوتا۔
بڑی بیٹی کی اس ایک ملاقات کے لیے مجھے کتنی منت سماجت کرنا پڑی، میں جانتا ہوں۔ طلال چوہدری! براہ مہربانی اسے حکومتی کارکردگی نہ بتائیں۔
ظلم خدا کا، MPOکے تحت نظربند خاتون کو مکمل صحت یاب ہونے سے پہلے ہی آناً فاناً دوبارہ جیل جمع کروا دینا،سفاکیت اور اذیت پسندی کی بدترین مثال ہے۔
نورین ایک گھریلو اور introvert خاتون ہیں، جنہوں نے ہمیشہ نجی زندگی گزاری ہے۔ ساڑھے تین سال سے اپنے اکلوتے بھائی اوراپنے اکلوتے بیٹے کی دس سالہ غیر قانونی قید نے اس پر قیامت ڈھا رکھی ہے ،جذبات نے مغلوب کر رکھا ہے۔
ازراہِ تفنن اور ازراہِ تعفن ’’حکومتی مؤقف کہ ایم پی او کے تحت اس لیے حراست میں لیا گیا کہ وہ ۲۷ ستمبر کو اسلام آباد آنے والے جلوس کی قیادت کر سکتی تھیں‘‘۔ بفرضِ محال یہ مؤقف مان لیا جائے تو 27 ستمبر گزرنے کے بعد اور جبکہ گورنر راج نافذ، خواتین کو جیل میں نظربند رکھنا بے شرمی، بے حیائی کے علاوہ کچھ نہیں؟ خواتین کو آخر کب تک، کس بنیاد پر قید رکھا جائے گا؟ نورین کابیٹا حسّان نیازی اسی جیل میں قید ، والدہ کو ہسپتال لے جاتے وقت اسے چند منٹ کے لیے ملوا دینے میں کیا حرج تھا؟
میری آسودگی؛ انہی حرکتوں سے 25 کروڑ عوام کے دلوں میں حکمرانوں خلاف نفرت، غصہ اور دوری مزید بڑھنی ہے۔
طلال صاحب! بیمار خاتون کی تکلیف اور اسکےساتھ پیش آنے والے سلوک پر غلط بیانی نہ کیجیے۔
مجھ پر لازم ہو گیا کہ اصل واقعات سامنے لاؤں تاکہ اذیت پسند حکمرانوں کی سفاکیت عیاں ہو۔ وقت ایک سا نہیں رہتا، ماضی کے کئی ظالم حکمران قبروں میں یا زندہ ہیں مگر اقتدار سے باہر عبرت کا نشان، ان کے انجام دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے، کاش آج کے حکمران سبق سیکھتے۔
Salar Sultanzai retweeted
نورین نیازی کی ہسپتال منتقلی: خاندان پر کیا گزری؟نائب وزیرِ داخلہ طلال چوہدری کی غلط بیانیاں۔
نورین نیازی کی جیل سے ہسپتال منتقلی، دو راتوں کا قیام اور آج جیل واپسی بارے مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں۔ اس دوران اُس کی بیٹیوں پر کیا گزری؟ چونکہ مملکت اذیت پسندوں (SADISTS) کے قبضے میں، بزرگ خواتین بچوں کی تکالیف میں بھی آسودگی ملنی ہے۔
جھوٹوں کا انبار لگا دیا گیا چنانچہ وضاحت ضروری ہے۔ اپ ڈیٹڈ سافٹ ویئر کے ساتھ طلال چوہدری کا دعویٰ کہ نورین نیازی کے اہلِ خانہ کو فوراً اطلاع دی گئی اور ہسپتال بلوا لیا، سفید جھوٹ ہے۔بیٹا جیل میں اور جیل سے باہر دو بیٹیوں کو میڈیا سے معلوم ہوا۔ میری بیٹیاں والدہ کو ملنے اورڈاکٹروں سے رابطے کی ناکام کوشش کرتی رہیں کہ والدہ کی حالتِ زار معلوم ہو سکے۔
28 اکتوبر شام چھ سات بجے ہسپتال منتقلی کی خبر کی تصدیق ہوئی تو دونوں بیٹیاں فورا" ہسپتال پہنچ گئیں، آج 30 اکتوبر شام چھ بجے دو دنوں سے ہسپتال کی راہداریوں میں بھٹکتی رہیں۔ درجنوں دفعہ دونوں بہنوں کی پولیس نےسرزنش کی کہ ہسپتال کی حدود سے باہر نکل جائیں۔ بیٹیوں کی ایک ہی درخواست تھی کہ انہیں والدہ کو دیکھنے دیا جائے یا علاج کرنے والے ڈاکٹر سے بات کروا دی جائے مگر ان کی آہ و بکا بےکار رہی۔
صد افسوس! طلال چوہدری درجنوں ٹھوکریں کھانے اور سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہونے کے بعد جب سے نیا پیشہ اختیار کیا ہے، وہاں جھوٹ اختیاری نہیں بلکہ لازمی مضمون ہے۔ طلال کی تصحیح کے لیے کہ فیملی جو اس وقت فقط دو بیٹیوں پر مشتمل ہے، نورین نیازی کی ہسپتال آمد اور علاج بارے لاعلم رکھا گیا۔ دونوں بہنیں ساری رات اندھیرے میں تیر چلاتی رہیں کہ کوئی ڈاکٹر ملے اور ماں کی صحت بارے کچھ معلوم کر سکیں۔ چونکہ خاصا میڈیا اکٹھا تھا، زبردستی نکالنے کی جرأت نہ تھی۔
24 گھنٹوں کے بعد اگلے دن 29 کی شام کو جب بیٹیوں نے مجبور کیا تو میں نے ایک بھلے مانس اللہ کے بندے کی منت سماجت کی تو اس کی مہربانی بڑی بیٹی کی ملاقات کی صورت پیدا ہوئی۔ آدھی رات سے کچھ پہلے بڑی بیٹی کو ماں تک رسائی ملی، وہاں ماں کی ڈھلکی صحت دیکھ کر بڑی بیٹی ابھی تک صدمے میں ہے۔ والدہ کی خواہش کہ چھوٹی بیٹی کو بھی ملوا دیا جائے جو چند گزوں کے فاصلے پر موجود تھی اور ماں کو ملنے کے لیے تڑپ رہی تھی۔ جب بڑی بہن ماں کے پاس تھی تو چھوٹی بیٹی بار بار مجھے فون کرکے بلک رہی تھی کہ ’’ابا مجھے بھی اماں سے ملوا دیں‘‘، مگر بے بسی تھی۔ اگلے دن کوشش کی کہ دوسری بیٹی، یا دونوں بیٹیاں، والدہ سے مل لیں، مگر اجازت نہ ملی۔ جب نورین نیازی کو ہسپتال سے جیل منتقل کیا جا رہا تھا توچھوٹی بیٹی نے ماں کو دور سے دیکھا تو اس کی حالت صدمے سے غیر ہو گئی، دونوں بیٹیوں پر دو دن جو بیتی ہے اور جس صدمہ میں ہیں ،جزوی حال درج کر دیاہے۔
طلال چوہدری فرما رہے ہیں کہ خاندان کو فوراً بلا لیا گیا تھا سراسر جھوٹ ہے۔ سوچتا ہوں ماضی میں طلال چوہدری کی جودرگت بنی اور سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہوا، میرے پر بیتی ہوتی تو میں بھی آٹو پائلٹ پر بلال چوہدری کی طرح جھوٹ پرچار کرتا ، فرماں بردار ہوتا۔
بڑی بیٹی کی اس ایک ملاقات کے لیے مجھے کتنی منت سماجت کرنا پڑی، میں جانتا ہوں۔ طلال چوہدری! براہ مہربانی اسے حکومتی کارکردگی نہ بتائیں۔
ظلم خدا کا، MPOکے تحت نظربند خاتون کو مکمل صحت یاب ہونے سے پہلے ہی آناً فاناً دوبارہ جیل جمع کروا دینا،سفاکیت اور اذیت پسندی کی بدترین مثال ہے۔
نورین ایک گھریلو اور introvert خاتون ہیں، جنہوں نے ہمیشہ نجی زندگی گزاری ہے۔ ساڑھے تین سال سے اپنے اکلوتے بھائی اوراپنے اکلوتے بیٹے کی دس سالہ غیر قانونی قید نے اس پر قیامت ڈھا رکھی ہے ،جذبات نے مغلوب کر رکھا ہے۔
ازراہِ تفنن اور ازراہِ تعفن ’’حکومتی مؤقف کہ ایم پی او کے تحت اس لیے حراست میں لیا گیا کہ وہ ۲۷ ستمبر کو اسلام آباد آنے والے جلوس کی قیادت کر سکتی تھیں‘‘۔ بفرضِ محال یہ مؤقف مان لیا جائے تو 27 ستمبر گزرنے کے بعد اور جبکہ گورنر راج نافذ، خواتین کو جیل میں نظربند رکھنا بے شرمی، بے حیائی کے علاوہ کچھ نہیں؟ خواتین کو آخر کب تک، کس بنیاد پر قید رکھا جائے گا؟ نورین کابیٹا حسّان نیازی اسی جیل میں قید ، والدہ کو ہسپتال لے جاتے وقت اسے چند منٹ کے لیے ملوا دینے میں کیا حرج تھا؟
میری آسودگی؛ انہی حرکتوں سے 25 کروڑ عوام کے دلوں میں حکمرانوں خلاف نفرت، غصہ اور دوری مزید بڑھنی ہے۔
طلال صاحب! بیمار خاتون کی تکلیف اور اسکےساتھ پیش آنے والے سلوک پر غلط بیانی نہ کیجیے۔
مجھ پر لازم ہو گیا کہ اصل واقعات سامنے لاؤں تاکہ اذیت پسند حکمرانوں کی سفاکیت عیاں ہو۔ وقت ایک سا نہیں رہتا، ماضی کے کئی ظالم حکمران قبروں میں یا زندہ ہیں مگر اقتدار سے باہر عبرت کا نشان، ان کے انجام دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے، کاش آج کے حکمران سبق سیکھتے۔
عوام الناس سزاؤں کے نئے ریٹ نوٹ فرما لیں۔
ٹویٹ = سترہ سال
بیرئیر ہٹانا = دس سال
جھنڈا اور جھنڈے کے ڈنڈے کی برآمدگی = دس سال
صحافت = ارشد شریف
احتجاج = گولی
تحریکِ انصاف سے استعفیٰ = عام معافی
کیلیبری = وزارتِ اعلیٰ
1100 ارب کرپشن کے الزامات = وزارتِ عظمیٰ۔ سالار سلطان زئی
#pakistan @WhySalar
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔






























