
Investigative Journalist | contributor @Dailymail | @Dailysun | @Dailymirror | @ITN
London, England
Joined July 2017
- Tweets16.1K
- Following7.5K
- Followers2.2K
- Likes5.2K
انصحافی صاحب ۰۰۰ جب آر ٹی ایس بیٹھا تھا تو اس وقت کون تھا ؟
زرا یاد داشت پر زور ڈال کر بتانا ۰۰۰
کیونکہ یوتھیا یوتھیاپا نہیں کرے گا تو کون کرے گا ۔
وہ پہلے سے ہی پھدو لوگوں کا ایک گروہ ہے اور تم جیسے اس گروہ کے سرغنہ ۰۰
الحسن retweeted
زرداری صاحب کے دو منہ بولے بیٹے ہیں ایک محسن نقوی دوسرا حامد میر اب آپ زرا ذہن پر زور ڈالیں حامد میر نے کبھی کوئی کمپین کوئی پروگرام کوئی منافقت کبھی زرداری صاحب بارے کی ہو ؟
دادا جی ۰۰ ماننے میں نہیں آتا ۰۰
ناں جی ۰۰۰ اتنا غیرتمند تو نہیں ہے ۰۰۰
ناں وہ ناں ہی اس کے ہینڈلرز ۰۰
جو اس قسم کے فتنہ پرور کو صحافت کے نام پر پروان چڑانے میں اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں ۰۰ اور کر رہے ہیں ۰۰
کسی نے ابھی تک اس سے منی ٹریل نہیں پوچھی ۰۰ کوئی ادارہ کوئی فرد عسکری یا غیر عسکری ابھی تک اس پر سوال نہیں کر سکا ۰۰
یہ سب ایک دوسرے کے کانے ہیں ۰۰ معاملات صرف تب سامنے آتے ہیں ۰۰ جب معاملات بگڑتے ہیں ۰۰
اربوں کے فارم ہاؤس ۰۰ کروڑوں کی بلٹ پروف گاڑیوں ۰۰ پرائیویٹ گارڈ کا دستہ اور منہ میں وہ زبان جو ہمیشہ پاکستان کیخلاف بولتی ہے ۰۰
صحافی ہے یا ڈان ؟ 🤔
حامد میر کے پاس موجود آرمڈ گاڑیوں کی مالیت کیا ہے؟ وزیروں اور مشیروں کے پاس بھی یہ گاڑیاں نہیں ہیں، یہ گاڑیاں آپ کے پاس کہاں سے آئیں، عام گاڑی کو آرمڈ کرنے پہ کتنا خرچ آتاہے؟
@HamidMirPAK
الحسن retweeted
مولانا فضل الرحمان کی سیاست پر معروف سکالر تجزیہ کار @khalidmabbasi خالد عباسی صاحب کا اے کیو ایس لائیو میں تجزیہ مکمل پروگرام کا لنک
youtu.be/ziueEuE_tCs?si=Gk70…
الحسن retweeted
کل رات ایک بزرگ خواب میں آۓ - ایک ہاتھ سر پر تھا اور دوسرے ہاتھ میں ایک سیب 🍏. پوچھنے پر بتایا کہ اُنکا نام آئزک نیوٹن Isaac Newton ہے ۔ میں نے کہا خواب میں آنے کی وجہ کیا بنی ۔ کہا ابھی تک سر میں درد ہے اس سیب 🍎 کیوجہ سے جو بِلا مانگے ان کے سر پر آ گرا تھا -
میں نے کہا میں کیا کر سکتا ہوں؟ کہا پلیز اپنے وزیروں اور سینئر تجزیہ کاروں تک میرا پیغام پہنچا دو کہ میں تو 300 سال پہلے مر گیا تھا اور اُس وقت تک تو کسی کو معلوم تک نہ تھا کہ IQ level کس بَلا کا نام ہے - مزید کہا مجھے مرنے کے بعد تو سکون لینے دو، کیونکہ تمہارے ہی ایک اور آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ وزیراعظم نے کہا تھا کہ سکون صرف قبر میں ملتا ہے۔
اب آکسفورڈ والے بھی پریشان ہیں کہ اس بات پر تحقیق کرنے کیلیۓ قبرستان کھودیں یا اپنے بال نوچیں۔
اور کیا پتہ دوسری طرف IQ level چیک کرنے والے ادارے پاکستان کے حالیہ وزیراعظم کا نام اپنے اپنے ریکارڈ میں تلاش کر رہے ہوں؟ بھئ ایک معزز وزیر نے دعویٰ کیا ہے، کسی ایرے غیرے، نتھو پتھو نے نہیں 😝
ان بھائی صاحب نے آج حامد میر کے حق میں بھی ایک تحریر لکھی ہے
بالکل اس طرز سے کہ پانچویں کلاس کا وہ زمانہ یاد آ گیا
جب بچے “میرا دوست” کے حوالےسے مضامین لکھا کرتے تھے اور اپنے دوست کو حامد میر جتنا مقدس وُ پرہیز گار دکھاتے
اس حساب سے حذیفہ صاھب کا اپنا آئی کیو لیول کم از کم ٹیسلا کے برابر تو بنتا ہے !
“میں اکثر وزیر اعظم کو کہتا ہوں کہ آپ کا آئی کیو نیوٹن کے قریب ہے۔”
حذیفہ رحمان
#HuzaifaRehman #Pakistan
@HuzaifaRehman_
پتلو۰۰ لاکھ مرشد کیخلاف بولے مگر وہیل چئیر پر عدالت میں پیش ہو کر اس نے۔ بوت دیا ہے کہ یہ نوسربازی اس نے مرشد سے ہی سیکھی ہے !
سالک حسین جیسے لوگ بھی کرپشن کی بات کرتے ہیں۰۰۰ جنھوں نے ساری شاید ہی کوئی نوالا حلال کا کھایا ہو ۰۰
ان کے چمچے کڑچھے بھی ایک کرپشن دو نمبری فراڈ میں لتھڑے ہوئے ہیں ۔
یو کے تک میں ایک دو نمبر بلکہ دس نمبری کو اپنی تانگہ پارٹی کا صدر بنایا ہوا ہے ساتھ میں اپنی وزارت میں بوٹس آف انویسٹمینٹ کا ممبر بھی بنایا ہوا ہے ۰۰۰
جو لوگوں کے کام کروانے کا جھانسہ دیکر چونا لگاتا اور فراڈ سے مال بناتا رہتا ہے ۰۰
ان کو رنگبازوں کو سو فیصد عدالتوں میں لیکر جانا چاہیئے !
اس نیک کام کو جاری رہنا چاہیئے ۰۰۰
میر صاحب سب کی دھوتی اتارنے ، سازشوں اور اپنی بے مثال منافقانہ صحافت میں مصروف رہتے ہیں
سو انہیں دن میں کم از کم ایک بار یاد دہانی کروانی ضروری ہے
کون جانے کہ کس کے ٹویٹ سے شرم آ جائے ؟ 🤔
شہباز شریف کا آئی کیو لیول آئزک نیوٹن کے قریب ہے
حامد میر جیسا کوئی صحافی روئے زمین پر موجود نہیں ہے حذیفہ رحمان
سب کہو سبحان اللہ ۰۰۰
اگر ایسی ایسی گواہیاں آنی ہے تو حامد میر کو چاہیئے کہ اپنی نو سربازی کی شہزاد سے معافی مانگ لے ۰۰
قوم سے تو خیر مانگے گا نہیں !
Replying to @RShahzaddk
@RShahzaddk صاحب!
حامد میر سے ہر قسم کا اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ ان کے نظریات، سیاسی مؤقف، تجزیوں اور طرزِ صحافت سے اختلاف کرنا ہر شخص کا جمہوری اور صحافتی حق ہے۔ لیکن ایک بات ایسی ہے جس کا اعتراف ان کے ناقدین اور مخالفین بھی کرتے ہیں کہ حامد میر ایک کرپٹ آدمی نہیں ہیں۔ ان کی دیانت داری اور مالی معاملات پر انگلی اٹھانا ایک بالکل الگ نوعیت کا معاملہ ہے۔
حامد میر کا صحافتی کیریئر تقریباً چار دہائیوں پر محیط ہے۔ وہ گزشتہ 24 برس سے پاکستان کے نمبرون نیوز نیٹ ورک کے نمبرون پرائم ٹائم کا نمبر ون اینکر ہے۔ ایک وقت تھا جب ملک کے کسی بھی حصے میں کسی نیوز چینل کی گاڑی پہنچتی تھی تو لوگ کہتے تھے کہ جیو آ گیا ہے۔ گویا جیو نیوز محض ایک ٹیلی ویژن چینل نہیں بلکہ نیوز اور صحافت کی ایک علامت سمجھا جاتا تھا۔ اس پورے سفر میں حامد میر کا اپنا ایک نمایاں مقام اور کردار رہا ہے۔
ان کے کیریئر میں کئی ایسے بڑے صحافتی واقعات، خدمات اور کامیابیاں موجود ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے پروگرام کی مسلسل مقبولیت، طویل عرصے سے نمبرون چینل پر پرائم ٹائم میں موجودگی اور صحافتی تجربہ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے۔
جہاں تک ان کی آمدن کا تعلق ہے، ان کی تنخواہ یا مالی معاوضے کی تفصیلات بیان کرنا یہاں مناسب نہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ ایک طویل عرصے سے ملینز میں معاوضہ حاصل کرنے والے صحافیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اگر کوئی شخص اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں کئی سالوں سے سالانہ پکروڑوں روپے کما رہا ہو ۔ اور اس آمدن کو رئیل اسٹیٹ یا دیگر کاروباری شعبوں میں سرمایہ کاری کرتا رہے تو اس کی مالی حیثیت کا اربوں تک پہنچنا کوئی ناقابلِ فہم بات نہیں۔ پاکستان میں ایسے بے شمار سیلف میڈ کاروباری افراد موجود ہیں جنہوں نے نوے کی دہائی یا 2000ء کے آس پاس اپنے کاروبار کا آغاز کیا اور آج ارب پتی ہیں۔
لہٰذا کسی شخص کی مالی حیثیت کو محض اس بنیاد پر کرپشن سے جوڑ دینا کہ وہ صاحبِ ثروت کیوں ہے، نہ منطقی ہے اور نہ ہی منصفانہ۔
اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، تنقید صحافت کا حصہ ہے اور کسی صحافی کے مؤقف کو چیلنج کرنا بالکل جائز ہے۔ لیکن کسی کی ساکھ، کردار اور دیانت داری کو نشانہ بنانے کے لیے الزامات کی بنیاد پر رائے قائم کرنا درست نہیں۔
میں نے اور حامد میر @HamidMirPAK نے ساتھ بھی کام کیا ہے اور اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ حامد میر ایک کرپٹ آدمی نہیں ہیں۔ ان کی صحافت سے اختلاف ضرور کیجیے، ان کے تجزیوں کو چیلنج ضرور کیجیے، لیکن ان کی دیانت داری پر بلاجواز انگلی اٹھانا میرے نزدیک ناانصافی ہے۔
الحسن retweeted
آپ اندازہ کریں سوشل میڈیا کی پاور کا کہ ایک اکیلے بندے راجہ شہزاد نے اُس سینئر ترین صحافی حامد باندر کو پڑھنے پا دیا جو جس پہ دل کرتا تھا بھونکتا تھا۔
تین دن سے راجہ شہزاد نے کلے سے باندھ کر لتر مارے ہیں اسے۔۔۔مجال ہے کوئی ثبوت دے سکا ہو۔
ایک ہفتہ ہونے کو ہے ۰۰
@HamidMirPAK کا کوئی جواب نہیں آیا ۰۰۰
اس کے مجاور بھی اس کی نیکیاں گنوا کر خاموش ہو گئے ہیں ۰۰
پاکستان کے کسی ایک صحافی نے بھی اس سے جواب نہیں مانگا ؟
یہ لوگ کریں گے احتساب ؟
کیا یہ لوگ دوسروں سے سوالات کا حق رکھتے ہیں ؟
جن کا اپنا دامن داغدار ہو ۰۰
حامد میر نے سوالات کرنے والوں پر اپنے جدی پشتی لوسی کتے چھوڑ دیئے ہیں جو اپنا دادا اٹھائے پھرتے تھے ۰۰ اور اب اپنی پیدائش پر شرمندہ ہیں !
🚨 حامد میر کا گلبرگ گرینز میں چھ کنال کا فارم ہاؤس: ثبوت ،دستاویزات، مبینہ فوائد اور چند اہم سوالات!
حامد میر صاحب نے صحافیوں پر خفیہ اداروں سے مالی فوائد حاصل کرنے اور ان کے ایجنڈے کے مطابق لکھنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ اگر صحافت میں مالی مفادات، ادارہ جاتی تعلقات اور مراعات سوالات اٹھانے کا موضوع ہیں، تو پھر یہی اصول ہر صحافی پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔
حامد میر صاحب اس وقت مبینہ طور پر تقریباً ایک ارب روپے مالیت کے چھ کنال کے فارم ہاؤس میں رہائش پذیر ہیں۔ اس حوالے سے دستیاب دستاویزات پر چند اہم سوالات سامنے آتے ہیں، جن کے جوابات عوام کے سامنے آنے چاہییں۔
معاملہ کیا ہے؟
گلبرگ گرینز، اسلام آباد میں واقع سول خفیہ ایجنسی انٹیلجنس بیور کی ہاوسنگ سوسائٹی ہےدستیاب دستاویزات کے مطابق، حامد میر صاحب نے 12 مار 2014 کو چھ کنال کا ایک فارم ہاؤس پلاٹ الاٹ ہوا ، جو سیکٹر ڈی میں واقع تھا۔ یہ سیکٹر نسبتاً غیر آباد بتایا جاتا ہے۔
بعد ازاں، عمران خان کی حکومت کے خاتمے اور پی ڈی ایم کے دورِ حکومت میں، 23 ستمبر 2022 کو مبینہ طور پر یہ پلاٹ سیکٹر ڈی سے منتقل کرکے سیکٹر اے میں کر دیا گیا۔ سیکٹر اے کو سوسائٹی کا اہم اور مہنگا علاقہ سمجھا جاتا ہے، جہاں اعلیٰ فوجی افسران کی رہائش گاہیں بھی موجود ہیں۔ اسی علاقے کے قریب سابق چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ کی رہائش گاہ ہے
اس معاملے میں درج ذیل سوالات کے جواب ضروری ہیں:
1۔ ہاؤسنگ سوسائٹی میں پلاٹ لینے کی بنیاد کیا تھی؟
حامد میر صاحب، اگر آپ خود کو اصول پسند اور آزاد صحافت کا علم بردار سمجھتے ہیں، تو ایک ایسی ہاؤسنگ سوسائٹی میں چھ کنال کا پلاٹ خریدنے کی ضرورت اور اس کی بنیاد کیا تھی، جس کا تعلق خفیہ ایجنسی سے ہے؟ کیا یہ پلاٹ عام کمرشل یا اوپن مارکیٹ خریداری کے ذریعے حاصل کیا گیا، صحافیوں کے کسی مخصوص کوٹے کے تحت ملا، یا کسی خصوصی رعایت یا تعلق کی بنیاد پر حاصل ہوا؟ اگر کوئی خصوصی کوٹا یا رعایت تھی، تو اس کی شرائط کیا تھیں؟
2۔ پلاٹ کی اصل قیمت اور منی ٹریل کیا ہے؟
یہ پلاٹ کس قیمت پر خریدا گیا؟ خریداری کے وقت اس کی سرکاری اور مارکیٹ ویلیو کیا تھی؟ ادائیگی کس ذریعے سے کی گئی، اور کیا اس کی مکمل مالی دستاویزات اور منی ٹریل موجود ہیں؟ اگر آج اس فارم ہاؤس کی مالیت تقریباً ایک ارب روپے بتائی جا رہی ہے، تو اس مالیت کا تعین کس بنیاد پر کیا گیا؟ پلاٹ کی قیمت اور اس پر تعمیرات کی لاگت کو الگ الگ واضح کرنا بھی ضروری ہے۔
3۔ سیکٹر ڈی سے سیکٹر اے میں منتقلی کیسے ہوئی؟
یہ اس معاملے کا سب سے اہم سوال ہے۔ سیکٹر ڈی اور سیکٹر اے کی زمین کی قیمت، محلِ وقوع اور اہمیت میں نمایاں فرق بتایا جاتا ہے۔ یہ فرق تقریباً ایسا ہے جیسے اسلام آباد میں کسی شخص کا پلاٹ آئی ٹین سے منتقل کرکے ایف 6 مارگلہ روڈ میں دے دیا جائے۔
اگر پلاٹ واقعی سیکٹر ڈی سے سیکٹر اے میں منتقل کیا گیا، تو اس منتقلی کی قانونی اور انتظامی بنیاد کیا تھی؟ کیا یہ معمول کی پالیسی کے تحت ہوئی یا کسی خصوصی منظوری سے؟ کیا دونوں سیکٹرز کے درمیان قیمت کے فرق کی ادائیگی کی گئی؟ کیا اس منتقلی کے لیے متعلقہ اتھارٹی کی منظوری، بورڈ کی کارروائی اور دیگر ضروری دستاویزات موجود ہیں؟ اور سب سے اہم سوال: کیا یہی سہولت عام الاٹیز کو بھی دستیاب ہے، یا یہ کسی خاص فرد کے لیے خصوصی رعایت تھی؟
4۔ مختلف ادوار میں مبینہ فوائد اور طاقت ور حلقوں سے تعلقات کی وضاحت کیا ہے؟
حامد میر صاحب، آپ کے ناقدین آپ اور آپ کے خاندان کے مختلف فوجی ادوار میں مبینہ فوائد اور سرکاری اداروں سے وابستگیوں پر بھی سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کی حقیقت واضح کرنا ضروری ہے:
* آپ کی اہلیہ مشرف دور میں پی ٹی وی سے وابستہ تھیں، اور آپ کی بیٹی کے بھی موجودہ دور میں پی ٹی وی پر آنے کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ان تقرریوں یا مواقع کی نوعیت اور بنیاد کیا تھی؟
* آپ کے بھائی نگران حکومت کے دور میں وزیر بنے۔ ان کی تقرری کا پس منظر کیا تھا؟
* آپ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ جنرل قمر جاوید باجوہ سے طویل ملاقاتیں کرتے اور انہیں مشورے دیتے تھے، حتیٰ کہ ایک ملاقات آٹھ گھنٹے جاری رہنے کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے۔ ان ملاقاتوں کی نوعیت اور مقصد کیا تھا؟
* ان تمام معاملات کی روشنی میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا آپ نے کسی دور میں کسی قسم کی خصوصی رعایت، سہولت یا فائدہ حاصل کیا؟
آزادیٔ صحافت کا تقاضا صرف دوسروں سے سوال کرنا نہیں، بلکہ اپنے بارے میں اٹھنے والے جائز سوالات کا جواب دینا بھی ہے
گروک تو دھوتی کھول رہا ہے ۰۰
وہ تو ایک بہت بڑا عظیم دانشور ہے ۰۰
پیر علی محمد راشدی کی رسمی تعلیم کتنی تھی ایک لائن کا جواب صرف تعلیم بارے @grok
( یہ اس حامد میر کے ٹٹو @RashdiSuleman کا بوٹ چاٹ دادا ہے)
الحسن retweeted
PTIکاخیبرپختونخوامیں خوفناک مالیاتی تماشہ !!!
72 ارب کے اخراجات کی تصدیق ہی نہیں ہے۔104 ارب بجٹ سے زائد اندراج، 153 ارب ترقیاتی اخراجات غلط مد میں اور اربوں کے قرضوں کا حساب غائب ہے۔یہ حکومت تھی یا مالیاتی اندھیر نگری؟ عوام کے پیسے کا حساب ہی نہیں تو تبدیلی کا حساب کون دے گا؟
آڈٹ رپورٹ 2025-26نے پی ٹی آئی کے مالیاتی شفافیت کے دعووں کو ایسا آئینہ دکھایا ہے کہ تبدیلی کا نعرہ اب حساب دو کے مطالبے میں بدل گیا۔۔۔👇👇
الحسن retweeted
آپ دیکھ لیجئے کس قدر گھٹیا حد تک اترتے اسی لیے کہتا ہوں صحافی ایک مافیا ہیں کیا کسی ایک صحافی نے بھی پیشے کی تقدس کے لیے ہی سہی حامد میر سے سوال کیا کہ پلاٹ سستے ترین غیر آباد سیکٹر میں خریدا وہ مہنگے ترین سیکٹر میں کیسے منتقل ہو گیا تھا؟
نون لیگ بھی اس میر کی بلیک میلنگ سے ڈرتی اس لیے یہ روز ان کی بجاتا ان سے فائدے اٹھاتا مگر نون والے چسکتے نہی ہیں
اللہ جب انسان کو دولت ، طاقت یا شہرت دیتا ہے
تو وہ عطا کیا گیا نصیب ذمہ داری کا بھی تقاضہ کرتا ہے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کا ارادہ نہیں تھا مگر پہلی بات یہ کہ آپ کو نوجوانوں کو سادگی کیساتھ شادی کا پیغام دینا چاہئیے تھا ۰۰ مگر اگر آپ نے ایونٹ کرنا ہی تھا تو آپ کو اس طبقے کے لوگوں کا بھی علم تھا ۔ ان کی محرومیوں کا بھی احساس تھا تو ان کی مدد کے لاکھوں طریقہ کار موجود رھے ۰۰کیسے کیسے غریب وہاں جمع ہوئے تھے ۰۰۰
دوسری بات اگر کر لیا تھا تو آپ کو لوگوں کیلئے عزت واحترام سے انتظامات کیساتھ بھی اپنی خوشی میں شریک کیا جا سکتا تھا ۔ آپ ان کی مدد کیلئے آن لائن گفٹنگ بھی کر سکتے تھے اسی طرح جیسے آپ پیسے بناتے ہیں ۰۰
انتظامیہ کی بھی ذمہ داری تھی کہ وہ اتنے لوگوں کی آمد اور انکی حفاظت کو یقینی بناتی اور مناسب اقدامات کرتی ۔ ہر طرف سے کوتاہی ہوئی ہے۔
مگر چونکہ یہ ایک غفلت زدہ حادثہ تھا جو ہو چکا ہے تو حکومت کو چاہئیے کہ قانون کو قانون سمجھ کر ہی استعمال کریں اور اس کو سدھرنے کا موقع دیں ۔
ہم سب سے غلطیاں ہو جاتی ہیں قانون اپنا راستہ ضرور بنائے مگر زیادتی کسی کیساتھ ناں کی جاوے ۔
















