
Humans Rights activist #LLM UK 🇬🇧
Kashmir
Joined October 2021
- Tweets28.7K
- Following4.2K
- Followers5.6K
- Likes33.3K
MARIA SHAH KASHMIRI retweeted
بشیر زیب کی BLA قیادت سے معزولی میں سردار اختر مینگل کا کردار: فنڈز، رشوت اور گٹھ جوڑ کے تہلکہ خیز انکشافات🚨🚨
جن فنڈز کی خُرد بُرد پر اختلاف ہوا ہے اُن میں سے بہت سے فنڈز بشیر زیب گروپ کی جانب سے اخترمینگل کو انٹرنیشنل اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کیے گئے ہیں،اخترمینگل کو بشیر زیب کے دھڑے نے فنڈز دے کر جھوٹا اور جعلی پروپیگنڈا اور بیانیہ بنانے میں کردار ادا کرنے کا کہا،سردار اخترمینگل کو رشوت دے کر بلوچ خواتین کو خودکش بمبار بنانے کے معاملے پر خاموشی اختیار کرنے پر منایا گیا۔
اس کے علاوہ بشیر زیب کے دھڑے نے سردار اخترمینگل کے ماربل اور دیگر کاروبار کو نقصان نہ پہنچانے کی گارنٹی بھی دی،اسی لئے سردار اخترمینگل کے ٹرک باآسانی گزر جایا کرتے تھے اور دیگر بلوچ ٹرانسپورٹرز کے ٹرکوں کو بی ایل اے کی جانب سے نذر آتش کردیا جاتا تھا۔
جس دھڑے نے بشیر زیب کو ہٹایا ہے اسے بشیر زیب اور سردار اخترمینگل کے اِس گٹھ جوڑ پر شدید اختلاف تھا،سرداراخترمینگل کو مالی فوائد پہنچانے پر انہوں نے شدید اعتراض کیا۔
سردار اخترمینگل اور بشیر زیب دونوں ملکر بھارت سے ملنے والے فنڈز میں مشترکہ کرپشن کے مرتکب ہوئے،بشیر زیب اخترمینگل کے ذریعے اپنے فنڈز کو آف شور اکاؤنٹس میں پارک کرتا تھا
@sakhtarmengal
MARIA SHAH KASHMIRI retweeted
دبئی ہسپتال کی دستاویزات 🚨
معروف مولانا کی " پینیل امپلانٹ سرجری" دو ماہ بیڈ ریسٹ کے بعد واپسی اور اخلاقی تقریریں #مولانا_پینیل_امپلانٹ_سرجری
مئی 2025 کے پہلے ہفتے میں ایک معروف مذہبی شخصیت کی عوامی سرگرمیاں اچانک محدود ہو گئیں۔ طے شدہ ملاقاتیں اور معمول کے اجتماعات ملتوی ہوگئے۔ جون کے دوران بھی صورت حال تقریباً یہی رہی۔ قریبی حلقے ذاتی مصروفیات اور آرام کا حوالہ دیتے رہے، مگر اس طویل غیر حاضری کی وجہ واضح نہ ہو سکی۔
اس معاملے نے اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب ایک صحافی کو دبئی کے علاقے جمیرہ میں قائم امارات ہسپتال سے متعلق چند دستاویزات کی نقول موصول ہوئیں۔ یہ کاغذات مئی 2025 میں ہونے والی ایک سرجری سے متعلق تھے۔
بعد ازاں ڈاکٹر اسماعیل ابارہ کے سٹاف سے وابستہ ایک شخص نے شناخت پوشیدہ رکھنے کی شرط پر صحافی سے گفتگو کی۔ اس شخص کے مطابق مولانا صاحب ابتدائی طبی مشاورت کے بعد ضروری ٹیسٹوں سے گزرے، پھر ماہرین نے اس معاملے میں سرجری کی تجویز دی۔ جس پر مولانا صاحب نے اپنی رضامندی کا اظہار کیا اور آپریشن کے بعد مولانا صاحب کو آرام، ادویات اور مسلسل طبی نگرانی کی ہدایت کی گئی تھی۔
دستاویزات میں درج سرجری کا نام پینائل امپلانٹ سرجری اور مرض کا نام Erectile dysfunction تھا۔ یہ ایک طبی طریقہ ہے جس میں عضوِ تناسل کے اندر مخصوص امپلانٹ نصب کیا جاتا ہے تاکہ ایستادگی حاصل کرنے یا برقرار رکھنے میں دشواری کا علاج ہو سکے۔ اس کے بعد کئی ہفتوں تک صحت یابی اور جسمانی احتیاط درکار ہو سکتی ہے۔ اس سرجری کے بعد مولانا صاحب کو دو ماہ بیڈ ریسٹ کی تجویز دی گئی۔
جولائی میں مولانا دوبارہ عوامی اجتماعات میں نظر آنے لگے۔ اس دوران دوسروں کی نجی زندگی اور اخلاقیات پر ان کی گفتگو کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
@ziaurrehman76 @MoulanaOfficial
@UmarCheema1 @waqarsatti @_Mansoor_Ali @GFarooqi @AzazSyed
MARIA SHAH KASHMIRI retweeted
مولانا فضل الرحمان کا سہراب گوٹھ والا مدرسہ بجلی کا کتنا بڑا نا دہندہ ہے، خود ہی دیکھ لیجئے: ڈھائی کروڑ روپیہ 🫣
MARIA SHAH KASHMIRI retweeted
انگور کھٹے ہیں 😂
عمران خان کا تازہ بیان: "جس نے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت گرائی، اس نے مجھ پر احسان کیا… وہ حکومت میرے لیے liability بن چکی تھی۔"
جب اقتدار اپنے ہاتھ میں تھا تو سب کچھ ٹھیک، اب جب چلی گئی تو اچانک بوجھ بن گئی؟ پہلے حکومت مانگتے تھے، اب اس سے جان چھڑوائی جا رہی ہے؟ نعیم اشرف بٹ کی خبر
حقیقت سامنے آ گئی۔
MARIA SHAH KASHMIRI retweeted
جو خاندانی پٹھان یوسفزئی اور دیگر بڑے اقوام سے تعلق رکھتے ہیں انکے خاندانی ہجرے لازمی ہوتے ہیں اور آج بھی صوابی مردان چارسدہ اور صوبے کے دیگر ضلعوں میں وہ موجود ہیں۔
کیا اسد قیصر یا اسکے خاندان کا 2005 میں کوئی ہجرہ تھا ؟ اسد قیصر کی بیس سالہ خانزم اور بیس سالہ ترقی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اگر میں غلط نہیں تو 2010 میں اسد قیصر " صوابی خوڑ پل سے نیچھے " ایک تہ خانے میں چھوٹا سا سکول چلاتا تھا۔
مگر آج اسد قیصر کے بچے بھائی اور خاندان انگلینڈ اور سوٹرزرلینڈ میں اربوں پراپرٹی کے مالک ہیں !
@AsadQaiserPTI
میرے دادا تقسیمِ ہند سے پہلے برطانیہ گئے تھے، وہ وہاں کے نیشنل تھے۔ ہماری آدھی سے زیادہ فیملی برطانیہ کی نیشنل ہے۔ میرے بھائی، میری بہن اور میرا دوسرا بھائی بھی ادھر کام کرتا ہے۔ ہماری تقریباً 70 فیصد فیملی، بہنیں اور کزنز وہاں رہائش رکھتے ہیں۔ وہ اب سے نہیں بلکہ کافی عرصے سے وہاں رہ رہے ہیں۔دوسری بات، جو آپ نے اسکول ٹیچر کا بتایا، میں اسکول ٹیچر نہیں تھا بلکہ اسکول اونر تھا۔ 1988ء میں جب میں کالج میں تھا اور سیکنڈ ایئر میں پڑھتا تھا، اُس وقت قائداعظم کے نام سے ایک جوائنٹ وینچر بنایا۔ تقریباً 38 سال ہو گئے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ خیبر پختونخوا کا سب سے بڑا سسٹم ہے، لیکن چند بڑے سسٹمز میں سے ایک ہے۔ جب یہ شروع شروع میں آیا تو انہوں نے چھاپے شروع کر دیے، خاص طور پر امتحانات کے دوران۔ تو میں نے اس کے خلاف رِٹ دائر کی۔ اس پر ہائی کورٹ نے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو آرڈر دیا کہ تعلیمی اداروں کو تنگ نہیں کریں گے اور اگر قانون کے مطابق کوئی کمی بیشی ہوئی تو عدالت کے ذریعے اس پر عمل ہوگا۔ وہ کیس ابھی تک چل رہا ہے۔
MARIA SHAH KASHMIRI retweeted
جس جج کے سامنے کیس لگا ہوا ہے، اسی جج کی مسلسل کردار کشی PTI سوشل میڈیا کر رہا ہے… اور پھر انصاف بھی اسی جج سے مانگا جا رہا ہے! صحافی کا یہ سوال
‼️پی ٹی آئی سوشل میڈیا ہمارے کنٹرول سے باہر ہے۔ سلمان اکرم راجہ
‼️اگر سوشل میڈیا ٹیم واقعی بے قابو ہو گئی ہے یا بغاوت کر رہی ہے، تو بطور سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی، سلمان اکرم راجہ صاحب پی ٹی آئی کے آئین کے مطابق سوشل میڈیا ٹیم کے سربراہ کو ہٹا کر نیا سربراہ کیوں نہیں مقرر کر لیتے؟
@salmanAraja
MARIA SHAH KASHMIRI retweeted
پشاور کے صحافی کی مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ملاقات کا احوال۔
مولانا فضل الرحمان کے ساتھ بیٹھ کر ایسا لگا کہ ان کے ہاں آندھی آگئی ہوں۔ اور سب کچھ تباہ ہوگیا ہوں ۔
مولانا صاحب نے انٹریو سے پہلے ریاست سے اپنے گلے شکوے کئے۔ اور کھل کر اظہار کردیا۔
مولانا صاحب کے مطابق صوبے پر گورنری کا حق ہمارا ہے اگر ریاست ہمیں پختونخواہ کی گونر شپ آفر کرتی تو ہم بہترین خدمت کرسکتے تھے۔ سمدھی غلام علی سے اچھا کوئی نہیں ہوسکتا تھا۔ اسکے علاوہ موجودہ وفاقی حکومت میں ہمیں اگنور کیا گیا۔ ہمیں کوئی وزارت نہیں دی گئی۔ میری خواہش تھی کہ اسعد محمود کو وزارت ملیں بھائی عطاءالرحمان صاحب کو ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ ملیں چھوٹے بیٹے کو پختونخواہ میں مشیر بنا لیتے۔ بھائی ضیاءلراحمن کو ثمر ہارون بلور کی جگہ پختون خواہ کا وزیر اطلاعات مقرر کرتے ۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ ہمارے ساتھ سوتیلے کا سلوک کیوں ہورہا ہے
صحافی کے مطابق مولانا صاحب کے گلے شکوے درست ہیں۔ اگر مولانا صاحب وزارتیں ملنے یا پختونخواہ حکومت میں حصہ ملنے پر خاموش ہوجاتے ہیں تو انکو حصہ دینا چاہییں تھا۔
مولانا صاحب کی آخری بات کا ذکر کہ میں جب موجودہ حکومت کے وزیروں مشیروں کا پروٹوکول دیکھا ہوں یا انکی عزت دیکھتا ہوں تو میرا خون کھول جاتا ہے کہ ہمیں آخر کیوں یہ عزت نہیں دی گیی! آخر ہم نے کونسی خدمت کرنے سے انکار کیا تھا ؟
MARIA SHAH KASHMIRI retweeted
طلعت صاحب میری شیاشت کو شمجھنے کی کوشش کریں !🤔
@TalatHussain12 کیا آپ کچھ شمجھے یا نہیں؟
@iHafizHamdullah
MARIA SHAH KASHMIRI retweeted
اب تو اسٹیبلشمنٹ کی چھٹی😂😜
خواجہ سرا اپنے سب سے بڑے گاہک #قبضہ_گروپ_مولوی اور اپنے گرو کامران مرتضی عرف کامی چھمک چھلو کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے منظر عام پر آ گئے۔
خواجہ سراؤں نے کہا کہ ہم فضل الرحمان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں
فضلو اگر بات خواجہ سراؤں تک آ ہی گئی ہے تو فیر در فٹے منہ✋🏿✋🏿
MARIA SHAH KASHMIRI retweeted
بلوچستان کا لونڈا باز ملا کون ہے اور کیوں مشہور ہے ؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ حافظ حمداللہ ایک اسکول ٹیچر تھے ؟
چلیں، آج مولانا کے اس شیطان لونڈا باز ملا کی ایک حقیقت آپ کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔ اس زانی مولوی کی حقیقت یہ ہے کہ اس زانی لونڈا باز حافظ نے 1991 میں اپنے شاگرد بارہ سالہ بچے تیمور اچکزئی کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ جب بچہ گھر گیا اور گھر والوں کو زبردستی کی گئی جنسی زیادتی کے بارے میں بتایا تو اس منافق مولوی نے انکار کر دیا اور کہا کہ اس نے بچے سے صرف اپنے جسم کا مساج کروایا تھا۔
جب بات مزید پھیلی اور لڑکے کا باپ تھانے گیا اور درخواست دی تو اس حرامی نے جماعت سے تعلق رکھنے والے اپنے کارکنان کو جمع کیا اور بچے کے خاندان پر رعب ڈالنا شروع کر دیا کہ تم لوگ کسی کے کہنے پر میری بدنامی کر رہے ہو۔
بلوچستان میں جمیعت علمائے اسلام کی پوزیشن ایک اہم سیاسی قوت کی تھی،
لڑکے کے خاندان والے چونکہ انتہائی غریب تھے، اس بدمعاش سے ڈر گئے اور بلوچستان سے کراچی ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ چونکہ زانی مولوی کو شک تھا کہ وہ وہاں جا کر راز افشاں کر دیں گے، اس لیے اس نے تعلقات کا استعمال کرتے ہوئے بچے کے باپ کو کراچی میں قتل کروا دیا۔
اب یہ مولوی اسلام کا ٹھیکیدار بنا ہوا ہے۔ عادتیں بدلتی نہیں؛ یہ زانی مولوی آج بھی لڑکوں کا شوقین ہے اور بلوچستان میں اس کی اپنی پارٹی اسے "لونڈا باز ملا" کے نام سے پکارتی ہے۔
زانی ملا ہونے کے باوجود فضل الرحمن نے اسے سیٹ کیوں دی ؟ کیونکہ فضل الرحمان خود بھی چھوٹے لڑکوں سے مساج اور ۔۔۔۔ شوقین ہے
@iHafizHamdullah
MARIA SHAH KASHMIRI retweeted
نام ہے حافظ حمد اللہ اور کام ہے ابلیس والے۔۔۔
زرتاج گل اگر میرے ساتھ سو جائیں تو اسکو میں عمران خان سے زیادہ تسکین دے سکتا ہوں۔ مولانا ڈیزل کا پیروکار
اپنی بیٹیوں کے بارے میں کیا خیال ہے کا آپکی بہن بیٹیاں بھی دوسروں کے لئے ہیں؟ کیا دوسرے لوگ آپکے بیٹیوں کے بارے میں ایسا سوچ سکتے ہیں ؟
@iHafizHamdullah
MARIA SHAH KASHMIRI retweeted
جس ماں کا حافظ حمد اللہ جیسا بیٹا ہو تو وہ صرف ماں نہیں بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کے لئے شرمندگی کا باغث بنتا ہے۔
اپنے داڑھی اور پگڑی کو دیکھ کر ہی شرم کرلو بے شرم انسان۔ سولہ سالہ لڑکی تمہاری بیٹی نہیں بلکہ نواسی کی جگہ ہوگی۔ بے غیرت تم پر آکر رکھ جاتی !
@iHafizHamdullah
MARIA SHAH KASHMIRI retweeted
تین نسلوں سے شیخ عبداللہ خاندان خود کو کشمیری مسلمانوں کی شناخت کے محافظ کے طور پر بیچ رہا ہے، جبکہ اس خاندان کی اپنی ذاتی زندگی کا اس شناخت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ شیخ عبداللہ سے فاروق عبداللہ اور اب عمر عبداللہ تک، نعرہ ہمیشہ اسلام، کشمیریت اور خودمختاری کا لگایا، ووٹ لینے کے لیے، لیکن اپنے گھر کے اندر فیصلے ہمیشہ دوسری دنیا کے کیے۔ انگریز بیوی، بیٹی کی شادی کانگریس خاندان میں، اور اب دوسری شادی ایک کشمیری پنڈت صحافی سے۔
کسی کے ذاتی فیصلے پر اعتراض نہیں، اعتراض سیاسی منافقت پر ہے۔ جو خاندان اپنے گھر میں ایک کشمیری مسلمان بہو نہیں لا سکا وہ پوری وادی کی مسلمان شناخت کی حفاظت کا دعویٰ کیسے کرتا ہے!!
اصل المیہ یہ ہے کہ جب عمر عبداللہ دہلی سے مسکراتی تصویریں پوسٹ کر رہے ہیں کہ "ایک نیا سفر شروع"، عام کشمیری مسلمان وہیں پرانے سفر میں پھنسا ہوا ہے، روزانہ تلاشیاں، آپریشن، بے روزگاری، ریاستی تشخص کا کوئی نام و نشان نہیں، الیکشن کے وعدے ہوا میں، اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کا ذکر تک اب ان کی تقریروں سے غائب ہے۔ ان کے لیے اب لڑائی کیبنٹ میں ردوبدل کی ہے، جبکہ کشمیریوں کے لیے اب بھی بقا کی۔
یہ شادی نہیں، اس خاندان کی اس پرانی عادت کی آخری کڑی ہے جس نے اقتدار میں رہنے کے لیے ہمیشہ دہلی کے ہندو اکثریتی نظام سے منظوری لی۔ ووٹ مسلمان شناخت کے نام پر لینا ہے اور داد وصول کرنی ہے دہلی کے سیکولر کلب میں۔ یہی وہ سودا ہے جس نے کشمیری مسلمان کی اصل شناخت کو آہستہ آہستہ بیچ دیا ہے۔
MARIA SHAH KASHMIRI retweeted
دنیا میں فرعون بھی آیا،
دنیا میں قارون بھی آیا،
دنیا نے ابو جہل بھی دیکھا،
یزید بھی دیکھا،
حجاج بن یوسف بھی برداشت کر لیا،
اور دنیا نے ایک پوری بدبخت قوم، قومِ لوط بھی دیکھی؛
مگر یہ سب الگ الگ وقت میں موجود تھے مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ یہ ساری بے حیائی اور بے غیرتی اس دور میں۔ ایک ہی انسان میں کیسے آسکتی ہے؟
MARIA SHAH KASHMIRI retweeted
عادل راجہ ایک ایسا کنجر ہے جو خود تو لندن سے واپس نہیں آتا لیکن باقیوں کو اسلام آباد میں دیکھ کر بھی دُکھی ہوتا ہے۔ فواد چوہدری
@fawadchaudhry
MARIA SHAH KASHMIRI retweeted
ضیاء الرحمان: فضلو کا بھائی، لوٹ مار کا شاہکار
#فضلو_کا_کرپٹ_کنبہ
BPS-18 کا پیادہ سیاسی زور پر سیدھا BPS-20 کی کرسی پر چڑھ بیٹھا۔
2007 میں ایم ایم اے حکومت کے دور میں فضلو کے بھائی ضیاء الرحمان نے سیاسی اثر و رسوخ کے بل بوتے پر قانون اور میرٹ کی دھجیاں اڑا دیں۔ وزیر اعلیٰ اکرم درانی کے ذریعے قواعد بلڈوز کر کے کے پی کی صوبائی سروس میں غیر قانونی انڈکشن لی، اور BPS-18 افسر ہوتے ہوئے کمشنر افغان رفیوجیز (BPS-20) کا عہدہ قبضہ میں لے لیا۔ یہ معاملہ 2016 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج بھی ہوا۔
DC خوشاب سے لے کر DC کراچی سینٹرل کی متنازع تعیناتی تک اس نے ننگی لوٹ مار مچائی۔
کراچی میں لانڈھی اسپورٹس کمپلیکس کی 265 ایکڑ سرکاری زمین کی غیر قانونی لیزنگ، سرکاری مشینری کی چوری اور آمدن سے زائد اربوں کے اثاثے بنائے گئے۔
2020 میں جب نیب اور FIA کی سنگین انکوائریاں شروع ہوئیں تو فضلو کے سیاسی دباؤ سے تمام کیسز زبردستی بند کروا دیے گئے۔
یہ ہے اقربا پروری اور لوٹ مار کا اصل چہرہ۔
@ziaurrehman76
@MoulanaOfficial
MARIA SHAH KASHMIRI retweeted
دہشت گردی کے خلاف جنگ محض مسلح افواج اور دہشت گردوں کے درمیان نہیں، یہ پوری ریاست اور معاشرے کی مشترکہ جنگ ہے۔
میر سرفراز بگٹی،
وزیراعلیٰ بلوچستان
@PakSarfrazbugti
MARIA SHAH KASHMIRI retweeted
SiasatGhar's Foreign Funding Watch has identified malicious foreign funding 👇⚠️⛔️⚠️
Media Matters for Democracy (MMfD), led by Asad Baig and co-founded by Sadaf Khan (Husband and Wife), is an Islamabad-based digital-rights and media-development NGO. Its strategic orientation is highly liberal, aligned with international networks advocating so called freedom of expression, and constrained state regulation.
Financial support comes from NED, Open Society Foundations and EU-backed initiatives. It pursues EU priorities on record.
Its agenda seeks to influence Pakistan’s information landscape targeting alleged censorship and PECA etc
The policy and posture of Media Matters conflict with national security priorities.
@asadbeyg (Asad Baig)
@nuqsh (Sadaf Khan)
MARIA SHAH KASHMIRI retweeted
🚨سیاست گھر فیکٹ چیک🚨
یہ فیکٹ چیک ایک عام غلط فہمی کی وضاحت کرتا ہے۔ ایئر بیگ سیٹ بیلٹ بندھے ہونے پر نہیں بلکہ حادثے کی شدت کی بنیاد پر کھلتا ہے۔ سیٹ بیلٹ جسم کو قابو میں رکھتی ہے اور تحفظ کو بہتر بناتی ہے۔ دونوں اکٹھے بہتر کام کرتے ہیں۔ سیٹ بیلٹ ایئر بیگ کے فائدے کو زیادہ موثر بناتی ہے، لیکن اس کے کھلنے کا سبب نہیں ہے۔























